Header Ads

  • Breaking News

    Black Rose Episode 7 by Samreen Shah

    Black rose novel by samreen shah Episode 7 Online Reading.

    ہما شاپنگ کررہی تھیں جب اس کی نظر ڈیکروشن میں پڑے ایک گلوب پہ پڑی وہ اس گلوب کو دیکھنے لگی اس میں ایک وائٹ پری کو ایک کالے ڈریس میں ملبوس کسی شاہد جن نے پکڑا ہوا تھا اور اس پر نیلے رنگوں کی سٹارز گر رہے تھے یہ چیز ہما کو بڑی اٹریکیٹ کی تھی
    ایسے لگ رہا تھا کے بے ہوش پری جبکہ جن زُلنین ہی ہی زُلنین اور جن کتنی عجیب بات ہے اس نے گلوب خریدنے کے لیے اُٹھایا اور باسکٹ میں رکھا پھر اسی طرح شاپنگ کرتے ہوے اس کا ٹکراو ہوا دیکھا تو وجدان کھڑا تھا
    "ارے ہما آپ ! آپ یہاں کیا کررہی ہے ۔"
    ہما نے دیکھا تو ہلکہ سا مسکرا کر بولی
    "وہ بس ایسے ہی میں اور زُلنین سکول کھولنے لگے ہیں اس کی ڈیکور کے لیے کچھ چیزیں خرید رہی ہو ۔"
    وجدان نے سر اثبات میں ہلایا
    "رائٹ زُلنین کدھر ہے ؟"
    "ام زُلنین تو مری میں ہی ہے میں صرف آئی ہو ۔"
    "اکیلے کیسے ؟۔"
    وہ حیرت سے بولا ہما ہنس پڑی
    "نہیں زُلنین صاحب نے چابی دیں دی ۔"
    وہ مسکراتے ہوئے چابی لہراتے ہوے بولی
    "اچھا بڑا دل نکلا آپ کے معاملے میں ورنہ خاصا کنجوس ہے !!۔"
    "نہیں بھئی بہت اچھا ہے میرا دوست ۔"
    "پہلی دوست دیکھی ہے جو اپنے دوست کی بُرائی نہیں کرتی ۔"
    وہ اس کے ساتھ چلتے ہوے بولا
    "مجھے ابھی تک اس کی بُرائی نظر نہیں آئی یا اگر ہے بھی تو میرے لیے کوئی معانی نہیں رکھتی کیونکہ اس کی اچھائی ہر چیز سے پر بھاری ہے وہ اتنا صاف دل کا ہے کے میں کھبی خود سوچ میں پڑ جاتی ہو کیا انسان اتنا صاف دل کا ہوسکتا ہے کسی کی بھی بُرائی کس کے لیے غلط جملہ میں نے آج تک نہیں سُنا خیر آپ کیا کررہے ہیں یہاں !۔"
    "بس امی کے ساتھ آیا ہوں آئے آپ کو ملواوں ۔"
    وہ مسکراتے ہوے اسے سُن رہا تھا جب ہما کے کہنے پر بولا
    "ام !۔"
    "آئے نا وہ سامنے کھڑی ہے ۔"
    "میں ،مگر !!"
    "ائے انھیں اچھا لگے گا ۔"
    ہما راضی ہوگئی اور پھر وجدان اسے آنٹی سے ملوانے لگا اور وہ بھی ہما کو دیکھ کر مسکرائی اور پیار سے ملنے لگی
    "ماشااللّٰلہ کتنی پیار ہو تم زُلنین کی دوست ہو ویسے وہ آتا ہے لیکن تمھارا ذکر نہیں کیا اس نے ۔"
    "اکچلی امی زُلنین نے آپ سے جوتا نہیں کھانا تھا نا !!۔"
    وجدان شرارت سے بولا تو وہ دونوں ہنس پڑے کسی نے ان کی فوٹو کھینچی اور سیدھا زُلنین کو بھیجی
    زُلنین جزلان سے ڈرپ لگوارہا تھا تو فون بز ہونے پر اس نے فون اُٹھا کر دیکھا تو پہلے دیکھتا رہا پھر اس کے ماتھے پہ شکن آئی اس نے سیدھا فون ملایا اور اُدھر وجدان ان سب سے ہنس کر بات کررہا تھا اچانک کال پہ چونکہ دیکھا تو ہما کو بولا
    "شیطان کا نام لیا شیطان کی کال آگئی ۔"
    ہما مسکرائی
    "ہلیو !۔"
    "کدھر ہو ؟۔"
    "امی کے ساتھ آیا ہو شاپنگ کے لیے ۔"
    "اچھا ! "
    "ہاں اور ہما بھی ساتھ مل گئی تمھارا پوچھا تو تمھاری طبیعت کا بتارہی تھی سب ٹھیک ہے نا ویسے تو کھبی ایسا نہیں ہوا !۔"
    زُلنین کے اعصاب ڈھیلے پڑے
    "ہاں بس اچانک ہوجاتی کیا کریں اب تم انسان ہی بیمار ہوگے ۔"
    وہ مسکرایا
    "ہاں ویسے تم لوگوں کا بھی بیمار بنے کا حق بنتا ہے ۔"
    "آہستہ ہما کھڑی ہوگی اسے کچھ پتا نہیں چلنا چاہیے ۔"
    "جانتا ہوں ویسے میں ملنے آو تم سے ۔"
    "کوئی ضرورت نہیں ہے آنٹی کو اس کو کمپنی دوں اور دماغ میں ہمیشہ یہ بات رکھنا وہ زُلنین کی ہے ۔"
    "اوکے زُلنین صاحب !!"
    وہ سر پہ سلوٹ مارتے ہوے بولا اور زُلنین نے فون بند کردیا
    ※※※※※※※※※※※※
    وجدان اور اس کی امی نے کھانے پہ بلایا اس نے پھر کھبی کا کہہ کر ان سے ملنے لگی
    "آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی مجھے !۔"
    وہ مسکرا کر ان سے الگ ہوئی
    "مجھے بھی ! اگر زُلنین نہ لے کر آئے تم آجانا !۔"
    "جی ضرور !۔"
    وہ وجدان کو بھی مسکرا کر خدا حافظ کرنے لگی اور مڑی تھی تو بولا وہ بولا
    "آپ زُلنین کے لیے راستے میں آنار کا جوس لے لیجیے گا فریش پاگل ہے وہ اس کے لیے ۔"
    "اچھا ویسے انہوں نے کھبی بتایا نہیں ۔"
    "نہیں وہ اکچلی جب بھی بمیار ہوتا ہے تو ہمیشہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے ۔"
    "شیور ،تھینک یو سو مچ ۔"
    وہ کار کی طرف پہنچی اور پھر بیٹھ گئی
    ***************
    ۵ جولائی ۱۹۹۳
    کار زولفیقار ہاوس کو پاڑ کرتی سیدھا بیلک کاٹج پہ رُکی جدھر نیم پلیٹ پہ شاہ ہاوس لکھا ہوا تھا
    کار سے سب سے پہلے وہی چل بلی سے لڑکی اپنی براون سکرٹ بلیک شیفون ٹی شرٹ اور بلیک ہیٹ پہنے اپنے بیگ اور ایک چھوٹی سی سفید بلی پکڑتے ہوے باہر آئی آنکھوں سے شوخ سی روائنڈ گلاسس اُتار کر اپنی ببل گم چباتی گھر کا جائزہ لیا جبکہ ساتھ والے دروازے میں بلیو شلوار سوٹ میں اس کی امی طاہرہ اور فرنٹ سیٹ میں گریس فل سے فہیم شاہ نکلے وہ ابھی ابھی ایرپورٹ سے سیدھا یہاں آئے تھے سامان تو پہلے سے ہی شفٹ کرواچکے تھے بس جیسے ہی شفق کے اگزامز ختم ہوے انھوں نے فلائٹ پکڑی اور اس وقت مری کے اپنے ہی کاٹج میں موجود تھے
    "ڈیڈی اتنا خوبصورت گھر ہے آپ کا آپ نے مجھے بتایا ہی نہیں !۔"
    شفق ان کے ساتھ لگ گئی وہ ہنستے ہوئے اس کے گرد بازو پھیلاتے ہوے بولی
    "آئی ٹول ڈیو مائی چائلڈ ! یہ جگہ بہت زیادہ خوبصورت لیکن تم مان نہیں رہی تھی سی !!"
    "آئی لو اٹ لندن از بورنگ !۔"
    اس نے ناک چڑا کر کہا
    "تم تو جدھر بھی جاتی ہو اس جگہ کی ہوکر رہ جاتی ہو ۔"
    مسز فہیم نے مسکراتے ہوے کہا
    "ہاں کیوں ہر جگہ ایک سے بڑھ کر ایک ہوتی ہے تو میں کہے بغیر رہتی نہیں ہو کیوں بابا ۔"
    بابا ہنس پڑے اور اس کے سر پہ پیار کیا وہ دیکھ رہی تھی اچانک اس کی بل جمپ لگا کر پیچھے چل پڑی
    "او جینی رُکو ! میں اسے لائی بابا !۔"
    وہ بھاگی اس کی طرف وہ بلی روڈ کی طرف بھاگی
    "اُف تمھیں کیا ہوا !۔"
    وہ تیزی سے اپنی سکرٹ کو اوپر کرتی تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی جب اس کی بلی رُک گئی اور وہ اچانک چلتے ہوے سیدھا جاکنگ کرتی شخص سے ٹکرائی اس کا سر چکڑا گیا اس نے اپنا سر پکڑا اور غصے سے دیکھا
    ‏Watch where are you going
    سامنے کھڑا خوبصورت شخص کو دیکھ کر وہ رُک گئی فائر آنکھیں بڑی حیرت اور دلچسپی سے اس کو دیکھ رہی تھی
    "او تو کوئی گوری آئی ہیں۔"
    وہ ابرو اُٹھا کر اسے دیکھنے لگی
    "آپ بھاگ ایسے رہی ہیں جیسے کوئی اولمپک ریس تھی خیریت تو ہے ۔"
    "اور آپ بھی کیوں بھاگ رہے تھے اولمپک میں کیا آپ بھی تو نہیں شامل تھے ۔"
    وہ گھور کر بولی وہ ہنس پڑا
    "او میں تو جاکنگ کررہا تھا اگر آپ کررہی ہے تو پہلی لڑکی دیکھی سکرٹ اور میک آپ سے بھرپور کیا نیا فیشن آگیا ہے ۔"
    "توبہ !"
    وہ اپنی بلی اُٹھانے لگی وہ پھر سائڈ پہ ہوگئی
    "ارے جینی کیا ہوا ؟ ناراض تو نہیں ہوگئی ۔"
    وہ کھڑا شخص ہنس پڑا
    "بلیاں بھی ناراض ہوتی ہے کیا !!!"
    "آپ سے بات کی میں نے جائے جاکنگ کریں ۔"
    وہ خفگی سے اسے دیکھ کر کہنے لگی
    "ویسے آپ سے بھی بات کی جاسکتی ہے آپ کا نام پوچھ سکتا ہو۔"
    وہ کچھ نہیں بولی بس بلی کو ہاتھ لگانے لگی وہ پھر دور ہوگئی
    "ارے اسے کیا ہوا !۔"
    فائیق نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا وہ بلی اس کو دیکھتے ہی اس کے پاس آگئی شفق کا منہ کھل گیا
    "یہ کیسے آپ کے پاس یہ میرے علاوہ کسی کے پاس نہیں آتی تھی ۔"
    "بس میری خوبصورتی کا کمال ہے شاہد بٹوین میں فائیق زولفیقار یہ سامنے ذولفیقار ہاوس میں رہتا ہوں اور آپ !۔"
    "پہلے میری بلی دیں مجھے اچھا نہیں لگتا وہ کسی کے قریب آئے ۔"
    "او ہو یہ لے یہ لو میاو آپ کی فرینڈ سے برداشت نہیں ہورہا ۔"
    وہ اسے پکڑانے لگا وہ پکڑ چکی تھی
    "اب بتائے اپنا نام ؟۔"
    "میرا نام جان کر کیا کریں گے ۔"
    "جان پہچان بڑھاؤ گا ۔"
    "شفق !!!"
    مسز طاہرہ کی دور تک آواز آئی
    "او نو امی ! "
    "او شفق آپ وہاں رہتی نائیس ٹو میٹ یو مس نیبر ۔"
    وہ مسکرا کر کہتا مڑ گیا اور شفق اس جاتا ہوا دیکھنے لگی یہ اتنا خوبصورت بندہ اس کا نیبر ہے پھر جب اس کی امی کی آواز آئی وہ سر جھٹکتے ہوے مڑی
    یہ تھی پہلی ملاقات تھی جس کو بعد میں ہی شفق نے ہی دعا کی تھی کاش یہ ملاقات کھبی نہ ہوتئ
    *******************
    ‎وہ کافی حد تک شاپنگ کر چکی تھی اب اسے کہاں جانا تھا وہ لب دبائے سٹیرنگ تھامے بیٹھی سوچ رہی تھی یاد آیا زُلنین کے لیے جوس کے ساتھ کچھ لینا تھا وہ چلانے لگی جب اچانک اس نے کسی عورت کو سامنے سے جاتے ہوئے دیکھا وہ نانو سے مشاہبت رکھ رہی تھیں آنکھیں سکیڑ کر اس نے دیکھا وہ عورت پاگلوں کی طرح کسی کے پاس جارہی تھی اور کسی کو روک رہی تھی ہما نے مزید آنکھیں سکیڑیں اور دیکھا تو وہ نانو تھی ! لیکن ان جیسی کیوں ہوگی وہ تو ہے ہی نہیں اس دُنیا میں ،آنکھوں میں نمی صاف کرتے ہوئے وہ کار سٹارٹ کر چکی تھی اور آگئے بڑھانے لگی جب وہ عورت سامنے آگئی ہما کو بریک لگانی پڑی اس کا دل رُک سا گیا تھا وہ وہ نانو ہی تھی ۔
    ‎"بات سُنے بات سُنے میری بیٹی اور نواسی غائب ہوگئی ہے آپ پلیز آنھیں ڈھونڈ لے پلیز ۔"
    ‎نانو نے شیشے کے پاس جاتے ہوئے ہما کو کہا اور ہما کا چہرہ سفید ہوگیا اس کو لگا اس کی پوری دُنیا ٹہر سی گئی تھی نانو !
    ‎"بات سُنے میں انھیں کھو چکی ہو میری بیٹی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے پلیز بات سُنے میری نواسی جتنی ہوگی پلیز ۔"
    ‎وہ شیشہ کھٹکھٹا رہی تھی اور ہما نے تیزی سے دروازہ کھولا اور نانو کے گلے لگ گئی
    ‎"نانو نانو آپ زندہ ہے نانو ! یہ سچ پلیز کاش یہ سچ ہوجائے نانو او مائی اللّٰلہ کیا خواب تھا کیا یہ پہلے کی طرح خواب تھا میری نانو ۔"
    ‎اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے ایسی کون سی نیکی کی تھی اسے اس کی نانو لٹا دیں تھی
    **************************
    زُلنین آخری ٹیکہ لگا کر اب خود کو بہتر محسوس کررہا تھا اس نے پھر نماز پڑھی نماز کے بعد وہ اب درخت پہ ایسے بیٹھا ہوا چاند کو تک رہا تھا اچانک اس کا فون بجا ہما کی کال تھی اس نے کان سے لگائے بنایا
    فون اُٹھایا
    "کہاں ہو میں پریشان ہو ٹھیک تو ہو اتنی دیر !۔"
    "زُلنین !"
    ہما کی بھرائی آواز پہ وہ الرٹ ہوگیا
    "ہما ! کیا ہوا ؟ ٹھیک ہونا ۔"
    "زُلنین ! نانو ۔"
    زُلنین حیرت سے فون کو دیکھنے لگا
    "کیا کہہ رہی ہو ؟ ہما میں وہاں آجاو گا بولو تو صحیح !۔"
    "زُلنین نانو زندہ ہیں !۔"
    زُلنین کو اس بات پہ گہرا جھٹکا لگا
    "وہ میرے پاس ہے زُلنین وہ نانو ہے میری نانو میری نانو زندہ ہے میریکیل زُلنین


    "آپ کچھ تو یاد کریں !۔"
    ہما نے ان کی طرف دیکھتے ہوے کہا
    "مجھے پلیز شفق سے ملا دیں میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے ۔"
    وہ روتے ہوے ہما کے سامنے کہہ رہی تھی زُلنین ان کو دیکھ رہا تھا واقی میں انھیں کچھ یاد نہیں تھا سواے شفق اور ان کی چھ سال کی نواسی ہما !
    "ہما !۔"
    زُلنین نے اس اپنی طرف متوجہ کیا ہما مڑی اس کی آنکھیں سُرخ ہوئی وی تھی جبکہ چہرہ سُرخ ترین ہوئی وی تھی وہ بہت اپ سیٹ تھی لیکن زُلنین کو خود سمجھ نہیں آرہی تھی آخر چکر کیا ہے
    "تم انھیں یہ پلاؤ اور کمرے میں لٹادو فل حال یہ بہت زیادہ تھکی ہوی لگ رہی ہے اور تم بھی !اس ٹائیم کوئی فائدہ نہیں ہے ان سے کچھ پوچھ گچھ کرو ۔"
    "پر زُلنین انھیں ماما یاد ہے !۔"
    ہما بالکل رونے والی ہوگئی
    "اچھی بات ہے نا اور دیکھو تم بھی تو یاد ہو انھیں بس ٹائیمنگ خراب ہیں ان کی ۔"
    وہ اس کی بات مانتے ہوے انھیں نیند کی گولیاں کھلا چکی تھی
    اور انھیں کمرے میں لٹا کر باہر آئی تو زُلنین صوفے پہ بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا ہما کو شرمندگی ہوی ایک تو اس کی طبیعت بھی اتنی خراب تھیں اوپر سے وہ پریشانی میں بلا کر تنگ بھی کیا اب وہ بیٹھا اس کی خاطر ویٹ کررہا ہے واقی دوستی ایسی ہوتی ہے یا شاہد اس دوستی میں محبت بھی تھی جسے یہ سب کروارہی تھی
    "آجاو سوچ میں کیوں ڈوبی ہو ۔"
    زُلنین کی آواز پہ اس نے سر اُٹھایا اور پھر قدم بڑھا کر کچن کی طرف بڑھی اور فریج کی طرف جھکی دیکھا کوئی انار پڑا ہو وہ جوس تو نہیں لے سکی تھیں لیکن بنا تو سکتی ہے اس لیے جب ڈھونڈ کر اسے انار مل گیا تو مڑی زُلنین کھڑا تھا
    "کیا کررہی ہو ؟۔"
    وہ ہولے سے مسکرا کر پوچھنے لگا
    "بس ایسے ہی گھر میں تم آئے ہو اتنی دیر سے پوچھا ہی نہیں !۔"
    وہ ہنس پڑا
    "چلو کچھ تو خیال آیا میرا ویسے یار یہ کوئی فلمی سین نہیں ہوگیا ۔"
    "کیا مطلب ؟۔"
    وہ انار کو چھڑی سے دو حصوں میں کرنی لگی لیکن اس کی بات پہ وہ اس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئی
    "ارے یار دیکھو نانو کی ڈیتھ پھر ان کا اچانک آجانا انھیں صرف انیس آٹھارہ سال پُرانی یاداشت تمھیں کچھ فشی نہیں لگ رہا تم نے خود ان کی میت کو غسل کروایا تھا ان کی موت کی تصدیق کی تھی ۔"
    ہما خاموش ہوگئی پھر انار کو کاٹ کر بولی
    "کیونکہ بہت سے راز میں یہ بھی ایک راز کی بات ہے نانو سے پہلے مجھے سارے راز پتا چل نہیں جاتے تو یہ مسٹری ہی رہے گی ۔"
    زُلنین چونک پڑا
    "کیا مطلب ؟۔"
    "مطلب یہ زُلنین کے جب تک ہم پہلا صفحہ کتاب کا نہیں پڑھے گے تو ہمیں کہانی کیسے پتا چلی گئی اگر ہم کوئی کتاب کھولتے ہیں اور بیج سے پڑھنا شروع کردیتے ہیں تو ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آئی گی یہ ہو کیا رہا ہے یہ کون ہے یہ کیسا ہوا مگر جب ہم پہلا صفحہ شروع کر کے بیج میں آتے ہیں اس میں سے بھی چھپے ہر راز کو جان لیتے ہیں ۔"
    "ہما گرل سمجھدار ہوگئی ۔"
    "زندگی آپ کو سمجھدار کردیتی ہے کوئی بندہ بیوقوف نہیں ہوتا بس خود کو سنبھالنے میں وقت لگا دیتا ہے ۔"
    "اب لگ رہا میں کسی ماہر نفسیات سے بات کررہا ہو ۔"
    "زُلنین فائیق نامی کسی شخص کو جانتے ہو ۔"
    اب اس بات پہ زُلنین کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی اور نیلی آنکھوں کی جگہ اگ رنگ نے لے لی تھی
    ??????????
    وہ اپنے کمرے میں پوپ میوزک لگائے ، چہرے پہ ماسک لگائے اپنے پیروں پہ نیل پینٹ لگا رہی تھی اسے مری آئے ہوے ایک ہفتہ ہوچکا تھا اور ایک ہفتے کی ساری پُر جوشی ہوا میں چلی گئی اب وہ بہت بور ہورہی تھی اس نے اپنی امی کو کہا تھا وہ کے مری دیکھنا چاہتی ہے تو انھوں نے کہا دیکھ لینا اب تو اِدھر ہی رہنا ہے جدھر کا بھی کہتی امی بعد کا ٹال کر اسے چُپ کروا دیتی اور وہ اب بوریت مٹانے کے لیے نیل پالش کا رنگ تبدیل کے ساتھ ماسک لگائے بیٹھی مائیکل جیکسن کو سُن رہی تھی
    جب اچانک اس کو فون بز ہوا اس نے سامنے پڑا چپس کا باول میں سے ہاتھ ڈال کر چُپ نکال کر اپنے منہ ڈالے اور پھر فون کو دیکھا تو کیس کا انون میسج تھا
    ‏Looking scary
    (بہت ڈروانی لگ رہی ہو )
    اس نے میسج پڑھا تو اس کے ماتھے پہ بل آگئے دونوں اتنے دنوں سے میسج آرہے تھے اس کے اس کا بس حلیہ بتاتا رہتا آج اچھی لگ رہی ہو، آج کچھ زیادہ اچھی ،آج بس ٹھیک لگ رہی اور یہ میسج تین دن سے آرہے تھے اور وہ چڑ گئی تھیں آج اس نے اس نمبر پہ کال کرنے کا سوچنے کا دم کر لیا
    کال ملائی تو فورن ایک ہی بیل پہ فون اُٹھا لیا گیا جیسے اسے اسی کی کال کا انتظار رہا تھا
    "اسلام و علیکم کیسی ہے مس سکیری ۔"
    "تم کون ہو اور بار بار مجھے میسجز کیوں بھیج رہے ہو ۔"
    وہ تیزی سے بولی
    "ارے یار آپ کا نیبر ہو بھول گئی وہی ٹال ائینڈ ہینڈسم فائیق ذولفیقار !۔"
    اس سے فون گرتے گرتے رہ گیا واقی میں یہ ٹال ائینڈ ہینڈسم اسے کیوں بات کرنے کی کوشش کررہا تھا
    "ہلیو بند تو نہیں کر گئی ہلیو ۔"
    اس کی آواز پہ وہ دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوئی
    "نہیں بند کیا میں نے ویسے آپ کو میرا نمبر کیسے ملا ۔"
    "آپ کی میاو نے دیا ۔"
    "کیا !۔"
    "ہاں جب میں نے اسے پکڑا تھا تو اس میں نے چھپکے سے پوچھ لیا تھا کے اپنی دوست کا نمبر دیں دے اس نے بتایا دیا ۔"
    وہ پہلے منہ کھولے سُنتے رہی پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی
    "توبہ ہے کم بونگیا مارا کریں آپ ۔"
    "آپ لندن سے آئی ہے نا ۔"
    "یپ !"
    "اُردو خاصی صاف اور اچھی ہے آپ کی ۔"
    "میری امی مجھے سے بات ہی اُردو میں کرتی ہے اور مجھے بھی مجبور کرتی ہے کہ میں انھیں جواب اُردو میں ہی دوں ان کا کہنا ہمیں اپنی زبان بھولنی نہیں چاہیے ویل بورنگ !۔"
    وہ ہنس پڑا
    "یہ ماسک کسی خوشی میں لگایا ہے ۔"
    اس نے اپنے کمرے کے اردگرد دیکھا پھر کھڑکھی کی طرف بڑھی
    "ایک بات تو بتائیں آپ میرے گھر کے پاس تو نہیں کھڑے ہوے یا پھر اپنے میرے کمرے میں کمیرے لگاوائے ہوے او گاڈ اگر ایسا ہوا تو میں آپ کا منہ توڑ دوں گی ۔"
    وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا
    "اُف غصہ بھی کتنے سویٹ طریقے سے کرتی ہے آپ ۔"
    "ہنسے مت بتائیں ابھی پہنچ جاو گی اب کے اس گھر میں اور آپ کو اپنی ہیل سے پیٹوں گی ۔"
    "ہاے ایسا غضب مت کیجیے گا ایک تو آپ کا چہرہ دیکھ کے میرا ہارٹ فیل ہوجانا ہے اور دوسرا جوتی پڑ گئی تو میں تو پکا شہید دیکھے میرے امی ابو کا اکلوتا تو نہیں مگر لاڈلا بیٹا ہو ان کو خیال کر لیجیے گا ۔"
    "اُف اُف اب خبرادر نظر رکھی میرے پر امی کو بتاو گی میں اور دیکھنا میری امی آپ کو حشر کریں گی ۔"
    "یار آپ پہلی ہی کال پہ اتنا غصہ ہوگئی میں تو آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں ۔"
    "مگر میں نہیں کرنا چاہتی آپ سے میرے پاس الریڈی بہت سے دوست ہے ۔"
    اس نے جھوٹ کہا تھا لندن میں کیا زندگی میں بھی ایک دوست نہیں بنا ساری زندگی بُلی ہوتی رہی اس لیے تنہائی میوزک کا اپنا ساتھی بنا لیا تھا
    "اسے دوستوں میں ایک اور دوست کو بھی ایڈ کر لیجیے بہت اچھا دوست ثابت ہوگا ۔"
    "واہ پہلی ہی کال میں دوستی ! خاصے چھچھوڑے نہیں ہے آپ ۔"
    اس نے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا اور ماسک کو پیل کرنے لگی
    "آپ کی امی نے واقی آپ کو صحیح ہماری والی اُردو سکھائی ہے مگر دوستی تو یونیورسٹی یا کالج کہی بھی جاتی ہو ایک دن میں ہی ایک ملاقات میں ہوجاتی ہے ۔"


    "ایسے بھی بات نہیں ہے ابو کے ساتھ مل کر کوئی بھی کتاب پڑھتے اسے ڈسکس کرتے اس لیے میرا اتنی بعث معباثے والے سٹائل سے امپریس ہوکر بابا میرا لا سکول میں آڈمیشن کروا رہے ہیں اور آپ کی دوسری بات وہ تو ایج فیلو ہوتے ہیں اب میں انکل سے دوستی کرنے سے رہی ۔"
    وہ ایک ہاتھ سے ماسک کو پیل کررہی تھی
    "ہاے انکل ! آپ کو ستائیس سال کا لڑکا انکل لگتا ہے ۔"
    "نو سال بڑے ہیں آپ مجھ سے میں آٹھارہ سال کی ہوں ۔"
    "نو سال بڑا ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے اور ویسے بھی دوستی کرنے کی بھی تو کوئی عمر نہیں ہوتی ۔"
    "میرے سے دوستی کر کے کیا ملے گا ۔"
    "شفق !۔"
    امی کی آواز پہ وہ اچھل پڑی اس نے جلدی سے فون بند کیا اور بیڈ پہ پھینکا تین منٹ بعد امی اس کے کمرے میں موجود تھی
    "کس سے بات کررہی تھیں ۔"
    وہ انھیں دیکھنے لگی پھر بولی
    "نہیں کسی سے بھی نہیں آپ کو وہم ہوگا ۔"
    "مجھے تمھاری آوازیں آرہی تھی شفق !۔"
    "امی خود سے بولتی رہتی ہوں آپ ہر وقت جیمز بونڈ بنی رہتی ہیں اور میں بور ہورہی ہو مجھے کہی گھمائے پھیراے یہ کیا قید کردیا ہے ۔"
    "ایک جگہ بھی ٹک جایا کرو شفق !۔"
    "مام ائیم بور نا ۔"
    "ٹھیک تمھارے بابا سے بات کرتی ہو یا ایک نیا گولف سینٹر کھلا ہے وہاں لے جائے گے تمھیں ۔"
    ***************
    زُلنین اسے دیکھتا رہا پھر بولا
    "کون فائیق !۔"
    آواز سپاٹ تھی
    "وہ جو کوئی بھی ہے اس کا میری ماں سے تعلق ہے اور میں پتا کروا کر رہوں گی ۔"
    اب زُلنین ایک دم حیرانگی کے سمندر میں ڈوب گیا اسے کیسے پتا چلا کہی انھوں نے تو نہیں بتایا کچھ تو ہے جو وہ زُلنین کو نہیں بتائیں گی
    "ہما تمھیں کیسے پتا چلا ۔"
    وہ اب جوسر سے اس کا جوس بنا چکی تھئ اور پھر سڑا نکال کر اسے دیا
    "یہ لو ۔"
    "تمھیں کیسے پتا چلا مجھے یہ بہت پسند ہے ۔"
    وہ مسکرائی
    "میرا بھی فیورٹ ہے لیکن امی کو نہیں پسند تھا تو میں نے امی کے بعد سے پینا چھوڑ دیا ۔"
    زُلنین پینے لگا تو رکھ دیا
    "نہیں اب تو میں بھی نہیں پیو گا جب تک تم نہیں پیو گی ۔"
    وہ ہنس پڑی
    "محترمہ ہنسے مت اس چکر میں یہ مت بھول جائے گا پروپوزل کے بارے میں اب آپ کے پاس چھ دن ہے اور جواب ہاں ۔"
    اب ہما سنیجدہ ہوگئی
    "زُلنین کیا ہاں ضروری ہے ۔"
    "ہاں کے علاوہ کوئی جواب بنا تو نہیں چاہیے ۔"
    "میں کسی کو نہیں پسند کرتی ۔"
    وہ اس کی بات سمجھ کر گھور کر بولی
    "میں نے کب کہا ؟کے پسند کرتی ہو پسند کر کے تو دیکھاو اگر تم کسی کی ہو تو وہ صرف زُلنین ذولفیقار ۔"
    وہ ایک دم سُرخ ہوگئی
    "زیادہ فری نہ ہو اچھا اب جاو تمھارے وہ ڈاکڑ اور اس کی وائف بیٹھے تمھارا انتظار کررہے ہوگے ۔"
    زُلنین پہلے دیکھتا رہا پھر ہنس پڑا
    "لڑکی اس کے سامنے مت بولنا وہ تمھارا منہ نوچ لیتی
    پرمیس جزلان کزنز ہے اور پرمیس بڑی ہے جبکہ جزلان تو اُنّیس سال کا ہے ۔"
    ہما کو جھٹکا لگا
    "کیا !!!"
    زُلنین کو اپنی زبان کے پھسلنے پر تیش آیا ایک تو جب سے اس کی طبیعت خراب ہوئی ہے سسٹم ہی ہل کر رہ گیا ہے
    "میں بیس سال کی ہوں اور وہ مجھ سے ایک سال چھوٹا ڈاکڑ بن گیا ۔"
    "اا میرا مطلب وہ بہت انٹیلیجنٹ ہے ۔"
    "زُلنین پھر بھی بڑی ہی عجیب بات ہے ،خیر میں نانو کو دیکھ کر آو ۔"
    "اچھا رُکو !۔"
    وہ رُک گئی
    "فائیق کے بارے میں کیسے پتا چلا ۔"
    ہما خاموش ہوگئی پھر ابھی آتی ہو کا کہہ کر اوپر کی طرف بڑھی اور نیچے آئی تو اس کے ساتھ میں پینٹنگ تھی وہ سمجھ گیا اور اپنی بد احتیاطی پر اسے بہت غصہ آیا اس نے پینٹنگ موڑی تو بھی وہ سمجھ گیا کے یہ پینٹنگ کس کی ہے اور یہ بنائی کس نے ہے
    "یہ ہے شاہد اور ان کا میری ماما سے کوئی تعلق کے زُلنین پتا نہیں کہتے ہوے عجیب لگتا ہے لیکن ناجانے ان کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے کوئی بہت گہرا تعلق ہے میرا ان سے بہت اپنے اپنے سے محسوس ہوتے ہیں ۔"
    وہ ٹیبل پہ ان کی تصویر رکھتی ہوی بولی اور لہجہ اس کا بہت کھویا ہوا تھا
    "یہ واقی میرے بابا سے کچھ ضرورت سے زیادہ خوبصورت ہیں ہے نا زُلنین ۔"
    زُلنین عجیب نظروں سے تصویر کو دیکھ رہا تھا پھر اسے اور جب بولا تو آواز میں کرختگی تھی آج جیسے فیصلے کی گھڑی آگئی تھی وہ اسے اتنا تو نہیں مگر کچھ تو بتانا چاہتا تھا اگر وہ شخص ہما کے قریب آنے کوشش کریں تو ہما اسے خود سے دور کریں
    "میرا چچا ہیں فائیق زولفیقار ۔"
    ہما کو لگا پورے آسمان اس کے اوپر گرا دیا ہو اور وہ اب شاکڈ سے گرنے لگی زُلنین نے اسے تھاما
    "ہما !۔"
    اس نے اس کا چہرہ تھاما اور وہ ساکت نظروں سے زُلنین کو دیکھ رہی تھی
    ***************


    وہ آج گولف کھیلنے مری ہی بنا ہوا بلیک روز ہوٹل میں گئے شفق بڑی ہی شوق سے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی
    اس نے آج سفید ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک ٹراوزر امی نے زبردستی گلے میں سٹالر ڈالنے کو کہا اور ساتھ میں کالی زپ والی سویٹر پہنے کو جسے دونوں شفق نے گاڑی کے پیچھے پھینک دیا اور پونی کیے بالوں میں کیپ پہن کر وہ باہر نکلی فہیم صاحب اپنی وینٹج کار کسی کو نہیں پارک کرنے کو دیں رہے تھے وہ بہت کانشس تھے کار کے بڑے میں اور خاصی کر ونیٹی کار کا تو معاملہ ہی اور ہے اس لیے وہ تو چلے گئے پارکنگ کرنے جبکہ شفق ریسپشن ایڑیا آگئی وہ اس خوبصورت ہوٹل کو دیکھ رہی تھی جہاں ہر طرف پینٹنگز کے ساتھ ہر قسم کے پھول تھے ہر رنگ کے دیواروں میں کھبی ٹیبل میں کھبی زمین میں ایک منٹ کے لیے تو شفق کو لگا وہ کسی ہوٹل میں نہیں فلاور شاپ میں گھس گئی ہو
    "مے آئی ہلیپ یو میم !۔"
    وہ چونکہ کر مڑی اور اس نے دیکھا ایک بلیک یونی فورم میں اپنے نام کے ساتھ روز لگائے کھڑی اس کی منتظر تھی
    "جی یہاں گولف سینٹر کدھر ہے ۔"
    "لفیٹ سائڈ کے اس پاڑ اگر آپ کا ممبر شپ کارڈ ہے پہلے یہاں سے گولف کا سامان اور کار کی چابی لے لے پھر جائے اگر نہیں بنا تو ہمارے پاس آئے ہم آپ کو بنادیتے ہیں ۔"
    "نہیں ٹھیک ہے میرے فادر آجائے گے تب تک ویٹ کرتی ہو مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا ۔"
    وہ ہلکہ سا مسکرا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی
    "ویسے یہ اتنی پھولوں لگتا دُنیا جہان کے پھول یہاں آگئے ہو ۔"
    "سر کو بہت محبت ہے پھولوں سے ہر روز نیا پھول لگاتے ہیں اور ہر ورکر کو ڈیلی بیسس پہ ایک پھول لگوانے کو کہتے ہیں پھول ان کی کمزوری اور طاقت دونوں ہے ۔"
    "اچھا واو !۔"
    وہ جسمین کو چھوتے ہوے بولی جو دیوار پہ خوبصورت نقش بن کر لگی تھی ۔
    وہ ببل گم چبا کر اِدھر اُدھر کا جائزہ لینے لگی جب کسی کی آواز پر اچھلی
    "زہے نصیب آپ تو ایک کال کے کمال سے میرے ہوٹل پہنچ گئی کیا بات ہے ۔"
    وہ ڈر کر مڑی تو اس نے دیکھا وہ فائیق ہی تھا جو بلیک سوٹ میں بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا اور بہت ہی دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا
    "آپ ! یہاں کیا کررہے ہیں ۔"
    وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھئ
    "زیادہ تو مت بنے مس فہیم میرے ہوٹل میں آکر آپ بن رہی ہے ۔" وہ اپنی ٹائی ٹھیک کرتے ہوے بولا
    "یہ اتنا بڑا ہوٹل آپ کا ہے ۔"
    وہ منہ کھولے اس ہوٹل کو دیکھ رہی تھی یہ بندہ تو بہت امیر ہے ۔
    "منہ بند کریں ورنہ مکھی چلی جائے گی ۔"
    وہ شرارت سے بولا
    "اُف تو یہ بلیک روز آپ کو ہوٹل ہے ۔"
    "جی میری اتنی محبت اور محنت سے بنایا ہوٹل ہے آپ ویسے میرے سے ملنے آئی ہیں مجھے منانے کے لیے ۔"
    "میں آپ کو بھلا کیوں مناؤں گی ۔"
    وہ ابرو اچکاتے ہوے بولی
    "وہ کل کال کاٹ دیں تھی ۔"
    اس نے ہلکی سی گھوری شفق کو دکھائی
    "ہاں تو ! آپ نے نا لازمی امی سے پٹوادینا تھا ۔"
    "یار میں تو بات ہی کررہا تھا ۔"
    "امی کو لڑکوں کے ساتھ میرا بات کرنا نہیں پسند بابا کو بھی زبردستی کہا لندن سے یہاں شفٹ ہوے ماحول خراب ہیں بابا لبرل ہیں مگر امی !۔"
    اس نے گہرا سانس لیتے ہوے کہا
    "ہی ہی بروان بچے ہو نا اس لیے ۔"
    "میرا رنگ بروان نہیں ہے ۔"
    وہ گھورتے ہوے کہنے لگی
    "میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔"
    "میرے ابو آگئے ہیں ۔"
    وہ بول کر فہیم صاحب کی طرف بڑھی جبکہ فائیق مڑ کر اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا اس کی آگ رنگ آنکھیں اس وقت سلور کلر معلوم ہورہی تھی اس کی آنکھوں میں الگ رنگ آتے تھے اس کی احساسات سے ملتے تھے یہ ہی خاصیت تھی اس کی
    "چاچو !۔"
    فائیق چونکہ اور جو ہوٹل کے شینلیر سے لٹک کر اسے دیکھ رہا تھا فائیق نے دیکھا کہی شفق کو تو نہیں نظر آرہا
    "تم اوپر کیا کررہے ہو نیچے آو ۔"
    "ڈونٹ ویری چاچو کوئی مجھے دیکھ نہیں رہا ویسے شی از کیوٹ !۔"
    فائیق کے چہرے پہ شرارت بھری مسکراہٹ آگئی
    "اُتر جاو ملواتا ہو اس سے ۔"
    "اوکے ۔"
    زُلنین تیزی سے اُترا اور فائیق نے اسے اُٹھایا
    "کام کر لیا تم نے ۔"
    "یا بہت ہی بیکار کتاب تھی ۔"
    "او نو ! پھر تم دوسرا رائیٹر ٹرائی کرو ۔"
    وہ اسے ساتھ لیے کر چلنے لگا کے شفق جو ڈیٹیلز سے بور ہوگئی تو فہیم صاحب نے کہا وہ جاکر دیکھ آئے اجازت ملنے پر وہ اس طرف آئی جہاں فائیق کے ساتھ ایک خوبصورت بچہ تھا شاہد پانچ چھ سال کا بچہ تھا
    اور اس کی آنکھیں بڑی پیاری تھی باقی کے نقش ہلکے ہلکے فائیق سے ملتے تھے
    وہ دونوں کوئی گفتگو کررہے تھے کے شفق چلتے ہوے نا چاہتیے ہوے بھی آگئی
    "یہ ہینڈسم بوئی کون ہے ؟۔"
    شفق کو بچے اچھے لگتے تھے اور خوبصورت بچے تو بہت زیادہ اس لیے وہ زُلنین کے پاس آنے پہ خود کو روک نہیں پائی تھی
    "دیکھا چاچو لڑکیاں مجھ پہ مرتی ہیں ۔"
    اس کی بات پر شفق کھلکھلا کر ہنس پڑی فائیق نے گھوری دکھائی مگر لبوں پہ اس کے بھی مسکراہٹ تھی
    "تو یہ آپ کا بھتیجا ہے ویسے دیکھنے میں تو باپ بیٹا لگ رہے ہیں ۔"
    فائیق نے مسکرا کر زُلنین کو دیکھا جو اردگرد سے بے نیاز شفق کو معصومیت سے دیکھ رہا تھا اور پھر تھمز آپ دیا فائیق کو ہنسی آئی اُف
    "ہاں تو میرا بیٹا ہی ہے یہ ۔"
    "مسڑ اونر کیا مجھے اپنے ہوٹل کے ڈیٹیلز نہیں دیں گے ۔"
    فائیق نے زُلنین کو دیکھا زُلنین اتُرنے لگا
    "مجھے بھوک لگ رہی ہے تو میں کیفے جارہا ہو ۔"
    شفق نے اس کے کالے بال بگارے وہ مسکرا کر چل پڑا
    "چلے مس فہیم !۔"
    وہ پُر شوق نظروں سے شفق کو دیکھ رہا تھا
    "جی مسڑ زولفیقار !۔"
    وہ ساتھ چلنے لگے جبکہ زُلنین نے مڑ کر انھیں دیکھا تو چہرے پہ بڑی ہی گہری مسکان آگئی
    ******************
    ہما نے اپنی گردن کو پکڑا اسے لگا رہا تھا کوئی اس کے گلے کو زور سے دبا رہا ہے اس سے کچھ بولا نہیں جارہا تھا چہرہ لٹے کے مانند سفید ہوتا جارہا تھا زُلنین اس کو پکڑا کر تیزی سے بولنے لگا
    "ہما ! ۔"
    ہما کو لگا بس وہ گئی اب اس نے زُلنین کو ہاتھ ہٹایا لیکن زُلنین نے اسے پھر پکڑا اور اس کو چیک کرنے لگا
    "ہما بولو تو صحیح !! ائیم سوری ایجنلُ کھولو ۔"
    ہما اس کو تیزی س ہٹا کر سنگ کی طرف بڑھی اور وامیٹ کرنے لگی زُلنین نے مڑ کر دیکھا وہ جھکی ہوئی تھی
    "ہما !!!او خدا یہ کیا کہہ دیا میں نے ۔"
    وہ اس کی طرف بڑھا ہی تھا ایک دم رُک گیا ہما خون کی الٹیا کررہی تھی ایک دم جیسے ہر گھڑی ٹہر گئی تھئ ہر پل جیسے تھم چکا تھا سانسیں بھی اس نے ہمت کر کے ہما کا کندھا پکڑا اور مڑا ہما بالکل بے ہوش ہونے والی تھی زُلنین نے اسے پکڑا ہما نے سہارے کے لیے زُلنین کے سینے پہ سر رکھ دیا اور ہما نے بے ہوش ہونے سے پہلے بولا تھا
    "زُلنین میں تم سے بہت پیار کرتی ہو میں تمھیں کھونا نہیں چاہتی ۔"
    اور زُلنین بالکل خاموش تھا یانی بدشگنی شروع ہوچکی تھی
    ************
    اس کی آنکھ کھلی اس نے خود کو نرم بستر کے بجائے صوفے پہ پایا وہ تیزی سے اُٹھی اس نے اردگرد دیکھا
    وہ لاونج میں ہی تھی ۔
    "اسے یاد پڑتا تھا کے زُلنین نے کہا تھا فائیق اس کا چچا ہے اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی تھی یانی جو کچھ پاسٹ میں ہوا تھا جو اب اس کے ساتھ ہورہا ہے اس کے بارے میں زُلنین کو ضرور علم ہے اور نانو !۔"
    وہ تیزی سے اُٹھ کر ان کے پاس بھاگی اور دروازہ کھولا دیکھا تو وہ کھڑی اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ رہی تھی بلکہ دیکھ نہیں رہی تھی گھور رہی تھی ایک منٹ کے لیے ہما جیسے ڈر گئی تھی زُلنین کو بلوانے کے لیے اس نے جلدی سے اپنا فون ڈھونڈنا چاہا کے کہی مل نہیں رہا تھا یاد کرنے پہ بھی اسے نہیں ملا وہ اپنے کمرے میں جانے لگی جب دیکھا ٹیبیل پہ پینٹنگ پڑئ تھی فائیق زولفیقار کی پینٹنگ اس نے جلدی سے اُٹھائی
    اور اوپر کی طرف جانے لگی جب اس نے دیکھا دروازہ
    پہ ناک ہوئی تھی اسے لگا زُلنین ہوگا تو وہ تیزی سے پیٹنگ سائڈ پہ رکھ کر اپنے حلیہ دیکھ کر آگئے بڑھی ہی تھی کے اسے کے سامنے ایسا لگا تھا کوئی چیز تھی یا شاہد کسی کی ٹانگیں جو اسے گرانے والی تھی لیکن اس نے پھرتی سے سائڈ ٹیبل کو خاصا اونچا تھا اسے تھام لیا اور بچ گئی اس نیچے دیکھا لیکن کچھ نہ پاکر اسے کے اندر سرد لہر دوڑی مڑ کر دیکھا دروازے پہ پھر دستک ہوئی تھی اس نے جاکر تیزی سے دروازہ کھولا تو غالیا کو دیکھ کر اس کا ڈر کچھ کم ہوا اور اس نے اپنے چہرے کے تاثرات پہ قابو پایا
    "او غالیا کیسی ہو ! کب آئی تم واپس ۔"
    وہ ہلکہ سا مسکرائی
    "بس وہ امی کی طبیعت خراب ہوگئی تھی تو ماموں ہمیں لینے آئے تھے امی کو ہوسپیٹل آڈمیٹ کر لیا تھا میں کیا اندر آسکتی ہوں ہما آپی ۔"
    "ہاں کیوں نہیں اندر آو ۔"
    "نانو کا سُنا میں نے بہت زیادہ افسوس ہوا ہما آپی آپ ویسے اکیلے کیسے رہ رہی ہے ۔"
    وہ ان کو دُکھ بھری نظروں سے دیکھتے ہوے بولی اور ہما کو سمجھ نہیں آئی کیا بولے وہ بس ایسے ہی دیکھتی رہی پھر ہلکہ سا مسکرائی
    "آو اندر ناشتہ کرو گی میں ابھی اُٹھی ہوں ۔"
    وہ ساتھ چلنے لگی پھر ایک دم رُک گئی
    "غالیا تم چلو میں ابھی زرا منہ دھو آو ویسے نیند چھائی ہوئی ہے ۔"
    "ٹھیک ہے میں لاونج میں ویٹ کر لیتی ہوں ۔"
    اس نے کہا اور ہما نے تیزی سے مڑ کر نانو کے کمرے کا رُخ کیا
    اور دروازہ کھولا دیکھا وہ ابھی تک سٹل بیٹھی ہوئی تھی مگر آنسو ان کے چہرے کو بگھو چکے تھے اور وہ
    کہے جارہی تھی
    "میں نے ٹھیک نہیں کیا شفق میں نے واقی ٹھیک نہیں کیا تمھارے ساتھ کوئی ماں بھلا ایسا کرسکتی ہے دُشمن بھی ایسا بُرا نہ چاہیے میں نے واقی بہت غلط کیا تمھارا وعدہ پورا کروں گی ہما کو اس کے باپ سے ملواوں گی میں قبول کرلو گی اسے بس ایک بار آجاو ۔"
    اور ہما نے وحشت زدہ ہوکر وہ زمین پہ ڈھے گئی
    یانی جس جواب کے وہ تلاش میں تھی وہ جواب اس کو مل گیا وہ فائیق زولفیقار کی بیٹی ہے وہ ریحان کی بیٹی نہیں ہے
    ※※※※※※※※※※※※※※※


    وہ اسے ان ڈور سویمنگ ایڑیا لے گیا لیکن وہ ٹائیمنگ کے باعث بند تھا مگر کھڑکھیاں کھلی ہوئی تھی جس سے ہلکی ہلکی روشنی کمرے میں پڑ رہی تھی دیواروں میں خوبصورت پینٹنگ کے ساتھ ساتھ جسمین کے پھول لگے ہوے تھے وہ چلتے ہوے وہاں قریب آئی اور دیکھنے لگی
    "یہ کیا پول بند ہے ۔"
    وہ مڑ کر فائیق کو دیکھتے ہوے کہنے لگی
    "ہاں پول بند ہے کیونکہ ٹائیمنگ نہیں ہے ۔"
    "اور باہر کا کیوں کھلا ہے ؟"
    "وہ تو ویسے پبلک کے لیے ہے یہ تو لیڈیز کے استمعال میں آتا اور خاص کر گرم پانی جنہوں نے یوز کرنا ہوتا وہ یہ جگہ یوز کرتے ہیں ۔"
    "او اچھا ! ۔"
    "ویسے بہت زبردست ایڈیا لائے ہیں آپ جیسے لندن اور پیرس کے ہوٹلز نہیں ہوتے ویسے ہی کانسپیٹ بنایا ہے اور جگہ بھی ایسے لگ رہی ہے ۔"
    "بس میں ٹریول کرتا ہوں آئڈیاز لیتا ہوں خود کا تو دماغ نہیں ہے نا میرا ۔"
    "ارے اتنا بھی کیا بلکہ اس سے زیادہ اچھا بنایا ہے ۔"
    "خیر چھوڑے آئے آپ کو لائبریری دکھاتا ہوں اپنی فرینڈز کو بھی بلائے گا اِدھر ۔"
    "چھوڑے بُکس بورنگ اتنے بُکس دیکھو گی سر چکڑا جائے گا اور رہی بات فرینڈز کی میری کوئی فرینڈ نہیں ہے اُدھر بھی نہیں تھا
    وہ ہنس پڑا
    "سب دیکھ لیا اب باہر ہی رہتا ہے ۔"
    "نہیں ابھی بہت کچھ رہتا ۔"
    "بابا انتظار کررہے ہوگے چلتے ہیں ۔"
    وہ سر ہلا کر اس کے ساتھ باہر چلنے لگا
    "ویسے بُکس پڑھتی ہیں آپ !۔"
    "بابا کے ساتھ ویسے اکیلے بالکل نہیں بور ہوتی ہوں پتا نہیں لوگ کیسے پڑھ لیتے ہاں تبصرہ اور بعث کرنا پسند ہے مجھے ڈسکشن کرتے وقت مزہ آتا ہے ایسے نہیں میرا شوق تو صرف ایک ہے میوزک سُنا وہ بھی پاپ اور انسٹرومنٹ بجانا میرا فیورٹ کام ہے ۔"
    "واو داٹس گریٹ تو میرے سامنے ایک میوزیشن کھڑی ہے ۔"
    "نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔"
    وہ چھینپ گئی
    "ویسے میوزیشن سے یاد آیا میرے یہاں تھیٹر ہے ایک نیچے اور دوسرا رؤف ٹاپ پہ آئے آپ کو دکھاتا ہوں ویسے آپ پرفام کرسکتی ہیں ۔"
    وہ اسے دیکھنے لگی تو اداسی سے مسکرائی
    "نہیں مجھے اپنی امی سے مار نہیں کھانی پہلے ہی بہت پڑی ہے اس بات پہ ۔"
    "ارے کیوں ؟۔"
    "میں میوزک کی بہت زیادہ دیوانہ تھی اور میری امی بہت زیادہ ریلجس ہیں انھیں یہ سب پسند نہیں ہے اور میں تو اس وقت انھیں سخت زہر لگتی ہوں جب میں سنگنگ کررہی ہوں خیر ایک دن اوڈیشن دینے گی ایسے میری کلاس فیلو نے بہت فورس کیا تھا تو میں نے ٹرائی مار لیا اور میں سلیکٹ ہوگئی میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا آپ کو پتا ہے میں مائیکل جیکسن سے بھی مل سکتی تھی لیکن ممی نے خیر ۔۔۔ مجھ سے سارے میوزکل چیزیں چھینے لگے مجھے ڈانٹا ابو سے بھی ڈانٹ پروائی اور میں گروانڈڈ رہی دس دن کے لیے اور میرے اس بڑھتے شوق کو دیکھتی ہی انھوں نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا ۔"
    "ارے یہ کیسی بات ہوئی بھلا پرینٹس کو اپنے بچوں کی خواہشات کا احترام کرنا چاہئیے آپ اپنے سب سے بڑے ٹیلنٹ کو چھپا کر ہمیں ایک اچھے سنگر سے محروم کررہی ہے ۔"
    فائیق اس کا جوش بڑھا رہا تھا وہ مزید اداس دکھنے لگی پھر سر جھٹک کر کوریڈور میں دیواروں پہ لگے پھول اس کی توجہ کا مرکز بنا
    "آپ کا پورا ہوٹل پھولوں کی دُکان ہی ہر جگہ پھول ہی پھول لگتا ہے آپ نے پوری دُنیا کے پھولوں اپنے اس ہوٹل میں لگا لیے ہیں اور نام بھی آپ نے بلیک روز رکھا اس سے آپ کا پھولوں سے بے پناہ عشق ظاہر ہوتا ہے وہ آپ کی ورکر بھی یہی کہہ رہے تھی ۔"
    "پھولوں سے ایک الگ سی محبت ہے بلکہ پھول تو ہے ہی محبت کی علامت ،زندگی کے ہر خوشی غم میں آپ کے ساتھ ہوتے ہیں آپ پیدا ہوتے ہو لوگ آپ کے لیے پھول لاتے ہیں ،آپ مرتے ہو آپ کے قبر پہ پھول چڑھانے آتے ہیں ، آپ بیمار ہوتے ہو آپ کی سالگرہ ہوتی ہے یا کچھ بھی پھول محبت کا اظہار ہے آپ کی زندگی میں رنگ بڑھتا ہے اور یہ احساس دلاتا دوسرے کو کے چاہیے کچھ بھی ہو پھولوں کی طرح ہم بھی آپ کی زندگی میں خوشبو اور رنگ بھر دیں گے اور یہ ہمارئ محبت کا اظہار ہے اور اس ہوٹل کو میں نے اتنی محبت اور محنت سے بنایا ہے تو بس یہ پھول مجھے میری محبت اور محنت یاد دلاتی رہی گی خیر بہت ڈیپ باتیں ہوگی ویسے آپ آئے انسان کو اپنی محبت سے بھاگنا نہیں چاہیی اگر کی ہے تو ڈرنا کیا میوزک آپ کو خواب ہے اور خوابوں سے بھاگنا نہیں چاہیے ۔"
    وہ فائیق زولفیقار کے شیرے لہجے اور خوبصورت الفاظ میں کھو گئی تھی آج تک شاہد کوئی اتنا خوبصورت نہیں بولتا ہوگا شفق کے دل کو کچھ ہوا اس نے فائیق کے چہرے سے بے اختیار نظریں پھیری
    "آئے گولف سینٹر دکھاتا ہوں ویسے آپ کو گولف کھیلنے آتی ہے ۔"
    وہ پوچھ رہا تھا اور وہ اس کی باتوں کا جواب دیتے ہوے اس کے ساتھ چلنے لگی۔
    ※※※※※※※※※※※※※
    ہما جلدی سے اُٹھی اور ان کے پاس آئی
    "آپ نے ابھی کیا کہا تھا !۔"
    وہ ہما کی بات بے اختیار چونک کر اسے دیکھا اور پھر گھبڑا گئی
    "ککک کون سی بات !۔"
    "ابھی آپ کہہ رہی تھی شفق میں تمھیں اس سے ملا دوں گی پلیز تم واپس آجاو ۔"
    "نہیں میں نے کچھ نہیں کہا تم کون ہو اور میرے گھر میں کیا کررہی ہو ۔"
    وہ حشت زدہ نظر آنے لگی
    "اور کسی کو بلانے کا کہہ رہی تھی آپ کون ہے وہ جسے بلا کر ماما واپس آجائے گے ۔"
    اس نے ان کے کندھے کو ہاتھ لگایا جسے انھوں نے جھٹکا
    "تم کیا کہہ رہی ہو اور ماما کون ؟۔"
    "نانو میری بات سُنے میں آپ کی نواسی ہما اور ماما کدھر ہے کیا ہوا آپ آئی کہاں سے ہیں ۔"
    کہی سوال اس کے دماغ میں تھے جن کے جواب وہ جانا چاہتی تھی ہر ایک راز میں سو راز تھے ایک راز کھلتا تو کہی راز اور کہی سوال اس کے سامنے آجاتے اسے لگتا وہ کسی گیم کی دُنیا میں آگئی تھی جہاں ہر ایک لیول کو ہل کرنا تھا اور ہر لیول پچھلے لیول سے مشکل تھا یہ کیسی گھڑی تھی جو اس پر آگئی تھی کاش اس کی ماما یا نانو اس سے کچھ نہ چھپاتی
    "تم کون ہو اور میری نواسی ہما تو بہت چھوٹی ہے ابھی تو صرف چھ ماہ کی ہے ۔"
    ہما سمجھ گئی انھیں کیا ہوا ایک سائیکولجی کی سٹوڈنٹ ہونے کے ناطے اتنا تو جان گئی تھی ان کی میمیری لاسٹ ہوگئی ہے اور پھر ایک اور بات نانو کو تو اس نے خود چیک کیا تھا وہ مر گئی تھی انھیں دفن بھی کیا لوگ بھی آئے ایک منٹ نانو کو اس نے صرف اس وقت دیکھا تھا مرتے ہوے اس کے بعد اسے کچھ ہوش نہیں تھا اور غسل بھی شاہد کیس نے دیا تھا زُلنین بھی موجود نہیں تھا یہ راز جانا تھا آیا نانو مری ہے یا یہ کوئی بہروپیا ہے بہت سوچ سمجھ کر ہر کام کرنا تھا
    "اچھا ٹھیک ہے میں آپ کی مدد کروں گی کے آپ کی بیٹی واپس آجائے ایسا کون سا شخص ہے جس سے وہ واپس آجائے گی ۔"
    اس نے آپ ان سے پیار سے پوچھا
    "تم سچ کہہ رہی ہونا !۔"
    "میرا وعدہ آپ سے میرا ایک دوست ہے وہ پولیس میں ہے وہ آپ کی ضرور مدد کریں گا آپ کی بیٹی اور نواسی کو ڈھونڈنے میں ویسے گئی کہاں ہے وہ ۔"
    وہ اب سمجھداری سے ان سے پوچھنے لگی
    "وہ بھاگ گئی میں اسے دودھ دینے آئی تھی وہ غائب تھی وہ کہہ رہی تھی امی میں بھاگ جاوں گی اس بچی کو اس کے باپ سے محروم نہیں کرسکتی ۔"
    "کون ہے بچی کا باپ ؟۔"
    اس کا دل رُکنا بند ہوگیا
    "وہی ہوٹل کا مالک جادو ٹرونے کرنے والا میں اب بھی نہیں مانتی لیکن اس کی خاطر مان جاو گی ۔"
    "کون سا ہوٹل ۔"
    "اِدھر ہی ہے ۔"
    "نام کیا ہے ؟۔"
    ہما نے لب دبا لیے
    "نام نہیں یاد !۔"
    ہما نے پہلے تو سوچا پہلے قبرستان میں جاکر تصدیق کریں وہ گئی بھی نہیں اور ایسا کوئی موقعہ ہی نہیں ملا کے وہ جاسکتی سارا سچ تو وہی پتا چل جائے گا
    اور اسے یاد آیا غالیا بھی باہر اس کا انتظار کررہی تھی وہ انھیں آرام کرنے کا کہہ کر اُٹھی
    "تم لے تو آو گی نا !۔"
    "آپ فکر نہ کریں نام تو یاد ہے اس کو میں ڈھونڈنا چاہتی ہوں ۔"
    "وہ اِدھر نہیں ہے ۔"
    "اچھا نام کیا ہے ۔"
    "فائیق زولفیقار !۔"
    ہما نے دل تھام لیا اس سے حضم کرنا مشکل ہورہا تھا وہ کیا ناجائز ہے ایسے کیسے ہوسکتا اور ماما ماما آخر ایسا کیوں کریں گی اللّٰلہ وہ ایسی نہ ہوں بس کچھ بھی ہوجاے بیشک ماما کی شادی ہوئی ہو لیکن ایسا نہ ہوا ہو وہ سہہ نہیں پائی گئ اب جو کچھ بتائے گا وہ زُلنین اور یہ تب ہوگا جب وہ اس کی بیوی بنے گی
    ******************
    "ام غالیا ! ۔"
    ہما باہر آئی اسے دیکھا جو ٹی وی لاونج میں بیٹھی اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی ہما کے کہنے پر فورن اُٹھی
    "آپ نے تو دیر کردی ۔"
    "ہاں سوری بس مجھے ابھی کہی نکلنا اگر آپ مائینڈ نہ کرو اصل میں تھوڑے سے مسئلہ ہوگیا ہے میں جانتی ہوں پہلے بھی ایسے ہی کہا تھا اور آپ کو آنے کا وعدہ کیا تھا مگر میں آ نہیں سکی تھی اب بھی کہہ رہی ہو فارغ ہوئی تو ضرور آپ کے گھر آو گی بس آپ اپنا مجھے اڈریس دیں دوں ۔"
    "کوئی بات نہیں آپی آپ آرام سے کام کریں میں تو ویسے ہی آئی تھی اب تو اِدھر ہی ہوں ملتے رہے گے امی سو رہی تھی سوچا آپ سے مل لو آپ بھی اکیلی تھی ۔"
    ہما نے مسکرا کر اس کے گال تھپ تھپاے
    "بہت شکریہ سویٹی آو میں آپ کو باہر چھوڑ دوں سوری کچھ پینے کو بھی نہیم دیا ۔"
    "آپی ایسے تو نہ کہے میں سمجھ سکتی ہوں ویسے زیادہ سریس معاملہ تو نہیں ہے ۔"
    وہ نرمی سے پوچھنے لگی
    "نہیں نہیں کوئی زیادہ نہیں بس ضروری کام یاد آگیا تھا ۔"
    "اچھا اپنی امی کو سلام دینا اور بولنا میں ضرور آو گی ۔"
    "جی ضرور ! اللّٰلہ حافظ ۔"
    ہما کو کچھ یاد آیا اس کی امی سے بھی کچھ پتا چل سکتا ہے لیکن فل حال یہ نانو کا کوئی مسئلہ حل کرنا ہے وہ سوچتے ہوے اس سے مل کر دروازہ بند کرنے لگی جب کسی نے ہاتھ رکھا اس نے دیکھا زُلنین کا ہاتھ اس نے جلدی سے کھلا وہ اس وقت یونی فورم میں ملبوس ہینڈسم لگ رہا تھا اور گلاسس اُتارے ہوے اسے دیکھنے لگا
    "اسلام و علیکم کون تھی یہ ؟۔"
    "ماما کی دوست کی بیٹی تھی اندر آئے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ۔"
    ہما سنیجدگی سے بولی
    "کیا ہوا تم ٹھیک ہو طبیعت کیسی ہے ؟۔"
    وہ اندر داخل ہوتے ہوے بولا ہما نے دروازہ بند کیا
    اور زُلنین کا ہاتھ پکڑا زُلنین نے حیرت سے اسے دیکھا وہ اسے لے کر چلنے لگی اور اسے نیچے کے بجائے سڑھیوں کی طرف بڑھی
    "ہما کیا ہوا بتاو تو ۔"
    زُلنین نے ہاتھوں سے کھینچ کر روکنا چاہا لیکن وہ نفی میں سر ہلا کر چلنے لگی
    "بولو تو سہی ہوا کیا ہے ۔"
    وہ پریشان ہوگیا وہ اس اپنے کمرے میں لے گئی اور دروازہ بند کیا
    "ہما اِدھر دیکھو ہوا کیا ہے اِدھر کیوں لائی ہو اور وہ کدھر ہے سب ٹھیک تو ہے نا ۔"
    ہما نے اپنے منہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور نیچے بیٹھ گئی زُلنین کا دماغ بھک سے اُڑھ گیا
    "ہما !۔"
    وہ جلدی سے نیچے جھکا اور اس کا ہاتھ ہٹایا تو پریشان ہوگیا وہ رورہی تھی وہ بھی لب دبا کر اپنی سسکیوں کو روک رہی تھی
    "تمھیں ہوا کیا ہے ایسے اچانک سب ٹھیک تو ہے نا کوئی آیا تھا کیا ہوا تھا ۔"
    اس نے ہما کے گال صاف کیے اس نے بولنا شروع کیا تو لہجہ بھاری تھا
    "مجھے آپ اپنے چاچو کا پتا دیں سکتے ہیں ۔"
    وہ ٹہر گیا اسے لگا وہ پتھر کا ہوچکا ہے ۔"
    "میں کچھ کہہ رہی ہو زُلنین مجھے فائیق زولفیقار کا پتا لگ سکتا ۔"
    زُلنین کے تاثرات عجیب ہوگئے
    "کیا ہوا بتاو کچھ ہوا ہے ۔"
    اس نے ہما کا ہاتھ پکڑا
    "آپ مجھے بتاتے کیوں نہیں ہے ۔"
    "مجھے نہیں پتا میرا ان سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے وہ ایک اچھے انسان نہیں ہیں ہما پتا نہیں زندہ ہے کہ نہیں ۔"
    "ایسے مت کہے !۔"
    اس کا دل درد سے بھر رہا تھا پتا نہیں زُلنین کو دیکھ کر وہ کمزور پڑ جاتی تھی وہ واقی کسی کے سامنے نہیں روئی تھی مگر زُلنین اس کی اندر کی کمزور لڑکی کو باہر لے آتا تھا
    "میرا دل بیٹھا جارہا ہے ہما بتاو کیا انھوں نے کچھ کہا ہے ۔"
    اس کا اشارہ نانو کی طرف تھا ہما نے اپنے منہ پہ ہاتھ کر اپنے گیلے گال صاف کیے
    "آپ کو کچھ آئیڈیا ہوگا زُلنین وہ بہت اہم ہیں ان کی وجہ سے سب کچھ جان سکو گی ۔"
    "وہ نہیں ہیں اچھے میں کہہ رہا ہونا وہ ایک دُنیا کا سب سے گھٹیا اور زلیل آدمی ہے ۔"
    زُلنین آپ کی بار غصے اور نفرت سے بولا ہما ایک منٹ کے لیے ساکت ہوگئی
    "آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ۔"
    وہ اسے دیکھنے لگی جو اب اُٹھ گیا تھا اور اپنے بے اختیار ہونے پہ سر پہ ہاتھ رکھ رہا تھا وہ اپنے دکھ بھول کر زُلنین کی نفرت کو اپنے جسم میں محسوس کررہی تھی ہما کو محسوس ہوا اس کا جسم جل رہا ہے
    "ائیم سوری ہما میں تم پر چلایا لیکن وہ واقی ایک اچھا انسان نہیں ہے اور میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں میں تمھیں ہر مصیبت اور بلا سے دور رکھنا چاہتا ہوں اور فائیق زولفیقار کسی مصیبت سے کم نہیں ہے ۔"
    وہ خود کو کمپوز کر کے دوبارہ اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ پکڑا جو ساکت نظروں سے دیکھ رہی تھی
    "آپ کو اپنے چچا سے نفرت کیوں ہے ؟۔"
    زُلنین نے اپنی آنکھیں زور سے بند کی
    "بولیے زُلنین ! کیوں ہے ۔"
    "پتا نہیں ۔"
    "پتا نہیں ؟ایسے کیسے پتا نہیں ! نفرت کی کوئی تو وجہ ہوتی ایسی کیا بات ہے جو آپ کو میرے باپ سے نفرت ہیں ۔" اس کا یہ کہنا تھا اور زُلنین کو لگا کسی نے اس کے جسم کو ٹھنڈا کردیا ہوں اور وہ بالکل ساکت ہما کی بات کو سُن رہا تھا
    "باپ !۔"
    **************




    Black rose Novel by Samreen Shah


     

    Read Previous Episodes Here

    EPISODE 1

    EPISODE 2

    EPISODE 3

    EPISODE 4

    EPISODE 5

    EPISODE 6

    No comments

    Note: Only a member of this blog may post a comment.

    Haalim By Nimrah Ahmed COmplete Novel PDF Download

    Now download here Haalim Complete novel in PDF Haalim Complete Novel Very Romantic Urdu Novels Haalim is one of the best novel by Nim...

    Post Top Ad

    Post Bottom Ad