Black Rose Episode 10 By Samreen Shah

Black Rose Episode 10

Black Rose Episode 10 – Ending Chapter 3

Also read previous all episode here and find links of ALL EPISODES

“مگر اس وقت جزلان کمرے میں موجود نہیں ہے بہتر ہے تم یہاں سے چلی جاو !!۔”
وہ تیز لہجے میں کہتا اب اُٹھ گیا تھا
“یہ سمیل کس چیز کی ہے کیا بنا رہا ہے وہ ۔”
وہ اس سے باتیں کرنا چاہتی تھی اس نے اتنی محنت کی تھی بالکل ہما جیسا بنے تاکہ وہ زُلنین کو اٹریکیٹ کریں مگر وہ تو اسے دیکھ ہی نہیں رہا تھا
“پتا نہیں !! ۔”
وہ کہتے ہوے جانے لگا جب پرمیس اس کی راہ میں حائل ہوئی
“زُلنین تمھیں کیا ہوا ہے تم بات کیوں نہیں کرتے مجھ سے ۔”
وہ نرمی سے اس کی طرف دیکھنے لگی جو اب نفرت سے اسے دیکھ رہا تھا جو اس کے اتنے قریب آگئی تھی
“میں نے کھبی تم سے بات کی جو تم تم گلا کررہی ہو دور رہا کرو مجھ سے ۔”
وہ تیزی سے سائڈ پہ ہوکر جانے لگا وہ پھر راہ میں حائل ہوئی
“تم اس لڑکی میں کیا نظر آتا جو تمھیں مجھ میں نہیں آتا ۔”
“واٹ ربش !! یہ کیسا سوال ہے ۔”
وہ پرمیس پہ دھاڑا
“نہیں بتاو زُلنین حق تو میرا پہلا بنتا ہے بچپن سے ہی ممی نے نانا ابو سے بات کی تھی ہمارے بارے میں ۔۔۔۔”
“سٹاپ اٹ پرمیس ۔۔ آگئے سے ایک لفظ بھی نہیں بولو گی تم جو بات کرنی ہے جاکر دادا ذوالفقار سے کرو یہ میرا معاملہ نہیں ہے کیونکہ میں نے تم سے کوئی ایسی سٹوپڈ بات نہیں کی اور تمھیں کیا لگتا ہے میں بڑوں کے فیصلے پہ راضی ہوجاوں گا ہرگز نہیں یہ تمھیں پہلے سے پتا ہونا چاہیے تھا کہ زُلنین ذوالفقار اپنے مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا سمجھی ۔”
“مگر زُلنین !! ۔”
وہ آگئے سے کچھ کہتی وہ اسے سائڈ پہ کرتا وہاں سے تیزی سے غائب ہوگیا تھا
“اُف !!!! ہما ہما میں اس کو مار ڈالوں گی جب وہ نہیں رہی گے تو زُلنین کی محبت بھی ختم ہوجائے گی نہ شکل ہے نہ میرے جیسے دماغ پتا نہیں کیا دیوانہ کر گیا بالکل اپنے چاچا پر گیا ہے ممی صحیح کہتی تھی میں آج ہی ان سے بات کروں گی مگر میں مزید یہ سب برداشت نہیں کرسکتی
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

Black Rose Episode 10
وہ بُکس دیکھ رہی تھی جبکہ وجدان کسی کال کی وجہ سے شاپ سے باہر چلا گیا تھا اس نے ایک بُک اُٹھا کر اب اپنے ضروری سامان کی طرف بڑھ رہی تھی جب اس کا ہاتھ میں موجود فون بج اُٹھا اس نے دیکھا تو نمبر باہر کا تھا امریکا سے امریکا سے کس نے فون کیا ہے، حیرت سے مزید وہ سوچتی رہی پھر اُٹھا لیا
“ہلیو !! ۔”
“ہلیو !! ۔”
اس نے دیکھا کوئی جواب نہیں دیں رہا تھا
“یار کیا مسئلہ ہے اُف تنگ آگئی ہوں ۔”
وہ اتنی اونچی آواز میں بولی تھی کہ سب اس کی طرف متوجہ ہوے تھے وہ خود بھی اتنی آواز پر حیران ہوگئی تھی اسے کیا ہوا تھا ؟ سر جھٹک کر معذرت خواہ نظروں سے سب کو دیکھتے ہوے وہ وہاں سے سڑھیوں کی طرف بڑھی کہ سکیچ بُک لے سکے
وہ جو مگزین دیکھ رہا تھا لڑکیوں کے اس کو کندھے کو زور سے ہلانے لگی وہ تنگ نظروں سے اسے دیکھنے لگا
“کیا ہے !!! کیا تکلیف ہے ۔”
“وہ وہی لڑکی دیکھ رہے ہونا ابھی جو اونچی آواز میں بولی ۔”
“کون لڑکی !! ۔”
وہ جنھجھلایا
“یار جس کی وجہ سے اس ایس پی نے ہمارا حشر کردیا تھا ۔”
اب وہ اس کی بات پر چونک پڑا پھر اِدھر اُدھر دیکھا
“کدھر ہے وہ ؟؟ ، ایس پی بھی ہوگا اس کے ساتھ ۔”
“نہیں اکیلی لگ رہی اوپر والے پورشن میں گئی ہے چل !! ۔۔”
وہ دونوں میگزین چھوڑ کر اوپر کی طرف بڑھے تھے
جبکہ وجدان اب کال اٹینڈ کر اندر آرہا تھا
ہما اب کافی چیزیں خرید کر دوسری پینسل سٹیشن آگئی جب اس کو لگا اسے متلی سی آرہی ہے پیٹ کو وہ تھامتی سیدھا کھڑی ہوئی ان دو لڑکوں کی نظر اچانک اس پڑ پڑی
“وہ رہی ۔۔۔”
اس کے اشارے پہ امان کی نظر پڑتی ہی اس کے چہرے پہ بڑی شاطر مسکراہٹ پھیلی اس اشارہ کرتا ہوا وہ آگئے بڑھے
••••••••••••••••••
وہ اپنے دوست سے گلے مل کر الگ ہوا تو فائیق کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ کر چونک گیا پھر اسے دیکھا اس کی شرارت بھری نظروں سے اس کے بھی چہرے پر مسکراہٹ پھیلی
“او فائیق کی دوست بھی آئے ہیں اسلام وعلکیم ، وعلکیم !۔”
وہ اب گھوم کر شفق کی طرف دیکھتے ہوے بولا تھا وہ اک دم سپٹا گئی پھر فائیق کو دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا
“وعلیکم سلام ! ۔”
وہ آہستہ سے بولتی خاصی کنفیوزڈ لگ رہی تھی مگر اس کی نظریں اب فائیق کے ہاتھ پر تھی فائیق اس کی نظروں کو باخوبی سمجھ گیا تھا اور جلدی سے اپنا ہاتھ پکڑا اور درد بھری ہلکی سے مضنوعی کراہٹ نکالی جس سے اس کا دوست نعیم متوجہ ہوا
“کیا ہوا ؟۔”
“کچھ نہیں کسی نے میرے خوبصورت مصور کی طرح انگلیوں کو کچلنے کی کوشش کی تھی ۔”
وہ اب شفق کی طرف شرارت سے دیکھ رہا تھا شفق کا منہ کھل گیا نعیم ہنس پڑا
“لاو دکھاو زرا اپنا ہاتھ اِدھر ہی کھڑے رہے گئے آئے اندر ۔”
وہ فائیق کو گھورنے لگی جو اپنا ہاتھ پکڑ کر اس کی گھوری کو اگنور کیے اندر داخل ہورہا تھا
گھر جتنا باہر سے عام سا لگ رہا تھا اندر سے اتنا ہی شاندار تھا دو طرف بڑے بڑے لاش پُش لان ایک طرف ہر قسم کے پھولوں نے ایک لان کو رنگ بھر دیں تھے جبکہ دوسرے طرف ہرے رنگ کے پودے اور دو سیب اور جامن کے درخت اس کی نظروں کا مرکز بنے تھے سامنے ہی بڑے سے کار پورچ جو کافی پیچھے کر کے تھا دو گاڑیاں موجود مگر مزید پانچ چھ کی جگہ موجود تھی وہ چلتے ہوے رُک کر جھولے کے قریب بیٹھی ایک چھوٹی سی بچی کو دیکھنے لگی جس کے گولڈن بالوں نے اس کا چہرہ چھپا دیا تھا مگر اس گورے چھوٹے بازوں لان کے گھاس پہ بیٹھے بلاکس کو توڑ جوڑ رہے تھے
“چلے میڈم کس کو دیکھ رہی ہیں ۔”
وہ شفق ایک دم فائیق کے آواز پر اچھل پڑی اور اپنے دل پہ ہاتھ رکھا وہ کھلکھلا پڑا وہ اب اسے گھور کر دیکھنے لگی جو اپنے دکھے ہاتھ کے بجائے دونوں ہاتھوں کو پینٹ کی جیب میں ڈالے دلچپسی سے اسے دیکھ رہا تھا
“آپ نے مجھے ڈرا دیا ہے ۔”
وہ اب اسے گھورتے ہوے تیزی سے بولی وہ اب پاوٹ کرتے ہوے ہنس پڑا
“کوئی نہیں بات نہیں میں تو سب کو ڈرانے میں مشہور ہوں کیا دیکھ رہی ہو وہ اندر چلا گیا اور تم رُک گئی ۔”
“ہاں وہ بچی نے ۔۔۔”
وہ رُک پڑی وہ بچی اب وہاں نہیں تھی
“کون بچی ؟ ۔”
فائیق نے اس کی نظروں کی طرف دیکھا شفق کو لگا جب وہ فائیق سے بات کررہی تھی تب وہ پیچھلی طرف سے چلی گئی ہو
“کچھ نئیں پیاری سے بچی بلاکس کھیل رہی تھی ۔”
“اچھا !! لیکن اس گھر میں بچی ؟ نعیم اور سارا کی تو بچے بھی نہیں ہے تو بچی یہاں کیسے ۔”
وہ ایک دم تیزی سے دیکھنے لگی
“کیا مطلب ہے آپ کا ! ۔”
“ہاں اس گھر میں تو کوئی بچی نہیں ہے میں تو حیران ہوں ۔”
“شاہد کوئی مہمان آئے ہو ۔”
وہ نجانے کیوں عجیب محسوس کررہی تھی
“نہیں میں اور تم آئے ہیں آو اندر وہ بلا رہے ہیں ۔”
“مگر وہ بچی ؟ ۔”
“کون سی بچی دیکھ لی تم نے یہاں تو کوئی بچی نہیں آتے ۔”
“ہیں فائیق میں نے ابھی دیکھی ۔”
“او کہی تم نے نعیم اور سارا کی مری ہوئی بیٹی تو نہیں دیکھ لی ۔”
وہ اس کی سنیجدگی سے کہنے پر چونکی
“کیا مطلب ہے آپ کا ۔”
خوف اس کے جسم سے پھیلتا اس کی آنکھوں میں آگیا
“وہ روشنی بلاکس کھیل رہی تھی لان میں بیٹھی اچانک بارش شروع ہوگی سارا جو تھی وہ اسے بلا رہی تھی وہ اُٹھی تھی کہ کھلی وائر پہ اس کے نگھنے پیروں سے ٹچ ہوے جو نعیم نے لان کے سائڈ پہ چھوڑی تھی کہ وہ واپس آکر ٹھیک کریں گا بس پھر بجلی ۔۔۔
وہ آگئے سے کچھ کہہ نہ سکا شفق کا ہاتھ اس کے منہ پر گیا
“تو یہ مجھے ۔۔۔”
“تمھیں تو پتا ہے نا روح اپنی ماں سے الگ نہیں ہوسکتی اردگرد منڈلاتی رہتی سارا تاکہ اُداس نہ ہو ۔”
‏Are you for real faiq
شفق کا دل جیسا گھبڑا اُٹھا تھا
“چلو چھوڑو گھبڑا کیوں رہی ہو وہ صرف صاف دل لوگوں کو نظر آتی ہیں تم شاہد صاف دل کی ہو اس لیے نظر آگئی ۔”
وہ کہہ کر جانے لگا جب اچانک شفق کے ہاتھ پکڑنے پر رُک گیا یہ ایک پہلا کانٹیکٹ تھا جس نے ان کے درمیان سپارک چھوڑا تھا فائیق تو جیسے ٹہر سا گیا تھا مگر شفق اس وقت ڈر کے مارے اسے بولنے لگی
“آپ مزاق کررہے نا ۔”
اس کی ڈری سمہی ہرنی جیسی آنکھوں نے فائیق کی ایک بیٹ مس کی تھی مزید وہ بہکتا اس نے جلدی سے ہاتھ چھوڑا
“میں اتنا فضول مزاق کیوں کروں گا اب چلو ایسے اچھا نہیں لگے گا ۔”
شفق ڈر کر اس طرف دیکھنے لگی جہاں اس نے اس بچی کو دیکھا تھا فائیق نے اسے دیکھا تو شرارت مسکان کو چھپانے کی خاطر وہ مڑا تھا
وہ تیزی سے چلتے ہوے اس کی پیچھے آئی تھی
ڈر اب غالب آرہا تھا فائیق کو اس کی حرکت پر بہت ہنسی آئی تھی مگر سنیجدگی دکھاتا وہ اندر داخل ہوا تھا دیکھا تو وہ ڈر سے اِدھر اُدھر دیکھتے اندر آئی گھر تو باہر سے بھی زیادہ شاندار تھا وڈن فلور پہ اس کی جوتی سے کریک کی آواز نے اس کو تیز چلنے اور فائیق کی پُشت پہ زور سے ٹکڑانے پر مجبور کردیا
“ایزی ایزی لیڈی بھاگ کیوں رہی ہیں راستہ دیں دوں آپ کو ۔”
وہ مسکراتے ہوا
“مجھے گھر جانا ہے ۔”
اس عجیب سا محسوس ہورہا تھا
“چلے جائے گا یار تم تو بہت ڈرپوک ہو لڑکیوں کو ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔”وہ سنیجدہ ہونے ہی بھرپور کوشش کررہا تھا مگر شفق کا سہما چہرہ اسے ہنسنے پر مجبور کررہا تھا
“تو کیا جان بوجھ کر اپنے پیروں پہ کلاڑی مارے اور بھوت بنگلے میں داخل ہوکر بھوت کو کہے آجاو یار گپ شپ لگاتے ہیں کافی شفافی پیتے ہیں ایک تو مصیبت آپ کے ساتھ اندر آگئی میں ۔”
وہ اس کی بات پر کھل کر ہنس پڑا
“آو نا یار سارا ویٹ کررہی ۔”
اُدھر سامنے نعیم اُترا ان دونوں کو کھڑا ہوا دیکھ کر بولا
“محترم یہ آپ اور سارا کے پیرڈائس کو بھوت بنگلا کہہ رہی ہیں ۔”
وہ سپٹا گئی اور پھر اس نے نعیم کو دیکھا تو وہ پہلے حیرت سے دیکھتا رہا پھر ہنس پڑا
“اگر یہ بھوت بنگلا تو ذوالفقار ہاوس پتا نہیں کیا ہوگا ۔”
اس کی بات پر اب فائیق نے اسے گھورا
“ارے آپ سب کدھر رہے گئے ۔”
پیچھے سے سارا کی آواز آئی
“اِدھر ہی ہے بھابی بس یہ میری پاگل دوست تھوڑی کنفیوزڈ ہوگی آو شفق ! ۔”
شفق کا دل کررہا تھا اس مسکراتے ہوے فائیق کا چہرہ نوچ لے جس نے اس کہاں پھنسا دیا تھا امی صحیح کہتی تھی سٹرینجر کے ساتھ فری نہیں ہونا چاہیے ورنہ قسمت آپ کے ساتھ فری ہونے لگ جائے گی ۔”
خود سے کہتی وہ فائیق کو دیکھنے لگی جو اسی ہی دیکھ رہا تھا
••••••••••••••••••••
وہ اس کے کمرے میں آیا تو دیکھا وہ کمرے میں نہیں تھی اس وقت تو وہ لازمی کمرے میں ہوا کرتی
وہ چل کر واش روم کی طرف بڑھا تو وہ کھلا ہوا تھا اور اس کی لائٹ بھی آف تھی
“نیچے ہوگی مگر نانو تو سو گئی پھر کیا کررہی ہوگی ۔”
وہ چلتے ہوے نیچے پہنچا تو دیکھا گھر بالکل خاموش تھا
“ہما !! ۔”
وہ اب اسے نہ پاکر پکارنے لگا اور پورے تیس سکینڈ میں معلوم ہوگیا وہ گھر نہیں تھی
“کدھر گئی اس وقت یہ پاگل لڑکی میری غیر موجودگی میں رات جو کہاں چلی گئی ۔”
وہ پریشانی سے باہر آیا
“اُف کہاں ہوگی کہاں ہوگی سوچو زُلنین !! ۔”
اس نے اپنے زہن پر زور دینے کی کوشش کی مگر ناکام ہورہا تھا
“یار ہما کہاں چلی گئی ہو ؟ کہی قبرستان تو نہیں گئی ہاں شاہد وہی گئی ہوگی ۔”
وہ سوچتے ہوے جلدی سے قبرستان پہنچا مگر اُدھر بھی اسے مایوسی ہوئی
“مائی گاڈ میں پاگل ہوجاوں گا اگر وہ مجھے دس منٹ میں اپنی نظروں کے سامنے نہ آئی وہ زور سے سامنے پڑا پتھر زور سے مارنے لگا وہ پوری فورس سے جاکر درخت پہ لگا اور درخت کے پتے کانپ اُٹھے جس سے ایک پھل نیچے گرا تھا زُلنین کی اچانک نظر اس طرف پڑی پھر اس نے حیرت سے اوپر درخت کو دیکھا جو سب سے بڑا اور پُرانا درخت تھا اس میں کیسے کوئی پھل نکل سکتا ہے چل کر وہ اس طرف آئی تو یہ پڑا انھوکا پھل تھا جس کا نام تک اسے نہیں معلوم تھا
“یہ کیا ؟۔”
وہ اب اوپر درخت کو دیکھنے لگا جس میں اس ایک دو جن نظر آئے تھے مگر وہ سورہے تھے
اس نے جھک کر اس پھل کو اُٹھایا اور ایک طرف چل کر بیٹھا اس کو پکڑتے ہوے اسے عجیب سا احساس ہوا تھا
سنسنی اس کے اندر دوڑی تھی
اسے جیسے احساس ہوا وہ ہما کو قریب جارہا ہے ہما تک وہ پہنچا رہا نجانے اسے کیا ہوا تھا اس نے اس اُٹھا کر کھانا شروع کردیا اس کا ذائقہ بہت عجیب تھا لیکن آہستہ آہستہ مٹھاس اس کے اندر پھیل رہی تھی اور اس کی آنکھیں انجانے میں بند ہوگئی
••••••••••••••••
“ہوگئی شاپنگ ؟؟ ۔”
ہما جلدی سے چل کر نیچے آئی تھی جب وجدان اوپر آنے لگا تھا اسے دیکھتے ہوے بولا
“ہاں پیمنٹ رہتی ہے ام وجدان !! ۔”
“ہاں بولو ؟۔”
“کیا تم میرے لیے لیے پانی کی بوتل لاسکتے ۔”
“ہاں کیوں نہیں کیا ہوا تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمھیں پسینہ کیوں آرہا ہے ۔”
“ہاں بس عجیب سی برنگ ہورہی ہے پلیز ۔”
“ہاں تم بیٹھو میں ابھی لایا ۔”
وہ فکرمندی سے تیزی سے شاپ سے باہر نکلا اس گرمی محسوس ہورہی تھی وہ اُٹھتے ہوے باہر آئی تاکہ
ہوا سے وہ کچھ بہتر محسوس کریں مگر اس قسمت خراب تھی جیسی وہ باہر آئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی جب سامنے ایک کار آئی اور اتنی پھرتی سے دو مرد نکلے اور اس کو پکڑ کر کر کھینچا اس کی چیخینے
دور کسی کی دھڑکنوں کو ہلا کر رکھ چکی تھی
وہ اپنے آپ کو چھڑوانے کی بھرپور کوشش کررہی تھی مگر کسی نے اتنی زور سے اس کے سر پہ کچھ مارا تھا کہ اس کا تڑپتا وجود ایک دم ساکت ہوگیا تھا
اور وہ ایک دم ان کی گرفت میں جھول گئی تھی
••••••••••••••••••••••
“تم بہت پیاری ہو ، فائیق سے کیسی دوستی ہوئی ۔”
سارا جب سے اس سے ملی تھی مسلسل اس کی تعریف کریں جارہی تھی حالانکہ وہ اتنی خوبصورت نہیں تھی شاہد وہ اس کا دل رکھنے کے لیے اخلاق کے طور پہ کہہ رہی ہو
“نہیں وہ اکچلی میرے نیبر ہیں دوست نہیں ۔”
وہ اِدھر اُدھر دیکھتے انھیں بولی کب جائے گے یہاں سے وہ اب فائیق کی طرف دیکھ رہی تھی جو نعیم سے بات کرنے میں مصروف تھا
“تو کیسے آنا ہوا ؟ ”
وہ اب حیرت میں مبتلا اسے تو کھبی فائیق کو دیکھنے لگی
“وہ فائیق زبردستی لے آئے ۔”
اس کی کھلی آنکھوں سے وہ رُک کر پھر نفی میں سر ہلاتے ہوے بولنے لگی تو سارا واقعہ بتاتی چلی گئی پھر اس کی بات سُنتے ہوے دلچپسی کے رنگ بھرے اور پھر آخر میں اس کی ہنسی چھوٹی
“ہاو کیوٹ فائیق کیا کیا چھپاتے رہے ہو تم مجھ سے دیکھا نعیم اتنا چھپا رستم نکلا ۔”
وہ اب بولتے ہوے فائیق کی توجہ دلانے لگی جو نعیم سے باتیں کرتے ہوے چونکہ
“کیا ہوا بھابی !! ۔”
“ماما ! ۔”
ایک دم وہی بچہ اندر داخل ہوئی شفق نے اسے دیکھا اس کا چہرہ سفید ہوگیا سارا مڑی
“جی جانو اُٹھ گیا میرا بیٹا ملی نہیں آنٹی سے ۔”
“فائیق یہ وہ بچی ۔” وہ ڈر کر کہتے جلدی اُٹھی
“کون بچی ؟۔”
فائیق نے حیرت بھری آواز میں کہا
“کیا ہوا شفق ؟ ۔”
وہ بچی اب سارا کے قریب آرہی تھی شفق چیختے ہوے تیزی سے باہر بھاگی تھی سب کو حیرانگی ہوئی لیکن ایک دم فائیق کو قہقہ چھوٹا اور وہ اُٹھتے ہوے اس کے پیچھے آیا سارا نے حیرت سے نعیم کو دیکھا وہ ہُرسکون انداز میں مسکراتے ہوے بولا
“کمینے کے ہمیشہ سے عادت لوگوں کو ڈرانا !۔”
“پر !۔”
وہ حیران تھی
وہ تیزی سے دروازہ کھولنے کی طرف بڑھی
“شفق باہر مت جانا وہ تمھارا راستہ روک دیں گی ۔”
فائیق کے کہنے وہ ایک دم ڈر کے رُک گئی
“میں کہاں جاو امی مجھے کہاں پھنسا دیا ۔”
وہ بالکل رونے والے ہوگئی فائیق ہنستے ہوے ایک دم رُک گیا اور چلتے ہوے پاس آیا وہ ڈر کے دوسری طرف جانے لگی تھی کہ فائیق نے اسے روکا
“مجھے جانے دیں یہاں سے ورنہ میں چیخ کے سب کو بلا دوں گی ۔”
وہ روتے ہوے بولی
“ارے شفق اس میں رونے والی کون سی بات وہ کوئی بھوت وت نہیں ۔”
“آپ اب یہی کہے گے میں جانتی ہوں بھوت ہوتے ہیں مجھے یہاں سے باہر نکالے امی !! ۔”
اس نے منہ پہ ہاتھ رکھا فائیق کو اپنا مذاق مہنگا پڑ گیا اسے پتا نہیں تھا کہ شفق اتنی ڈرپوک نکلے گی مگر اس کا کوئی قصور نہیں تھا شفق کو بچپن سے ہی ڈروانی خواب آتے تھے امی کی بھی بھرپور کوشش ہوتی کہ اسے ہر چیز جس سے وہ ڈرتی ہے دور رکھا کریں تاکہ وہ ہسڑک نہ ہوجائے اور اب وہ فائیق کی حرکت پہ ہوگئی تھی
“نکالے مجھے میں مر جاوں گی ۔”
وہ چیخی تھی
“شفق ریلکس وہ مذاق تھا روشنی زندہ ہے وہ جب تم مجھ سے بات کررہی تھی تو ماسی اسے اُٹھا کر لے گئی اندر شفق !! ۔”
وہ اسے جنجھوڑتے ہوے بولا باقی سب یہاں پہنچے اور شفق کے ڈرے سہمے انداز کو دیکھ کر انھیں پریشانی ہوئی
“فائیق کم آن حد ہوگئی فارغ دماغ جب ہوتا ہے نا تیرا کوئی بھی فضول کام کرتا ہے اب کس بات پہ ڈرایا ہے ۔”
وہ اب چل کر فائیق کے پاس آتے ہوے غصے سے بولا
اب شفق ایک دم چُپ ہوگئی کھبی انھیں پھر کھبی فائیق کو دیکھنے لگی
“سوری میں نے تو ایک شرارت کی تھی مجھے کیا پتا تھا اتنا بڑا ریکایشن ملے گا ۔”
“فائیق یار حد ہوتی ہے پہلے وہ ٹینز تھی تم بھی نا آو شفق ! ۔”
سارا بھی گھورتے ہوے شفق کا بازو پکڑا جبکہ شفق کو اپنی اس حرکت پر شرمندگی سے سر جھک گیا اتنی بات نہیں تھی جتنا وہ ریکائٹ کر گئی تھی مگر ڈرایا بھی تو فائیق نے ایسا تھا

آنکھیں کھلی مگر سر پہ کچھ بھاری پن محسوس کر کے وہ دوبارہ اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔
دل جیسے منہ کو آرہا تھا اسے ہوش نہیں تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہے ؟ ۔ اسے اتنا یاد تھا کوی اسے اُٹھا کر لے کر گیا تھا اور وہ ان کی مضبوط گرفت میں تڑپ رہی تھی اس کے بعد تو ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا تھا ۔ابھی وہ ہمت کررہی تھی مگر اس سے آنکھیں کھلنا ناممکن ہورہا تھا ۔
“زُلنین !۔”
لبوں سے سسکی کے ساتھ اس کا نام نکلا تھا ۔ابھی بھی وہ زُلنین کو سوچ رہی تھی اس کو یاد کررہی تھی ۔
ایسے ہی تڑپ میں اسے آدھا گھنٹا گزر گیا جب
کسی کی قدموں کی آواز آئی اور وہ ان قدموں کی آواز اپنے بالکل قریب محسوس کررہی تھی اور پھر کسی نے اس کے بال زور سے اُٹھائے تھے کہ وہ درد سے چیخ پڑی کسی نے زور سے اس کے منہ پہ تھپڑ مارا
“امی !! ۔”
•••••••••
“ائیم سوری !۔”
وہ ڈائینگ ٹیبل پہ سارا کے کہنے پہ سیلڈ کا باول ٹیبل پہ رکھنے آئی تھی جب فائیق اس کے پاس آیا اور بولا
شفق نے اسے اگنور کر کے آگئے جانے لگی جب فائیق اس کی راہ میں حائل ہوگیا ۔
“ائیم سوری نا شفق ، میں نے تو مذاق کیا تھا !۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہاں محترمہ اتنا ڈر جائے گی ۔”
“ہوگیا آپ کا فائیق صاحب ہٹیے میرے راستے سے ۔”
وہ زور دیتے ہوے بولی
اسی وقت نعیم اندر آیا اور فائیق کو گھورا
“فائیق مت تنگ کرو اسے ، ہمارے گھر پہلی بار آئی ہے اور تم ایسا سلوک کررہے ہو ۔”
“میں نے ایسا کیا کیا ہے ، میں تو بس معافی مانگ رہا ہوں یار ، پھر اسے چھوڑنا بھی میں نے ۔”
“میں آپ کے ساتھ نہیں جاوں گی ۔”
وہ رکھ کر جانے لگی تھی جب فائیق کے کہنے پر بگڑتے ہوے بولی
“ارے گھر نہیں جاو گی تو کیا یہاں رہنے کا ارادہ ہے ۔”
“ہم چھوڑ دیں گے اسے کالج تم اپنے کام پر جانا ۔”
سارا اندر آتے فائیق کو گھوری سے نوازتے ہوے پیار سے شفق کو دیکھتے ہوے بولی ۔”
“نیبر میں ہوں ، دوست میں ہوں ، مگر سگے آپ سب بن رہے ہیں ۔”
“کیوں نہ بنے اتنی پیاری جو ہے ، اور نیبر ہوتے ہوگے اس کے مگر شفق تو میری اب سے دوست ہے ۔”
“ایک ملاقات میں دوستی ! عجیب نہیں لگے گا بھابی ۔”
“دوستی پہلی ملاقات میں ہی ہوجاتی ہے فائیق !۔”
“جو بھی ہے چھوڑنا میں نے ہے ناراضی بیشک ہوتی رہی میں اسے اپنی زمہ داری سے لایا ہوں ۔”
اس کی اس بات پر سب کے سب چونک پڑے
“میرا مطلب ہے شفق کہی وہ پھر سے نہ آئے ہو اور میں یقین سے کہہ رہا ہوں کہ یہ لوگ تمھیں ان سے نہیں بچائے گے ۔”
اب شفق کے تاثرات نرم پڑ گئے مگر پھر بھی وہ گھورتے ہوے بولی
“یہ بھی سب آپ کی غلطی نہ آپ اسے مارتے اور نہ ہی مجھے یہ آج دن دیکھنا پڑتا ۔”
“تو میں کیا اس کی بکواس سُن لیتا ۔ وہ جو تمھارے متعلق کہہ رہا تھا چُپ رہتا !! خاموش تماشائی نہیں بن سکتا میں جو میری چیز کو کہنے کی دور کی بات آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھیں میں یہ چیز برادشت نہیں کرسکتا ۔”
اب اس کی بات پر سب دم بخود ہوکر اسے دیکھنے لگے
“فائیق ! ۔”
سارا اور نعیم ایک ساتھ بولے فائیق کو بھی ہوش آیا اور پھر سر جھٹک کر تیزی سے وہاں سے گیا جبکہ شفق تو بالکل پتھر کی ہوگئی تھی یہ کیا کہا تھا اس نے اتنی جلدی مگر اسے کیا پتا تھا یہ اتنی جلدی نہیں تھا وہ تو اسے دو مہینے سے چاہتا آرہا ہے اور وہ اس کو اتنی جلدی قرار دے رہی تھی ۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“کمیرہ سیٹ کردیا !! ۔”
وہ ہم کو پکڑتے ہوے اپنے بندوں کو بولا
“جی سر سب کچھ ریڈی ہے آپ اپنا کام جاری کریں ۔”
“کوئی بھئی اس ایس پی کو بہت ضعم تھا نا اپنی طاقت پر اب جب تمھاری وڈیو اس سمیت پوری شہر میں رلیز ہوگئی تو سارا غرور ٹوٹ جائے گا ۔”
“چھوڑو مجھے ۔”
ہما کو تھوڑا سا ہوش آیا تھا وہ اس سے اپنے بال چھڑوانے لگی تھی ۔
“کیوں چھوڑوں !! میرے بندے کی ٹانگیں تڑوا کر میرے بھائی کو ائی سی او پہنچا کر تم سمجھتے ہو کہ تمھیں ایسی ہی چھوڑ دیں ناٹ ا چینس لولیلی ۔”
وہ اس کے کانوں کے قریب ہوکر دھاڑا تھا ۔
“میں نے کیا کیا تمھارا ، میں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا چھوڑو مجھے ۔”
وہ بالکل رونے والی ہوگئی ایک تو تکلیف دوسرا اس کے بھاری ہاتھ جس نے اس کے بالوں کو جھکڑا ہوا تھا ۔
“تم نے کچھ نہیں کیا ؟ بتاو اسے زرا ایک تو سب کچھ کر کے کہتی ہے ہم نے کچھ نہیں کیا تمھاری وجہ سے وہ تمھارا بوئی فرینڈ نے ہمارے پھر سے بند ہوے کیسس کو کھلوایا اور ہمیں پھانسی لگوانے کی بھرپور کوشش کی مگر ہمیں اس نے بہت ہلکہ لے لیا تھا ۔ اب دیکھنا موت بھی مانگے گا وہ تو اسے موت نہیں ملے گی ۔”
اس نے ہما کی چادر کھینچی اور وہ زور سے جاکر زمین کی بل گری ۔
“زُلنین !! ۔”
اس کا جب منہ زمین پہ لگا تھا تب وہ زُلنین کو پکارنے لگی پتا نہیں اسے اتنا کیوں یقین تھا وہ آجائے گا اور وہ آگیا تھا کیونکہ ان کا رشتہ تھا ہی ایسا ایک کو تکلیف ہوتی تو دوسرا کیسے سکھ میں رہتا
وہ ہما کی چادر روندتا اگئے بڑھ مزید کچھ گڑبڑ کرتا کہ کسی فورس نے اسے اتنی دور کہ وہ اوپری حصہ کو جاکر زور سے نیچے گرایا گیا سب کا منہ ایک دم کھل گیا
اور انھوں نے اپنے باس کو دیکھا جن کی حالت غیر ہوگئی تھی پھر اس کے بعد انھیں خود اپنی گردنیں بند ہوتی ہوئی محسوس ہوئی
اور ایک طرف کیمرہ سٹینڈ سمیت اُٹھا اور سیدھا ایک کہ منہ پہ جاکر لگا ۔
اور پھر پورے دس سکینڈ میں ان کے چہرے کا نقشہ اور جگہ ہی بدل گئی تھی ۔
پھر وہ اپنا کام کر کے سامنے آیا بلیک کپڑوں میں ملبوس وہ ہما کی ہی زُلنین تھا جو اب ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ایک میں سے کو ٹھوکر مارتا وہ اس کی طرف آیا تو چہرے کے تاثرات بدلے
“ہما !!! ۔”
وہ بھاگتا ہوا اس کی طرف آیا اس کی بگڑی ہوئی حالت دیکھ کر اس کا اور دماغ خراب ہوگیا اس کا دل کررہا تھا سب کے وجود کو آگ میں دکھیل دے وہ ایسا ارادہ رکھتا اگر ہما کی حالت غیر نہ ہوئئ ہوتی ۔
“ہما ! ہما آنکھیں کھولو ہما !! ۔”
اس نے اس کا چہرہ تھپ تھپایا کیسی بے قراری تھی اس کے لہجے اور انداز میں اور وہ جب کچھ رسپونس نہیں کررہی تھی تو اس کی نبض کو چیک کرنے لگا جو آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔وہ ایک دم اُٹھانے لگا جب
کسی کی شوٹ کی آواز اس کے کانوں میں گونجی وہ تیزی سے ہما کو کور کر مڑا اس نے حیرت سے دیکھا جس بندے کو مارا تھا ابھی اس نے اس کا نام غفور تھا اور وہ اب بامشکل چل کر آتا شوٹ کرنے لگا مگر زُلنین نے پھرتی سے ہما کے بے جان وجود کو لے کر فوراً غائب ہوا کیونکہ وہ ان کو بعد میں دیکھ لے گا ابھی ہما کی سانیسں اسے محسوس نہیں ہورہی تھی اور یہی چیز زُلنین کی تکلیف کا باعث تھی ۔
پر کچھ ہوا تھا اس کے بعد سے سیدھا فائیق ذوالفقار کے کمرے میں مرا ہوا آشوب شقائق البحر کی بدشگنی ختم ہوگئی تھی ، ہاں زُلنین کے آنے سے اس پھول کے آشوب پن غائب ہوگیا تھا اب وہ صرف شقائق البحر قائم تھا اس میں آہستہ آہستہ محرومی کے رنگ غائب ہورہے تھے اور محبت کے رنگ بڑھ رہے تھے بیشک محبت ایک مستقل اور آٹوٹ جذبات ہے ۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اب شفق کی چھٹی کا ٹائیم ہوگیا تھا تو انھیں جانا پڑا سارا اور نعیم نے پھر اسے لے کر جانے کا زور نہیں دیا تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ وہ دونوں آپس میں بات کریں جو ان کے درمیان چل رہا ہے فائیق نے تو کھبی کسی لڑکی میں دلچپسی ظاہر نہیں کی تھی وہ تو دور کی بات وہ تو بات بھی نہیں کرتا تھا غیر ضروری کسی بھی لڑکی سے ایسے میں شفق کی اس کا دوست نکلنا اور اس کے بعد اسے ان کے گھر لانا پھر ان کی پوزیشن نے ان کو ساری بات سمجھا دی تھی مگر فائیق اب بھی نعیم کے کہنے پر سب باتیں مان نہیں رہا تھا مگر اسے معلوم تھا وہ شفق سے پیار کرتا اور پیار کی یہ سٹیج کافی آگئے چل پڑی ہے وہ دونوں اب ان سب سے مل کر گاڑی میں آئے تھے جب شفق نے اسے دیکھا وہ اس بات کے بعد سے کافی خاموش ہوگیا تھا شاہد اپنے کہے پر شرمندہ تھا مگر ایسا لگ تو نہیں رہا تھا ساری شوخی جو فائیق کے اندر تھی وہ پل بھر میں غائب ہوگئی تھی ۔وہ بھی کچھ اسے کہہ نہیں پارہی تھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے اسے کہنا تو چاہیے اس کی ہمت کیسے ہوئی سب کے سامنے یہ کہنے کی پھر رُک جاتی تو سوچتی کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا پھر اپنے اس سوچ پر غصہ آیا تھا اسی کشمکش میں تھی کہ فائیق نے گاڑی روک دی ۔
وہ ایک دم جگہ کو دیکھنے لگی وہ ابھی نہیں پہنچے تھے اس نے راستے میں کیوں روک دی پھر اس نے مڑ کر فائیق کو دیکھا جو سٹیرنگ کو تھامے لب دبائے کچھ سوچ رہا تھا ۔
“کیا ہوا ابھی تو ہم پہنچے نہیں ۔”
کوئی جواب نہیں !
“فائیق کیا ہوا ؟۔”
“فائیق ؟۔”
“ائیم ان لو ود یو شفق !۔”
ایک دم اس کی بات پر شفق کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی اور دل تو جیسے رُک گیا تھا ۔
“مجھے کہنا نہیں چاہیے تھا مگر میں تمھارے ذہن میں یہ بات بالکل نہیں ڈالنا چاہتا تھا کہ میں تم سے فلرٹ کررہا ہوں اتنی جلدی او گاڈ سمجھ نہیں آرہی کیسے بات کروں ۔”
وہ اسے دیکھتے ہوے کہنے لگا تھوڑا کنفیوزڈ بھی ہوگیا تھا بیچارا نہ ہو تو ۔
“فائیق !۔”
“پلیز کچھ تو کہو میں نے اظہار کیا سمجھ نہیں آرہی کس طرح بولو سب کچھ بول لیتا ہوں مگر آج پتا نہیں کیوں الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ۔”
“فائیق دیر ہورہی ہے ابو آگئے ہوگے پلیز ۔”
وہ گھبڑا کر تیزی سے بولی تھی وہ خود بھی فائیق کی بات سے کنفیوزڈ ہوگئی تھی ۔
“مگر !۔۔۔۔”
“پلیز فائیق ابھی نہیں مجھے اسے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی پلیز گاڑی چلائے ۔”
اس کا انداز بے لچک تھا فائیق کو مایوسی ہوئی پھر غصہ مایوسی پہ غالب آگیا وہ پھر خاموشی سے گاڑی چلانے لگا اور شفق کو اسے کہ غصہ کا اندازہ اس کی ریش ڈرائیونگ سے ہوگیا تھا ۔
•••••••••••••••••••
تیسرے عنوان کا اختتام

Related posts

Leave a Reply