Black Rose Episode 12 By Samreen Shah

“وہ ایسا کیوں کرنا چاہتے تھے ۔”
“آئی ڈونٹ نو ! شاہد ان کے بندوں کو اکیسپوز کیا تھا اور ان کو اکسپوز کرنے سے مراد اسے اکسپوز کرنا تھا پر عجیب بات ہے اس کو میں نے اتنا مارا مگر وہ ایک انجانی طاقت سے اُٹھ پڑا مگر اس وقت ہما کی حالت غیر تھی تو مجھے اس کی زیادہ فکر تھی ۔”
اس نے نکاح کی بات چھوڑ کر ساری بات بتادی کیونکہ ہما سے وعدہ کیا تھا اور وہ اس کا کیا ہوا وعدہ کسی بھی حال میں توڑ نہیں سکتا تھا بیشک یہ بات اس کے لیے ناگوار تھی مگر مجبوری بھی کوی نام کی چیز تھی ۔
“پتا کرتا ہوں یہ گھٹیا حرکت کر کے وہ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے خدا نخواستہ ہما کو کچھ اگر تم نہ آتے تو میں خود کو کھبی معاف نہ کرتا زلنین میری غیر زمہ داری کی وجہ سے یہ سب ہوا ۔”
“جو کچھ ہوتا ہے اچھا کے لیے ہوتا ہے ۔”
جزلان نے دانت پیستے ہوے زلنین کی دل کی بات کہہ دی ۔وجدان نے اس کی بات پہ اسے گھورا، زلنین کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ۔
“اور یہ نانو کا کیا چکر ہے ؟ وہ لاش ٹھیک ہوکر ہما کے پاس آگئی یا ہما کی نانو کی کوی قسم کی روح ہے ۔”
زلنین ہنس پڑا وجدان کو اس کی دماغی حالت پہ شعبہ ہوا ۔
“لاش ابھی بھی موجود ہے اور نانو بھی ہمارے سامنے ہیں یقین نہیں آتا تو میرے ساتھ چلو ہاسپیٹل مگر سمجھ نہیں آرہی یہ سب چکر کیا ہے کیونکہ وہ جو باتیں کررہی ہیں اس سے تو یہ ثابت کررہا ہے کہ وہ اصلی والی ہیں اور زندہ ہے اور وہ جو ہاسپٹل میں موجود وہ ایک جال تھا جو مجھ پہ اور ہما پہ پھینکا گیا تھا ۔ ”
“مطلب ؟ ۔”
زلنین نے چٹکی بجا کر بورڈ اس کمرے میں لایا اور اُٹھ کر مارکر سے اس نے کچھ لکھا وہ دونوں اسے دیکھ رہے تھے ۔
“کافی مسٹری ہے لیکن اگر مسٹری کو سلجھایا جاے تو سمجھو ساری مسٹری سلجھ جانی ہے ۔”
“بات کرتے ہیں ہما کی ، شروع میں ہما کو شرارتی جن نے اسے تنگ کیا تھا جس سے اس کی طبیعت خراب ہوی مگر میں نے اس کو سیدھا کردیا تھا تو ایسی کوی نوبت نہیں آئی ۔”
“دوسرا نانو کی نفرت ! میرے اور میرے گھر کے لیے ان کا مانا ہے کہ میں نے چھ بندوں کا قتل کیا ہے اور ان کی بھرپور کوشش مجھے ہما سے دور کرنا تھی ۔ یہ بات ہما نے مجھے بتائی تو میں حیران رہ گیا ہاں میں جلاد ٹائپ ضرور لیکن میں نے آج تک کسی کی جان نہیں لی وہ بھی چھ بندوں کی ۔”
“نانو کی ڈیتھ !! مجھے ایک دن بعد خبر ہوی اور اس لاش کی ابتر حالت اور انوسٹیگیشن ابھی تک جاری ہے ۔”
“ہما کے ساتھ ہوے وے لاتعداد حادثات ! ۔”
“اس کی عجیب باتیں ! ۔”
“عجیب باتیں ؟۔”
جزلان نے پوچھا ۔
“اس کا کہنا تھا وہ وجدان کے ساتھ آڈمشن کرنے گئی تھی اور بھیجنے والا میں تھا کیونکہ میرے پاس وقت نہیں تھا جبکہ میری ملاقات تم دونوں سے ہوی نہیں تھی ۔”
“ایک منٹ زلنین ! ۔”
وجدان نے اسے روکا ۔
“تم نے واقعی مجھے کال کی تھی اور تم نے خود مجھے کہا تھا کہ ہما کے ساتھ جاو ، حالانکہ اس دن تم فارغ تھے کوی ڈیوٹی نہیں تھی مگر تم نے ہما سے ڈیوٹی کا کہہ کر میرے ساتھ بھیج دیا ، میں نے بھی آگئے سے کچھ نہیں کہا شاہد تمھارا پرسنل میٹر ہوگا ۔”
زلنین نے خاموشی سے اس کی بات سُنی اور سر ہلا کر
اس نے مزید کچھ لکھا ۔
“رات کے دس بجے وہ آئی میں نے اس سے پوچھا تو وہ بھی اکڑ سے پیش آئی تھی پھر میری طبیعت خراب ہوگی ۔”
“اور یہ سارا مسئلہ تمھاری طبیعت سے شروع ہوا زلنین کیونکہ کسی نے تم پر جادو کیا تھا تمھیں قابو کرنے کی کوشش کی تھی مگر یہ بات عجیب ہے کسی کو کیا معلوم تمھاری طاقت ! جب تک کسی کو تمھاری طاقت یا کمزوری کا اندازہ نہیں ہوگا وہ تمھیں قابو نہیں کرسکتا ۔”
جزلان کی بات پہ اس نے لب دبایا ۔
“لیکن کسی کو کیا پتا ہوگا میری طاقت اور کمزوری صرف اور صرف ہما ہے ! ہما کا تو کوی دوست نہیں ہے ، میرے وجدان کے علاوہ اس کی کسی سے ملاقات نہیں ہوی تھی ۔”
“ہوسکتا ہے ہوی ہو !۔”
“میری امی سے ہوی تھی مگر امی کو کیا پتا اور امی سے اس کا کیا لینا دینا ۔”
“پرمیس تو نہیں کررہی کچھ ۔”
“پرمیس اگر جادو کرتی تو مجھے کیا دادا ذوالفقار کو خبر یوجانی تھی ۔”
جزلان کی بات پہ اس نے تائیدی انداز میں سر ہلایا ۔
“کہی یہ فائیق تو نہیں کررہا ! ۔”
جزلان نے اپنا سر پیٹ لینا چاہا ۔
“آو امی گاڈ زلنین بخش دو ان کو یار ۔”
“کیسے بخش دیں کیا پتا انھوں نے سارا کچھ کیا جب ایک انسان اپنے بھائی بھابی سمیت باقی چار لوگوں کو مار سکتا ہے تو یہ کیوں نہیں کرسکتا ۔”
“زلنین پلیز ! ۔
“تمھارے باپ کو بھی مارا تھا جزلان ! اس شخص نے ایک انسان کی محبت کی خاطر اپنوں کا خاتمہ کردیا اور تم لوگوں کو ابھی بھی اس سے ہمدردی ہے تف ہو تم پر !۔”
جزلان ایک دم چُپ کر گیا پھر ایک دم دھاڑا !۔
“تم جو کہتے رہو مگر میں اب بھی کہوں گا کہ چاچو نے نہیں کیا خود سے زیادہ بھروسہ ہے سمجھے ! ۔”
تیزی سے کہتے ہوے مڑ گیا جبکہ وجدان زلنین کو دیکھنے لگا جو مارکر کو مٹھی میں لے کر اسے غصے سے توڑ چکا تھا اس کی آنکھیں آگ رنگ ہوچکی تھیں ۔
“زلنین بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو کوی بھی بات کسی کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہے ۔”
“تو تمھیں کیا لگتا ہے جس سے میں اتنی محبت کرتا تھا اس سے نفرت کرنا کیا آسان کام ہے ۔”
تھکے ہوے انداز میں کہتے ہوے وہ وجدان کو قابل رحم لگا تھا ۔
“اللہ بہتر کرے گا زلنین تم بس اچھا اچھا سوچو اور اس وقت ہما کی زندگی کا سوچنا بہت ضروری ہے یہ ساری باتیں یہی بتارہی ہیں کہ کوی اس سے یا تم سے شدید نفرت کرتا ہے اور میرے زہن میں یہ کام کسی انسان کا لگ رہا کیوں جتنا خطرناک انسان ہے شاہد یہ تم جن لوگ بھی نہیں ہو ۔”
اس کی بات پر زلنین نے پُرسوچ انداز میں نوٹس کو دیکھا اور کچھ سوچ کر اُٹھ پڑا ۔
•••••••
“تو نہیں پتا چلا ان کے بارے ؟۔”
وہ اس کی بات سُن کر کچھ مایوس ہوی تھی ۔
“نانو ! میرا مطلب ہے آنٹی مجھے جب تک پتا نہیں چلے گا کہ شفق اور فائیق کے درمیان کیا ہوا تھا تو میں کیسے پتا کرسکتی ہوں ان کے بارے میں ۔”
اس نے بڑی مہارت سے ایسا سوال کیا تھا جس سے ساری حقیقیت پتا چل جائے ۔
“ہوٹل کا مالک تھا ! شکل و صورت تو کسی شہزادے سے کم نہ تھی بولنے سے ڈیسنٹ آدمی معلوم ہوتا تھا نیبر بھی تھا ہمارا !۔
“تو پھر ۔۔۔۔”
“شفق اسے پسند کرنے لگی ۔”
“ابھی آپ نے ایک بات کی تھی ۔”
“کون سی بات ؟۔”
“وہ یہ کہ وہ ہوٹل کے مالک تھے کون سا ہوٹل تھا ان کا ؟۔”
“جب ہم لوگ مری آئے تھے ، تو اس کا نیا ہوٹل کھلا تھا گولف کورس تھا ۔”
“کیا نام ہے اس ہوٹل کا ؟۔”
“بلیک روز ! ۔”
وہ کسی روبوٹ کی طرح جواب دیے جارہی تھیں ۔
“یہ کہاں پر ہے ؟ ۔”
“پتا نہیں میرے شوہر کو پتا تھا وہ شفق کو لیے کر جاتیں تھے اب تو وہ اس دُنیا میں نہیں رہے ۔”
“نانا کی ڈیتھ کیسے ہوی تھی ؟۔”
وہ کچھ سوچتے ہوے بول رہی تھی آج پتا نہیں اس کا دماغ کیسے کیسے چل رہا تھا ۔
“کون ؟ ہما کے نانا وہ تو شفق کی شادی کے ایک مہینے بعد اس دُنیا سے چل بسے ۔”وہ آرام سے مگر اُداسی سے کہہ رہی تھی ہما کو ان کی اداسی کا اندازہ تھا اس وقت تو زخم زیادہ گہرا تھا ۔
“ابھی آپ جب میرے سے ملی تھی تو آپ کہاں سے بھاگ کر آی تھی ۔”
“تم کتنا پوچھتی ہو میرے سر میں درد ہونے لگا ہے پلیز میں تمھیں اپنا سب کچھ دیں دوں گی مگر پلیز شفق کو کسی بھی طرح واپس لے آو۔”
ہما نے گہرا سانس لیا کچھ تو تھا جو وہ اس سے چھپا رہی تھی تاکہ بدنامی نہ ہو لیکن ماما نے ایسا کیا کیا تھا جس سے وہ چھپاتی ۔۔۔۔
“آپ بیٹھے ۔میں آپ کے لیے چائے بناتی ہوں ۔”
“یہ تمھارے گردن اور چہرے پہ کیا ہوا کہی گری تھی ۔”
ان کی اس بات نے اس کے قدم روک دے تھے نظریں بے اختیار آئینے میں گئی تھی بیشک نکاح کی سُرخی اور دلکشی نے اس کے چہرے کو نکھار دیا تھا مگر زخم کے نیشان اب بھی موجود تھے اور ان زخم کو دیکھ کر اسے وہ بھیانک حادثہ یاد آتا تھا اگر زلنین نہ آتا تو اس ۔۔۔
آگئے اس سے سوچا نہ گیا ۔
“بتاو تو سہی ہوا کیا تھا ۔”
وہ فکرمند تھی اور ان کا فکرمند ہونا ہما کو بہت اچھا لگا تھا ۔
“بس کہی گئی تھی تو راستے میں چلتے ہوے گر گئی ۔”
اسے یہی بہانہ سوجا کیا کہتی اب ۔
“ہو دھیان سے چلا کر ویسے بھی آج پیاری لگ رہی ہو لوگوں کی نظریں لگ گئی ہوگی ویسے کسی کی شادی تھی کیا ؟ویسے لڑکیوں شادی سے پہلے اتنا تیار نہیں ہونا چاہیے ۔”
ان کے پُرانے والے انداز دیکھ کر اسے پُرانی والی نانو لگی ۔
“پارٹی تھی ، میں ویسے اتنا تیار نہیں ہوتی دوستوں نے زبردستی کی ۔”
جھوٹ بولنا کتنا مشکل تھا کیا بتاتی انھیں اب ۔۔۔
“جاو چینج کر آو میں نے آج دال چاول بنائیں ہیں شفق کو بہت پسند تھے پر وہ اب میرے ہاتھ کا بنا کچھ نہیں کھاتی اور اب تو لگتا ہے کھبی نہیں کھائے گی ۔”
جتنی نانو کو اس کی کمی محسوس ہورہی تھی اس سے کہی زیادہ ہما کو ان کی کمی کو احساس ہوگا یہ درد ایک بار پھر نانو کو سہنا تھا ۔ اس نے تو صبر کر لیا تھا پر اب ان کا بھی دُکھ دیکھ کر اسے تکلیف ہورہی تھی ۔
خاموشی سے وہ کچن میں داخل ہوی اور فریج کھولا کچھ تلاش کررہی تھی کہ دروازے پہ دستک نے اسے چونکانے پہ مجبور کردیا ۔ سر اُٹھا کر دیکھا تو نیلی آنکھیں دروازے کے چھوٹے سے شیشے میں نظر آئی تھیں ۔ ایک دم ان آنکھوں کو دیکھ کر اس کو غصہ آگیا ۔پتا نہیں اب یہ اور کون سے کارنامے انجام دے گا اب تو وہ حق رکھتا تھا ۔
اس نے زلنین کی دستک کو نظر انداز کیا نانو کے سامنے اسے وہ اندر نہیں آنے دیے سکتی تھی ۔ عزت کا معاملہ تھا وہ اس وقت ان کی نواسی نہیں ایک اجنبی لڑکی تھی اور ایسی لڑکی جس نے ان کی بیٹی اور نواسی کو ڈھونڈ کر لانا تھا ۔
“شوہر کو نظر انداز کرنا سخت گناہ ہوتا تمھیں پتا ہے ۔”
اس کی آواز پہ وہ کو فریج پہ جھکے ہوی تھی اس کی آواز پر اچھل پڑی اس کا سر فریج پہ جاکر لگا تھا اُف !!
اس نے اپنا سر تھاما ۔
“کیا کرتی ہو لڑکی دکھاؤ مجھے زیادہ تو نہیں لگی ۔”
وہ ایک دم پریشان ہوگیا اس نے ہما کا ہاتھ ہٹا کر دیکھا ۔ ہما نے دوسری طرف دیکھا تو اس کا ہاتھ پکڑ کر فریج کے دوسرے سائڈ پہ لے کر گئی ۔
“تم کیسے آئے اندر ! ۔”
وہ غصے سے اس پوچھنے لگی ۔
“درد تو نہیں ہورہا ۔”
وہ اس کے پیشانی کو دیکھ رہا تھا جو لگنے سے سُرخ ہوگیا تھا ۔
“بھاڑ میں گیا درد ، پہلے بتاؤ ۔۔”
“بیوی سے ملنے کا دل کررہا تھا تم نے تو بات نہیں کی بس روتی رہی تھی اب سوچا دل ہلکی ہوگیا ہو سوچا ۔۔۔”
ہما نے انگلی اُٹھا کر اس کی بات کو کاٹا ۔
“دُنیا کے نظروں میں کیوں مجھے مشکوک کرنا چاہتے ہو تم ! ۔”
زلنین نے سینے پہ ہاتھ باندھ کر اس کو دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر اس کے لمبے بالوں کو پیچھے کیا ہما اس کے چھونے پہ بے اختیار پیچھے ہوی تھی ۔
“فیصلہ تمھارا تھا ، بتانے میں تو اب بھی بتا سکتا ہوں کہ تم میری بیوی ہو مگر تمھارے فیصلے کا احترام کرتا ہوں ۔”اس کی بات پر ہما کو بے انتہا غصہ آیا
“فیصلہ ! اگر اتنا ہی احترام کرتے میرا تو میرے سے شادی نہ کرتے مجھے آرام سے جانے دیتے نہیں تم پولیس والوں کی فطرت میں ظالم ، جابر اور ذلالت ہوتی ہے میں کیا کہہ سکتی ہوں ۔”
اس نے اس کی بات سُنی تو کچھ نہیں کہا بس مسکراتے ہوے اسے دیکھتا رہا ۔
“جتنا دل کرے سُنا دیا کرو مجھے کوی فرق نہیں پڑے گا نہ ہی مجھے تم سے نفرت ہوگی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ میری شدت میں اضافہ ہوتا جائے گا ، اس لیے ایسے الفاظ مجھے متنفر کرنے کے لیے بیکار ہیں ۔”
“نکل جاو یہاں سے ۔۔۔ مجھے اس وقت تنہائی چاہیے ۔”
“بھول ہے تمھاری جو تمھیں اکیلا چھوڑوں گا اب تو موت ہی صرف جدا کرے گی ۔”
“تو دعا کرو زلنین زوالفقار کہ میں مر جاوں ۔”
زلنین کا مسکراتا ہوا چہرہ سنجیدہ ہوگیا پھر اس کے چہرے پہ ایک زخمی مسکراہٹ آگئی ۔
“کتنی چالاک ہو تم ! بلا آخر پتا چل گیا تمھیں کہ کون سی بات مجھے مار سکتی ہے ۔ ایک بار تو ٹرسٹ ۔۔.”
ہما کو اس لہجے میں درد محسوس ہوا تھا اور اس کی شدت نے اس کا دل پگھلانے پر مجبور کررہا تھا تو وہ اس کی بات کاٹتے ہوے بولی ۔
“زلنین اگر مجھے کوی آکر کہتا کہ تم نے میرے یہ خلاف کام کیا ہے تو میں نہ مانتی ، دُنیا تمھارے بارے میں غلط رائے رکھتی رہی ، نانو کی رائے بھی کچھ ایسی تھی چاہتی تو میں ان کی بات پر یقین کر کے تم سے نہ ملتی مگر تمھارے اندر کی اچھائی ، تمھارے صاف دل ۔۔۔”
کہتے ہوے اس کا ہاتھ بے اختیار زلنین کی دل کی طرف گیا تھا ۔زلنین نے اسے دیکھا جس کی آنکھیں نمی کے باعث چمکنے لگی تھی ۔
“صاف دل نے ۔۔۔۔
پتا نہیں کچھ روک رہا تھا وہ اس کے سامنے اپنی محبت کا اظہار نہیں کرنا چاہتی تھی کم سے کم اس تھپڑ کے بعد ہر گز نہیں ۔
“مگر میں وہ کیسے بھول جاوں زلنین ! میرا پتا ہے کیا خواب تھا کہ میرا شریک حیات جیسا بھی ہو چاہے ہر چیز کی کمی ہو اس میں مگر عورت کی عزت اور احترام اس کی اولین ترجیع ہو محبت نہ کریں ، محبت دے بھی نا بس ایک نگاہ احترام کی ، ان بول عزت کی تمھارا مقام میرے دل میں بہت اونچا تھا دُنیا میں تم پہلے مرد تھے جو میرے لیے بہت اہم تھے بہت خاص میرا باپ تو کچھ نہیں تھا کیونکہ وہ میری بے عزتی کرتا تھا مجھے مارتا تھا اور دُنیا کے کسی بھی مرد نے مجھے وہ عزت نہیں دی جس کی میں حقدار تھی صرف تم نے کچھ نہ ہوکر بھی تم میرے سب کچھ تھے مگر اس دن اس دن سب کچھ بدل گیا تم بھی عام نکلے زلنین تم بھی کر مرد کی طرح نکلے ۔۔۔۔۔ ”
زلنین کا دل جیسے رُک گیا تھا پھر ضبط کرتے ہوے اس کا ہاتھ جو ابھی تک اس کے دل پہ موجود تھا پکڑا ۔ ہما نے اپنے ہاتھ کھینچ لیے ۔ اس نے آگئے بڑھ کر اسے دیکھا اور اس کے زخمی پیشانی کو دیکھا پھر اس کے باقی زخموں پہ نظر رکھی اس کا ایک ایک زخم اس کے دل پہ لگ رہا تھا ۔
“کل صبح تیار ہو جانا تمھاری کلاس کا دوسرا دن ہے ، میں تمھیں چھوڑوں گا اور کچھ کھایا ۔”
بات بدل کر وہ جھک کر اس کو دیکھ کر کہہ رہا تھا ۔
“ہما ! جواب دوں مجھے کچھ کھایا ؟۔”
اس نے نرمی سے پوچھا ہما کا دل بھرا گیا ، اس کا دل کیا وہ تھپڑ بھلا کر اسے معاف کردے اپنے شوہر کو دل و جان سے قبول کر کے اس کے ساتھ لگ جائے اس کے سینے میں منہ دے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روے ۔
“زلنین مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔”
“اچھا ! چلا جاوں گا مجھے پتا ہے تم نے کچھ نہیں کھایا گھر میں اگر کچھ نہیں پکا تو میں کچھ لے آو ۔”
وہ اب سیدھا ہوگیا تھا اور اس کا
ڈوپٹہ ٹھیک کررہا تھا ۔ جب سے نکاح ہوا تھا تب بھی زلنین نے اسے غلط طریقے سے چھوا نہیں تھا اس کے ہر انداز میں عزت ، نرمی اور احترام تھا ۔ تو وہ کیا تھا وہ باب کیوں نہیں مٹ جاتا جس سے زلنین کے لیے اس کا دل صاف ہوجائے ۔
“اسے کھبی نہ اُتارنا ۔”
ہاتھ اُٹھا کر اپنے ہاتھوں میں لیتا اس کے بریسلیٹ کو چھونے لگا ۔
“جاو زلنین اس سے پہلے نانو آجائے ۔”
ہما مزید پگھلتی اس نے سختی سے ہاتھ کھینچ کر سرد لہجے میں کہا ۔
“تمھاری طبیعت بھی نہیں ٹھیک ، کچھ کھا بھی نہیں رہی ہو دوسرا اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتی۔”
“تو تم نہیں جاو گے ۔”
“جب تک تم میری بات نہیں مان لیتی تو میں یہاں سے ہلوں گا نہیں ۔”
وہ بے بسی سے اسے دیکھنے لگی ۔
“ٹھیک ہے کھا لوں گی ، میڈسن بھی لے لوں گی تم جاو ۔”جن
“نہیں میں خود دیکھوں گا ، میڈسن ایسی کوی کھا لو گی دوسرا یار مجھ غریب سے کچھ پوچھ لیا کرو ۔”
“جاو جو نکاح کی بریانی بنائی تھی وہی کھا لو میں فون کر کہ بتادوں گی ۔”
وہ ہنس پڑا ۔
“توبہ ایسا جلا یک ہوا انداز تو آپ تب بناتی اگر میرا کسی اور سے نکاح ہوا ہوتا ۔”
“کسی اور سے ہوتا تو بہتر تھا ۔”وہ اب غصے سے اسے مٹھیاں بھینچ رہی تھی ۔ ” میں بنا ہی ہما کے لیے تھا تو کسی اور کا کیسے ہوتا ۔”زلنین کا لہجہ محبت سے لبریز تھا ۔
“بچے ! کیا نام تھا ٹیبل لگا دیا یا میں آؤں ۔”
ان کی آواز پہ ہما کو ہوش آیا ۔
“جج جی ۔۔۔ میں لگا رہی ہوں آپ بیٹھے میں آئی ۔”
“تمھاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے میں آتی ہوں ۔”
“تم جاو ! ۔”
ہما اس کا بازو پکڑ کر بھیجنے لگی مگر وہ کھڑا رہا ۔
“میں وعدہ کرتی ہوں تمھاری بات پہ عمل کروں گی ۔”
زلنین نے چھوٹا سا پیکٹ جیب سے نکالا ۔
“یہ لو دوائی کھا لینا میں رات کو آؤں گا مجھے کچھ نہیں سُنا کھانا ، پینا دوائی اور دودھ ۔۔۔۔۔”
“اوکے اوکے ۔۔۔۔”
زلنین ایک نظر اسے دیکھتا رہا پھر اس کے گالوں پہ پیار کرتا دوسری طرف چل پڑا جبکہ وہ اس کی حرکت پر ساکت ہوگی تھی جاتے ہوے اس نے بات کی تھی ۔

“بیٹی کیا ہوا ایسے کھڑی کیوں ہوگی اور یہ یہ کیا ہے ؟۔”
نانو کی آواز میں وہ ہوش میں آئی تھی اس نے اردگرد دیکھا وہ غائب ہوگیا تھا اور نانو اس کے کندھے کو تھپ تھپاتے ہوے اس سے پوچھا ۔
“یہ یہ کچھ نہیں ۔۔۔۔ اب بیٹھے میں جلدی سے لاتی ہوں ۔”
“کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے ابھی تک تو ایسا لگ نہیں رہا کچھ کیا ہے ۔”
“وہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں ۔۔۔”
وہ کنفیوزڈ سے لگ رہی تھی اور چہرہ تو ایسا سُرخ ہوا تھا کہ کوی حد نہیں ۔
“تمھاری طبیعت واقعی ٹھیک نہیں لگ رہی تم بیٹھو میں کچھ کرتی ہوں ۔”
وہ اس کے کہنے پر مائیکرو ویو کی طرف بڑھی ۔
ہما نے انھیں دیکھا پھر اپنے ہاتھوں میں موجود پیکٹ کو گہرا سانس لے کر وہ مڑی ۔
•••••••••••
“بابا آپ ذولفقار انکل کو کیسے جانتے ہیں ۔”
شفق ان کے پاس آی تھی انھیں پانی دینے تو وہ بے اختیار صبح پوچھ بیٹھی تھی بابا نے اس کی بات پر بے اختیار سر اُٹھایا پھر گلاس کا سپ لیتے ہوے بولیں ۔
“بچپن کا دوست ہے میرا ، کرکٹ کھیلتا تھا ہمارے ساتھ یہ جو تم ساتھ والا ہنی ولا دیکھ رہی جہاں پہ دیوار بنا دی ہے اِدھر ایک بڑا سا میدان ہوتا تھا ، شام کے اوقات پر ہم سب کھیلا کرتے تھے ، یہ گھر بھی جھونپڑی نما تھا اس کے ساتھ ہی یہ محل جیسے ذولفقار ہاوس تب تک تھا ۔”
“بابا یہ انگریزوں کے زمانے سے ہے کیا ؟۔”
“ہاں گھر تو کافی پرُانی ہے اب تو لگ بھگ پچاس سال ہوچکے ہیں اسے ۔”
“واو میں نے دور سے ہی دیکھا اس گھر کو بہت خوبصورت ہے مگر ممی کی وجہ سے میں وہاں جا کر نہیں دیکھ سکتی ۔”وہ منہ بسورتے ہوے بولی بابا ہنس پڑے
“ارے میری جان ضرور دیکھ لینا ! ذوالفقار نے ہم سب کو ڈنر پہ انوائٹ کیا ہے !۔”
وہ یہ سُنتے ہوے جیسے خوشی سے پاگل ہوگی تھی ۔
“کیا سچ بابا ! ۔”
وہ جیسے معصوم بچوں کی طرح ان سے کنفرم کررہی تھی ۔
“ہاں !۔”
“ہم لوگ کب جائے گے ۔”
وہ ان کے گھٹنے میں ہاتھ کر بولی ۔ بابا نے گلاس سائڈ ٹیبل پہ رکھا اور اس کے چہرے پہ عجیب سی چمک دیکھ کر چونک پڑے پھر سر جھٹکتے ہوے بولیں ۔
“ان شا اللہ کل جائے گیں کل تم یونی سے جلدی آجانا ویسے کیسا چل رہا ہے لا سکول ۔”
وہ پھر ان اپنی پڑھای کی تفصیل بتانے لگی مگر اس کا دل بار بار کہہ رہا تھا کہ فائیق کو جاکر ابھی خبر کرے ۔
ایک دم کسی دھڑم سے گرنے کی آواز آی تھی ۔ وہ دونوں باپ بیٹی چونکہ تھے اور کسی انہونی کے ڈر سے فوراً اُٹھے ۔
جب کمرے سے باہر تو شفق نے امی کو آواز دی ۔ دونوں امی کو آواز دیتے ہوے بے اختیار کچن پہنچے تو شفق کے منہ سے چیخ نکلی اپنے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوے اس نے امی کے بے ہوش وجود کو دیکھا جن کے سر سے نکلتے ہوے خون نے اس کی دل کی دھڑکن مدھم کردی تھی اسے لگا خود بھی بے ہوش ہوجاے گی مگر اس نے ہمت کی اور بابا کے ساتھ مل کر انھیں اُٹھانے میں مدد کی ۔
“بابا یہ کیسے ہوا ؟ امی امی آنکھیں کھولیں ۔”
روتے ہوے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے نبض چیک جو بہت مدھم چل رہی تھی ۔
“فرش لگتا ہے گیلا تھا اسی چکر میں گر گی ایک کام کرو مدد کرو میری اسے اُٹھانے میں ۔۔۔”
بابا نے امی کو اُٹھانے کی کوشش کرتے ہوے گھبرای ہوی شفق سے کہا ۔
“ابو امی کو ہاسپیٹل ۔۔۔۔”
“زیادہ نہیں لگی دوسرا گاڑی بھی غفور لے کر گیا ہے ۔”
“فائق ! ۔”
اچانک ابو کی بات سے اس کی لبوں سے نکلا تھا ۔
ابو نے نہیں سُنا تھا کیونکہ وہ امی کو اُٹھا رہے تھے ۔ وہ تیزی سے اُٹھی اور ٹیلی فون سیٹ کے پاس آی کانپتے ہوے ہاتھوں سے اس نے فایق کا نمبر ملایا کچھ دیر میں فون اُٹھا لیا گیا ۔
“ہیلو ! شفق ۔۔۔”
“فائیق !!۔”
اس کی روتی ہوی آواز پہ فایق بیٹھتے ہوے ایک دم ٹھٹھک گیا ۔
“شفق کیا ہوا تم رو رہی ہو ۔۔”
“فایق پلیز آپ آجائے وہ امی امی ۔۔۔۔”
“شفق میں آرہا ہوں مگر امی کو کیا ہوا ہے ۔”
“وہ گر گی ہیں ابو سے اُٹھانا مشکل ہورہا ہے آپ پلیز ۔۔۔”
“اچھا میں آرہا ہوں ، ہمت کرو رو نہیں تمھارے ابو گھبڑا جاے گے ۔”
وہ اسے تسلی دیتا فون بند کر چکا تھا ۔
•••••••••••••••••
“آپ سے ایک بات پوچھ سکتی ہوں ۔”
پرمیس دادا زولفقار کے ساتھ بیٹھتے ہوے سوال کرنے لگی ۔
“یہ آج حیرت کا دن نہیں آج کل ہر ایک بچہ مجھ سے ضروری بات کرنے آرہا ہے پہلے جزلان ،زلنین اور اب تم ۔”
ان کے لیے سب کا اس طرح کا رویہ حیران کُن تھا ۔
“کیا وہ کس لیے آئے تھے؟۔”دادا اک دم خاموش ہوگے کیونکہ زلنین نے انھیں منع کیا تھا کہ یہ بات کسی کو پتا نہ چلے ۔
“کچھ نہیں تم جو اپنی بات کہنے آی تھی وہ بتاو !۔”
“نانا ابو وہ ممی نے آپ سے بات کی تھی میرے اور زلنین کے متعلق ۔۔۔”
وہ اس کی ادھوری بات کو اچھی طرح سمجھ گیں مگر انھوں نے جھوٹ بولا ۔
“نہیں کشف نے مجھے ایسی کوی بات نہیں کی ۔”
ان کی اس بات پر پرمیس کا منہ کھل گیا ۔
“مگر انھوں نے تو کہا تھا کہ آپ سے ان کی تفصیل سے بات ہوی ہے وہ تو کہہ رہی ہیں آپ کوی کوی اعتراض نہیں ہے اور ۔۔۔
“یہ تو کشف سے پوچھ کر پتا چلے گا آخر یہ آج کل ہیں کہاں دو ہفتے سے غائب ہے معاملہ کیا ہے بیٹا کہی یہ تمھارے بابا سے ۔۔۔”
“بابا یہاں نہیں ہے نانا ۔”
وہ بُرے دل سے بولی ۔
“کیا ہوا میری بیٹی کیا تمھاری امی تمھیں وقت نہیں دیتی ۔”
“میں آپ سے جو بات کررہی ہوں، آپ وہ بتا ہی نہیں رہے ۔”
“دیکھو تم نے خود زلنین کو دیکھا کوی اور طبیعت کی مزاج کا بندہ ہے تم بھی کوی اور میرے نہیں خیال ۔۔۔۔
وہ ان کی بات کاٹ کر تیزی سے بولی ۔
“اس کا مزاج انسانوں سے ملتا ہے تو کیا اس کی شادی کسی انسان سے ہوگی ۔”
“کیا بات ہے پرمیس کوی بات ہوی ہے ۔”
اس کی جھلملاتی آنکھیں اور تیز لہجے پر وہ چونک پڑے تھے ۔
“کیا بات ہے چندا ! ۔”
“کچھ نہیں ۔۔۔”
“دیکھو بچے میں خود کو سب سے دور نہیں کرسکتا میں پہلے ہی بہت سے رشتوں کا ہجر اپ چکا ہوں مگر اب مزید نہیں میری جان ہے تم سب میں ، مجھے تم سب کی خوشی عزیز ہے دلوں جان سے ۔”
“تو میری خوشی زلنین ہے آپ کو میری بات مانی ہوگی نانا ۔”
وہ اب سسکی لیتے ہوے بولی پتا نہیں وہ ان دنوں خود کو بےحد بے بس محسوس کررہی تھی پتا نہیں کوی سرا نہیں مل رہا تھا جس سے وہ اپنی خواہش پوری کرتی زلنین بات کرنا دور اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا اور یہ چیز اس کی برداشت سے باہر تھی وہ مزید نہیں سہ سکتی اسے کچھ کرنا تھا اگر نانا اور امی نے اس کا ساتھ نہیں دینا تھا ۔وہ کچھ نہیں کہہ پاے تھے بس خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے ۔
“مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا تم سے بعد میں بات کروں گا ۔”
صاف لفظوں میں اسے ٹرخا رہے تھے وہ سمجھ گی کہے بنا وہ فوراً غائب ہوگی تھی ۔
اور اپنے کمرے میں آی ۔
انھوں نے اپنی تھکی ہوی نگاہیں فایق اور اپنے باقی بیٹوں کے چہرے پہ مرکوز کی اور راکنگ چیر جھولتی ہوے رُک گی تھی ۔
“یا اللہ یہ پھر سے نہ دھرایا جاے ۔”
دل سے اک ہوک اُٹھی تھی ۔
••••••••••••
کمرے میں آکر اس نے شاور لینے کا ارادہ کیا کیونکہ اس کا جسم بہت دُکھ رہا تھا وہ جانتی تھی ایسے سوے گی تب بھی اسے چین کی نیند نہیں آئے گی ۔
الماری کھول کر اس نے اپنا کوی لباس دیکھا تو اپنے مطلب کا نہ ملے تو بے ساختہ جھک کر ایک باسکٹ سے تہہ کیں ہوے دھلے کپڑوں میں اس نے اپنی سادہ شلوار قمیض نکالی جس کی سفید شلوار اور پرنٹٹ قمیض جو وہ گھر پہ استمعال کیا کرتی تھی ۔
اس کو اُٹھا کر جیسے ہی مڑی سامنے کھڑا ایک ہولیے کو دیکھ کر چیخنے لگی کہ زلنین نے اس کے لبوں پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔
“اللہ کی بندی مت چلنا اور تم چیخی تو ایسی ہو جیسے میں بھوت ہوں کہا تھا نا میں رات کو آوں گا اور یہ کیا کررہی ہو ۔”ہاتھ ہٹا کر اب وہ بولے جارہا تھا ساتھ ہی ہما نے زور سے اس کے بازو پہ مارا ۔
“چوروں کی طرح میرے کمرے میں کیوں آئے ہو تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے اپنے گھر میں چین نہیں ہے ۔”
وہ غصے سے دھیمی آواز میں دھاڑی ۔۔
“حوصلہ حوصلہ شیرنی ! سُنو تو سہی ۔”
“مجھے کچھ نہیں سُنا زلنین اگر اس طرح چلتا رہے گا تو مجھے ابھی ۔۔۔”
“آگے سے کوی فضول لفظ نہیں نکلانا جتنا میرے خدا کو وہ لفظ نا پسند اتنی ہی مجھے اس لفظ سے نفرت ہے ۔”
ہما کے تیزی سے کہنے پر اس نے اونچی اور تحکم بھری آواز میں اس کی زبان بند کی اور الماری کی اردگرد کرتے ہوے الماری پہ دو ہاتھ رکھ کر اس کا راستہ روک چکا تھا ۔
“میری شرافت کا تم ناجائز فائدہ مت اُٹھاو ہما تمھارے وعدے کے مطابق جزلان کے علاوہ کسی کو کچھ نہیں بتایا چاہتا تو وجدان کو بتا سکتا تھا آخر کو وہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے مگر نہیں کیونکہ میں نے تم سے وعدہ کیا تھا اس لیے اب اس بارے میں ہم بات نہیں کرے گے جو میں نے دوا دی وہ کھای ۔”
وہ سرد لہجے میں کہتے کہتے ایک دم اپنے پُرانے دھن میں آگیا ۔ہما نے بے بسی سے اسے دیکھا ۔
“میری ایک اور خواہش پوری کرو گے اگر اتنے ہی عہد باز ہو ۔”
وہ اس کے یہ کہنے پر دلکش انداز میں مسکرایا ۔
“سارے vows میں ہی کروں تمھارا بھی حق بنتا ہے یار آخر کو تمھارا مجازی خدا ہوں ۔”
“اس وقت اپنی شکل گم کرلو میرے سر میں پہلے سے ہی اتنا درد ہے ۔”
اس نے ہما کے گرد بازو حمائل کیے اور اپنے ساتھ لگا کر اسے دیکھا ہما اس کے انداز پہ بھوکلا گی ۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے ۔”
اس کی مزاحمت کی پروا کیے بنا جھکتے ہوے اس کے سر پہ پیار کی مہر چھوڑ چکا تھا ہما نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ رکھا کر دھکا دینا چاہا تھا مگر رُک گی ۔
“آپ سر درد ٹھیک ہوا ! کہا بھی تھا میں نے میری دی ہوی دوائی کھانا مگر سُنتی ہو کوی میری بات پتا نہیں آگے جاکر کیا ہوگا تیار رکھو لڑکی میری شدتوں کی تاب لانا بے حد مشکل ہوجاے گا ۔”
اس کو چھوڑ کر وہ اتنی نرم اور دھیمی آواز میں بولا تھا کہ ہما بامشکل ہی سُن پای تھی ۔ہما اپنے تیزی ہوتے دل کی ڈھڑکنوں کو اپنے کانوں تک محسوس کررہی تھی ، گال تو جیسے تپ اُٹھی تھے اور چہرہ وہ اپنا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی مگر اتنا ضرور کہہ سکتی تھی کہ اس کا چہرہ سُرخ اس کے کپڑوں جیسا رنگ ہوگیا ہوگا ۔
“تمھارے کپڑوں سے تمھارا رنگ میچ کرنے لگا تم اس وقت ایسی پری پیکر لگ رہی ہو دل کرتا ہے تمھیں کسی ڈبے میں بند کردوں اور اس ڈبے میں صرف میری چاہت کے حصار میں رہو ہمیشہ کے لیے مگر تمھاری یہ شرط ۔۔۔۔ اچھا چھوڑو اِدھر لڑکی تمھارا بندوبست کروں بہت تنگ کرتی ہو ۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچنے لگا وہ بیزاری سے اس کے ساتھ چلنے لگی کیونکہ اسے پتا ہے لڑنے سے وہ نہیں جاے گا وہ اپنا کام کر کے جیسے ہی مطمن ہوگا تب ہی اس کے قدم اپنے گھر میں رہے گا یا شاہد نہیں ۔
“زیادہ مت سوچو ! ۔”
وہ اس کی سوچ پڑھ چکا تھا ۔
“تم بہت بُرے ہو زلنین ۔”
آنکھوں میں بے تحاشا نمی کھبی زندگی میں نہیں ای تھی جتنی زلنین کی آمد سے اس کی زندگی میں آی تھی ۔
وہ اسے بٹھا کر پانی کا جگ اُٹھانے کر گلاس میں انڈیلنے لگا ۔
“پیکٹ کہاں ہے؟۔”
“پتا نہیں ۔”
وہ چڑ کر بولی زلنین کے چہرے پہ مسکراہٹ آی ۔
“کل کالج مت جاو طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔”
“تمھاری وجہ سے میں اندر نہیں بیٹھ سکتی شوہر ہو مالک نہیں میرے ۔”
وہ غصے سے اس کی محبت سے بھری آنکھوں کو دیکھنے لگی ۔
زلنین مسکراتا رہا اس نے کچھ نہیں کہا بس مڑ کر کمرے سے نکل گیا اور وہ اس کی پُشت کو دیکھ کر اس نے جلدی سے اپنا منہ چھپایا اور پھوٹ کر رو پڑی ۔
“ارے دو منٹ نہیں ہوے جاتے ہوے یہاں تو شامے غریباں بن گیا کیا ہوا کیوں اتنا رو رہی ہو ۔”
وہ اندر ایک بار پھر آیا اس کو روتے ہوے دیکھ کر پریشان ہوگیا ۔
“امی کہاں چلی گی آپ نہ آپ کو کچھ ہوتا نہ ہم پاکستان اور نہ ہی میں اس مصیبت سے دو چار ہوتی ۔”
وہ ہسڑک انداز میں چلائی ۔
زلنین تیزی سے اس کے پاس آیا اور اسے کندھوں سے تھاما ۔
“کام ڈاؤن ہما ۔۔۔۔ ”
“تم میری زندگی سے چلے جاوں زلنین ۔۔۔۔۔”
اسے پتا نہیں کیا ہوا تھا ایسا کون سا دوڑا پڑا تھا اسے وہ اسے دھکا دینے لگی زلنین نے اس میں اک عجیب سی طاقت محسوس کی تھی اس نے کنڑول کیا ۔
بلا آخر جب وہ کنڑول میں نہ آئی تو اسے دھاڑنا پڑا اور اس دھاڑ سے پیچھے شفق کی موجودہ تصویر زور سے گری تھی ۔
•••••••••
پرمیس ایسی سڑکوں پہ چلتے اپنے جلتے ہوے دل اور دماغ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔
کہ کچھ احساس نے اسے روکا تھا مگر وہ اپنا سر جھٹک کر پھر چل پڑی تھی مگر ایک بار پھر اس کی قدموں کا حائل ہوا تھا ۔
اس نے مڑ کر اِدھر اُدھر دیکھا اور اپنے اُڑتے ہوے کالے بالوں کو پیچھے کیا پھر سر جھٹک کر وہ گھر دیکھنے لگی جہاں ہما تھی ۔
وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی اس کا اندر تک جانا چاہتی تھی اس میں آخر ایسا کیا جسے زلنین نے اپنی طرف بُری طرح کھینچا تھا ۔ وہ اس کو دیکھنے کے لیے آگئے بڑھی تھی کہ کسی فورس نے بُری طرح اس کے قدموں کو جکھر کر کھینچا تھا ۔۔ پرمیس کو لگا کسی نے یہ زنجیر اس کے پیروں میں باندھ دی ہے ۔ وہ بھر پور مزاحمت کرنے کی کوشش کررہی تھی مگر اس کے پاؤں کے ساتھ ساتھ اس کے اوپری حصے کو بھی اپنے شکنجے میں لے لیا تھا یہ آخر تھا کیا جو اس کو بُری طرح اپنی قبضے میں لے رہا تھا ۔ اس نے چیخنے کی چلانے کی کوشش کی تھی مگر اس دُنھد بھری اندھیری رات میں اس کو وجود ایک دم غائب ہوگیا تھا ۔

ہاپسیٹل کے لابی میں وہ سر جھکائے بیٹھی ہوی تھی ۔
اس وقت رات کا پہر تھا تو لابی میں اِکا دُکا افراد تھے ۔
بابا ذولفقار انکل کے ساتھ باہر ہاسپیٹل کے لان میں موجود تھے اور ان کو تسلی دے رہے تھے ۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے ان کی حالت تفتیش ناک ہے امی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔ تکلیف کے باعث وہ منہ سے کچھ بول نہ سکی تھی اور ہمت کر کے کچن سے باہر جانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ زمین بوس ہوچکی تھی جس سے ان کا سر پھٹ کر مزید حالت تفتیش ناک بنا چکا تھا ۔
ڈاکٹرز نا اُمید نظر آرہے تھے اور شفق اور بابا کے اندر گہرا سناٹا چھا گیا ۔ اپنی عزیز ہستی کو خود سے دور ہونے کا سوچ کر ہی ان کی حالت خراب ہورہی تھی ۔ وہ کسی بھی حال میں انھیں خود سے جدا ہونے کا تصور نہیں کر سکتے تھے ۔
وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے سسک رہی تھی ۔ خاموش لابی میں اس کی سسکی باخوبی سُنائی دے رہی تھی ۔
ایک دم کسی کا بھاری ہاتھ اسے اپنے کندھے پہ محسوس ہوا چونکتے ہوے سر اُٹھا کر دیکھا تو فائق کو دیکھ کر اسے مزید رونا آگیا ۔
فائق پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ اسے جیسے شفق کے آنسو برداشت نہیں ہورہے تھے ۔
“فائیق امی ! ۔۔۔۔”
“وہ ٹھیک ہوجائے گی ڈاکٹرز پُر امید ہیں پلیز رو تو نا ۔”
اس نے شفق کا ہاتھ پکڑتے ہوے اسے تسلی دی ۔
“بیشک وہ ڈانٹتی ہیں، ٹوکتی ہیں ،ہر اس چیز سے منع کرتی ہے جو میری خواہش ہوتی ہے مجھے وہ کھبی کبھار بہت بُری لگتی ہیں کہ میں ان کی اکلوتی اولاد ہوکر بھی اس پیار اور توجہ سے محروم ہوں جو اکلوتے بچوں کا ملا کرتی ہے مگر اب امی کو اس طرح دیکھ کر مجھے احساس ہوا میں ان سے کتنا پیار کرتی ہوں ۔ میری سانسیں جیسے اکھڑنے لگی ہیں یہ سوچ کر کہ ان کو کچھ ہو نہ جائے فائیق اگر وہ نہ رہی تو میں کیا کروں گی ۔ میں تو ان کی ڈانٹ اور روک ٹوک کی اتنی عادی ہوں کہ ایک دن اگر وہ مجھے نہ سمجھائے تو مجھے جھنجھلاہٹ سے ہوتی ہے ۔ وہ ٹھیک تو ہوجائے گیں نا؟۔
کھوے ہوے لہجے میں کہتے ہوے وہ ایک بار پھر روتے ہوے فائیق سے بولی ۔
فائق نے اسے کو ہاتھوں کو زور سے دبایا انداز تسلی دینے والا تھا مگر منہ سے کچھ نہ بولا کیونکہ یہ صورت حال اس کے لئے نئی تھی ایسے میں اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے ۔
اس نے فائیق کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اپنا چہرہ صاف کرتے ہوے پھر جھک زمین کو گھورنے لگی تھی ۔
فائق جو اس کے لیے پانی کی بوتل لایا تھا اسے اُٹھا کر اسے سامنے کرتے ہوے بولا ۔
“یہ لو تمھارے رونے سے پتا چل رہا تھا ۔ تم نے اپنا گلا خشک کردیا تھوڑی ہمت کرو ۔ مجھے معلوم ہے کہ تمھاری ممی کرٹیکل کنڈیشن میں ہیں مگر تمھیں سٹرونگ بنا ہے اپنے لئے بھی اور اپنے کے لئے بھی ۔”
وہ خاموشی سے سر جھکائے آنسو بہاتی رہی اور وہ مزید بات جاری کرتے ہوے بولا ۔
“بابا بتارہے ہیں وہ بہت پریشان ہیں تم ان کو چل کر تسلی تو دوں بیشک ایک اچھے دوست سے زیادہ درد بانٹنے سے بہتر کوی نہیں ہوتا مگر میرا خیال ہے کہ ایک بیٹی سے زیادہ تسلی اور کوی نہیں دے سکتا ۔”
وہ خاموش ہوگیا ۔
“انھیں کیا تسلی دوں مجھے خود تسلی کی ضرورت ہے ۔”
وہ بھرائی آواز میں بولی ۔فائیق نے اس کے سر پہ ہاتھ کے کر تسلی دی ۔
“میں ہونا ! چلو یہ پانی پیو ، مجھ سے بات کرو خود کو بیٹر فیل کرو گی ۔”
شفق نے مڑ کر اسے دیکھا اور اُمید سے اسے بولی ۔
“وہ ٹھیک ہوجائے گی ۔”
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ سے اپنی سنُہری آنکھوں سے اسے دیکھا اور مضبوط لہجے میں کہا ۔
شفق کے اندر اسے چار لفظوں سے اس کے اندر آسودگی سے پھیل گئی تھی وہ کیا تھا جس کے گرد وہ محفوظ کرتی ؟ جس کہ ہر لفظ میں سچائی کے سوا کچھ نہیں تھا اور جو اتنا شناسا لگتا جیسے وہ اسے برسوں پُرانے سے جانتی ہو جیسے وہ کسی طرح اس سے جڑی ہو مگر وہ پردہ ابھی اچاک نہیں ہوا تھا ۔
خاموشی سے وہ دونوں بیٹھے اپنی اپنی سوچ میں گُم تھیں ۔
•••••••
اس سلا کر وہ اب صوفے پہ بیٹھا تھا ۔
پُرسوچ نظریں ہما کی طرف تھی جو اب ہر چیز سے بے نیاز گہری نیند سو رہی تھی ۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ آخر کون ہے ؟ کون ہے جو اس طرح ہما کو تڑپا رہا ہے آخر کیا چاہتا ہے ۔
اس کا کیا جواز ہے اس کے پیچھے جو کوی بھی ہے بہت گہری دشمنی نکال رہا ہے وہ سوچ میں گُم تھا اچانک ٹیرس سے آتی تیز متوجہ کردینے والی ہوا نے اسے چونکانے پہ مجبور کیا نظریں اچانک ٹیرس سے جاتے جاتے ہوے سیدھا زمین پہ پڑی شفق کی ٹوٹی ہوی تصویر پہ پڑی یہ اس کی جوانی کے ٹائم کی تصویر تھی ۔ اس نے وائٹ ٹاپ کے نیچے بروان سکرٹ پہنی ہوی ہاتھوں میں اس کی پرشین بلی تھی ۔
پیشانی اس کی بڑی سے بروان ہیٹ کے باعث چھپی ہوی تھی مگر وہ ان کی ہما جیسی کالی آنکھیں با خوبی دیکھ سکتا تھا ۔
ٹوٹے ہوے شیشے کی کرچی ہونے کے باوجود ہر نقش بالکل واضع ہورہے تھے ۔ زلنین کو لگا جیسے وہ تصویر اسی سے مخاطب ہے ۔ اسے کچھ کہنا چاہتی ہیں مگر کیا ؟ ۔
زلنین اُٹھا چل کر وہ اس تصویر کے پاس آیا اور اس جھکے کر اُٹھایا ۔
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے سارے سوالوں کے جواب آپ کے پاس ہیں ، سارے راز جو مجھ سمیت ہما کو نہیں معلوم وہ آپ کے اندر دفن ہیں ۔ یہ کیا ہورہا آپ کی کیے ہوی سزا آپ کی بیٹی کیوں جھیل رہی ہے وہ تو بہت معصوم ہے اس نے تو کسی کا کھبی بُرا نہیں چاہا ۔ مجھے اسے تکلیف میں دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے ۔ آپ جانتی نہیں آپ سے بھی زیادہ تکلیف ۔ آپ بھی ان کی طرح بزدل نکلی آپ سارے خود غرض تھے سب کو اپنی پڑی ہوی تھی مجھے لگتا تھا آپ کم سے کم ان سے مختلف ہونگی مگر آپ کی وجہ صرف آپ کی وجہ سے میرے چاچو یہ سب قدم اُٹھانے پہ مجبور ہوے اور میں اپنے سب رشتے سے محروم ہوگیا مگر اب نہیں آپ کی وجہ سے میں اب کسی بھی قیمت میں ہما کو نہیں کھو سکتا ۔”
بولتے ہوے نمی ٹوٹ کر شفق کے تصویر پہ گری تھی ۔
ایک روشنی اک دم سے اس کے چہرے پہ پڑی تو وہ بے اختیار پیچھے ہٹا ۔
اس نے چہرے پہ ہاتھ رکھ دیکھنا چاہا مگر یہ خاصی تیز روشنی تھی ۔اس نے سنبھل کر اُٹھ کے دیکھنا چاہا تو اسے سفید لباس میں کوی نظر آئی اور وہ کوی اور نہیں شفق تھی ہما کی امی شفق ! ۔
••••••••••••••
زلنین حیرت سے انھیں دیکھ رہا تھا وہ اس وقت پورے سفید فراک میں ملبوس تھی جبکہ چہرے کے گرد سفید ڈوپٹے کے ہالے میں اسی سفیدی کا حصہ لگ رہی تھی ۔ ان کا چہرہ ایسا دمک رہا تھا کہ زلنین کو ان کی طرف دیکھنا بھی مشکل ہوگیا ۔انھوں نے اسے پھر اپنی بیٹی کو دیکھا جو بستر پہ دراز آنکھیں بند کیے کسی اور جہاں میں چلی گئی تھی ۔
وہ چل کر اس کی طرف آئی زلنین کو نجانے کیوں ان کے روپ میں ایک خطرہ معلوم ہوا وہ آگئے بڑھنے لگا جب ان کی نرم آواز پر رُک گیا ۔
“جانتی ہوں تم اسے میرے سے زیادہ چاہتے ہو مگر ایک ماں ہوں اور ماں کھبی بھی اپنی اولاد کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔”
اور زلنین جہاں تھا وہی رُک گیا ۔
وہ چل کر اس کے پاس آئی اور اس کے سرہانے بیٹھ گئی اور اسے دیکھنے لگی جبکہ زلنین ان کی حرکت کو دیکھ رہا تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا ایک جن ہوکر وہ اس معجزے پہ یقین نہیں رکھ سکتا تھا ۔ایسے کیسے ہوسکتا تھا پھر اس نے سوچا نانو بھی تو مری تھی تو پھر کیا یہ زندہ ہے ۔۔۔
سامنے بیٹھی شفق نے اس کی محویت توڑی ۔
“جانے والے کھبی واپس نہیں آتے زلنین اور میں اس دُنیا سے چلی گئی ہوں ۔ امی ابھی بھی اس دُنیا میں موجود ہیں اس لیے وہ تم سب کے آس پاس ہیں ۔”
زلنین کو جھٹکا لگا انھوں نے کیسے اس کی سوچ پڑھ لی ۔وہ ہما پہ نگاہیں رکھتے ہوے مزید بولی ۔
“میں صرف ایک سوچ ہوں ! یا کہہ سکتے ہیں ایک خواب جو صرف اپنے پیاروں کے پاس اسی کے ذریعے آسکتی ہوں مجھے حیرت سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ان پیاروں میں تم بھی شامل ہو عجیب بات ہے نا جبکہ تم تو مجھ سے نفرت کرتے ہو مگر میری ذات کے حصے ہما سے اتنی شدید محبت کہ اس کو ہلکی سی بھی خراش آجائے تو تمھارا دل تکلیف سے بل بلا اُٹھتا ہے شروع میں مجھے لگا تم فائیق کی طرح ہو مگر میں غلط تھی ۔۔۔”
ایک دم خاموشی چھا گی اور زلنین ساکت کھڑا انھیں یک ٹک دیکھے جارہا تھا ۔
“میں غلط تھی تمھاری محبت فائیق جیسے نہیں فائیق میں بزدلی کے ساتھ ساتھ ایمان کی کمزوری بھی تھی
اور جس شخص کا ایمان کمزور ہو تو وہ سچی محبت کھبی اس کے مقدر میں لکھی نہیں جاتی اور فائیق کے ساتھ یہی ہوا اس نے محبت کا روگ لگا لیا مگر اللہ سے لو نہیں لگائی اللہ آزمائش ڈالتا ہی ان بندوں میں جن کو وہ چاہتا اور وہ فائیق کو چاہتے تھے مگر فائیق نے کیا کیا دُنیا کے ساتھ ساتھ اپنے خدا سے بھی منہ موڑ لیا مگر تم زلنین تم ہمیشہ ایسی رہنا مجھے بہت فخر ہے کہ تمھارے ساتھ اتنا ظلم ہوا تم اتنے تنہا ہوگے ۔ فائیق کی طرح تم نے ہر شخص سے منہ موڑ لیا مگر تم نے تم نے اللہ کو کھبی نہیں چھوڑا اور دیکھو اللہ نے تمھیں میری بیٹی سونپ دی ۔”
وہ ایک بار پھر رُکی اور زلنین کو لگا وہ اب سانس نہیں لے سکے گا ۔
“یہ تمھارا امتحان ہے زلنین اس میں تم نے کھبی نہیں ہارنا بلکہ اگلے کو ہرانا ہے بہت سے ایسے موقع آئے گے جس میں نا اُمیدی تمھارے دل میں ضرور آئے گی مگر زلنین تم فائیق نہیں ہو تم اپنے مضبوط ایمان سے اس جنگ میں فتاحع پاو گے ۔ بس اللہ پہ بھروسہ رکھنا وہ ان شا اللہ سب ٹھیک کردے گا جلدبازی نے ثابت قدمی سے کام لینا میری بیٹی کو ہر شر سے بچا کر رکھنا ۔ میری روح پُرسکون رہے گی ۔”
اور وہ ایک دم غائب ہوگی ۔
“آ آ شفق ، آنٹی ۔”
ایک دم اس کی آنکھیں کھلی اس نے خود کو ایک صوفے پہ نیم دراز پایا باہر ٹیرس سے تازہ دھوپ آرہی تھی جو اب اس کے پاؤں پہ پڑ رہی تھی ۔اس نے اپنی مندی ہوی آنکھوں سے اردگرد دیکھا تو ہما بستر پہ ابھی بھی موجود تھی اس نے مڑ کر اردگرد دیکھا وہ نہیں تھی وہ کیا تھی وہ کیسے آئی ابھی تو رات تھی اک دم سے صبح اس نے دیکھا تصویر ابھی بھی زمین پہ موجود تھی اور مسکراتی ہوی نگاہیں زلنین کی طرف جارہی تھی اور ان آنکھوں میں زلنین کو ایک اُمید نظر آئی وہی اُمید جو انھیں زلنین سی تھیں۔
زلنین اُٹھ کر تصویر کو اُٹھانے لگا پہ دل میں کچھ عہد کرتے ہوے وہاں سے غائب ہوگیا ۔
••••••••••
جزلان کچن میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا اس نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنا ناشتہ مکمل کیا اور پھر وہی بیٹھ گیا ۔
وہ کچھ صفحے پلٹ رہا تھا کہ اچانک رُک گیا اس نے
جو خبر پڑھی اس کے تو اچھے خاصے حواس اُڑ گئے یہ کیا کیا کمینے نے ۔ ہاں وہ اسے یہی کہہ سکتا تھا وہ اسی لفظ کے مستحق تھا ۔
وہ پڑھ رہا تھا جب اس نے پھوپھا کشف کی آواز سُنی اس نے سر اُٹھایا پھوپھو کشف اس کے انداز سے چونک پڑی ۔
“کیا ہوا جازی یہ رنگ چونے کی طرح سفید کیوں ہوگیا تمھارا ۔”
“وہ وہ ۔۔۔۔۔”
وہ ہلکلایا ۔
“وہ وہ کیا لگا رکھی ہے بتاو اور یہ باقی سب کہاں ہے پرمیس مجھے کہی نظر نہیں آرہی ۔”
نہیں پھوپھو کو بتانا نہیں ہے ابھی اسے ڈیش زلنین کے بچے سے میں خود نپٹو گا ۔
“کچھ نہیں پھوپھو وہ کچھ میرے اپنے مسئلے آپ بتائیں آپ کب آئی ۔”
پھوپھو اسے مشکوک نظروں سے دیکھتی رہی پھر سرجھٹک کر بولیں ۔
“ہاں وہ کام میرا مکمل ہوگیا تھا اب تم سب کو میں نے خبر سُنانی تھی لیکن یہ سب سُنانے سے پہلے میں چاہتی ہوں کہ پرمیس اور زلنین کی شادی ہوجائے آج اسی سلسلے میں یہاں آئی کہ بابا سے بات کرلوں ۔”
اس کی بات پہ جزلان کا سر مزید گھوم گیا ۔
“کیا ؟۔”
اس کے چلا کر کہنے پر کشف جو ایک بوتل سے ڈرنک گلاس میں ڈال رہی تھی ناگواری کے تاثرات ان کے چہرے پہ آئے ۔
کھڑکھی کھلی ہوی تھی جس سے ان کے کالے لمبے بال لہرا رہے تھے جسے وہ ٹھیک کرتی اشارے سے کھڑکھی بند کرنے لگی اور چل کر اس کے پاس آئی ۔
“کیا بات ہے ! دیکھو زلنین کے لئے وہ وقتی کشش ہوگی
جو ایک نہ ایک دم ختم ہوجائے گی نہیں ختم ہوگی تو میں ختم کردوں گی اس لئے اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں ! میں نے شادی کا فیصلہ کیا ہے دوسرے لاہور کے ایک پوش علاقے کا وہ سردار ہے میرے پہ عاشق ہوگیا ۔۔۔۔۔
آگئے سے وہ کچھ بولنے جارہی تھی کہ جزلان کا قہقہ پورے زوالفقار ہاوس کو ہلا کر رکھ چکا تھا ۔
“ہاہاہاہاہہاہاہا ! اس عمر میں شادی پھو پھو ۔۔۔
اُف ہنستے ہوے جیسے آگ اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی تھی اتنی سٹریس فل سچیوشین میں یہ بات اس کے لیے بات امیوزنگ تھی ۔وہ ہنس ہنس کر دوہرا ہورہا تھا اور پھوپھو کشف کا غصے سے بُرا حال دھاڑ کر اسے چُپ کروایا تو وہ ایک دم خاموش ہوگیا مگر چہرے اور آنکھوں میں ابھی بھی شرارت چھپی ہوی تھی ۔
“تمھیں کیا لگتا ہے کہ میں بڈھی ہوگی ہوں ۔”
اس نے ان کے تیش سے کہنے پر تیزی سے نفی میں سر ہلایا ۔
“نہیں نہیں پھوپھو آپ تو ابھی بیس سال کی ہیں صرف مجھ سے ایک سال بڑی ! زلنین آپ سے بڑا ہے ابھی تو آپ کی شادی کی عمر ہے مگر وہ کیا ہے نا پھوپھو اب سب سے تو بلوا لیں گی مگر وہ سامنے آئینہ تو مجھے آپ کے ہلکے ہلکے سفید بال اور پیشانی پہ جھڑیاں ۔
اس سے آگئے وہ کچھ کہنا پھوپھو کشف نے گلاس اُٹھا کر اس پہ وار کیا اور وہ تیزی سے وہاں سے غائب ہوگیا ۔
گلاس سیدھا دیوار پہ جاکر لگا ۔
“بدتمیز ! الو کا پٹھا ۔”
وہ بڑبڑائی ۔
جزلان سیدھا زلنین کے کمرے میں آیا جو بند تھا وہ چاہ کر بھی اندر نہیں گھس سکتا تھا یہ کیا ہر طرف سے راستہ کیوں بند کروادیا ۔ وہ اب غصے سے اس کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا ۔
“زلنین اگر تم نے نہ کھولا دروازہ تو سب کو تمھاری ۔۔۔
زلنین نے تیزی سے دروازہ کھولا اسے کے چہرے پہ غصے اور جنھجھلاہٹ کی لہر تھی وہ اس وقت یونی فورم میں ملبوس خوبصورت لگ رہا تھا جزلان نے اسے کا گیربان پکڑتے ہوے ایک مکا اس کے منہ پہ مارا زلنین پیچھے کو جاکر گرا ۔
“کیا بکواس ہے !!! ۔”
وہ دھاڑا ۔
“نہیں تو تم مجھے بتاو کہ کیا بکواس جس شخص نے خود وہ چیز بند کی اور سب کو کہا کہ کوی بھی اس جگہ کے قریب نہ جائے گا اور یہ محترم اشتہار لگائے بیٹھے کہ بلیک روز از اوپنگ سون ! وی میڈ امپلوئیز
تو کس سے پوچھے بغیر فائیق چاچا کی پراپرٹی پر کلیم کر سکتا ہے ! جس شخص سے نفرت کرتے تھے آج اس کی جائیداد کو اپنا بنا رہے ہو دماغ گھٹنے میں چلا گیا ہے تیرا کیا ۔”
زلنین اس سے پہلے ردعمل کرتا اس کی بات پہ ایک منٹ کے لیے رُک گیا ۔
“اس معاملے میں تم مت پڑو جزلان یہ تمھارے لئے بہتر
ہے ۔”
“نہیں تو اپنی ساری مصیبتیں میرے سر مت لئے کر آو کرو بہت کر لی تم نے اپنی من مانی مگر میں یہ سب ہونے نہیں دوں گا پہلے مصیبت کم ہیں جو تم اور لارہے ہو اس ہما کی بچی نے تمھیں سچ مچ عقل سے پیدل کردیا پولیس والے ہو تو پولیس والے رہو ۔ اس کام سے تم اللہ کا واسطہ ہے دور رہو ورنہ میں نے تمھیں مار دینے میں زرا بھی دیر نہیں کرنی ۔”
جزلان کی بات پر زلنین نے اس کو پکڑا اور سیدھا ٹھا کر کے دیوار پہ جاکر مارا ۔ جزلان نے کہرا کر پیٹ کو پکڑا اور سر اُٹھا کر خونخوار نظروں سے دیکھا اور سیدھا اُٹھ کر اسے مارا وہ دونوں اب پاگلوں کی طرح لڑنے لگیں کمرے کا تو جیسے حشر ہوچکا تھا
سب کو اپنی ضد پوری کرنے کی پڑی تھی ۔
“آج تو تمھیں میں جان سے ماردوں گا ایس پی ۔”
“تو تو کون سا زندہ رہے گا آئین سٹائن کے پُتر ۔”
بستر تو دور جاکر پہنچا ۔
لیمپ ٹوٹ کر گر چکا تھا اور شیشہ اس سے پہلے ٹوتا کہ کسی کی نسوانی آواز پہ وہ دونوں رُکے ۔زلنین اور جزلان کو جھٹکا لگا وہ ہما گرے شلوار قمیض میں ملبوس پرس تھامے بالکل تیار کھڑی حیرت سے ان دونوں
کو دیکھ رہی تھی ۔اس نے ان دونوں کو پھر اس کمرے کو دیکھا تکیہ پھٹنے کے باعث ہوا میں اُڑ رہی تھی ۔
“ہما تم کیسے ۔”
زلنین کو اس کی اندر آنے پہ حیرت ہوی جبکہ ہما کے چہرے پہ خفگی آگئی جزلان نے جھک کر اس کے کان میں کہا ۔
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے تیری بیوی اب جوتی اُٹھا کر تجھے مارے گی ۔”
زلنین نے اسے گھور کر دیکھا ۔
“تم نے خود مسیج کیا تھا گھر آجانا ضروری فائل دینی ہے پھر ساتھ چلیے گے اور تم باہر نہیں آئے تو اور یہ سب کیا ہے یہ تم لوگوں نے کیا کمرے کا حشر کیا ہے ۔”

“یہ آپ لوگوں نے کیا کمرے کا حشر کیا ہے ؟۔ ”
اس کے الفاظ میں اپنایت بھری خفگی تھی مگر لہجہ ! الفاظ لہجے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔
زلنین نے اسے غور سے دیکھا ہما کے بشاش چہرے میں چھپا ایک اضطراب تھا ، ایک زبردستی تھی جیسے وہ یہ سب کرنے پہ مجبور تھی لیکن وہ ایسا کیوں کررہی تھی کل تک جو لڑکی اس سے نفرت کا اظہار کررہی تھی آج اتنا نارمل ۔وہ جزلان کو چھوڑ کر آگئے بڑھا اور اس کا ہاتھ پکڑا ۔
اس نے ہما کو اس ہاتھ پر خود کو ہولے سے اچھلتے ہوے دیکھا پھر اس نے بر وقت خود کو سنبھال لیا اور مضبوط لہجے میں بولی ۔
“چلے !۔”
زلنین ایک لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس نے جزلان کو سگنل دیا جزلان سمجھ گیا اور چل پڑا اور ان کے سائڈ پہ گزرا ۔زلنین نے اب تک اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ۔
“زلنین آپ ہاتھ چھوڑ سکتے ۔”
اب اس آپ کا لفظ ہضم نہیں ہوا تھا ۔
“آپ ! ۔”
اس نے ہولے سے دہرا کر کنفرم کرنا چاہا کہ آیا اس نے یہی کہا ہے ۔
“یہ عزت ، یہ نارمل روایہ کہی یہ میری محبت کہ بدولت تو نہیں کس میں اتنی طاقت تھی کہ تمھاری آنکھیں دماغ بلا آخر کھول اُٹھیں ۔”
“ایسا کچھ نہیں ہے ۔”
وہ اس کے مسرت بھرے لہجے پر چبا کر بولی ، زلنین نے چیک کرنے کے لئے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اسے اپنے ساتھ لگایا اب تو ہما کو واضع طور پہ جھٹکا لگا تھا زلنین اس کے کانوں کے قریب جھک کر بولا ۔
“مگر یہ دھکڑنیں یہ آنکھیں میرا ہی کیوں نام لئے رہی ہیں ۔”
حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا مگر وہ اسے ٹیسٹ کررہا تھا آخر پتا تو چلا یہ ہما ہی ہے یا اس کے پیچھے بہروپیا ۔
“تمھیں غلط فہمی ہے ۔”
اس کی قربت میں ہما کے تو پیسنے چھوٹ گئے تھے ۔ وہ جلد از جلد اس کی گرفت میں نکلنا چاہتی تھی ۔ زلنین نے گرفت مزید مضبوط کی ۔
“اتنی حسین غلط فہمی کی وجہ تو آپ ہی بتائیں گی مسز زلنین ذولفقار ۔”
لہجہ میں بھرپور شرارت تھی ۔
ہما نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا اور آنکھوں کی تپش سے بلا آخر پتا چل گیا کہ وہ ہما ہے ۔اس نے گرفت ڈھیلی کر کے اسے چھوڑ دیا اور پھر اس کے کپڑوں کا جائزہ لینے لگا ۔دیکھنے کے انداز سے ہما کو پتا چلا کے وہ اس کا تنقیدی جائزہ لئے رہا ہے جیسے اس کو اس کے حلیے سے اعتراض تھا مگر وہ تاثر سمجھ نہیں پارہی تھی آیا یہی بات ہے کہ کچھ اور ۔۔۔
“ہما تم نے کیا کل رات کو اپنے امی کو خواب میں دیکھا تھا اس کی بات پہ ہما ایک دم سے ساکت ہوگی ۔
•••••••••••
وہ سوئے وی تھی جب اسے اپنے بالوں پہ نرم ، مہربان لمس محسوس ہوا پہلے تو اس کو اپنا وہم لگا مگر جب جانا پہچانی انگلیاں جب پیار سے اس کے بال سہلانے لگی تو ایک دم اس کی آنکھیں کھلی اور ایک دم سے وہ اُٹھی ۔
“امی ! ۔”
اس نے اردگرد دیکھتے ہوے کہا
پھر اپنے دھڑکتے دل کے ساتھ لیٹنے لگی ، جب کسی کی آواز پر ایک دم اچھل پڑی ۔
بستر سے اُتر کر اس نے سپلرز پہنے اسے لگا جیسے امی یہی کہی ہے ۔
“امی ! ۔”
وہ اب انھیں بے قراری سے پکارنے لگی تھی ۔
“کدھر ہیں آپ ۔”
وہ اب دروازہ کھول کر باہر آگئی تھی ۔ آواز ایک بار ہی آئی تھی لیکن ہما کو ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر طرف امی کی ہی آوازیں ہیں ، امی اس کے آس پاس ہی ہے ۔
وہ اس وقت حواسوں میں نہیں تھی پھر وہ ایک دم رُک گئی سیڑھیوں کے قریب اسے ہیولہ نظر آیا جو ایک ہی جگہ کھڑا شاہد اس کے منتظر تھا ۔ ہما دیوار کے روشنی سے اس کا ہاتھوں میں موجود خنجر تھا ۔اس کا ہیولہ نظر آرہا تھا مگر دوسری طرف کوئی بھی نہیں تھا ۔
تھوڑی دیر وہ خوف کے مارے کھڑی پھر اپنا ہمیشہ کی طرح وہم گردانتے ہوے وہ کلمہ پڑھ کر آہستہ قدم اُٹھانے لگی ، ہیولہ اب بھی موجود تھا۔
اس نے سوچا کہ کچھ اس کے ہاتھ میں ہوتا جس سے وہ اس پر اٹیک کرتی مگر کچھ بھی نہیں تھا ۔
بے بسی کے مارے اس کے چہرے پہ ٹھنڈی پسینے آگئے تھے ۔
بلا آخر پہنچ گئی تو وہاں ہیولہ یہ دم غائب ہوگیا تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا دیکھا وہم تھا ۔
پھر وہ مڑنے لگی جب اسے کسی کی رونے کی آواز آئی
پھر اس نے سامنے بیسمنٹ کے دروازے کو کھلے دیکھا یہ ہمیشہ کھلا کیوں پایا جاتا اور وہ بھی رات کے اس پہر ۔اب وہ سوچ رہی تھی کہ بائیں جانب آتی روتی ہوئی آواز کا تعاقب کرے یا سامنے کھلے دروازے کی طرف بڑھے ۔ سوچنے کی ضرورت نہیں تھی دروازہ اتنی زور سے بند ہوا جیسے کسی نے تیش کے مارے زور سے دروازہ توڑنے کی کوشش کی تھی ۔
“یا اللہ !۔”
وہ تیزی سے رونے کی آواز کا تعاقب کرنے لگی آواز آس پاس کے ڈرائینگ روم سے آرہی تھی اس نے اندر آکر دیکھا کوئی سفید لباس میں کسی شخص کے گھٹنے میں سر دیے رورہی تھی ۔
“ابو ! ابو پلیز یہ ظلم نہ کرے ابو ۔۔”
نسوانی آواز جب ہما کے کانوں کو ٹکرائی تو خاصا جانی پہچانی تھی اسے کیوں لگ رہا تھا جیسے یہ آواز اس سے ملتی جلتی سامنے شخص کا سر جھکا ہوا تھا ورنہ وہ انھیں پہچان لیتی ۔
آگئے بڑھ کر وہ ان کے قریب پہنچی تاکہ ان کی آواز ان کا اندھیرے میں چھپا منہ دیکھ سکے مگر ناکام رہی بلا آخر وہ تھک کر چیخ پڑی ۔
“آپ لوگ کون ہے کیا چاہتے ہیں کیوں میری زندگی اجیرن کردی ہے پلیز یہ ختم کرے عذاب ۔”
مگر ہما کو لگا اس کسی نے سُنا نہیں ۔
“کون ہیں آپ ۔”
ایک دم اس عورت کا سر اُٹھا پھر پھر ہما کی چیخ حلق میں اٹک گئی ، سانسیں تھم سے گئی اس عورت کو منہ مڑا تھا مگر جسم وہی تھا ۔ اس عورت کو چہرہ اتنا خوفناک تھا کہ ہما نے زور سے آنکھیں میچ لی تھی اس کے باوجود وہ چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا ۔
ایک طرف گوشت لٹکا ہوا تھا جبکہ دوسری طرف سفید آنکھ تھی جس کے کون سے خون ٹپک رہا تھا دائیں جانب کے چہرے پہ خراش اور کٹس لگے ہوے تھے اور کالے بال نے چہرے کو مزید خوف ناک بنا دیا ۔
ہما نے دوبارہ آنکھیں کھول کر بھاگنے چاہا تھا کہ وہ عورت اس پر جھپٹ پڑی تھی اور اپنے نوکیلے ناخنوں سے اس کے گردن کو دبوچ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا اور اپنا خوف ناک چہرہ ہما کے قریب کیا ۔
“اک مر گئی تھی دوسری کو ضرور آنا تھا کیوں آئی ہو تم یہاں ۔”
اس کی چڑیلوں جیسے چیخ ہما کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ثابت ہوئی ۔
اس کے سیاہ لکڑی جیسے ہاتھوں کو ہما نے ہٹانا چاہا مگر گرفت سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی ہما کو لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائی گی ۔ اس نے دل میں آیت الکرسی پڑھنا شروع کردی اور پھر اس پر پھونک مارنے لگی اس کلام میں اتنی طاقت تھی کہ وہ سیدھا دور جاکر کھڑکھی پہ جاکر لگی ہما نے اپنے گردن کو پکڑ کر لمبے لمبے سانس لئے اور کچن کی طرف بڑھی ۔
اس نے دیکھا کہ کسی فورس نے اس بھی پیچھے مین ڈور پہ جاکر پھینکا اس کا سر زور سے جاکر دروازے پہ لگا اور وہ منہ کے بل نیچے گری کہرا کر اس نے اللہ کو پکارا۔
سر اُٹھا کر دیکھا تو ایک بھاری بوٹ اس کی طرف آرہے تھے اس نے سر تھام کر مزید اوپر دیکھنا چاہا ۔
“فائق اور شفق کی ایک اکلوتی نیشانی تتتت ۔۔۔”
کوئی کہتے ہوے بھاری گھمبیر آواز میں ہنسا تھا ۔
“ککک کون ہو تم ؟۔”
ہما نے آٹک کر ہر اک لفظ کو ادا کیا ۔
“یہ جانا ضروری نہیں ہے ، یہ بتاو تم یہاں کیا کررہی ہو کیوں آئی ہو کیا اپنے ماں باپ کا بدلا لینے ۔”
بوٹ نظر آرہے تھے مگر چہرے اور جسم کہی بھی نہیں تھا ۔
“کون باپ ؟ ۔”
ہما نے اتنا کہا تھا اور زور دار تھپڑ اس کے چہرے پہ پڑا تھا ۔وہ چیخ پڑی پھر اپنے جلتے گال کو جیسے تھاما تو ساکت رہ گئی یہ ہاتھ تو بالکل زلنین جیسے لگ رہے تھے اس نے بھی ایسے انداز میں مارا تھا کیا یہ زلنین ۔
“زلنین ! زلنین کیا یہ تم ہو دیکھو زلنین میرے ساتھ یہ کھیل مت کھیلو میں بڑی سادی سے لڑکی سادی سے زندگی گزارنا چاہتی ۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم سے اس کی بھرائی آواز پر قہقہ گونج اُٹھا ۔
“ایکٹنگ کتنی بیکار کرتی ہو ، خیر اگر تمھیں نہیں پتا تو کوئی نہیں ہم بتادیتے ہیں ویسے بھی تمھاری ماں ایسی ۔۔۔۔۔”
“بکواس بند کرو اپنی تم جو کوئی بھی ہو اگر تم نے میری ماں کے بارے میں کچھ بھی کہا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا ۔”
اب کی بار ہما دھاڑ اُٹھی ۔وہاں خاموشی چھا گئی تھی ۔
“اچھا تو اتنی شریف زادی تو ایک قاتل کے ساتھ اس نے کیوں ماں باپ کی مخالفت لے کر بھاگ کے شادی کی ۔”
اب ہما کو سناٹے میں جانے کی باری تھی ۔
“اس کے بعد اس کے ساتھ پانچ دن گزار کر ماں باپ کے پاس آئی تو ماں باپ نے رُخ پھیر لیا ۔”
“اور پھر تمھاری نانی کسی پلان کے تحت کسی کالا جادو کے چکر میں پڑ گئی اس نے شفق کو فائیق سے الگ کیا اور بلا آخر وہ ایک مہینے کے اندر کامیاب ہوگی ۔”
“تمھاری ماں روتی رہی پٹتی رہی مگر ماں باپ بے رحم ہوگیں انھوں نے تمھاری ماں کا نکاح کسی امیر زادے ریحان سے کردیا جو امریکہ میں تھا سوچ سکتی ہو تمھاری نیک زادی نانو اللہ کرتی پھرتی اس نے نکاح کے اوپر نکاح پڑھایا اس نے کتنا بڑا گناہ کیا اوپر سے تمھاری پریگنیٹ ہوگی اس نے کہا یہ بچہ فائیق کا ہے مگر کوئی سُنتا نہیں تمھارا سوتیلا باپ مارتا تھا پاگل سمجھتا تھا اور تمھاری نانی چُپ چاپ تماشہ دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔ کتنی معصوم ہو دھوکے میں رکھا تم جیسی بیچاری کو تتت ۔۔۔۔”
ہما کو لگا جیسے وہ ختم ہوجائے گی یہ کیا کہا ہے انھوں نے کیا مما نے ایسا کیا ، ماما ایسا کرسکتی ہیں اور نانو ۔۔۔ مما نے تو چلو ماں باپ کو دُکھ دینے کا گناہ ان سے سرزد ہوا تھا مگر نانو ۔۔۔
“آپ کون ہو ، یہ سب کیسے جانتے ہو ۔”
مگر وہاں اب خاموشی چھا چکی تھی ہما نے اُٹھ کر اس سمیت جانا چاہا جب سامنے پڑی کسی کی لاش دیکھ کر وہ چیخی تو اس کی آنکھ کھل پڑی اس نے اُٹھ کر دیکھا وہ بستر پر تھی ۔
•••••••••••••
اُٹھی تو دیکھا صبح کی ہلکی ہلکی کرن کمرے میں پڑ رہی تھی ۔ اپنے پیسنے سے شرابو چہرے کو صاف کرتی کمبل ہٹایا ، سخت گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی ۔
اس نے سر تھام کر اپنے خواب کو سوچا یہ سب کیا تھا
کیا کوئی بندہ اسے بتانے آیا تھا جو سچ وہ ڈھونڈنا چارہی تھی تو کیا اس کا جواب اسے دے دیا گیا تھا ۔
اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہی تھی کسی کا کندھا اسے محسوس ہوا تو وہ تیزی سے اُٹھ کر چیخنے لگی تھی کہ امی کو دیکھ کر وہ ٹہر گئی
“امی ۔”
امی سفید جوڑے میں کوئی پری لگ رہی تھی اور وہ مسکراتے ہوے ہما کو ممتا بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ ہما انھیں دیکھنے کے بعد ایک لمحا نہیں لگایا تھا امی کے ساتھ لپٹنے میں پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
“امی آپ کہاں چلی گئی ہیں ، آپ نے اپنی بیٹی کو کس بے حس اور ظالم دُنیا میں پھینک دیا ہے ۔ میں بالکل اکیلی ہوگی ہوں کوئی میرا نہیں کوئی اپنا نہیں ہے میرا ۔۔۔ ایک آپ تھیں ، آپ جنھوں نے مجھ سے سچی محبت کیں ورنہ یہاں تو ہر کوئی مجھ نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔امی مجھے اپنے ساتھ لے جائے میں یہاں نہیں رہ سکتی ۔ آپ کی بیٹی برباد ہوجائے گی ختم ہوجائے گی امی ۔۔۔۔”
اس کا بس نے چل رہا تھا ماں کی مہربان گود میں خود کو چھپا لے جبکہ شفق نے اس کے گرد بازوں پھیلا کر اس کے سر پہ محبت بھرا بوسہ دیا ۔
“بس میری جان ، مت رو میری اتنی بریو ہما رو رہی ہے تو مجھے تکلیف ہورہی ہے پلیز اپنی مما کو تکلیف نہ دو ایک تم ہی تو ہے جو مجھ سے اتنا پیار کرتی ہو میری چھوٹی سی تکلیف پہ تڑپ جاتی تھی ورنہ اس پاگل عورت سے کون محبت کرتا ہے ۔”
ہما نے اپنا گیلا چہرہ اُٹھا کر ماں کو دیکھا جہاں نور کے سوا کچھ نہیں پھوٹ رہا تھا اس نے عقیدت سے ماں کے ہاتھ چوم لئے اور آہستہ سے بولی ۔
“امی ۔۔۔”
“شش میری جان مجھے بولنے دو تم کہتی ہو تمھارا کوئی نہیں ہے ایسا کیوں کہتی ہو سب سے بڑی ذات وہ رب ہے جس نے تمھیں بنایا وہ پوری جہاں کا مالک وہ جو شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اپنے بندے کے تو اپنے آپ کو کیوں اکیلی سمجھتی ہو ، دوسرا تمھارا شوہر’ تم سے بے انتہا محبت کرنے والا پیارا شخص
تم اس سے کیوں اتنی بدتمیزی سے پیش آتی جس انسان نے تم سہارا دے کر زمانے کی سرد گرم سے بچایا اس سے یہ برتاؤ ! ہما سوچو اگر وہ نہ آتا تو تم میری بچی تم برباد ہوجاتی سوچو نہ ہما اس وقت تمھارے بابا آئیں تھے ، اس وقت تمھارے نانو آئیں تھیں ، کیا اس وقت کوئی بھی ایسا شخص آیا تھا جسے تم زلنین سے زیادہ مخلص سمجھتی ہو نہیں میری جان صرف اور صرف زلنین آیا تھا تمھارا زلنین
تمھاری آدھی سے زیادہ پریشانیاں تب حل ہونگی جب تم زلنین سے صلاح کرو گی اور ہر کسی بھی بھروسہ کرنا ٹھیک نہیں ہے میری بچی یہ دُنیا بڑی ظالم ہے ۔”
ہما نے ان کی بات پہ خاموشی سے دیکھا دیکھا پھر
اس کے لب پلے تو کانپ اُٹھے ۔
“امی میں کون سا یہ سب خوشی سے کررہی ہوں ،میں اس شخص کو بے انتہا چاہتی ہوں اور اس کے بغیر زندگی میری سانسیں روک دیتی ہے ۔ عجیب بات ہے نا امی مگر امی جب انسان کا اس شخص پہ مان فوت جائے جو اسے اس پر تھا تو دراصل وہ ٹوٹ جاتا تو امی آپ کی بیٹی ٹوٹ گئی ہے اور وہ شخص مجھے سمجھ نہیں آرہی اسے کیا ہوا کھبی سختی سے پیش آتا ، کھبی سراپا محبت ہوتا ، کھبی ایسی بیگانگی برتا ہے ، تو کھبی میری پانچ منٹ کی غیر موجودگی میں پاگل ہوجاتا ہے اور یہ ممی تب سے ہوا جب سی وہ بیمار ہوا ہے ۔ امی میں نے دوہری شخصیت کے شخص سے تو محبت نہیں کی تھی ۔ میں نے وہ صاف ، مہربان دل جس میں خلوص اور سچائی کے علاوہ میں نے کچھ نہیں پایا تھا ۔ امی اگر یہ سب نہ ہوتا تو میں یہ بات کہتی کہ اس جیسا شخص کوئی نہیں مگر وہ تو اک عام مرد نکلا اور اس کے عام نکلنے پر میرا دل روتا ہے ۔”
امی نے اس کی بات پر اس کے چہرے پہ پیار کیا پھر گویا ہوئی ۔
“ہما زندگی میں ہمیشہ تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں ۔ آپ کو لگتا ہے یہ سب سے اچھا انسان ہے درحقیقت وہ بُرائی کا بادشاہ ہوتا ہے تو کھبی آپ کسی انسان کی ایک غلطی کو دیکھ کر بُرا جان لیتے ہو پر اس میں ساری اچھایاں بھری ہوتی ہے مگر وہ ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا ۔ اب زلنین کی بات تم نے کہا نا وہ اندر سے ویسا ہی تھا جیسے وہ باہر تھا تو وہ اب بھی ویسا ہے
مگر تمھارے ساتھ ساتھ اس کی بھی مشکل کی گھڑی چل رہی ہے اور ہما ہم سب سے زیادہ تم اسے اچھی طرح سمجھتی تو دوسرا کہتی ہو تمھیں اس سے محبت ہے ۔ محبت تو کوئی عیب نہیں دیکھتی مگر تم ۔۔۔۔۔
ہما کی آنکھیں یک ٹک انھیں ہی دیکھتی جارہی تھیں ۔
ان کی باتوں میں کتنا سکون تھا بلکہ جادو تھا اور وہ ان کی باتوں کے سحر میں جکھڑی جارہی تھی ۔
“اب جس طرح چل رہا ہے چلنے دو ۔ کھبی کبھار جو چیز آپ کے بس میں نہیں ہوتی تو اسے اللہ پہ چھوڑ دینا چاہیے ۔تم بھی ایسے کرو اور اس رشتے کو ایکسپٹ کرو جانتی شروع میں مشکل ہوگا مگر خاموشی اور تعبداری کو فل حال اپنی طاقت جانو یہ سب تمھاری نفرت کو طاقت بنا رہے ہیں ۔ میرا چندا جن لوگوں سے میں ہاری ہوں ۔ تم نے نہیں ہارنا کیونکہ تم ہما زلنین ہو شفق فہیم نہیں ۔
اس کے بعد امی کہی غائب ہوگیا ۔
“امی ! ، امی ! ۔”
ہما ان کو پاگلوں کی طرح پکارنے لگی پھر جب اس کی آنکھیں کھلی تو وہ بستر پہ تھا ۔ پچھلے خواب کی طرح کمرے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔ اسے لگا وہ پھر خواب دیکھ رہی ہے مگر جب احساس ہوا وہ اب واقعی جاگ چکی ہے تو بستر سے اُٹھی ۔ اس نے دیکھا اس کو ٹیبل پہ پڑا فون چمک رہا تھا اس نے اُٹھا کر دیکھا زلنین کو مسیج تھا ۔ وہ اسے اپنے گھر بلا رہا تھا ۔
پہلے سوچا کہ وہ نہ جائے مگر اب وہ لیٹ ہوجائے گی دوسرا امی کی بات زہن میں گونج رہی تھی ۔ اب اسے بار سچ مچ اللہ پہ چھوڑ کر وہ اُٹھ کر تیار ہونے لگی ۔
••••••••••••••
“تو تمھیں کیسے پتا ۔۔۔۔”
ہما اس کے درست اندازے پر بونچھکا گئی ۔
زلنین نے اپنے لب دبائے ۔کیا کرے اسے کیا بتادیے ۔نہیں!
“تمھارے اسے رویے سے مجھے لگا ، اصل میں میری امی بھی میرے خواب میں آکر نصیحت کرتی تھیں اور میں ان کی باتیں سُن کر جب خواب سے اُٹھتا تو ان کی باتوں پہ عمل کرتا ۔ ایسا تمھارا لگا مجھے شاہد خیر اگر کچھ چیزوں آپ سے نہیں ہوتی تو اسے کوشش نہیں کرنا چاہیے میری موجودگی میں ان ایزی فیل کرتی ہو تو ۔۔۔۔
“نہیں ! ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں آپ کو قبول کرلیا ہے بس یہ سب اوکورڈ لگ رہا ہے ۔۔۔
زلنین نے اس کی بات کاٹ کر اس کے گال تھپ تھپائے پھر نرم لہجے میں بولا ۔
“جانتا ہوں مجھے بھی ایسا لگ رہا ہے سو بہتر ہے ہم سب کچھ شروع سے سٹارٹ کرے نکاح بیشک ہوگیا ہے مگر ہم ایک دوسرے کے ویسے ہی پرانے دوست بنا ہے ، ایک دوسرے میں انڈرسٹینڈک پیدا کرنی ہے کہ چاہیے کوئی بھی برابلم آئیں ہمارے میں کوئی ٹرسٹ ایشو نہ ہو آج سے ہم ہسبینڈ اینڈ وائف کے بجائے صرف پرانے دوست جیسے ہم ہوا کرتے تھے شاہد چیزیں بہتر ہونا شروع ہوجائے ۔”
ہما اس کو خوبصورت چہرہ دیکھتی جہاں وہی اس کا دوست زلنین آگیا تھا شاہد چیزیں ٹھیک ہوجائے گی امی نے صحیح کہا تھا چیزیں بہتر ہوجاتی ہیں اگر اسے اللہ پہ چھوڑ دیا جائے ۔اس نے سر آہستگی سے سر ہلایا زلنین کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی ۔اس نے ہاتھ آگئے کیا ۔
“ہائی میں ہوں زلنین زولفقار ، ایسی پی جسے آپ چھچھوڑا بھی کہتی ہیں ۔”
اس کے ویسے ہی لہجے پہ ہما کی چہرے پہ بھی تبسم پھیل گیا ۔اس نے ہاتھ آگئے کر کے اس سے ملایا ۔
“ہما ! ۔”
“پورا نام پلیز ۔۔۔۔۔”
وہ شرارت سے گویا ہوا ۔ اب ہما ٹہر گئی ۔
“تمھارا سوتیلا باپ ریحان ! ۔”
“تم فائیق کی بیٹی ہوں ۔”
“تمھاری ماں بھاگ گئی تھی ۔”
“تمھاری نانو نے ظلم کیا تھا ۔”
ایک دم ساری آوازیں اس کانوں میں آنے لگی تھی ۔
ایک دم اس نے سر جھٹک کر کہا ۔
“ہما شفق ۔”
ہاں وہ ماما کی بیٹی تھی اسے فل حال دوسرے نام کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔
زلنین نے اسے رُک کر دیکھا پھر مسکرا کر اس کا ہاتھ چھوڑا ۔
“تو مس ہما شفق کلاس کے لئے دیر ہورہی ہے چلے ۔”
ہما نے سر ہلایا زلنین ہنس پڑا ۔ہما نے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں نا سمجھی کا تاثر تھا ۔
“مجھے یہ سب اوکورڈ لگ رہا ہے ۔”
وہ اس کے ساتھ چلتے ہوے باہر آیا تو بولا ہم کچھ کہنے لگی تھی جب پھوپھو کشف کے سامنے آنے پر زلنین کا چہرہ سفید ہوگیا ۔
“او تو یہ ہے تمھاری دوست ۔”
وہ اس کا سرتاپا جائزہ لیتے ہوے زلنین کو دیکھتے ہوے زہریلی مسکراہٹ سے بولی ۔
ہما نے انھیں اور پھر زلنین کو دیکھا ۔
“زلنین یہ ۔۔۔”
“میں اس کی پھوپھو اور ہونے والی ساس کیوں زلنین تم نے اپنی دوست کو بتایا نہیں ۔”
اس کی بات پر زلنین کا دل کیا اپنی پھوپھو کو شوٹ کردے۔

You May Also Like

Leave a Reply