Black Rose Episode 11 By Samreen Shah

Black Rose Episode 11 is its 4th Chapter “Hebat Nak Chambeli” ہیبت ناک چنبیلی. read Here Complete Episode 11 of Black Rose Novel. Complete Urdu Novel in Urdu writing for online reading best experience and recommend others for reading. Black Rose is episodic novel by samreen shah that is quite famous. More parts coming soon.

Read Previous episodes here if you have missed

Black Rose Episode 11

black rose novel by samreen shah

وہ صوفے پہ خاموشی سے بیٹھے ، سامنے سوے ہوے وجود کو دیکھ رہا تھا ، جو اس کی دل کی دھڑکن تھی ، اس کی جینے کی وجہ تھی آج اس کو اس حالت میں دیکھ کر وہ ٹوٹ سا گیا تھا ۔ اگر وہ دیر سے آتا ، اگر وہ جان نہ پاتا کہ ہما کہاں ہے ؟ ۔ تو کیا سے کیا ہوجاتا ہما برباد ہوجاتی ، اور اس کی بربادی سے مراد زُلنین کی بربادی !۔ وہ تو پہلے سے ہی اتنا ٹوٹا ہوا تھا ، اس کے بعد تو وہ ختم ہی ہوجاتا ۔وہ اسے دیکھنے لگا
چہرے کے کافی اردگرد رَض ہوچکے تھے ، ہونٹوں کا کنارہ پھٹ گیا تھا ، سر کے پیچھلے حصہ پہ گہرا کٹ ہوا تھا جس کی وجہ سے سب سے زیادہ اس کی حالت غیر ہوئی تھی ۔ چہرہ کی پیلاہٹ اب کے کم ہوئی تھی ، اور اپنے اصلی رنگ میں آئے تھے ۔ مگر تھوڑی دیر میں وہ بخار سے تپنے لگی تھی ۔ جزلان کی مدد سے اس کی چوٹوں پہ مرہم تو لگ چکا تھا مگر بخار کسی طرح بھی کم نہیں ہورہا تھا یہی چیز اسے بے چین کررہی تھی سارے طریقے آزما لیے مگر بخار میں کمی نہیں آئی تھی ۔
جزلان فوراً ایک میڈسن لے کر اندر ہوا تھا جب زُلنین اس کے آنے پہ اُٹھا
“یہ کیا ہے ؟۔”

“کچھ جڑی بوٹیاں ہیں اسے کام کر کے دیکھتے ہیں ، پھوپھو سے بات کی مگر ان کے طور طریقے ایسے تھے، مجھے تمھارا پتا تھا اس لیے منع کردیا ۔”
“کیوں کیا کہہ رہی تھی وہ اگر اس سے اس کا بخار کم ہوتا ہے تو پھر تم عمل ۔۔۔۔”
“زُلنین ہما انسان ہے ، وہ کتوں کی ہڈیوں سے بنا شربت نہیں پی سکتی ۔”
جزلان کی بات وہ رُک گیا ۔
“اس سے کیا ہوگا ! ۔”

“درد میں کمی آسکتی ہے ، پانی کی پٹی کر کے دیکھتے ہیں اس سے بخار کم ہوجائے ۔”
وہ ہما کے پاس جانے لگا جب زُلنین پھرتی سے آیا اور اس کا ہاتھ پکڑا ۔
“تم کیا کررہے ہو ؟۔”
نجانے کیوں اس کا لہجہ سخت ہوگیا
“کرنا کیا اسے پلانا ہے ۔”
وہ آگئے سے کچھ کہتا زُلنین نے اس میڈسن لی اور پھر سائڈ پہ کیا ۔
“زُلنین احتیاط سے پلانی ہیں ، مرہم بھی تم نے لگایا تھا اتنا کیا ہوگیا ہے ۔”
وہ اس کی بات پہ رُک کر مڑا وہ اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
“اسے کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا ، میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا اسے ہاتھ تو کیا زرا سے دیکھیں بھی ۔ کتنا پلانا ہے ۔”
اس کا لہجہ سخت مگر تھکا ہوا تھا ۔
وہ اسے کچھ کہنا چاہتا مگر زُلنین کی آنکھیں ! کہ ایک دم جزلان پیچھے ہوا تھا اسے گہرا جھٹکا لگا تھا ۔
“زُلنین !! ۔
زُلنین جانتا تھا وہ کیا پوچھنا چارہا ہے اس لیے گہرا سانس لیتے ہوے سر ہلایا ۔
“او گاڈ زُلنین یہ کیا کیا تم نے ۔”
“یہ ابھی سے نہیں ہے جب سے دیکھا ہے میں نے تب سے مہر ۔۔۔
زُلنین نے اسے سمجھانا چاہا ۔
“نہیں زُلنین !!! تم جانتے بھی ہو تم نے کیا کیا ہے !!! اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے اور خاص کر تب جب تم نے ایسی جگہ جانا جہاں واپسی کے انکام بہت کم ہے ۔”

زُلنین چونکہ
“کیا مطلب ؟۔”
“جب تک تم راز نہیں ڈھونڈ سکو گے تم یہاں واپس نہیں آسکتے اور اب جب تم نے یہ او گاڈ !!! ۔”
“نہیں جزلان میرے بس میں نہیں تھا ۔”
“ہر چیز زُلنین ذوالفقار کے بس میں تھی ، ہر چیز اور تم نے اپنا بھی نہیں ہما کا بھی نقصان کیا ہے ، محبت کرتے ، شادی بھی کر لیتے مگر زُلنین تم نے تو وہ کیا جو فائیق زوالفقار نے بھی نہیں کیا تھا ۔”
“کیسا نقصان ؟اور میں نے کہا نا میرے بس میں نہیں تھا ۔ اب جو بھی ہے میں ہما سے ایک سکینڈ بھی دستبردار نہیں ہوسکتا یہ اب میری ملکیت ہے ۔”
اب غصے کی لہر زُلنین کے اندر دوڑی تو وہ چیخ پڑا
“یہ ایک ناممکن سی بات ہے زُلنین !! ہما انسان ہے اسے سپیس کی ضرورت ہوگی اور یہ کر کے اسے یہ چیز نہیں ملی گی ، اس نے تو ابھی تک محبت کا بھی اظہار نہیں کیا اور تم تم نے اس پر اپنی مہر لگا دی پہلے تم کچھ وجہ سے اس سے دور رہا کرتے مگر اب تم چوبیس گھنٹے بھی اس سے دستبردار نہیں ہوا کو گے ، کسی سے بات نہیں کرنے دو گے چاہے وہ ساٹھ سال کا بڈھا ہوا یا بارہ سال کا لڑکا تم تو کسی مرد کی مہک اس کے اردگرد نہیں برداشت کرو گے اور ہما ، ہما کو تو اب سے اللہ ہی حافظ وہ تم سے نفرت کرنے لگ جائے گی ۔”
“اس بات کو ابھی دفع کرو ، اور بتاو کتنی گھونٹ پلانے میں اسے ایک پل بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔”
“تین گھونٹ ۔”
وہ تاسف سے سر ہلا کر آہستگی سے بولا جبکہ زُلنین مڑ کر اسے احتیاط سے اُٹھایا اور اس کا منہ کھولتے ہوے اسے پلانے لگا ۔ پھر جب یہ کام کر چکا تو پھر دوبارہ آرام سے لٹا کر اسے دیکھا اور مڑ کر بولا
“کل مولوی صاحب کو بلا دینا میں اب واقعی اس سے ایک سکینڈ بھی دستبردار نہیں ہوسکتا ۔”
اپنا فیصلہ سُنا کر وہ اب سائڈ پہ ہوکر بیٹھ گیا وہ چاہ کر بھی یہاں سے ہل نہیں سکتا تھا وہ اب ہما سے کسی بھی حال میں خود کو دور نہیں کرسکتا تھا بے بسی تھی مگر وہ کیا کرسکتا تھا اور جزلان خاموشی سے اسے دیکھنے لگا اب دادا زوالفقار کو پتا لگنا بہت ضروری تھا ورنہ تاریخ پھر سے دہرائی جانی تھی ۔
وہ سوچتے ہوے ان کے کمرے میں بڑھا تھا ۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

اس کے کمرے میں اندھیرا پھیلا ہوا تھا ۔ اتنی جلدی وہ سوگئی تھی وہ رات کے دو بجے سے پہلے نہیں سویا کرتی تھی ۔
فائیق باہر ٹیرس میں کھڑا دور سے اس کے کمرے کو دیکھ رہا تھا سوچ رہا تھا وہاں جائے مگر کچھ تھا جو اسے روک رہا تھا ، شفق سے اتنی جلدی محبت کا اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا ، کیا سوچتی ہوگی چند ملاقاتوں میں وہ اپنی اوقات دکھانے لگا ۔ مگر وہ بھی کیا کرتا بے قابو ہوگیا تھا اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے تھا کہ وہ جن ہے اور وہ ایک انسان اس طرح دو مخلوق کا مِلن ناممکن تھا مگر مشکل تو نہیں تھا اگر وہ شفق کو اور اس کی فمیلی کو نہ بتائیں ، مگر یہ دھوکے والی بات ہوجائے گی پھر اگر سچ بتائے گا تو بھی وہ اسے کھو دے گا اور شفق کو وہ کھونا نہیں چاہتا تھا ز
کیا کرے کیا نہ کرے سمجھ کچھ نہیں آرہا تھا ۔ شفق اس کے اظہار سے کتنی شاکڈ ہے اگر اسے پتا چلا تو کیا ہوگا ؟
“چاچو !!۔”
وہ چونکہ دیکھا تو اوپر چھت سے الٹا لٹکا اس کا بھتیجا نیلی آنکھوں والا بندر زُلنین اسے دیکھ کر بولا تھا ۔
“کیا ہے یار ، جب بھی نظر آتے ہو ، بندروں والے روپ میں آتے ہو ۔”
وہ بیزاری سے کہتا ہوا سامنے پڑے جھولے پہ بیٹھ گیا ۔اپنی پریشانی میں وہ زُلنین سے بھی ٹھیک سے مسکرا کر بھی بات نہیں کی بس سوچ میں ایک بار پھر گھوم گیا ۔
“کیا ہوا بڈی ؟۔”
اب وہ بھتیجے کے بجائے ایک سچا دوست بن کر پوچھ رہا تھا ۔ زُلنین کی بات پہ فائیق نے سر اُٹھایا پھر نفی میں سر ہلایا
“کچھ نہیں ہوا بڈی ؟۔”
وہ بہت اداسی سے بولا تھا ۔
“سم وان از سیڈ کیا بات ہے چاچو بتادیں ۔”
وہ اب غائب ہوکر ان کے پاس پہنچ گیا تھا ۔
بھیڑوں کی آوازیں ہر طرف گونج رہی تھی ۔
“اُف کتنا شور کررہے ہیں کہی پھوپھو تو نہیں آگئی واپس ۔”
زُلنین کی ان کی اتنی اونچی اونچی آوازیں نکلانے پر بے اختیار تنگ آکر بولا تھا ، فائیق اس کی بات پر ہنس پڑا ۔
“فنی ! پھوپھو کو پتا چل گیا نا تو پھر خیر نہیں تمھاری ۔”
“میں نے تو سچ بولا ہے اور سچ سے کیا کرنا ڈرنا ۔”
اس نے اپنے سیاہ کالے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرا فائیق نے اسے بگاڑا
“چاچو !! ۔”
اس نے انھیں گھورا
“ایک کام کرو گے میرا ۔”
کچھ سوچتے ہوے فائیق کے دماغ میں آئیڈیا آیا ۔
“کیا کرنا ہے ۔”
فائیق نے کان لانے کا اشارہ کیا ۔زُلنین نے ناسمجھی سے دیکھا پھر اپنے کان فائیق کے قریب لایا زُلنین نے سُنا تو تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگا
“نہیں نہیں بالکل بھی نہیں ۔”
“تم کرو گے یار بی جن بوئی ۔”
فائیق بے اس کے انکار پہ اسے گھورا
“چاچو پاپا مجھے مار دیں گے ۔”
“میں سنبھال لوں گا ۔”

“نہیں آپ کی بات پہلے بھی مانی تھی الٹا آپ ساتھ دینے کے بجائے ڈانٹنے لگے ۔”
فائیق کے بل گہرے ہوگئے
“اتنی پُرانی کیوں بات یاد کرتے ہو !! اس وقت چھوٹا تھا ۔”
“کیا دو ہفتے پہلے اب چھوٹے تھے ۔”
“ہاں نا اب میں دو ہفتہ مزید بڑا ہوتا جارہا ہوں ۔”
فائیق نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا ، پھر اپنے تھیکے ناک کو دبایا ۔”
“اس بار مان جا یار دل کا معاملہ ہے ۔”
“دل کیا اس گھر میں ہے ۔”
زُلنین کے شفق کے گھر کے اشارے پر وہ بے اختیار مسکرا پڑا ۔
“میرے پہ نظر رکھتے ہو ۔”
وہ اب اسے دیکھنے لگا ۔
“ناٹ فیر بڈی !! دوست کو نہیں بتائیں گے تو دوست پھر جاسوسی کریں گا کہ آج کل دوست کس چکر میں ہے ۔”
وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا بھڑیوں کی مزید آواز بڑھی ۔
“آہستہ چاچو !!! ۔”
زُلنین نے کہا ایک دم شفق کے ٹیرس کا دروازہ کھولا
اور وہ نائٹ سوٹ میں باہر آئی اس کا انداز تھا کہ وہ سورہی تھی ان کی شور سے اُٹھ پڑی اب اسے غصہ آرہا تھا وہ اب سامنے پڑی کوئی اینٹ اُٹھا رہی تھی فائیق تیزی سے اُٹھا
وہ جاکر اس نے اندھیرے جنگل میں پھینکا ۔
“اُف !!! پہلے نیند نہیں آرہی اوپر سے ان کا شور !!!! ۔
فائیق اس کی طرف پہنچا تو شفق کی غصے سے بھرپور بولتے ہوے دیکھا تو مسکرائے بغیر نہ رہ سکا
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آنکھیں کھلی تو خود کو نرم بستر پہ پایا یہ بستر جانا پہنچانا لگ رہا تھا اس کی خوشبو اور نرمی وہ پہلے ہی محسوس کرُچکی تھی ۔جیسے وہ پہلے بھی بے ہوش کے بعد آئی تھی ۔ اپنے سُن ہوتے دماغ سمیت اُٹھنے کی کوشش کی مگر اُٹھ نہیں پائی کیونکہ دماغ کے ساتھ ساتھ جسم بھی اُٹھنے کے قابل نہیں تھا ۔
انگلیاں تک مفلوج لگ رہی تھی وہ خود کو زندہ لاش تصور کررہی تھی کہ صرف سانیسں اور دل کی دھڑکنیں چل رہی تھی ۔آنکھیں کھولی تو روشنی سے اس کی آنکھیں اتنی چُبنے لگی کہ نمی آنکھوں میں بھر آئی تھی ۔ جو چہرے سے پسھل کر اس کے بالوں میں جذب ہوچکی تھی ۔
خشک گلے محسوس کرتے ہوے اس نے اپنے سُن جسم سے ہمت کر بولی
“پانی !! ۔”
آواز بھی نکلنا مشکل ہوگئی تھی ۔
زُلنین جو سوچ میں گُم تھا اس کی ہلکی سی آواز پہ پھرتی سے اُٹھا اور اسے کو جھکتے ہوے دیکھا
“ہما !! ۔”
اس نے دیکھا جو پہلے ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی
“ہما، تم ٹھیک تو ہونا !!! ہما آواز تو آرہی نا ”
اس کے بالکل سپاٹ چہرے اور سپاٹ نظروں سے وہی سمجھا تھا کہ اب وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی ۔
“ہما !! ۔”
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے وہ بالکل خاموش بے تاثر نظریں زُلنین کو عجیب الجھن میں مبتلا کررہی تھی ۔
جب ہما نے سمجھا وہ کہاں ہے اور کس کے کمرے میں ہے اور سامنے شخص جھکا ہوا اس نے اس کے ساتھ کیا کیا تھا تو ساری طاقت اس کے جسم میں آگئی تھی تیزی سے ہمت کرتی وہ اُٹھی زُلنین پیچھے ہوا
“ہما !! ۔”
اس نے سرد مہری سے اسے دیکھا اسے دیکھ کر اسے اپنی تذلیل یاد آئی تھی ، زُلنین کی آنکھوں میں نفرت یاد آئی تھی ، تھپڑ یاد آیا تھا پھر اچانک درد اس کے سر میں پھیل کر اسے کہرانے پہ مجبور کیا اور اس کی نکلتی سسکی نے زُلنین کو پاگل کردیا ۔وہ ہما کو سر کو چھونے لگا جب ہما نے اس کے ہاتھوں کو قریب پاکر زور سے جھٹکا
“ہاتھ مت آ ل گا نا مج ھے ۔”
وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے دانت پیستے ہوے بولی
“ہما ! ۔”
زُلنین رُک گیا اتنا سرد لہجہ
وہ اب اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی جب زُلنین نے ہوش میں آتے ہوے اسے روکا
“لیٹی رہو ہما تمھاری طبیعت ۔”
“بھاڑ میں گئی اُف میری طبیعت راستہ چھوڑو میرا ۔
اب وہ جتنی تکلیف سے بولی تھی زُلنین اچھی طرح جانتا تھا مگر اس کو جھاڑجھانا انداز زُلنین سمجھ نہیں پایا تھا مگر جب تھوڑا سا سوچنے کے بعد اسے سمجھ آگئی اس نے ہما کو اپنی طرف رُخ مڑا جو اسے دیکھ ہی نہیں رہی تھی
“چھوڑو مجھے !!! ۔”
“کچھ نہیں ہوا تمھیں ہما تم بالکل وہی ہو جیسے تم پہلے تھی ۔”
وہ نرمی سے بولا تھا
ہما نے ہمت کر کے پھر ہاتھ اُٹھنا چاہا مگر زُلنین کی گرفت اس کے بازو پر مضبوط تھی تو وہ کوشش سے نہیں ہٹا پائی
“چھوڑو مجھے زُلنین ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا ۔”
“بات مت کرو تمھیں تکلیف ہورہی ہے چُپ کر کے لیٹو ۔”
ہما اسے لڑنے لگی زُلنین اس افتداہ کے لئے تیار نہ تھا
“ہوا کیا ہے ہما میں نے کہا نا کچھ نہیں ہوا میں وقت پر آگیا تھا ۔”
“کیوں آگئے تھے کیوں آئے تھے ۔ جب اپنے نفرت کے تیر پھینک چکے تھے تو آنے کی کیا تُک تھی کیوں بچایا مجھے ۔”
وہ اب چیخی تھی تکلیف تو ہوئی تھی جسم سے زیادہ دل تکلیف میں تھا ۔زُلنین نے ایک بار پھر ناسمجھی سے دیکھا
“میں !!!کیا کہہ رہی ہو نفرت کے تیر ، میں نے تو تمھیں ڈانٹا نہیں اور میں نفرت کا اظہار کروں گا ، کیا کہہ رہی ہو ہما ۔”
“اگر فائیق ذوالفقار سے نفرت تھی ، تو اس کی بیٹی کو برباد ہونے سے کیوں بچایا !!!! اس کی عزت اچھلنے دیتے تمھارے دل کو بھی تسکین ہوجاتی ۔”
زُلنین اب ہل نہیں سکا تھا ۔ اس کے کان سائیں سائیں ہورہے تھے یہ کیا کہہ رہی ہے ۔
“تمھیں اندازہ بھی ہے ہما تم کیا کہہ رہی ہو ، تم میرے بارے میں ۔۔۔۔”
شعلے آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں میں آرہے تھے ۔
ہما نے اپنی سرُخ درد سی بھری آنکھیں اُٹھا کر دیکھا
“کیا کہہ رہی ہوں ، یہ تو تمھیں مجھے مارنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا زُلنین ذلوافقار ، مجھے ذلیل کر کے گھر سے نکال کر اور اب بچا کر احسان جتاتے ہو کے کہتے ہو مجھے اندازہ ہے ۔”
اس کا گلا کافی بیٹھا ہوا تھا اور جھٹکے پہ جھٹکے زُلنین کو لگ رہے تھے وہ یہ کیا کہہ رہی تھی وہ کھبی اپنی محبت کو سخت نظروں سے نہیں دیکھ سکتا اور وہ تھپڑ مارنے اور ذلیل کرنے کی بات کررہی تھی وہ ایسا کیسے کہہ سکتی ۔
“تھپڑ !! ہما تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے میری تمھارے سے دو دن ملاقات نہیں ہوئی اور تھپڑ کی بات کرتی ہو ۔
وہ اب صدمے سے چیخا تھا ہما اچھلی کر توازن کھو کر گرنے لگی جب زُلنین نے اسے سنبھالا
“ائیم سوری !!! ۔”
وہ ایک دم اپنی اونچی آواز پہ شرمندہ ہوا تھا پھر اسے دیکھنے لگا جو اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی گال اس کے بھیگ چکے تھے ۔
“مجھے مت ہاتھ لگاو زُلنین !! ایک تو سب کر کے جھوٹ بولتے ہو ، کل کی رات کل تم نے میرے دائے گالوں پہ تھپڑ مارا تھا ابھی تک میرے گال جل رہے ۔”
زُلنین کا دماغ چکڑا اُٹھا
“تم کیسی بات کررہی ہو ، ہما میں نے نہیں کیا میں اپنی آپ کو کیسے تکلیف دے سکتا ۔”
“شٹ آپ !! چھوڑو میرا بازو !!! ورنہ میں اپنی سانیسں روک کر خود کو ختم کردوں گی ۔”
وہ اس کی بات پر ایک بار پھر ساکت ہوگیا یہ ہو کیا رہا ہے آخر !! ۔ ایسا کیا ہوا اسے بہر حال وہ اس کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا گرفت ڈھیلی کی
وہ اُٹھنے لگی ۔ جب زُلنین نے پھر پکڑا
“تم لیٹو اس وقت پلیز ہما تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، ہم بات کریں گے جب تم سٹبیل ہوجاے گے ۔”
زُلنین دُکھی کے باوجود بے حد تحمل سے بولا تھا وہ اس کے اسے کے چہرے پہ پھیلے ایذا کو دیکھ نہیں سکتا تھا ۔ 
“میں تمھاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی اور تم یہاں جس میں تمھارا کمرہ وہاں رُکوں نہیں آپ کا بہت شکریہ میری عزت بچانے کا مگر اس کی ضرورت نہیں تھی آپ کا تھپڑ ہی کافی تھا میری حیثیت آپ کے دل میں بتانے کے لیے ۔”
“تمھاری مجھے سمجھ بالکل بھی نہیں آرہی تم آخر کہنا کیا چارہی ہو ہما دماغ توازن میں ہے کہ نہیں ۔”
اسے نے غصے سے نہیں بلکہ حیرت سے کہا تھا ہما کی بات اس کے سر پہ گزر رہی تھی ۔
“آپ نے کل مارا تھا مجھے !!! میں کیا پاگل ہوں جو بول رہی ہوں ۔”
وہ چیخی تھی ۔
“میں ابھی جزلان کو بلاتا ہوں ، میں اسی کے ساتھ تھا اگر تمھیں یقین نہیں آتا تو میں کیمرے میں دکھا سکتا ہوں ۔”
وہ اس کے مضبوط لہجے پہ ٹہر گئی ، مگر وہ اس سے کل ملی تھی ، اس سے بات کی تھی مگر تو تھا جو عجیب تھا ۔
وہ خاموش ہوگئی اور اس کی خاموشی پر زلُنین نے تیزی سے جزلان کو سگنل دیا ۔ اور جزلان پورے پانچ منٹ بعد یہاں حاضر ہوا ۔
“کیا ہوا ؟ ۔”
“یہ آپ کے کزن لندن نہیں واپس چلے گئے تھے ۔”
وہ اب اسے دیکھ کر زُلنین سے پوچھ رہی تھی ، وہ دونوں گڑ بڑا گئے پھر جزلان بولا
“وہ بس آپ کو تو پتا ہے ہما جی کہ میرے کانفرنس وغیرہ ہوتی ہے اس لیے ۔”
ہما نے کچھ نہیں کہا ، بس خشمگیں نظروں سے زُلنین کو دیکھتے ہوے جزلان سے مخاطب ہوی ۔
“زُلنین نے سے کل میری ملاقات ہوگی ، پہلے تو اس نے میرے سے رویہ روکھا رکھا ، اس کے بعد جب میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو سرد لہجہ نے میرا استقبال کیا ، میں پریشان تھی دو دن سے یہ غائب تھا ،بار بار پوچھی جارہی تھی لیکن نہیں اس کے بعد جب فائیق زوالفقار کے بارے میں بات کی اس کا رویے نے کرختگی کا رُخ کیا اور پھر جب میں نے اسے بتایا فائیق میرا باپ ہے تو اس نے مجھے تھپڑ مار کر گھر سے نکال دیا تھا ۔”وہ تیزی سے کہتے ہوے اب خاموشی سے گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی اور ان دونوں کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا ۔یہ کیا کہہ رہی تھی ۔
ان کی اتنی طویل خاموشی پہ ہما نے بے اختیار سر اُٹھایا تو ان کے ساکت وجود میں کوئی جنبش پاکر اس نے سر جھٹکتے ہوے ہمت کر کے اُٹھی تکلیف تو ہورہی تھی مگر وہ یہاں سے کم سے کم زُلنین کو اپنی نظروں سے دور کرنا چاہتی تھی ۔ زُلنین کو اس کے اُٹھنے پر ایک دم ہوش آیا اور چل کر اس کی راہ میں آیا نیلی آنکھوں کی جگہ سُرخ آنکھوں نے لیں لی تھی ۔
“کہاں !! تمھیں سمجھ نہیں آتی تم یہاں سے ہل نہیں سکتی ۔”
لہجہ میں نرمی کے ساتھ ہلکی سی آنچ تھی اور یہ آنچ ہما کے خود سے دور ہونے پر اور جزلان کے قریب ہونے پر تھی اور یہ چیز اس کے بس میں نہیں تھی ۔ جزلان منہ کھلے بس حیرت سے ہما کو دیکھ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اس کی بات پہ کیا کہے زُلنین کی حرکت والی بات بے معنی سی لگ رہی تھی ، بات تو یہ تھی کہ وہ کیسے فائیق چاچو کی بیٹی ہے ، اور اگر ہے رو یہ بات ہما کو کیسے پتا چلے بہت سی الجھنوں میں ایک اور الجھن میں اضافہ ہوچکا تھا ۔
“کیوں ؟ آپ ہوتے کون ہے مجھے روکنے والے ، مسڑ زوالفقار! کیا رشتہ ہے ہمارے درمیان سواے ہمسایوں کے ۔”
وہ سخت لہجے میں کہتے جانے لگی کہ زُلنین نےاس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
“بس اتنی سی بات ہے ، تو ٹھیک ہے میں اس رشتے کو نام دوں گا جزلان مولوی صاحب کو بلواو!۔”
اس کی بات پہ ہما کی آنکھیں اور منہ کھلا کا کھلا رہا گیا یہ کیا کہہ رہا ہے ۔زُلنین نے اس کے چہرے سے نظر ہٹا کر اسے اشارہ کیا اور جزلان کو کہا
“دماغ تو ٹھیک ہے تمھارا ۔”
جزلان کو ہوش آیا تو جنھجھلا کر بولا
“دماغ تو کسی اور کا ٹھیک کرنا ہے مجھے ۔”
“میں تم جیسے بدتمیز اور اخلاق سے گرے ہوے انسان سے شادی ہر گز نہیں کرو گی ۔”
زُلنین کو غصہ آرہا تھا مگر اس نے ضبط کیا ۔پتا نہیں کو بھی تھا اس کے پیچھے گڑ بڑ ضرور تھی ۔
“ٹھیک ہے مجھ جیسے نہیں مجھ ہی سے کرو گی شادی خوش جزلان ابھی تک کھڑے ہو جاو !۔”
وہ اب آنکھیں نکال رہا تھا ہما اپنا ہاتھ نکال کر غصے سے اسے مارنے لگی زُلنین نے پھرتی سے اس کا ہاتھ پکڑا ۔
“جزلان اگر تم ایک سکینڈ میں نہ گئے تو میں قسم سے ۔۔۔
اس کے دھمکی ذدہ لہجے پر جزلان نے فیصلہ کیا اب دادا زوالفقار کا بتانا ضروری وہ تیزی سے باہر کی طرف مڑا ۔
•••••••••••
“چھوڑو میرا ہاتھ !!! ۔”
وہ چیخی زُلنین نے اس دیکھا اور اپنی پاور فل آنکھیں اس کی کالی اردگرد سے بھری لال آنکھوں کو دیکھا وہ دوسری طرف دیکھنے لگی جب زُلنین نے اس کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا
“زُلنین چھوڑو مجھے ، میری طبیعت خراب ہورہی ہے ۔”
اس کے ایک دم اکھڑتے ہوے سانس پر زُلنین کے تاثرات نرم ہوے اور اس کو چھوڑ کر بستر کی طرف بٹھایا اور جلدی سے سامنے پڑا پانی کا گلاس پکڑایا ۔
“آہستہ سے لمبے سانس کھینچو!!!! ۔”
اس ہدایت دیتا وہ اب پہلے والا زُلنین بن گیا ۔
ہما اس سے مزید لڑتی مگر بگڑتی ہوئی طبیعت کے باعث اس نے گلاس لے لیا تھا اور لبوں سے لگاتے ہوے وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔
زُلنین تھکی ہوی سانس خارج کرتے ہوے اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
“تم ایسا کیسے سوچ سوسکتی ہو ہما کہ میں تمھیں تھپڑ ماروں گا ۔”
ہما نے گلاس ہاتھ میں لا جب اس کی دُکھ بھری آواز سُن کر اس کی آنکھیں نم ہوگئی ۔
“سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا ۔ تھپڑ سے زیادہ تو مجھے تمھاری بیگانگی ، تمھاری آنکھوں میں ابھرتی میرے لیے نفرت اور اس سے زیادہ تمھارے منہ سے نکلتا سگیرٹ کا دھوا !! ۔”
وہ اب رورہی تھی ، اور اسے اپنے رونے پر بہت غصہ آرہا تھا کہ وہ کسی اور کے سامنے نہیں بلکہ زُلنین کے سامنے رورہی تھی ۔زُلنین رُک گیا پھر اسے دیکھنے لگا پھر ٹہر گیا اس کے چہرے پہ زخم کے نشیان کے علاوہ چہرے پہ ایک عجیب سا نیشان تھا کالا اپنے جذباتی پن میں اس نے یہ چیز غور کیوں نہیں کی یہ تو کسی جن کے مارنے سے ایسے کراس ٹائپ نیشان پڑتے یہ کون ہے ؟غصہ بھی آیا تھا مگر غصہ سے زیادہ عقل سے کام لینا ضروری تھا ۔
“مجھے بتاو گی تمھیں تھپڑ پڑا تھا تو میری آنکھوں کا رنگ اس وقت کیا تھا ؟۔”
اس کی عجیب سی بات اور اس کو مارنے کے اعتراف پر ہما کا دل کٹ کے رہ گیا اسی خوشی فہمی میں تو رہ لینے دیتی دل کیا سامنے سے کھلی کھڑکھی میں جاکر کود جائے ۔
“چنگاریاں بھری ہوئی تھی ، اور شعلے ایسے جس نے مجھے اپنے لپیٹ میں لے لیا تھا ۔”
زُلنین نے نچلے لب کو بڑی زور سے دبایا ۔
“مارا کہاں تھا میں نے ۔”
ایسے تو اس نے جواب نہیں دینا تھا اسی طرح پوچھ لے وہ ہما کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا یا شاہد اس کا دماغ گھوم اُٹھا اور وہ تیزی سے اُٹھ کر بھاگنے لگی جب زُلنین ایک بار پھر اس کا بازو پکڑ کر دیوار سے لگایا اور اپنے جذبات پہ قابو نہ رکھ سکا اور دھاڑ اُٹھا کہ ہما کے دل منہ کو آگیا ۔
“میں نے کہا نا تم یہاں سے کہی نہیں جاو گی ، تم میری ہو صرف میری اور اب سے تمھارا یہی گھر ہے اگر تم یہاں سے ہلو گی تو اس کا انجام بہت بُرا ہوگا خاموشی سے بیٹھو ، میں اب بھی کہوں گا اور ہمیشہ سے کہوں گا میں مر جاوں گا لیکن تمھیں ہلکی سے تکلیف نہیں آنے دوں گا اور تم کتنی آسانی سے میرے دل کو کچو لگا کر کہہ رہی ہو میں نے تمھیں مارا اگر یہ سچ ہے تو ۔۔۔”
وہ اسے چھوڑ کر تیزی سے مڑا اس نے گن نکالی ہما نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا زُلنین اس کی طرف آیا اور اس کو پکڑائی ۔
“ختم کردو مجھے اور یہ عام بلٹس نہیں ہے یہ زہر میں ڈوبی خاص مجرم کے لیے استمعال کیے جاتی ہیں اگر زخم سے بچ بھی گیا تو زہر میرے جسم میں پھیل کر یہ بھی اُمید چھوڑ دے گی ۔”
ہما کا چہرہ سفید ہوگیا ۔
“بدلہ لو مارا ہے تمھیں ، یا یہ کام میں کروں ۔”
وہ اپنے کنپٹی پہ لے کر جانے لگا ہما نے تیزی سے اس سے گن لی
•••••••••••••
شفق وہاں کھڑی غصے سے اس بھرے جنگل کو گھور رہی تھی جب گھر کے نیچے سے فون کی آواز آتے وہ اچھل پڑی اس وقت کس کا فون اور یہی سوچتے ہوے اس وقت فون کرنے والے کا نام یاد کرنے میں ایک سکینڈ نہیں لگا تھا ۔اور اگر امی ابو نے فون اُٹھا لیا تو کتنی بے عزتی بے عزتی کم وہ تو گھر سے نکال دے گے جلدی سے بھاگتے ہوے اس نے سڑھیوں تک پہنچی جب فون کی آواز رُک گئی تھی اس کا دل بیٹھ گیا کہی کس نے اُٹھا تو نہیں لیا مگر کسی کی بھی ہلیو کی آواز نہ سُن کر وہ پُرسکون ہوتے ہوے نیچے آئی اور دیکھا تو امی بابا کمرے کی لائٹ بھی بند تھی گہرا سانس لیتے ہوے وہ فون کی طرف آئی اور اسے کو اُٹھا کر سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔
کمرے میں جیسی پہنچی فائیق زوالفقار کو دیکھ کر اس کی چیخے نکلنے لگی تھی جب فائیق نے تیزی سے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اسے چیخنے سے روکا ۔
فون بھی ہاتھ سے گرنے لگا تھا اسے بھی فائیق نے دوسرے ہاتھ سے اُٹھایا ۔
•••••••••••••••••••••
زُلنین سے گن چھینتے ہوے ، وہ چیخی
“تم پاگل ہوگئے ہو ، یہ کیا کرنے جارہے تھے ۔”
گرم سیال آنکھوں سے بہتا گالوں کو بگھو گیا تھا ۔
زُلنین کی بھی آنکھیں سرُخ ہوگئی ، مگر اسے نے کہا کچھ نہیں تھا ۔
“میں کچھ کہہ رہی ہوں زُلنین ، اتنی عجیب حرکتوں کی آخر وجہ کیا ہے ؟۔ بتاو مجھے !! کھبی اتنے پیار سے بات کرتے ہو ، کھبی بیگانگی کا روپ لیتے ہو ، کھبی پروپوز کرتے ہو ، کھبی تھپڑ مار کر گھر سے نکال دیتے اور اب اب نکاح پہ زور میں اس شخص سے کیسے شادی کر سکتی ہوں جو اتنا الجھا ہوا ہے ۔”
“میں نے ۔۔۔۔”
زُلنین کہنے لگا جب ہما نے اس کی بات کاٹی ! ۔”
“نہیں زُلنین ! مجھے کہنے دو ،اور اگر تم واقعی میرے سے شادی کرنا چاہتیے ہو ، تو ہاں میں کروں گی بالکل کروں گی ، اگر تم مجھے اس ساری الجھنوں سے نکال دوں مجھے سارے راز بتا دوں کیا ہوا تھا اکیس سال پہلے ، یہ سب واقعات ، جو میرے ساتھ ہورہے ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے ، کون ہے یہ فائیق زوالفقار ، کون ہے یہ شفق ، میری نانو کیسے مری ، اور ایک دم سے زندہ بھی ہوگئی ۔مجھے معلوم ہے زُلنین تم بہت سے سچ معلوم ہے مگر تم مجھ سے چھپا رہے ہو ۔ پلیز زُلنین بتا دو مجھے ۔”
وہ گن کو پھینک کر چہرہ چھپاتے ہوے پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی اور زُلنین کو اس کے آنسو برداشت نہیں ہوے ۔
“فائیق زوالفقار ! ، تمھارے بابا نہیں ہے شفق ! بیشک میں ان سے نفرت کرتا ہوں، لیکن یہ بات سچ ہے تم ان کی بیٹی نہیں ہو ، ہاں وہ تمھاری ماں سے محبت ضرور کرتے تھے۔ ”
اس نے ایک دم سر اُٹھایا زُلنین بستر پہ بیٹھا خود کو کمپوز کررہا تھا پھر بات جاری کرنے لگا جب اپنے آنسو کو صاف کرتی ہما اس کے پاس آی ۔
“تو مجھے ان میں اپنا عکس دکھائی کیوں دیتا ، تو وہ نانو جو کہہ رہی ہے شفق اپنے بیٹی کو لے کر اپنے اصلی باپ کی طرف چلی گئی ، زُلنین جھوٹ مت بولو
کیونکہ مجھے بھی یہی لگتا ، پاپا نے مجھے کھبی اپنی بیٹی مانا ہی نہیں ، مجھے میرا حق بھی نہیں دیا ، پڑھائی میں نے اپنے بل بوتے پر کی ، باقی کے سارے اخراجات ماما اور نانو اُٹھاتی رہی میرے ، بابا کا تو حق بنتا تھا بیشک ماما سے ڈرائیورس ہوگئی تھی لیکن میں تو ان کی اولاد تھی نا لیکن نہیں !! اپنی ماں کی بیٹی اپنی ماں کی بیٹی کہتے رہے اور تمھیں یاد ہے ماما کے نام پہ پاگل خانہ کھولا ہے انھوں نے ، وہ ماما کو پاگل کہتے تھے ذہنی مریضہ کوئ تو بات ہے ۔”
زُلنین نے الجھن امیز نظروں سے دیکھا ۔
“اس سب کا جواب اگر تمھارے پاس نہیں ہے ، تو یہ جواب پاپا دے گے کیونکہ بہت سے راز سب کے دلوں میں ہے اور مجھے ان کے دلوں سے یہ راز نکلانا ہے ورنہ میں ۔”
“ورنہ تم کیا ہما ۔”
زُلنین نے اس کے لہجے کی مضبوطی نے ٹہرا کے رکھ دیا ۔
ہما نے اپنا چہرہ صاف کیا اور اسے دیکھا ۔
“ورنہ اسی راز کو چھوڑ کر میں ، کسی بھی ملک میں جاکے اپنی نئی زندگی کا آغاز کروں گی ۔ میں ان الجھنوں میں مزید الجھوں اس سے بہتر ہے اس سب کو چھوڑ کر جو زندگی کا نظام چل رہا ہے اس پہ چل پڑوں ۔”
“اور اگر تمھیں یہ سب پتا چل جاے ۔ اگر تم بہت سے رازوں کو سہہ نہ سکی اور پھر سب کچھ چھوڑ کر چلی گئی اوّل تو ایسا ہونا نہیں ہے مگر پھر بھی پوچھ رہا ہوں ۔”اس کی بات پر ہما نے گہرا سانس لیا
“وقت سے پہلے میں کچھ نہیں کہہ سکتی زُلنین ، تم مجھے گھر لے جاو ، نانو اکیلی ہوگی ۔”
اب زُلنین کے تاثرات نا چاہتیے ہوے بھی عجیب سے ہوگئے ۔
“سوری ! میں تمھیں نہیں لے کر جاسکتا ۔”
سخت لہجے میں وہ ہما کو بے پناہ عجیب لگا تھا ۔
“آج میری کلاس کا پہلا دن بھی مس کروادیا تم نے ۔”
وہ بات بدلتے ہوے بولی ، کچھ تھا جو زُلنین اس سے چھپا رہا ہے ورنہ وہ ایسا کھبی نہیں تھا ۔
“ہما تم جب تک مجھ سے نکاح نہیں کرو گی ، میں تمھیں یہاں سے نہیں جانے دوں گا ، دیکھو اس میں تمھاری بھلائی ہے ۔”
“تم جیسی دوہری شخصیت کے ساتھ رہنے میں میری بھلائی ہے واو ۔”
وہ طنزیا ہنسی
“صرف نکاح کرنے میں کیا جاتا ہے تمھارا ، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ رخصتی تمھاری بھرپور رضامندی سے کروای جاے گی ۔”
“مگر مجھے تم سے کرنی ہی نہیں تو نکاح کر کے تمھیں کیا ملے گا ، مجھ تم سے ذیادہ اچھا شخص مل سکتا ہے جو مجھے خوش رکھے جو مجھے دکھ ۔۔۔۔۔”
زُلنین تیزی سے اُٹھا اور دھاڑتے ہوے ہما کو ایک دم پیچھے ہوجانے پہ مجبور کیا ۔
“مجھ سے اچھا !! مجھ سے اچھا تمھارے لیے ، اچھے کی بات نہیں ہے ہما !! محبت کرتا ہوں میں تم سے اور میں تمھیں اپنا مان چکا ہوں ، موہر لگا دی ہے میں نے تم پر ، اور ایک بات بتادوں اس دُنیا میں تم سے کوی اتنی محبت ، اتنا خیال ، اتنی دیوانگی نہیں رکھ سکتا جتنا زُلنین زوالفقار رکھ سکتا ہے ، میرے جذبوں کی گالی تم کسی ایرے غیرے کو مجھ سے اچھا قرار دے کر نہیں دے سکتی اور اگر اس کی جگہ کسی اور نے بات کی ہوتی تو آج وہ زندہ سلامت نہیں ہوتا ، خاموشی سے سائن کرلینا پھر تم اپنے گھر جاسکتی ہو ورنہ بھوک جاو ہما ریحان !! تم یہاں سے ایک قدم بھی ہلی ۔”
وہ ایک نئے روپ میں اس کے ہوش اُڑاتے ہوے کسی ہوا کے جھونکے کی طرح غائب ہوگیا تھا ۔
اور ہما ہل ہی نہیں سکی تھی ساکت وجود لیا وہ حیرت سے زُلنین کو جاتا ہوا دیکھنے لگی اور جب اسے ہوش آیا تو اس کے پیچھے بھاگی کہ زُلنین نے دروازہ باہر سے بند کر کے اسے لاکڈ کردیا تھا ۔
“نہیں زُلنین !! تم ایسا نہیں کر سکتے ! زُلنین دروازہ کھولو !!! زُلنین پلیز ، زلُنین !! ۔”
وہ زور سے دروازہ کو پیٹتے ہوے اسے چیخ کر بلا رہی تھی ۔
“زُلنین !!! کھول دوں نا ۔”
وہ اب ہینڈل کو پکڑ کر زور سے کھنیچ رہی تھی وہ کسی بھی حال میں یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی ۔
اس نے جلدی سے فائیق کا ہاتھ ہٹایا
“آپ ! آپ یہاں کیا کررہے ہیں ! اور آپ اندر آے کیسے ؟۔”
وہ دبی ہوی آواز میں چلائی تھی وہ شرارت سے مسکراتے ہوے پیچھے ہوا ۔
“جیسے پہلے آیا تھا ! ویسے ہی آیا ہوں ۔”
“پتا ہے آپ کو کتنی غیر اخلاقی حرکت ہے ! یہ لندن نہیں ! یہ پاکستان ہے ۔”
وہ اس کے تیزی سے بولنے پر دلکشی سے ہنس پڑا اور وہ اس کی ہنسنے پر ڈر گئی ۔
“شش ! امی کی نیند کچی ہے وہ جاگ جاے گی ۔”
وہ انگلی منہ میں رکھ کر اسے تنبیہ کرنے لگی ۔
“لیکن اتنی مسلسل فون بیل سے تو نہیں لگتا کہ ان کی نیند کچی ہے ۔”
وہ مسکراتے ہوے شرارت سے بولا ۔
“آپ لگتا ہے آج کل بہت زیادہ ہی فارغ ، کوی نوکری یہ کیوں نہیں کر لیتے ۔”
وہ جنھجھلا کر کہتے ہوے اس کے سامنے سے گزرتے ہوے بولی ۔
“ہاے اب اتنا بھی ٹھنڈا بزنس نہیں چل رہا ویسے بھی میرے پاس کسی چیز کی کمی تھوڑی ہے ابھی آپ نے میرا گھر اندر سے نہیں دیکھا یہ باہر کے ملک کے جتنے محل ہیں وہ سب بھول جاے گی ۔بگینگم پیلس بھی میرے گھر کے آگے کچھ نہیں ہے ۔”
اس کے اتنے بونگیاں پر وہ اپنی روکتی ہوی ہنسی کو نہیں روک پای تھی۔اس کی ہنسی کی جھنکار پر وہ بولتے ہوے رُک سا گیا ۔ ایک عجیب سی دُھن بن جاتی تھی ۔ جب ہنستے ہوے وہ ہچکی لیا کرتی ، شفق کو زیادہ محسوس نہیں ہوا کرتا تھا مگر فائیق نے اسے اپنے اندر تک محسوس کیا تھا ۔
“مانا کہ آپ رچ ہیں ۔ بٹ اتنا بھی تو نہ چھوڑے ۔”
وہ اپنے ہنسی کو روکتے ہوے بولی ۔
“نہیں نہیں سریسلی میں نے پکڑا ہوا ہے میں چھوڑتا ہرگز نہیں ہوں ، جو چیز میری ہو جاتی ہے میں اسے اپنے ساتھ باندھ دیتا ہوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔”
مذاق میں بات کرتے کرتے اچانک سنجیدگی اور وارفتگی نے کب موڑ لیا تھا اسے نہیں پتا چلا تھا ۔شفق کے چہرے پہ یک دم سنجیدگی آگئی ۔
“فائیق ! آپ جو کچھ ۔۔۔۔
“میں تم پر کوی زبردستی نہیں کررہا شفق ، میں جانتا اٹس ٹو میچ ایریلی ، مگر میں تم پر یہ ظاہر ہرگز نہیں کرنا چاہتا کہ تمہیں صرف ٹائم پاس سمجھ رہا ہوں ، نو نیور میرے جذبات بالکل خالص اور سچے ہیں اور میں کسی اور کی طرح انھیں ہرگز نہیں چھپانا چاہتا ، دوسرا میں سمجھ سکتا ہوں ابھی تم مجھے اتنا اچھی طرح نہیں جانتی ، نہ ہی تمھاری فیملی اور فیملی ایسے تو اپرو نہیں کرے گی جب تک تم خود دل سے راضی نہ ہو جاو میں تمھیں کسی چیز بھی فورس نہیں کروں گا انتظار کرنے پہ آیا تو ساری زندگی کروں گا ! ۔ ویسے بھی ناٹ آبیڈ آئیڈیا ، بڑھاپے میں شادی کا الگ مزا ہے اس وقت تو محبت کی شدت بھی زیادہ ہوگی ۔”
سنجیدگی سے بات کرتے کرتے وہ اچانک شرارتی ہوگیا ۔وہ عجیب تھا دو سیکنڈ میں اپنے رنگ بدلتا لیکن شفق کو اس کا یہ رنگ بُرا ہرگز نہیں لگتا تھا الٹا وہ اس کی اس بات پہ ہنس پڑی ۔
“کافی فلمی نہیں ہے آپ ۔”
“یہ مجھے نہیں معلوم کیونکہ میں نے زندگی میں ہوم الون کے علاوہ کوی مووی نہیں دیکھی ۔”
وہ اب صوفے پہ بیٹھ چکا تھا جبکہ شفق کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔
“واقعی میں ! ایسے کیسے ہوسکتا ہے ۔ ”
“کیوں نہیں ہوسکتا ؟ ۔”
وہ ہنس پڑا
“آپ کے مزاج سے ایسے لگ رہا تھا آپ تو بہت فلمیں اور گانے وغیرہ سُنتے ہونگے ۔”
“نہیں گانے بھی نہیں سُنتا ! ۔”
“اُف آپ تو بہت ہی عجیب ہے پھر ۔”
وہ اس کے میوزک میں بھی نہ انٹرسٹ دیکھ کر مایوس ہوی تھی ۔
“مگر مجھے آپ کی آواز سُنے کا شوق ہے ۔”
وہ اس کے کہنے پر چھینپ گئی ۔
“اب پلیز جاے یہاں سے اس سے پہلے امی آجائے ! کل میں پرامس آپ کے ہوٹل میں آؤں گی اگر کھلا ہوا تو۔”
وہ اسے تنگ کرنا چاہتا تھا مگر اس کی لال تھکی ہوی آنکھوں کو دیکھ کر اُٹھ گیا ۔
“ضرور اسے آپ اپنا ہوٹل ہی سمجھے ! تو کب تک آئے گی ۔”
“جب امی اجازت دے گی ۔”
“اوکے ! جی چلتا ہوں ۔”
“ویسے آپ آتے کیسے ہیں یہاں تو اتنے بھیڑیے ہیں ۔”
وہ بھی اُٹھتے ہوے بولی تھی ۔
“آپ کے گھر کے نیچے چھوٹی سے سڑھیاں ہیں وہاں سے تھوڑی جمپ مارتا ہوں اس کے لیف سائڈ پہ چھوٹا سا وے جو میرے گھر کی طرف جاتا ہے ۔”
“واقعی میں !! ۔”
“جی واقعی میں گڈ نائٹ ! ۔”
وہ اس کو نظروں مین قید کیے چل پڑا اور وہ اسے ہوا کی جھونکے کے طرح جاتا ہوا اور غائب ہوتے ہوے دیکھنے لگی پھر آہستہ سے بولی تھی ۔
“گڈ نائٹ ! ۔”
••••••••••••••••
“ہاں بولو جزلان ! ۔”
دادا زولفقار نے اپنے بندوں کو بھیج کر اس سے بولے جو ان سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا تھا ۔
“ام دادا وہ وہ ۔۔۔”
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیسے بتائے انھیں یا تو وہ اسے مسل کے رکھ دے گے نہ بتانے پر اور اگر بتاے گا تو زلنین نے اس کے ٹکڑے کرنے دینے ہے ۔
“دادا ابو وہ زلنین ہے نا ۔۔۔”
وہ بولتے بولتے ایک بار پھر رُک جاتا ۔ دادا زوالفقار نے اسے حیرت سے دیکھا ۔
“تم کب سے تمہید باندھنے لگے جازی جو کہنا ہے سیدھے طریقے سے کہو اب کیا کیا ہے میرے پوتے نے ۔”
ان کے کہنے پر اس نے اپنی خشک لبوں پہ زبان پھیری
“محبت ہوگی ہے اسے ۔”
وہ تیزی سے بولتے ہوے آنکھیں بند کر چکا تھا اسے لگا اس کہنے کے ساتھ ہی زلنین نے اسے اُٹھا کر دور پھٹکنا تھا مگر کچھ نہ ہونے پر اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تو دادا ذوالفقار اسے خاموشی سے دیکھے جارہے تھے ۔
“انسان ہے ! ۔”
ان کی گھمبیر آواز پورے کمرے میں گونجی ۔ اب تو وہ پھنس گیا اسے کیا ضرورت تھی بتانے کی ۔
“بولو جزلان کیا وہ جو کوی بھی ہے انسان ہے ۔”
“انسان ہی ہو شاہد معلوم نہیں ۔”
“تم جانتے ہو اور تم شاہد یہی بتانے آئے ہو ۔”
وہ اضطرابی انداز میں ہنسا ۔
“وہ ۔۔۔
ایک دم دروازہ کھلا اور زلنین اندر داخل ہوا ۔ وہ اس وقت کالی شلوار قمیض میں ملبوس بالکل تیار تھا واہ مطلب موصوف سچ میں نکاح کرنے لگے ہیں ۔
“اسلام و علکیم دادا زوالفقار ! ۔”
“وعلیکم سلام برخودار آپ کو میری یاد آگئی ۔”
دادا زوالفقار اپنے خوبرو پوتے کو دیکھ کر نہال ہوگے
جو بھی تھا انھیں وہ فائیق جتنا ہی عزیز تھا ۔
“یاد تو ان کو کیا جاتا ہے دادا جنھیں ہم بھول جاتے ہیں ، تو میں آپ کو بھولا تھوڑی ہوں ۔”
وہ جزلان کو ایک نظر دیکھتے ہوے ان کے پاس آیا ۔
“اچھی بات ہے بیٹا ! ورنہ کوی مجھ بوڑھے کو پوچھتا ہی نہیں ہے ، سب اپنے مطلب کے لیے آتے ۔”
جزلان اچھل پڑا ۔ زلنین نے غور نہیں کیا وہ ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
“میں کوی بھی کام آپ سے پوچھے بغیر نہیں کرنا چاہتا بس آپ سے ایک اجازت چاہیے ۔”
وہ دھیمے آواز میں ہمیشہ وہی تعبدار والا زلنین لگ رہا تھا ۔جزلان کو کچھ گڑبڑ لگ رہی تھی ۔
“ہاں بولو ! بیٹے ۔”
“میں نکاح کرنا چاہتا ہوں دادا زوالفقار ! اور وہ لڑکی انسان ہے ۔”
اس کی بات پہ جیسے کمرے سکوت چھا گیا تھا جزلان تو شاکڈ سے ہل ہی نہیں پایا تھا ۔
“میں فائیق زوالفقار جیسی غلطی نہیں کروں گا دادا ! میں آپ کو بتا کر یہ سب کررہا ہوں اور میں چاہتا ہوں مجھے آپ دعا دیں ، آپ کی دعاوں سے ہی کوی بھی بلا میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی ۔”
زوالفقار صاحب بے تاثر چہرہ لیے اسے سُن رہے تھے انھیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہے کہنے کو رہ کیا گیا تھا ۔
“زلنین ! ۔”وہ کچھ کہنا چاہتا تھا زلنین نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
“ساری زندگی دُکھ میں گزار دی دادا یہ بیس سال میں سکون کو ترسا ہوں دادا ، میرے دل کا راحت ہما ہے ، میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا دادا اور میں واقعی سچ کہہ رہا ہوں خود نہیں ماروں گا اپنے آپ کو اس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اس کی دوری ہی میرے وجود کو ختم کردے گی فائیق زوالفقار والی تو نوبت ہی نہیں آئے گی ۔”
اس کے سنجیدگی میں دکھ تھا اور یہ دُکھ ان ماضی میں لے گیا تھا ۔ مگر زلنین نے انھیں ماضی کی یادوں سے نکال دیا ۔
“ابھی ہونے والا ہے ، مگر ابھی اسے معلوم نہیں ہے میں کیا ہوں ، وقت آنے پر اس کا اعتماد لے کر اس کو بتادوں گی ۔”
“زلنین ! یہ ۔۔۔
“جانتا ہوں بہت غلط ہے ، مگر میں اسے کھوں نہیں سکتا دادا زوالفقار ، اس کے بعد اسے سب سچ بتا دوں گا ۔”
“تو تم شادی کررہے ہے کون تمھیں ملا کہاں سے ۔”
اب زلنین خاموش ہوگیا ، جزلان نے اسے دیکھا اب وہ منتظر تھا وہ کیا بولے گا ۔
“میری دوست ہے یہی پاس ہی رہتی ہے اچھی لڑکی اپنی نانی کے ساتھ آی تھی ۔ نانی کی ڈیتھ ہوگی اکیلی ہوتی ہے ۔”
“کون کس کی بیٹی ۔”
اب وہ کسی ڈر کے باعث تیزی سے بولی ۔
“یہاں پہلی بار آئے ہیں ، یہ ساتھ والے وہ آپ کے پُرانے نیبر نہیں تھے ان میں سی کسی ریحان صاحب نے انھیں کرایہ پہ رکھا ہے ۔”
اس نے پہلی بار ان سے جھوٹ بولا تھا ۔اور اسے تکلیف ہورہی تھی مگر مجبوری تھی ۔اب ان کے چہرے پہ آسودگی پھیلی اگر ایسا ہوتا جو وہ سوچ رہے تھے تو قیامت آجانی تھی ۔
“ٹھیک ہے زلنین میں تمھاری خوشیوں میں رکاوٹ نہیں بنوں گا ، ایک میرے بچے خوشیوں سے محروم رہے ، میں نہیں چاہتا میرے پوتے ، کے ساتھ ایسا ہو جاؤ زلنین میں نے تمھیں اجازت دی اور فکر مت کرو اگر وہ لڑکی یہاں آتی رہے گی اسے کسی دوسری مخلوق کی بھنک نہیں پڑنے دے گے ۔”
وہ کچھ سوچتے ہوے اسے بولے زلنین خوشی سے نہال ہوگیا اور ان کے گالوں پہ پیار کیا جیسے وہ بچپن میں کیا کرتا تھا ۔
‏You’re the best thing happen to me grand pa
وہ اس کے کندھے پہ دھپ لگانے لگے ۔
“اس لڑکی کو کہو جس کی وجہ سے برسوں بعد میرے پوتے کا چہرہ کھل اُٹھا ۔”
اور جزلان تو بس حیرت سے منہ کھولے زلنین کے کام ایک دم سیدھے ہوجائے پر حیران تھا ، زلنین نے مڑ کر اسے جتاتی نظروں سے دیکھا وہ اس کی نظروں سے خائف ہوکر نظریں چرا چکا تھا ۔
•••••••••••••••••••
“ارے تم کیسے میری یاد آگئی ۔”
زرمین کو دیکھ کر شفق خوشگوار حیرت لیے اسے سے گلے ملی ۔
“بس یار تم نے تو میرے غریب خانے میں آنے کی زحمت نہیں کرنی تو میں نے سوچا میں آجاوں باقی سب کہا ہے ۔”
وہ اندر اس کے ساتھ چلتے ہوے آئی ۔
“ماما اور بابا تو کسی کی ڈیتھ میں گئے ہیں ، اور میں ابھی نوٹس کمپلیٹ کر کے کافی بنانے لگی اب تم آگئے تو چلو کوی بوریت نہیں ۔”
“خالی ہولی کافی دو گی اچھا سا کچھ کھلاؤ بھی قسم سے امی نے جب ٹینڈے گوشت بناے تو دل خراب ہوگیا وہاں سے اس سڑے کھڑوس نیبر کے پاس گئی تو کچھ کھانے کو نہیں دیا اب تم تھی تو سوچا کیوں نا تمھارے گھر ہی آکر بھوکوں کی طرح کھانے کا پوچھوں ۔”
شفق ہنس پڑی
“پاگل ! جب دل کریں آجایا کرو ! اور کھڑوس کس کی بات کررہی ہوں ۔”
“کس کی بات کروں گی فائیق زوالفقار اُف میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ لے کر جاتی ہوں مگر خود پوچھنے پر آتی تو ایسے بے خیر دفع کرو اس کا ذکر کرتے ہی میرا خون کھول اُٹھتا ہے۔”
شفق کو پہلی بار فائیق کے لیے ایسے الفاظ کچھ اچھے نہیں لگے تھے ۔
” تم ان کے بارے میں ایسا کیوں کہہ رہی ہو ! ۔”
اس کے تیز لہجے پہ زرمین رُک گئی ۔
“کیونکہ وہ ہے ہی ایسا تو اس کو ایسا ہی کہو گی ۔”
وہ کندھے اچکاتے ہوے بولی ۔شفق کو نجانے کیوں اس پر غصہ آیا ۔
“ایسا کیا کہا ہے تمھیں انھوں نے جو تم زہر لگتے ہیں ۔”
“عورتوں کو تو وہ اپنی پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے شفق تم اس کے گڈ لُکس اور سمائل پہ مت جاؤ ! بہت ہی بد اخلاق انسان ہے ۔”
“سٹاپ اٹ ! ۔”
شفق پر اختیار نہ رہا تو وہ چیخ پڑی زرمین رُک پڑی
“تم غلط ہو ، تمھارے ان کے ساتھ کوئی اختلاف ہوگے مگر وہ عورتوں کی جوتی کی نوک ! واٹ ربش میں بھولی ضرور ہوگی لیکن ایک لڑکی ہوں اور لڑکی مرد پر اُٹھتی نگاہ کو پہچان لیتی ہے میں نے ان نگاہوں میں سواے حیا اور تحفظ کے اور کچھ نہیں ہے سو اٹس بیٹر کہ ہم ان کو ڈسکس نہ کریں ، تم میری دوست آئیم سوری بٹ وہ میرے لیے قابل احترام ہے اور میں ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سکتی تھی ۔”
اسے ایک دم کیا ہوا تھا وہ کہہ کر کچن کی طرف چلی گئی جبکہ زرمین ساکت ہوگی اور اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی یہ کیا کہہ کر گئی تھی تو کیا فائیق اور اس کے درمیان کوی تعلق ہیں ؟ ۔
یہ بات آگ کی طرح اس کے جسم میں پھیلی تھی
••••••••••••••••••••
“میں یہ جوڑا ہرگز نہیں پہنوں گی ، کہہ دوں اپنے صاحب سے ۔”
وہ گہرے سُرخ جوڑے کو دیکھ کر چلائی کر نیچے زمین پہ پھینکا ، وہ بیوٹشن تواچھل پڑی ۔
“دروازہ کھول کے دو مجھے میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں ۔”
وہ اس کو شعلہ بار نظروں سے دیکھتے ہوے بولی
“نیم سر نے ۔۔”
“بھاڑ میں گیا تمھارا سر صیحیح کہہ رہے تھے سارے یہ ایک جلاد ہی پولیس آفسر تھا میں اس کے دھوکے میں آگئی ۔اتنا ڈھونگی انسان اگر وہ پہلا والا زلنین ہوتا تو مجھ سے اپنے کیے کی معافی مانگتا الٹا وہ سرے سے انکار کررہا ہے اور اب یہ ۔۔۔۔ میں امریکا جانا چاہتی ہوں واپس دروازہ کھولو !!! ۔”
دروازہ کھلا اور وہ ایک دم پیچھے ہوی ، دیکھا تو زلنین کھڑا ہوا تھا وہ اسے کہنے کے بجاے جانے لگی جب زلنین نے اس کا بازو پکڑ لیا ۔اور پھر بیوٹیشن کو دیکھا تو اسے اشارہ کیا وہ سر ہلا کر چلی گئی ۔جبکہ وہ اس کا ہاتھ اپنے بازو سے نکلنے کے لیے کوشش کرنے لگی ۔
“جانے دو مجھے ورنہ زلنین تمھارے ٹکڑے کردوں گی ۔”
زلنین مسکرا اُٹھا جیسے کسی چھوٹے بچے کی بات پہ مسکرا اُٹھتا ہے ۔
“کر دینا یار ابھی تو یہ میں باکس لایا ہوں اس میں ہزار پلیٹس ہیں جتنا دل کرے انھیں توڑنے لگ جاؤ ! مگر وقت بہت کم ہے تو تھوڑے سے توڑ کر تیار ہو جانا ! ٹھیک ہے لیٹ نہیں کرتے اور ساتھ کچھ کھا لینا میں کھانا منگواتا ہوں صبح سے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔”
“بھاڑ میں گئی میری طبیعت زلنین اگر تم نے زبردستی ایسا کیا تو میں بھوک ہڑتال کر کے مر جاؤں گی ۔”
وہ اس کے پیلے تھکے ہوے چہرے کو دیکھنے لگا جس کے اعصاب تنے ہوے تھے ۔اعصاب تو زلنین کے بھی تن گئے تھے ۔
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گی ! ۔”
وہ بالکل نرمی اور تحمل سے بولتے ہوے اس کا بازو چھوڑ چکا تھا ۔
“مجھے چیلنج مت کرو زوالفقار ! ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے ۔”
زلنین کے چہرے پہ ایک دم مسکراہٹ آگئی وہ ایک دم پیچھے ہوتے ہوے دروازہ کے ساتھ ٹیم لگا چکا تھا ۔
“ہاں کیا تمھیں ہما ! چیلنج میں نے جو کر سکتی ہو کرو ۔”
محفوظ مسکراہٹ اور شرارتی نظروں نے اس کو آگ لگا دی تھی ہما نے بکسے میں سے پلیٹ نکالی اور اس کی طرف نشانہ کیا ۔
اور زور سے اس طرف پھینکی
Black Rose Episode 11
زلنین وہی کھڑا رہا مگر پلیٹ اس سے پہنچنے سے پہلے ہی نیچے گر چکی تھی ۔
ہما نے اسے دیکھا جو چڑانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
اس نے ایک اور اُٹھای تو اب زلنین کو لگنے کے بجاے ساتھ والے دیوار کو جاکر لگی اور کانچ کے ٹکڑے زمین پہ بکھر چکے تھے ۔
زلنین نے اسے دیکھا جو اب پلیٹ اُٹھانے کے بجاے ان ٹکڑے کو دیکھ رہی تھی ، اس کی نظروں میں کچھ ایسا تھا کہ زلنین کو ایک لہمے میں ساری بات سمجھ آگئی پھرتی سے اس کے پاس آیا اس سے قبل وہ کانچ کا ٹکڑا اُٹھا کر اپنا کام تمام کر لیتی ۔
“چھوڑو مجھے ۔۔۔”
“ایک بار میری طرف دیکھو ہما بس ایک بار اس کے بعد جو دل کرے وہ کرنا ۔۔”
“میں کیوں دیکھوں ، جہاں نفرت اور کرب کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۰
اس کی سُرخ آنکھوں سے نمکین پانی نکلنے لگا ، زلنین نے اسے دیکھا اور گہرا سانس لے کر اس کا ہاتھ پکڑا جسے اس نے زور سے جھٹکا تھا ۔
“مجھے جانے دو زلنین ، تمھارے ہاتھ جوڑتی اگر تم وہی میرے پُرانے اچھے والے دوست ہو تو جانے دو مجھے نہیں کرنی تم سے شادی ۔۔۔ پلیز زلنین اگر کر بھی لو گے تو تم کھبی خوش نہیں رہ پاو خوشیوں کے لیے ترسو گے جو تمھیں کسی اچھی لڑکی سے مل سکتی ہے ۔”
زلنین مسکرایا اور ہنس پڑا اس کی ہنسی ہما کو ناگوار گزری تھی ۔
“میری خوشی سے صرف تم سے ہے ۔ میں تمھیں جانے نہیں دیں سکتا ہما ! تمھارے لیے بھی بہتر ہے تم سمجھ جاو کہ میں تم سے کسی بھی حال میں دستبردار نہیں ہوسکتا اور تم اکیلی دُنیا کو کیسے فیس کرو گی نانو کا بھی مسئلہ ہے ، سر پہ تمھارے ماں باپ کا سایہ نہیں ہے کہنا تو بہت آسان ہوتا ہے کہ میں رہ لوں گی میں اپنے آپ کو سنبھال لوں گی لیکن نہیں جب جب کوی مصیبت آی ہے تم مجھ پہ انحصار رہی ہو ، تم مانو یا نہ مانو ہر مشکل میں تمھیں میری ضرورت محسوس ہوی ہے تو کیا یہ اچھا نہیں ہے کہ ہمارے درمیان یہ اجنبی اور جھجھک کی دیوار مٹ جائے ۔ ”
اس نے زلنین کو ایک نظر دیکھا اور پھر دھیمی اور سپاٹ آواز میں بولی ۔
“مجھے جانے دیں زلنین ! ۔”
اس کی ایک ہی رٹ سے وہ چڑ گیا تھا ۔ جبھی غصے سے بولا ۔
“ٹھیک ہے مت تیار ہو ، مولوی صاحب آئے گے خاموشی سے ہاں کہہ کر تم گھر چلی جانا اور ہما میں انکار ہر گز نہیں سُنوں گا میں جتنا اچھا ہوں تو یہ بھی یاد رکھو مجھے بُرے بنے میں دیر نہیں لگی اور تم نے یہ والا روپ دیکھا بھی نہیں ہے ۔”
“دیکھ چکی ہوں میں تمھارے سارے رنگ ، اب کیا رہتا ہے تم تو گرگٹ سے بھی بدتر ہو ۔”
وہ طنز کرنے سے باز نہیں آی تھی ۔
وہ ایک نظر اسے دیکھ کر چل پڑا ہما اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی تو اس کے پیچھے آئی اور ایک بار پھر چہرے پہ بے بسی کے سائے لیے وہ اس سے ہاتھ جوڑ رہی تھی ۔
“پلیز زلنین پلیز جانے دو نا ! ۔”
زلنین آن سُنی کرتا ہوا جانے لگا ۔
“میں نہیں سائن کروں گی ۔”
“ٹھیک ہے پھر تو محفوظ میرے کمرے میں سارے زندگی رہو گی مجھ اس سے بھی کوی مسئلہ نہیں ہے ۔”
وہ سرد لہجے میں ہما کو اجنبی لگا تھا ۔
“زلنین تم ایک حادثے کو سر پہ سوار کررہے ہو ، مجھے کچھ نہیں ہوگا ، میں امریکا ۔
“بس کہہ دیا میں نے اب تم یہاں سے تب ہی جاو گی جب نکاح پہ سائن نہیں کرلو گی ۔”
بس بات ختم ! ۔
“ہما نے اردگرد دیکھا باہر سے نکلنے کا بھی کوی راستہ نہیں تھا ، اس نے جانے دینا نہیں ہے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوگا میں اس محل نمہ گھر میں قید ۔۔۔۔۔ نہیں ہما بہت کر لی بیوقوفی اس زلنین کا دوسرا چہرہ سب کو دکھا کے رکھوں گی مگر یہاں سے نکلنا ہوگا ۔
“ٹھیک ہے میں تیار ہوں مگر شرط کے مطابق میں اپنے گھر جاؤں گی اور تم اس نکاح کے بارے میں کسی کو نہیں بتاؤ گے ۔”
زلنین ایک دم اس کے مان جانے پہ تیزی سے مڑا ۔
“آڑ یو سریس ! ۔”
زلنین نے تاہید چاہیے تھی کہ وہ سچ میں مان گئی ۔
“ہاں ! ۔”
“مگر سب کو ۔۔۔۔”
“مجھے ابھی وقت چاہیے زلنین ! تمھیں اکسسیپٹ کرنے میں ۔۔۔”
کچھ تو بات ہے ورنہ وہ اتنی آسانی سے نہ مانتی خیر میرے لیے اتنا کافی ہے ۔
“ٹھیک ہے تیار ہوجاو آدھے گھنٹے میں وہ تمھارے پاس آجائے گے ۔”
دروازہ بند ہوا تو وہ چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
“امی آپ نے مجھے اکیلی چھوڑ دیا ، میں کہاں جاؤں یہ آزمائش کب ختم ہوگی ۔”
آج بہت دنوں بعد سے اسے ایک بار پھر امی کی یاد آرہی تھی ۔
•••••••••••••
Black Rose Episode 11
“کیا ہوا اتنی ٹیز کیوں لگ رہی ہو ؟ ۔”
وہ گولف سٹک کو تھامے غور سے بال کو دیکھ رہی تھی جب فائیق کی آواز پہ چونکی اس نے سر اُٹھا کر دیکھا تو وہ گرے سوٹ میں ملبوس کوٹ کو کندھے پہ لٹکائے اسے دیکھ رہا تھا ۔
“آپ کب آے ؟ ۔”
“ابھی چائینہ والی پارٹی سے میٹنگ تھی ، پتا چلا میڈم ہمارے غریب خانے آئی ہیں ۔”
“ہاں آپ کا پوچھا تھا تو آپ لوگ ٹیرس پہ میٹنگ کررہے تھے ۔”
“انکل نہیں آئے ؟ ۔”
“آئے ہوے ہیں دوستوں کے ساتھ چیس کھیلنے گئے ہیں ۔”
“ہممم شفق کوی ہوی ہے ؟۔”
“نہیں تو !۔”
“خاموش کیوں لگ رہی ہو ؟ کچھ کہنا ہے ۔”
“آپ میری دوست زرین کو جانتے ہیں ؟۔”
وہ ایک دم اس سے پوچھے پہ فائیق سپرائزڈ ہوگیا ۔
“وہ ساتھ والے میجر عدیل کی بیٹی زرین عدیل ! ۔”
“آپ ملے ہیں اس سے ۔”
“ہاں دو بار ملا تھا ، کیوں کیا ہوا ؟ ۔” اس کی بات پر وہ الجھ پڑی ۔
“وہ ۔۔۔۔۔”
“بڈی ! بڈی بات سُنے ۔۔۔”
کسی کی آواز پر وہ دونوں بے اختیار مڑے دیکھا تو زلنین بھاگتا ہوا ان کی طرف آرہا تھا شفق نے حیرت سے اس خوبصورت بچے کو سکول یونی فورم میں بھاگتے ہوے فائیق کی طرف دیکھتے پاکر اسے دیکھا ، وہ دور سے اسے بڈی بلا رہا تھا مگر شفق کے چھوٹے سے دماغ نے زور ڈالے بغیر اسے ڈیڈی سُنا اس کے دل کو کچھ ہوا کچھ کیا ہوا چین سے ٹوٹ گیا تھا یہ بات سوچ کر کہ فائیق نے اسے دھوکہ دیا ۔
“میرا بوئی ! ۔”
فائیق نے اسے کے تیزی سے بڑھ کر اُٹھا لیا ۔
“اتنا خوش بڈی ! ۔” فائیق نے اس سے پوچھا ۔
“فرسٹ آیا ہوں خوش کیوں نہ ہو ۔”
“کوی نئی بات بتایا کرو یار روز میں سُن چکا ہوں کہ میرا زلنین بوئی فرسٹ آتا یار کسی اور کو موقعہ بھی دے دیا کرو !۔”
“دینے کی کوشش کرتا ہوں مگر کیا کرے ، ارے یہ کیوں چلی گئی ابھی تو اِدھر تھی ۔۔۔”
اس کے فوراً کہنے پر فائیق نے بے اختیار گردن موڑی ۔
“شفق ارے یہ کدھر گئی شفق !۔”
مڑا تو دیکھا وہ بھاگ کے جارہی تھی ۔
“شفق ! ۔”
شفق نے اس کی پکار سُنی مگر وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوی تیزی سے رسییپشن ایڑیا کی طرف گئی ۔
“تم ٹہرو میں دیکھ کر آوب پتا نہیں کیا ہوا ہے شفق ! ۔”
وہ تیزی سے اس کے پیچھے بھاگا ، زلنین انھیں جاتا ہوا دیکھنے لگا پھر کندھے اچکا کر گولف سٹک اُٹھا چکا تھا ۔
••••••••••••••••••••
سائن کر کے وہ منتظر تھی کہ اب اسے جانے دیا جائے مگر یہاں تو کوی امکان ہی نہیں لگ رہا تھا ۔
“اب ہوگیا ہے نکاح تو مجھے جانے دیں ۔”
وہ ایک اس عورت کو دیکھتے ہوے بولی جس نے اسے تیار کیا تھا ۔سرُخ جوڑے میں خود بھی اس کا چہرہ سُرخ ہورہا تھا ۔
“میڈم سر کہتے ہیں وہ آجائیں تب وہ خود آپ کو چھوڑ کر آئیں گے ۔”
“اور کب تک آئیں گے آپ کے سر میں اس قید خانے سے کب نکلوں گی ۔”
“یہ قید خانہ نہیں ہے ہما یہ تمھارا اپنا گھر ہے ۔”
اس کی آواز سے وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی جو کالی شلوار قمیض میں ملبوس فریش سا مسکراتے ہوے اس کے قریب آیا وہ ایک دم پیچھے ہوی ۔مڑ کر اس نے بیوٹیشن کو اشارہ کیا تو وہ سر ہلا کو چل پڑی ۔
وہ جانے لگی تب زلنین نے روک دیا ۔
“تم سوچ نہیں سکتی تم نے مجھے دُنیا کا سب سے خوش قسمت ترین انسان بنایا ہے ۔۔”
اور مجھے بد قسمت ۔
وہ جل کر سوچنے لگی ۔
“میں جانتا ہوں تم اس وقت بہت تکلیف ہورہی مگر جب تمھیں سچ معلوم ہوگا تو تمھاری ساری غلط فہمی دور ہوجائے گی ۔”
“پورا کیا مجھے اس وقت تم آدھا سچ بتادو تو مجھے ساری بات سمجھ آجائے گی مگر تم اُف مجھے اب کچھ نہیں سُنا تمھاری خواہش تھی کہ نکاح ہوجائے اور میں نے یہ پوری کردی اب تمھاری باری ہے ۔”
وہ نفرت سے اسے دیکھتے ہوے جانے لگی جب زلنین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک دیا ۔
“اتنی جلدی بھی کیا ہے ؟ ابھی تو ایز آ شوہر تمھیں جی بھر کے نہیں دیکھا میری یہ نگاہیں تھکے گی نہیں مگر کیا کریں مجبوری ہے آپ کی شرط بھی پوری کرنی ہے ۔”
ہما نے اسے سپاٹ نظروں سے دیکھا زلنین کے دل دُکھ کی گہرائیوں سے بڑھ گیا وہ کیوں ایسا کررہی ہے آخر ایسا کیا ہوا جو اس کی نظروں میں اجنبیت کی دیوار حائل ہوگی وہ ایسی تو نہ تھی مگر جو وہ کہہ تھی ضروری کسی جن کی شرارت تھی اور وہ اس کو ڈھونڈ کے رہے گا ۔
زلنین نے سوچ سے نکل کر اسے دیکھا جو منتظر کے سخت مراحلے میں کھڑی تھی ۔
جیب سے اس نے کچھ نکالا تھا اور بند مٹھی اس کے سامنے کی ہما نے ایک نظر اسے پھر اس کی مٹھی کو دیکھا ۔جب وہ آگئے سے کچھ نہ بولی تو وہ مسکراتے ہوے بتانے لگا ۔
“اس میں سوچو بھلا کیا ہے ؟۔”
“زلنین میرے خیال اب تم مجھے جانے دو تو بہتر ہوگا ۔”
وہ سینے پہ ہاتھ باندھے یہاں سے جانے کی جلدی پڑی ہوی تھی جبکہ زلنین کوی اس کی کوی بات بری نہیں لگ رہی تھی ، اتنے اچھے دل کی لڑکی کو بُرا تو لگا ہوگا نا کہ اسے تھپڑ مارا گیا جبکہ وہ اسے کتنی اچھی طریقے سے ٹریٹ کیا کرتا تھا ۔
اس نے مٹھی کو کھلا تو دو سفید فاختہ والے دو بریسلیٹ تھی جس کی گولڈ پلیٹٹ چین نے ہما کو مسمرائز کردیا تھا ۔اس کے چھوٹے سے ہاتھ کو اپنے مضبوط سفیدی مائل ہاتھوں میں لیتے ہوے اس نے اس کی کلائی میں پہنانے سے پہلے پوچھا تھا ؟۔
“اجازت ہے ؟۔”
اور یہی اجازت کا لفظ ہما کو آگ لگا گیا تھا ۔ نمی بھی بے اختیار آئی تھی جسے زلنین نے دوسرے ہاتھ سے صاف کرنا چاہا تھا کہ اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔
“نفرت کرتی ہو تم سے نفرت زلنین جو تم نے کیا میں تمھیں کھبی معاف نہیں کروں گی ۔”
اس کے کانپتے ہوے وجود کو پیلے چہرے کو دیکھ کر زلنین کو لگا اس کی طبیعت بگڑ رہی ہے تو وہ تڑپ اُٹھا ۔
“ہما ! ۔”
“تم نے مجھ سے میرا دوست چھین لیا ، وہ دوست جس کی نگاہ میں میرے لیے احترام تھا ، نرمی تھیں کیوں کیا تم نے زلنین ایسا اس دُنیا میں ایک ہی ہمدرد تھا وہ کیوں چھین لیا ۔”
وہ خود پہ اختیار نہ رکھ سکی اور اس کے سینے پہ مکا مارنے لگی زلنین نے اسے بے اختیار اپنے ساتھ لگا لیا اور وہ مزید رونے لگی ۔
“وہ مجھے مارتا بھی نہیں تھا جبکہ تم ۔۔۔۔۔تم آخر کیا ہو زلنین ! ۔۔۔۔۔”
روتے ہوے اس سے بولا بھی نہیں جارہا تھا جبکہ زلنین اسے ہولے ہولے تھپک رہا تھا ۔
•••••••••••••
“شفق رُکو ! شفق ۔۔”
وہ بھاگتے ہوے آیا وہ سیدھا بابا کے پاس جارہی تھی کہ فائیق نے تیزی سے اس کا بازو پکڑا کہ وہ کرنٹ کھا کر اپنے بازو کو جھٹکے سے چھوڑا ۔
“ڈونٹ ٹچ می ! ۔”
شفق نے آنسو بھری آنکھوں سے اسے کہا ۔فائیق کو جھٹکا لگا ۔
“شفق ! ۔”
“آپ اتنے دھوکے باز نکلے گے میں نے کھبی سوچا نہیں تھا آپ کا بیٹا بھی ہے اور آپ ایک شادی شدہ ہوکر مجھے پرپوز کررہے تھے ہاو چیپ آف یو ۔۔۔۔
اس کی بات سُنتے ہوے فائیق کا سر گھوم اُٹھا یہ کیا کہہ رہی ہے ؟ ۔
“تم پاگل ہو میری تو کوی رشتہ آج تک نہیں آیا اور تم شادی کی بات کرتی ہو !۔”
“صرف شادی آپ تو ایک بچے کے باپ بھی ہے اور وہ بھی چھ سات سال کی عمر کا بیٹا ۔۔۔”
“آو میرے خدا لڑکی وہ میرا بھتیجا ہے فور یور کائینڈ انفارمیشن ! ۔”
اسے اس کے غصے پہ ہنسی اور غصہ بھی آرہا تھا عجیب پاگل لڑکی سے محبت ہوی تھی اسے ۔
“تو وہ آپ کو ڈیڈی کہہ رہا تھا مجھے بیوقوف مت بنائیں ۔”
وہ اپنے آنسو تیزی سے صاف کرنے لگی ۔
“دماغ کے ساتھ ساتھ آپ محترمہ کے کان بھی خراب ہیں ، اس نے مجھے بڈی بلایا تھا یقین نہیں آتا تو خود چل کر پوچھ لیں اور آپ کو خود معلوم ہے کہ بچے سچے ہوتیں ہیں اور کوی بچہ کسی بھی حال میں کسی کو بھی اپنا باپ نہیں بولے گا ۔”
اس کی بات سُنتے ہوے اس کو اپنے حرکت پہ شرمندگی اور تیش بیک وقت آیا تھا وہ بھی کیا سوچے گا وہ اس پہ ٹرسٹ نہیں کرتی ۔
“آئیم ۔۔۔
“پلیز سوری کہنے کی ضرورت نہیں ہے مگر مجھے دُکھ ہوا کہ آپ کو مجھ پر ٹرسٹ ہونا چاہیے کیا میری محبت آپ کو دل لگی لگتی ہیں ۔”
“نہیں وہ ۔۔۔ آئیم رییلی سوری فائیق آپ ۔۔
فائیق ہنس پڑا ۔
“مجھے ڈر تھا ابھی آپ کو مزید تنگ کیا تو پھر رو کر نہ بھاگ جائیں مذاق کررہا ہوں کوی بات نہیں ہوجاتا ہے اُلٹا مجھے خوشی کہ یہ یک طرفہ والا معاملہ نہیں ہے تو کب بھیجوں اپنی فیملی کو ۔۔۔۔”
وہ شرارت سے اسے دیکھنے لگا کہ شفق اس سے قبل کچھ کہتی بابا کی آواز پر اس کے چھکے چھوٹ گئے تھے فائیق کو دیکھا جو اب اس کے بجائے اس کی پیچھے دیکھتے ہوے کھل کر مسکرایا تھا اور اس کی مسکراہٹ پر شفق کو حیرت اور اس حیرت کو مٹانے کی خاطر اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو بابا کسی کے ساتھ ہنستے ہوے بات کررہے تھے اور ان کے ساتھ کھڑے ہوے شخص جو بہت ہینڈسم تھے اگر ان کو جوان کردیا جائے تو فائیق کی طرح لگیں تو کیا یہ فائیق کے ابو ہیں جو ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔
“یہ میرے ڈیڈ ہیں ذوالفقار علی ۔”
فائیق کی بات آواز پر وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ اتنی گہری مسکراہٹ تھی جو اس کی سٹبل پہ ابھرتا ہوا ڈمپل کو دیکھ کر شفق اس کی خوشی کا اندازہ نہیں کرسکتی اس میں اتنا خوش ہونے والی کون سی بات تھی ؟ بات ہی کررہے ہیں ؟۔
“مجھے لگتا ہے تمھارے ڈیڈ اور میرے ڈیڈ بہت گہرے دوست ہیں اب تو مجھ غریب کا کام آسان ہوجائے گا ۔”
اس کے اکسائٹٹ انداز کو دیکھ کر وہ دنگ رہ گئی ۔
وہ اس کھڑکھی سے دور جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔ روتے ہوے اس نے جانے کی سخت قسم کی ضد لگای ہوی تھی اور وہ چاہ کر بھی اسے روک نہیں سکتا مگر ایک منٹ ہی ہوا تھا اس دور ہوے وے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے سانسیں رُک سی رہی تھی ، اندر کچھ پھڑپھڑا رہا تھا ۔
“یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا زلنین ! ۔”
کسی کی آواز پر وہ چونکتے ہوے مڑا ۔ 
اس نے دیکھا جزلان کھڑا ہوا اسے دُکھ اور افسوس بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔وہ چند لہمے اسے دیکھتا رہا پھر چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوے گویا ہوا
“میں اس وقت جس پوزیشن میں ہوں ، سچ پوچھو تو جیسے صحیح اور غلط کا فرق بھول چکا ہوں ۔ جس طرح کا میں نے رویہ اپنایا ہے ‘ یہ میری شخصیت کا خاصا نہیں ہے ۔ تم کیا افسوس کرو گے جزلان مجھے خود پر افسوس ہورہا میں جو زبردستی کے رشتے کو مانتا نہیں تھا ۔ آج خود ایک معصوم سی لڑکی کو دھمکا کر زبردستی کے بندھن میں باندھ دیا ۔ خیر مشکل وقت ہے کٹ جائے گا ، وہ شیشہ بن گیا ۔”
وہ کھوے ہوے لہجے میں کہتے ہوے بات کو ایک دم سے بدلتے ہوے اس سے پوچھنے لگا ۔جزلان تھکے ہوے انداز میں صوفے پہ بیٹھتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا ۔
“ابھی گیلا ہے کچھ وقت لگے گا ، شاہد موسم آج کل موسلادھار ہے اسی کی وجہ سے وقت لگ رہا ہے ۔”
“خیر نکاح ہوچکا ہے پر جب تک مجھے ہر چیز کا پتا نہیں لگ جاتا میری اور تمھاری یہی کوشش ہونی ہے کہ میں ہما کو پتا نہ لگے کہ میں کون ہو ؟ ۔”
“کیا مطلب ؟ ۔”
“مطلب اگر اسے یقین آگیا کہ میں جن ہوں تو وہ ضرور کسی سٹوپڈ پیر وغیرہ کے چکروں میں پڑ جائے گی یا مجھ سے جان چھڑانے کے لیے اپنی جان دے دیں گی ، یا امریکا واپس چلی جائے گی اور بہت سی انجام اور ہر ایک انجام ایک دوسرے سے زیادہ خطرناک ہے ۔”
“تو کیا ساری زندگی اسے بیوقوف بناتے رہو گے ، بہت سی چیزیں ہیں زلنین جو تم جن ہوکر اسے نہیں دے سکتے جو ایک انسانی مخلوق دے سکتا ہے اور ہما کو اس کی کمی وقت کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ محسوس ہوگی سمجھدار آدمی تم ہم سب کو زندگی کے اصل رنگ بتایا کرتے تھے آج ایسا وقت آگیا ہے کہ میں تم سے چھوٹا ہوکر بتارہا ہوں کہ زندگی کے نیشیب و فرائض کیا ہیں ۔
ٹھیک ہے میں مانتا ہوں کہ تم نے اس کو اپنے قبضے میں لے آئے ہو اور نا چاہتے ہوے بھی تم نے اس پر اپنی
ملکیت کا سٹیمپ لگا دیا ہے مگر اس کے
Consequences
بھی ہیں اور تم ٹھیک کہہ رہے ہو اگر اسے پتا چلے گا کہ تم ایک الگ مخلوق ہو اوّل تو اس زمانے کی لڑکی اس بات کو مذاق سمجھے گی یہ کیا بتا کررہا بھلا زلنین اور جن ! دوسرا اگر اسے یقین ہوجاتا ہے تو وہ ضرور ایسی حرکتیں کریں گی ۔ پر جب وہ تمھیں دل و جان سے اپنا شوہر قبول کر کے ساری زندگی میں سے وہ ایک لمحہ آئے گا جب اسے اولاد چاہیے ہوگی اور بیچاری
جب ڈاکٹر کے پاس جائے گی تو ڈاکٹر اسے پاگل تصور کریں گی کہ آپ کی تو ابھی تک شادی نہیں ہوی اور آپ بچوں کا کیوں پوچھ رہی ہیں پھر اس کے تم انجام دیکھنا یہ انجام اور تمھاری پیِشن گوئی میں کوی فرق نہیں ہوگا اور مجھے اس لیے معلوم ہے کیونکہ میں سائنٹسٹ کے ساتھ ، میں نے تایا ابو کے بھی ایسی بے شمار لکھی ہوی کتابیں پڑھی ہے جس میں یہی سب کچھ لکھا ہے اپنی طرف سے کچھ نہیں کررہا ۔”
اس کی بات سنتے ہوے زلنین کو ایک دم سے کوی بات یاد آی تھی ۔یہ بات یہ آواز وہ کیسے بھول سکتا تھا ۔
“بھای کوی طریقہ تو ہوگا نا ! ۔”
“کیا انسان بنے کا ! ”
“تم پاگل ہو فائیق یہ خاصی ناممکن سی بات ہے ۔”
“اوریتھنگ از پوسیبل بھیا ! کچھ ایسا تو ہوگا جس سے انسان بن جاؤں ! ۔”
“بیٹا جی یہ انسان کی فقرے کی طرح نہیں ہے کہ ماں باپ کہے انسان بن جاو حالانکہ وہ انسان ہی ہوتے ہیں مگر اپنے رویوں سے انسان نہیں ہوتے ۔”
فائیق ایک لہمے دیکھتا رہا ۔
“بھای مجھے شفق سے بہت زیادہ محبت ہے اور میں چاہتا ہوں اپنی زندگی اس کے ساتھ اس کی طرح کا ایک انسان ہوکر گزاروں مجھے یہ لائف سٹائل ملی ہے مجھے یہ بالکل نہیں پسند مجھے ہمیشہ انسان کی زیست نے کھینچا ہے اور میں نے ممکن بھی بنایا اسی زیست کا حصہ بنے میں اور آخر کار کامیاب بھی رہا
مگر مجھے مزید ان کی زندگی کا حصہ بنا ہے ۔”
بھیا چند لہمے اس کے کھوے ہوے انداز کو دیکھتے رہے پھر پُرسوچ نظریں اردگرد گاڑے اپنے بک سیکشن کی طرف گئے اور اُدھر سے کوی کتاب ڈھونڈی ایک کو کھول کر اس کی صفحے پلٹتے جب کچھ نہ مل پاتا تو بند کر کے دوسرا کھولنے لگ جاتے اس طرح دیکھنے کے بعد آخری کتاب ان کی مطلب کی نکلی تھی اور اس کو پڑھتے ہوے فائیق سے کچھ بولیں تھے ۔
“کچھ تھا کیا کہا تھا پاپا نے مجھے یاد کیوں نہیں آرہا ! ۔”
زلنین نے اپنے سر پہ زور ڈالا مگر آگئے اسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا ۔اس نے اپنا سر تھاما جزلان نے اسے دیکھا تو تیزی سے اُٹھ کر اس کے پاس آیا ۔
“زلنین زلنین کیا ہوا تمھیں ۔”
“پاپا نے کچھ کہا تھا چاچو سے ۔۔۔۔”
وہ ذہن میں زور ڈالتے ہوے آگئے بڑھ رہا تھا پھر جب کچھ یاد نہ آیا تو غصے سے سر کو جھٹکا ۔
“تمھیں ہوا کیا ہے پتا نہیں کون سے دوڑے پڑنے لگے ہے تمھیں ! ۔”
جزلان کو اب چڑ ہورہی تھی ۔زلنین صوفے پہ بیٹھا اس کی نظر اچانک ٹی وی کے ساتھ ہی بڑے سے شیشے میں موجود نقلی کالا گلاب دیکھنے لگا پھر اس نے اچانک بادل کا گرجنا سُنا !
“ترکی ۔۔۔۔ موسم ۔۔۔۔۔۔ بلیک روز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بلیک روز !!! ہاں یہ وہی گلاب جس سے سب کچھ بدل سکتا سب کچھ ! ۔۔۔۔۔”
ایک دم زلنین اُٹھ کر پُرجوش انداز میں بولا تھا ۔
“بلیک روز ! ۔”جزلان کا منہ حیرت سے کھلا
“ہاں یہ وہی گلاب جس سے میں انسان بن سکتا ہوں ، میں کیا تم سب اگر تم لوگ چاہو یہ سچ بابا کے منہ سے یہ یہ میں نے سُنا تھا ۔”
“تم نے تایا ابو کے منہ سے کب سُنا تھا یہ کون سا وقت تھا ۔”
جزلان اب تیزی سے پوچھ رہا تھا ۔
“وقت مجھے یاد نہیں آرہا مگر میں چھوٹا ہی تھا بابا کے ڈیتھ سے قبل کچھ دنوں کی ہی بات ہے شاہد ۔۔”
“اور یہ بات وہ کس کو کہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔”
وہ اس شخص کا نام نہیں لینا چاہتا تھا مگر جزلان کو بتانا ضروری تھا ۔
“فائیق زوالفقار ! ۔”
“او ! تو یہ بات ہے ۔”
“تم پھر سے دھُرا رہے ہو زلنین مت اتنا سوچو فل حال جیسا چل رہا ہے چلنے دو جب تک وہ شیشہ سوکھ نہیں جاتا ہم نے کوشش کرنی ہے کہ بہت سی چیزیں ہیں ان کے بارے میں پتا لگائیں ۔”
“کیسے ۔۔۔۔”زلنین نے سر اُٹھایا ۔
“چلو میرے ساتھ ایک سیکنڈ ! ۔”
••••••••••••••
وہ دروازے تک پہنچی غصے میں اسے اندازہ ہی نہیں ہوا تھا کہ وہ اب تک اس لال جوڑے میں ملبوس ہے گو کہ وہ بہت سادہ سا شفون کی کلیوں والی فراک اور تنگ پجامہ تھا اور ڈوپٹے جو اس نے سر پہ کیا تھا ستاروں کا کام ہوا وا تھا ، جولیری کے نام پہ اس نے صرف ہیرے کے کافی خوبصورت اور بڑے ٹاپس پہنے ہوے تھے جو دور سے اپنی چمک ظاہر کررہے تھے اور میک آپ کے نام پہ صرف ہلکی لال رنگ کی لپ سٹک ابھی اسے اندازہ نہیں ہوا تھا جب اس نے دروازہ چابی سے کھولا جو اسے زلنین نے دی تھی کہ نیبر ہونے کے ناطے اس کے پاس بھی ایک تھی اور یہ نانو کی فوتگی والے دنوں میں ہما نے اسے کسی حادثے کے تحت دی تھی ۔ چابی سے دروازہ کھولتے ہوے وہ اندر آئی تو کچن سے آوازیں آرہی تھیں وہ ان آوازوں کو پہچان سکتی تھی اور اس کو جھٹکا لگا وجدان ! وہ یہاں کیا کررہا ہے ۔۔۔۔”
انھوں نے بھی شاہد دروازہ کھلنے کی آوازیں سُن لیتی ابھی وہ یہاں سے مڑتی یا کہی چھپ جاتی مگر وجدان کی آواز نے اس کے قدم روکنے پہ مجبور کردیا ۔
“ہما ! ۔”
اس نے دیکھا وہ کھڑا ہوا تھا ساتھ میں نانو بھی تھی وہ بھی حیرت سے ہما کو اور اسے کے حلیہ کو دیکھنے لگی وجدان جو یہ سب دیکھ رہا تھا اس کے لیے پہلے ہی اتنے جھٹکے لگے تھے کہ ہما کو صحیح سلامت اور لال جوڑے میں دیکھ کر جھٹکا لگا تھا ۔
“ہما تم کہاں تھی یہ سب کیا ہے تمھاری طبیعت خراب تھی تم نے پانی کا کہا تھا اور جب میں اندر آیا تو تم غائب یہ سب کیا تھا ۔۔۔ اوپر سے مجھے لگا طبیعت کے پاس شاہد تم گھر ٹیکسی کر کے چلی گئی تھی یہ کوی طریقہ تھا میں پوری دن بے چین رہا تمھارے گھر آیا تو یہاں ایک اور جھٹکا یہ کیا مجھے لگا میں وہی کھڑے کھڑے بے ہوش ہوجاوں گا اوپر سے یہ تو تمھیں نواسی تسلیم ہی نہیں کررہی یہ کون ہے یہ کیا ہورہا ہے مجھے بتاؤ ! ۔”وجدان کی ایسی حالت تھی کہ وہ عنقریب پاگل
ہونے والا تھا اگر اس کو سب کچھ نہ بتایا گیا ۔
“تم فائیق اور میری بیٹی کے بارے میں پتا لگانے کی ۔”
“اور اب یہ کیا کہہ رہی ہے ، میں زلنین کو بھی ٹرائی کررہا تھا صبح سے پولیس کو بولا تمھاری گمشدگی کا پتا کریں کہاں تھی اور یہ سب کیا ہے کچھ بولو ۔”
وہ اس کے مزید اس سے قبل آتا کہ بیل کی آواز پہ ہما رُک گئی اس نے مڑ کر دیکھا تو کوی بیل دوسری بار اور خاصی سے زور سے بجا رہا تھا اس کا انداز بتا رہا تھا اگر دروازہ نہ کھولا گیا تو وہ اندر آجائے گا ۔
ہما جانے لگی کہ وجدان نے اسے روکا ” رُکو میں دیکھ کر آتا ہوں ۔”
اس کے سائڈ سے گزرتا ہوا وہ دروازہ کھولنے لگا تو زلنین زوالفقار کو تیزی سے اندر آیا ہما اسے دیکھتے ہوے اچھل پڑی یہ کیوں آگیا یہاں ! ۔
جبکہ وہاں بورڈ سیٹ کرتے ہوے جزلان نے جیسے ہی مارکر اُٹھا کر زلنین کی ساتھ ڈسکشن کرنی چاہیے تھی تو اسے غائب پاکر سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا کہ یہ اس آدمی کا کیا بنے گا ۔
“زلنین تم تو یار کہاں تھا گھر بھی تیرا بند تھا اور تو دیکھ رہا ہے نانو زندہ یار اس سے پہلے میں پاگل ہوجاوں کوی مجھے بتائیں یہ سب کیا ہے ۔”
ہما نے سر ہلاتے ہوے زلنین کو اشارہ کیا کہ وہ وعدہ نبھائیں گا وہ کچھ نہیں بولے گا زلنین کو غصے آیا تھا اس پر وہ وجدان کے قریب کیوں ہوی تھی حالانکہ وجدان اس سے صرف بات کررہا تھا مگر زلنین کا آج کل دماغ کہاں توازن پہ تھا ۔
“اسلام و علکیم نانو کیسی ہیں آپ ۔”زلنین کچھ بھی بولنے کے بجائے کنفیوزڈ سی نانو کو دیکھتے ہوے خوش اخلاقی سے بولا ۔
“وعلیکم سلام یہ وہی تمھارا پولیس دوست ہے نا ! ۔”
نانو نے اب ہما کو دیکھتے ہوے پوچھا تھا ۔زلنین کی نظریں ایک دم ہما پر گئی تھیں ۔ ہما نے اس کی تیز نظروں کو خود پہ پاکر کمپوز کرتے ہوے سر ہلایا ۔
“اس سے کچھ پتا چلا ؟ ۔”
“ہما تم ان کو لیے کر بتاؤ میں وجدان کو بتاتا ہوں ۔”
ہما کو کہتے ہوے اس نے جانے کا اشارہ کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا وجدان کی نظریں اس پر پڑیں ۔ہما اس کی نیلی آنکھوں میں موجود تنبیہ سے نجانے کیوں خائف ہوی تھی وہ اس کی حکم نہیں مانا چاہتی تھی یہی کھڑی رہ کر وجدان سے بات کرتی مگر زلنین کی حالت سے لگ رہا تھا کہ اگر وہ مزید ٹہری تو گڑبڑ ہوگی ظاہر ہے پہلے والا تو وہ زلنین نہیں رہا ۔
“آپ چلے میں آپ کو آپ ڈیٹس دیتی ہوں ۔”
وہ نانو کا ہاتھ تھام کر بولی ، نانو نے چونک کر اسے دیکھا ۔ ان کی آنکھوں میں کچھ تھا جو ہما کو عجیب لگا ۔
“ہما میں نے کہا نا جاو ! ۔”
زلنین کا صبر بہت تھوڑا تھا اس لیے ضبط لیے کھڑا منتظر تھا وہ وجدان کی نظروں سے اوجھل ہوے یہ سلف کنڑول ہی تھا جو اسے روک رہا تھا ۔
“تم بہت پیاری لگ رہی ہو ، تم تو بالکل شفق لگ رہی ہو وہ بھی ایسی ایک لال جوڑے میں ملبوس یہی کہہ کر آئی تھی اس نے شادی کر لی ہے اور میں اس کے سچ کو مذاق سمجھ کر گھورتے ہوے ڈپٹنے لگی “بچیاں ماوں کے ساتھ ایسی بات نہیں کرتی ۔”
وہ ایک دم کہی اور کھو چکی تھی ۔
ہما کے ساتھ وہ دونوں بھی ان کی بات پہ رُک گئے تھے ۔
“کیا انھوں نے آپ کو بتایا تھا کہ کس سی کی ہے ۔”
“نہیں پتا تو ہمیں بعد میں چلا تھا اس وقت میری سخت زبان پہ وہ اچانک خاموش ہوگئی تھی ۔ اس کا چہرہ معصومیت اور حیا کے رنگ کے بجائے اداسی اور ڈر نے لے لیا تھا شاہد وہ صحیح موقع نہیں تھا ۔”
اس بات پ تو جیسے زلنین اور ہما کو بھی چُپ لگ گئی تھی ۔
“شاہد میں اسے سمجھ جاتی ، اس کی خوشیوں کی پروا کر لیتی تو یہ نوبت نہ آتی ، اللہ میری بچی تم بہت پیاری ہو بہت معصوم تمھارے زندگی میں کھبی دُکھ نہ آئے تمھاری زیست میں اتنی خوشیاں آئے اور تمھیں ایک اچھا اور محبت کرنے والا ہمسفر ملے ۔”
ان کی اس دعا پہ ہما کی آنکھیں بھر آئی تھیں ۔
“نانو !! ۔”
وہ ان کے گلے لگ کر اپنے آنسو پہ قابو نہ پاسکی تھی اور پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی ۔
“ارے تم تو میری بیٹی جتنی ہو اور تم مجھے نانو کیوں بلا رہی ہو لیکن مجھے تمھاری اس بات سے اپنی ہما میری پیاری سی چھوٹی سی نواسی ہما بہت یاد آرہی ہے پلیز میری بیٹی اور نواسی کو ڈھونڈ لے آؤ ۔”
وہ رونے لگی تو وجدان نے اس منظر کو عجیب نظروں سے دیکھ کر زلنین کو دیکھا جو صرف ہما کو ہی دیکھ رہا تھا اور اس کی نظروں میں حق تھا جو اس کا ہما پر تھا ۔
“زلنین یہ پاگل ہے یا میں پاگل ہوں مجھے بتادو ورنہ میں ابھی مینٹل ہاسپٹل جارہا ہوں ۔”
زلنین اس کی بات پر کھل کر ہنس پڑا ۔ اتنی امویشنل صورت حال میں یہ خیال بٹانے والی بات تھی ۔
“تم میرے ساتھ میرے گھر چلو سب بتاتا ہوں ۔”
وہ کہتے ہوے مڑ گیا پھر اپنے ہوش سنبھلتے ہوے ذہن میں فوراً یاد آیا جزلان کے ساتھ اس نے بات کرنی تھی ۔
“آؤ ڈیم جزلان نے تو میرا قتل کر دینا یہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔”
خود سے ہمکلام ہوا وجدان کو یہ بھی پاگل لگ رہا تھا ۔
Black Rose Episode 11 Caretofun

Please support us by providing your important feedback:
Share this post as much as possible at all platforms and social media such as Facebook, Twitter, Pinterest & Whatsapp. Share with your friends and family members so that we are encourage more and more to bring you much more that you want. Be supportive and share your comments in below comments section. So that we can be aware of your views regarding our website.

Your best Urdu Digest, Novels, Afsanay, Short Stories, Episodic Stories, funny books and your requested novels will be available on your request.

Urdu Novels and Episodic series of your top most favorite novelists. Easy to read online as well as offline for download in pdf. Just visit us and search for your favorite novel and read online. Click Download to get to copy of PDF file into your device for offline reading.

 

You May Also Like

Leave a Reply