Black Rose Episode 13 By Samreen Shah

ہما نے زلنین کو دیکھا اور پھر پھوپھو کو ، ایک دم سے اس کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ آگئی ، لفظ ساس اسے کھبی اتنا بُرا نہیں لگا تھا جتنا پھوپھو کشف کے منہ سے سُن کر ہما کو لگ رہا تھا ۔
زلنین نے ان خنخوار نظروں سے دیکھا پھر جبر کرتے ہوے اس نے اک نظر ہما کو دیکھا جو بالکل سٹل کھڑی تھی اور کچھ سوچتے ہوے بولا ۔
“ہما یہ ہے میری پھوپھو ۔۔۔۔”
“اور آپ کی ہونے والی ساس بھی ۔”
ہما نے چہرہ موڑ کر بے حد عام سے لہجہ میں کہا ۔
“او تمھیں زلنین نے بتایا تھا کے اس کی منگنی پچپن میں میری بیٹی سے ہوئی تھی اگر نہیں بتایا تو زلنین کتنی بُری بات ہے ۔”
“ہاں زلنین کتنی بُری بات ہے ۔”
ہما کے تائیدی انداز پہ زلنین چکرا ہی اُٹھا یہ کس مصیبت میں پھنس گیا ۔ جزلان !!!! ہیلپ ۔
“سب کو چونٹی کی طرح مسل دینے والا زلنین ، آج بے بس سا پھوپھی اور بیوی کے درمیان پھنسا ہوا تھا ۔
“ہمم پھوپھو ہمیں دیر ہورہی ہے ، ہمیں ضروری کام سے جانا ہے ۔”
“نہیں نہیں اتنی بھی جلدی نہیں ، آپ نے اپنی بیٹی کے بارے میں نہیں بتایا جس سے عنقریب شادی ہونے والی ہے ۔”
ہما کے کہنے پر زلنین کا دل کیا یہاں سے کہی بھاگ جائے پھر دل میں سوچا جب کچھ ایسا ہے نہیں تو وہ کیوں گھبڑا رہا ہے ۔ گھبڑا اس لئے رہا ہے کہ وہ سب کو بتا نہیں سکتا ہما اس کی بیوی ہے اور دوسرا ہما کو یہ نہیں بتا سکتا پھوپھو اس کی ایک نمبر کی ڈائن ہے اگر اس کے سامنے وہ پھوپھو کو کچھ کہے گا تو اس کا ایمج خراب ہوگا ۔
“ہاں میں دکھاتی ہوں بہت خوبصورت ہے اِدھر ہی کہی ہو زلنین پرمیس کہاں ہے ۔”
اب ہما کو لگا کہ وہی بے ہوش ہوکر گر جائے گی ۔ پرمیس زلنین کی منگیتر پرمیس ۔۔۔
“اُف اس عورت کی تو میں ۔”
زلنین آگئے بڑھ کر کچھ کرنے لگا جب کسی کی سیٹی کی آواز پہ رُک گیا مڑ کر دیکھا دور گول سیڑھیوں پہ بیٹھا مزے سے گلاس سے سپ لیتا جزلان مزے اس سین کو انجوائی کررہا تھا ۔
زلنین نے اسے اتنی تیز نظروں سے دیکھا جبکہ وہ کھل کر مسکراتے ہوے اسے چڑانے کی بھرپور کوشش کررہا تھا ۔
“مجھے اس مصیبت سے نکالو ۔ “وہ اسے دل میں کہتے ہوے غضب ناک لہجے میں بولا
“تو کس الو نے کہا تھا اس کو یہاں بلائے ۔”
“مجھے کیا پتا تھا یہ عورت اس پورشن میں آئیں گیں یہ گئی ہوئی نہیں تھی اس بڈھے کے ساتھ ۔”
“آج آئیں ہیں ۔ ”
“خدا کے لئے جزلان ۔۔ ورنہ میرا ہاتھ ہوگا اور اس عورت کی گردن ۔”
“تجھے تو کوئی رشتے کا لحاظ ہی نہیں رہا زلنین شرم سے مر جانا چاہئیے تجھے ۔”
“اس سے پہلے میری بیوی کو پتا چل جائے میں ایک جن ہوں تو جلدی آ اور اگر ہما میرے سے دور گئی سب سے پہلے تجھے اللہ کو پیارا کروں گا ۔”
“پہلے اس مصیبت سے نکلو تب کچھ کرنا ۔”
“اچھا ابھی نکلتا ہوں ۔”
وہ پھوپھو کی طرف دیکھنے لگا جو ہما کو پرمیس اور زلنین کی جھوٹی سٹوری بڑھا چڑھا کر سُنا رہی تھی بظاہر تو ہما بڑے آرام سے سُن رہی تھی مگر زلنین جانتا تھا کہ وہ کتنے ضبط سے سُن رہی ہے ۔ وہ اس لئے کررہی تاکہ زلنین کو بتا سکے کہ وہ اس کے لئے کوئی فیلنگز نہیں رکھتی ۔
“ام پھوپھو ۔۔ ”
“پرمیس کی ، ہاں بولو زلنین ۔”
زلنین نے ایک نظر انھیں دیکھا اور اس کی نظروں میں اس وقت اتنی طاقت تھی کہ پتا نہیں کیا ہوا پھوپھو نے اس کی نیلی آنکھوں کو دیکھتی ہی محسور ہوگی اچانک وہ گرنے لگی ۔
“او پھو پھو آپ ٹھیک تو ہیں ۔”
اس نے انھیں پکڑتے ہوے نرمی سے کہا ۔ جزلان کھڑا ہوگیا یہ کمینہ اپنے محبوب کے لئے کسی حد تک جا سکتا ۔ ہما بھی تیزی سے آگئے بڑھی ان کو تھامتے ہوے کہ زلنین نے اسے ٹوکا ۔
“ہما انھیں ہاتھ نہ لگاو ۔۔۔۔۔”
وہ اچانک ہی چیخ پڑا ہما ایک دم ڈر کر پیچھے ہوئی ۔ اس کی آواز ضرورت سے زیادہ بھاری اور اونچی تھی ۔
پھر اس نے پھوپھو کو اپنے زیر کر کے ان کے منہ سے عجیب آوازیں نکالی ۔
“زلنین انھیں کیا ہوا ہے ۔”
ہما کو ان کی بے حد عجیب آوازوں سے خوف آرہا تھا ۔
“کچھ نہیں تم باہر جاو ۔۔ میں تمھیں سب بتاؤں گا ۔”
وہ مڑ کر اسے تسلی دینے لگا پھر اس نے ایک اور کام کیا جان بوجھ کر تاکہ ہما کا دل نرم پڑے اُف اس محبت کے لئے بھی کیا کرنا پڑتا ہے ۔ پھوپھو کے لمبے ناخنوں سے اس نے اپنے چہرے پہ وار کروایا ۔ ہما چیخ پڑی ۔
“یہ شخص پاگل ہوگیا ہے ۔” اور زلنین بھپری ہوئی پھوپھو کو سنبھالنے لگا جو اب چیخ رہی تھی ۔
“میری بچی میری بچی ۔”
ہما ان کو دیکھنے کے بجائے زلنین کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ بڑا سا ناخن کا نیشان آگیا تھا ۔
یہ ان کو کیا ہوا تب تک جزلان کو آنا پڑا کہ یہ سر پھرا جن مزید کس حد تک چلا جائے ۔
“ہما میں کیا کہہ رہا ہوں ۔”
پھر ایک اور اٹیک زلنین صاحب نے اپنے اوپر کروایا ۔
جزلان نے اسے پھوپھو سے الگ کیا جو اب اس کی اثر سے نکل کر ایک بولتے بولتے جزلان کی بازوں میں جھول گئی ۔ زلنین نے اپنے آپ کو سنبھالا ہما تیزی سے اس کے پاس آئی اور پریشانی سے اس کا بازو پکڑ کر اس کا چہرہ دیکھنا چاہا ۔
“یہ کیا ہوا تھا انھیں اچانک سے ، آپ ٹھیک تو ہونا ۔”
زلنین ہلکہ سا سر اُٹھا کر جزلان کو چڑانے والی مسکراہٹ سے دیکھا کہ اب سنبھال میں تو چلا ۔
“کوئی نہیں بس دورہ پڑتا ہے ان کو چلو ۔”وہ آرام سے کہتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا اور اس کو ساتھ لے کر آگئے بڑھنے لگا کہ ہما نے اپنا ہاتھ چھڑوایا ۔
“نہیں پہلے اپنا زخم پہ کچھ لگا دو کیا بہت زور درد ہورہا ہے ۔”
اس کی فکر پہ زلنین نے مڑ کر اس دیکھا وہ اس کے بجائے اس کے گال پہ نیشان دیکھ رہی تھی اور اسے چھونا چاہتی تھی مگر کچھ روک رہا تھا کیا روک رہا تھا زلنین با خوبی جانتا تھا ۔
“ہاں درد ہورہا ہے کسی کی بے رُخی بہت تکلیف دیتی ہے ۔”
وہ ہما کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولا ۔ ہما نے اسے دیکھا پھر ایک دم گڑبڑا گئی ۔
“چلو ہما پہلے ہی اتنی دیر ہورہی ہے آو ۔”
وہ بولتے ہوے اس کا ہاتھ پکڑنے لگا کہ ہما نے ایک دم پیچھے کر لیا ۔
“میں کچھ کرلوں گا ویسے بھی نیشان پڑا ہے خون نہیں نکل رہا ۔”
وہ اس کا نظروں کا مفہوم سمجھ کر اسے تسلی دینے لگا ۔
وہ چل پڑا تو وہ بھی اس کے پیچھے جانے لگا جبکہ اس نے مڑ کر دیکھا ضرور تھا یہ کیا وہ دونوں کہاں غائب ہوگئے شاہد وہ ساتھ والے کمرے میں لے گیا تھا ۔عجیب ہی ہیں سارے خود سے کہتے ہوے وہ زلنین کی پیچھے گئی ۔وہ زلنین کی گاڑی کے قریب آئے جب نے زلنین کو دروازے کھولنے سے پہلے روکا ۔
“زلنین یہ سب کیا تھا ۔”
زلنین جا ہینڈل پہ دھرا ہاتھ رُک گیا نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا ۔
“آپ نے مجھے اپنی پھوپھو کے بارے میں نہیں بتایا، پہلے آپ کہتے تھے کہ میں اکیلا رہتا ہوں ٹھیک دیکھنے میں بھی ایسا لگ رہا تھا ۔ اس کے بعد مجھے پتا چلا کے فائیق ذوالفقار آپ کے چچا تھے ٹھیک ہے یہ بھی مانتی ہوں کہ آپ کے ساتھ ان کے ٹرمز کچھ اچھے نہیں تھے ۔ اس کے بعد آپ کے دو کزن جزلان اور پرمیس لندن سے آئے یہ آہستہ آہستہ آپ کا خاندان کیوں ظاہر ہورہا ہے ابھی تو اتنے رشتے بعد میں پتا چلے آپ کا تو پورا جوائن فیملی سسٹم ہے ۔”
“تو تمھیں جوائن فیملی سسٹم سے اعتراض ہے ۔”
وہ اس کی طرف آکر گاڑی کے فرنٹ پہ بیٹھتے ہوے بولا ۔ ہما نے اپنی آنکھیں گھمائیں ۔
“میں نے یہ نہیں کہا آپ کہتے میں آپ پر ٹرسٹ کروں کیسے کروں آپ ہر طرح سے مشکوک ہیں اور سب سے زیادہ غصہ مجھے اپنے آپ پر آرہا ہے کہ میں نے آپ سے شادی کی ۔”
وہ خاموشی سے اسے سُنتا رہا اس کی خاموشی نے ہما کو چڑا دیا ۔
“بولتے کچھ کیوں نہیں ہے آپ ۔۔۔ زلنین میں آپ کے قریب آنا چاہتی ہوں مگر یہ جو کچھ ہورہا ہے یہ بالکل برداشت سے باہر ہے اور ایک اور چیز آپ منگنی شدہ ہیں ؟ آپ نے مجھے تو دھوکہ دیا ہی دیا پر ساتھ میں اس لڑکی پرمیس سے بھی جس سے آپ نے ۔۔۔۔۔”
“ایک منٹ ایک منٹ پہلی بات ہے کہ میں خاموش اس لئے تھا کہ تمھیں آرام سے بولنے دوں ، تمھارا غبار نکلے
جب ساری بات کلیر ہوجائے تو پھر بولوں ویسے بھی جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو میں صفائی کیوں دوں ، ہما میں تم پر ہر چیز سے بھی زیادہ ٹرسٹ کرتا ہوں تم نہیں کرتی اس میں میں کیا کرسکتا ہوں تکلیف ہوتی ہے پر میں تمھارے دل میں گھس کر اعتماد پیدا کرنے سے تو رہا ۔رہی بات پھوپھو کی ایسی کوئی بات نہیں پھوپھو مینٹیلی ٹھیک نہیں ہے ان کو اکثر دورے پڑتے ہیں وہ بہت عجیب باتیں کرتی ہیں یہ تو کچھ بھی نہیں کل جزلان کو اپنے بیٹی بول رہی تھیں اور میں ہمیشہ کی طرح ان کی ہر بیٹی کا داماد اور جب ان کی باتوں پر کوئی آگئے سے خاموش اور غیر دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو ان کی حالت بگڑ جاتی ہیں ۔ پرمیس انھیں اپنے ساتھ لائی تھی تاکہ ماحول کی تبدیلی ہوسکے
مگر کچھ اثر نہیں ہوا اور میں نے تمھیں ان سے اس لئے نہیں ملوایا تاکہ تمھیں ان سے نقصان نہ پہنچ سکے ۔بس یا کچھ اور بھی رہتا ہے ۔”
وہ اپنی بات کہہ کر اس کے جواب کا منتظر تھا مگر وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس کے آنکھوں میں پیشیمانی آگئی ۔ پہلے اس پر اٹیک ہوا اوپر سے وہ اپنی پریشانی اور درد ظاہر بھی نہیں کررہا ۔وہ اسے سوری کرنا چاہتی تھی مگر کر نہیں پارہی تھی زلنین سمجھ گیا وہ اسے سوری کہلوانا بھی نہیں چاہتا تھا ۔ اس کی کوئی غلطی ہی نہیں اور اگر غلطی ہوتی بھی تب بھی وہ نہیں چاہتا کیونکہ اس نے اس لڑکی سے تمام تر خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کیا ہے اور یہی محبت کا تقاضا ہے ۔
“آو دیر ہورہی ہے ویسے اس گرے ڈریس میں اچھی لگ رہی ہو ۔”
ماحول کا تناو کم کرنے کے لئے اس نے اس کی تعریف کی ۔ ہما نے اسے دیکھا وہ اب اُٹھ کر کار میں بیٹھ چکا تھا ۔وہ اس کی پُشت کو دیکھنے لگی پھر ایک اور بات اس کے دل میں آئی مگر سر جھٹک کر وہ سیٹ پہ بیٹھ گئی لیکن دل بار بار کہہ رہا تھا کہ وہ اس سے پوچھ لیں کیونکہ جو پرمیس کی زلنین کے لئے نظروں میں دلچسپی تھی وہ ہما سے چھپی نہیں رہ سکتی تھی ۔
“زلنین کیا آپ کا پرمیس سے کوئی رشتہ ۔۔۔”
“ہما میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور پھوپھو کا تمھیں ۔۔۔۔
اس کی بات ہما نے کاٹی ۔
“وہ سب میں جانتی ہوں مگر کسی طرح کی انولومنٹ تھی ۔”
اندیشہ اچانک لبوں پر آگیا زلنین کے لبوں پہ بے ساختہ مسکراہٹ آئی وہ اب گھر سے نکل چکے تھے ۔
ہما نے اس کی چہرے پہ گہری مسکراہٹ دیکھی تو اسے انجانے میں آگ لگ گئی ۔
“آپ مسکرا کیوں رہے ہیں ! ۔” اس کے کہنے پر زلنین کھل کر ہنسنے لگا ۔
ہما نے بیگ اُٹھا کر زور سے اس کے کندھے پہ مارا ۔ آنکھیں انجانے میں مرطوب ہوگئیں ۔
“آگ برابر جگہ لگی ہے ۔”
وہ ہنستے ہوے بولا جبکہ وہ اپنے آنکھیں صاف کرتی شیشے کی طرف دیکھنے لگی ۔
••••••••••••••••
“تمھاری ماما کی طبیعت ٹھیک ہے اب ؟ ۔”
زرینہ اس سے ملنے ہاسپٹل آئی تھی ۔ بابا کو شفق نے رات کو یہاں رہنے کے باعث صبح گھر بھیج دیا تھا کہ وہ آرام کر لیں وہ شروع سے بضد تھے کہ شفق چلی جائے لیکن شفق گھر نہیں جانا چاہتی تھی ۔اس کے اصرار پر انکل نے انھیں منوا کر بلا آخر اپنے ساتھ لے گئے ۔
فائیق البتہ اس کے ساتھ تھا ۔ ابھی تھوڑے دیر پہلے اس کے لئے کچھ کھانے کے لئے لینے گیا تھا کہ پانچ منٹ بعد ہی زرین کی آمد ہوگئی اور اسے مل کر دلاسہ دینے لگی شفق جو اس دن کی بعد سے اس سے بات نئیں کررہی تھی ۔ ایک دوست کا کندھا پاکر ساری چیزیں بھلا کر اس کے ساتھ بیٹھی رورہی تھی اور زرین نے اس کو تسلی دینے کے بعد اسے تھوڑا حوصلہ ہوا ۔تو وہ شفق کی امی کے بارے میں پوچھنے لگی ۔
“اوپریشن تو ہوگیا ہے مگر ان کی حالت ابھی بھی کریٹیکل ہے بس دعا کرو امی کو کچھ نہ ہو ۔”
“ان شا اللہ شفق وہ بالکل ٹھیک ہوجائے گی تم ٹینشن نہ لو ۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوے بولی ۔
“ویسے تمھیں کیسے پتا چلا ؟ ۔”
شفق کو اچانک خیال آیا صرف ان کو اور فائیق کی فیملی کے علاوہ کسی کو نہیں پتا تھا اور زرینہ کے ٹریمز اپنے نیبرز کے ساتھ کچھ اچھے نہیں تھے ۔
“وہ یونی گئی تھی مس نے اطلاع کی تھی آج اتنی اہم پروجیکٹ تھا اور شفق نہیں آئی پھر انھوں نے تمھارے گھر پر کال کروائی تو تمھارے بابا نے فون اُٹھایا کہتے ہیں کہ وہ ابھی ہاسپٹل سے آئے ہیں اور تمھاری مدَر کو ہارٹ اٹیک آیا ہے میں چونکہ تمھارے گھر کے قریب رہتی ہوں تو انھوں نے مجھے بتادیا کہ میں خبر لے لو ۔”
“بہت شکریہ تمھارے آنے کا ، آئیم سوری میں تم سے لڑ پڑی ۔”وہ بہت مشکور نظروں سے زرین کو دیکھتے ہوے بولی ۔ زرین نے ہولے سے مسکراتے ہوے اس کا ہاتھ تھپ تھپایا ۔
“کوئی بات نہیں یار ہوجاتا ہے ۔”
“شفق تمھاری کافی ۔”
فائیق کی آواز پہ وہ دونوں سر اُٹھا کر مڑے اور زرینہ کا حیرت سے منہ کھل گیا فائیق یہاں پر ۔فائیق کے ہاتھ میں کافی کے دو کپ تھے ۔زرینہ کے تاثرات یک دم عجیب ہوگئے جبکہ فائیق بالکل نارمل انداز میں ان دونوں کو دیکھتا ہوا شفق کو کپ دے کر جانے لگا جب شفق نے روکا ۔
“زری ایک سیکنڈ ! فائیق آپ میرے ساتھ آئے ۔”
وہ اُٹھ کر فائیق کا ہاتھ پکڑ کر سائڈ پہ لے کر گئی اور زرین ان دونوں ک سائڈ پہ جاتا ہوا دیکھنے لگی ۔ اس نے اپنی مٹھی زور سے بیگ پر بھینچ لی تھی ۔لب کو اس نے زور سے دبا دیا تھا ۔
فائیق جو کسی لڑکی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا ۔ آج اس عام سی شکل و صورت والی کو ہاتھ پکڑنے کے اجازت بھی دے دی اور اس کے ساتھ ہاسپٹل میں بھی رہا اور اب اس کے خیال سے اس کے لئے کافی بھی لے آیا ۔ ہاں وہ اس لڑکی سے محبت کرتا ہے اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ لیا تھا ۔ اس کی تھکی ہوی آنکھوں میں شفق ہی شفق تھی ۔
کچھ بھی سوچے بغیر وہ یہاں سے اُٹھ گئی اور شفق جو فائیق کو جانے کا کہنے لگی تھی اور زری کے متعلق بھی پوچھنا تھا ایک دم زرینہ کو بھاگتا ہوا دیکھ کر اسے جھٹکا لگا ۔
“زری ! ۔”
“اسے کیا ہوا ؟ ۔”
فائیق نے بھی حیرت کا اظہار کیا ۔
•••••••••••••••••
“ہیر یو گو ۔”
وہ بلا آخر پہنچ گئے راستے میں ان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔ ہما سمجھ رہی تھی کہ وہ اسے منائے گا مگر ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ۔ وہ بالکل خاموش تھا اور ہما کو اس کی خاموشی بے حد بُری لگ رہی تھی ۔ وہ خود سے بار بار الجھ رہی تھے پہلے چاہتی وہ اسے تنگ نہ کرے اور جب وہ اسے کچھ نہیں کہہ رہا تو پھر چاہتی ہے کہ وہ اس سے بات کرے ۔
زلنین بار بار اس کی بدلی کیفیت پہ غور کررہا تھا ۔ اس نے اس وقت الجھی ہوئی ہما کو ڈسڑب کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ جب وہ پہنچ گئے تب وہ بولا ۔
ہما غصے سے بیگ اُٹھا کر جانے لگی جب زلنین نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
“تم بہت عجیب ہو ہما ۔”
“تو اس عجیب لڑکی سے شادی کرنے کو کس نے کہا تھا کرتے نا اس سمجھدار خوبصورت گورے چٹے رنگ کی پرمیس سے ۔”
وہ جل کر بولی ، زلنین کو ہنسی آنے لگی ۔
“تمھیں پتا ہے ہما ، میں نے تمھاری علاوہ کسی کو نظر اُٹھا کر نہیں تھا یہ تو تم بتا رہی ہو اس کا رنگ چٹا اور مجھے اب پتا چلا ۔”
“پلیز ! یہ چیزی لائنز مت بولے ۔۔۔ ”
“میں کب بول رہا ہوں جو سچ ہے وہ بتا رہا ہوں ۔”
“میرے سے سمپل آپ نے ہمدردی کی تحت کی تھی ورنہ مجھ میں کیا تھا ۔”
وہ کوشش کررہی تھی کے اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آئے ۔ وہ نہیں برداشت کرسکتی بیشک وہ اسے اب بھی بُرا لگتا تھا ۔ لیکن دل کو ٹھیس اُٹھتی تھی اگر زلنین کے ساتھ کسی اور لڑکی کا ذکر ہوا کرتا تھا ۔
زلنین نے ہاتھ اپنی ٹھوڑی پہ رکھی ۔
“یہ تو دل میں جھانک کر پوچھو ہما کے تم میں کیا ہے ۔ ریلیکس رہو اور جاو کلاس کے لئے لیٹ ہورہی ہو اور اپنا خیال رکھنا اور میری ہیدائت پہ عمل کرنا ۔
اس کے ہاتھ کو اُٹھا کر اسے نرمی سے چومتا وہ چھوڑ چکا تھا ۔
ہما اس کے صفائی نہ دینے پر تیش آرہا تھا ۔ وہ کچھ کہہ کیوں نہیں رہا کل تک جو پاگلوں کی طرح بار بار ہر چیز کی وضاحت دے رہا تھا ۔ آج بالکل چُپ اور زلنین اسے کیا بتاتا یہ سب وہ اس کی ماں کے کہنے پر کررہا ہے اس نے ہر چیز اللہ پہ چھوڑ دی ہے ۔ وہ جو کچھ کرے گا ۔ بہتر ہی کرے گا ۔
••••••••••••
پرمیس سر جھکائے کھڑی تھی ۔ وہ کُرسی پہ جھولتی اپنی تسبی کے دانوں کو کچھ چھوتے پڑھ رہی تھی ۔
اس کی آنکھیں بے حد لال تھیں جبکہ سیاہ بال کو اونچے جوڑے کی شکل میں لپیٹا ہوا تھا ۔ پیچھے سے ایک لڑکی آئی اور اس کے پیچھے سے جوڑے کو کھولا
اس کے لمبے بال کھل کر زمین میں آچُکے تھے ۔
اس لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر برش اُٹھایا اور اس کے سیاہ لمبے بالوں پہ کنگھی کرنے لگی پھر اس کو دیکھ کر گویا ہوئی تو کا لہجہ نفرت اور حقارت سے بھرپور تھا ۔
“اگر رہائی چاہتی ہو تو ہمارا کام کرنا ہوگا تمھیں ۔”
پرمیس کے پیروں میں زنجیر باندھی گئی تھی ۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا وہ سامنے بے بسی کا مجسمہ بنی ان کے حُکم کی منتظر تھی ۔
“کسی بھی طرح تمھیں اس کا کو بون میرو لانا ہوگا ۔ اب یہ تم پر ہے کہ تم کیسے لاتی ہو ۔”
وہ اس عورت کی کنگھی کررہی تھی ساتھ میں پرمیس کو دیکھ کر ایک ایک لفظ کو آئستگی سے ادا کررہی تھی ۔ آس پاس کی کھڑکھیاں کھلی ہوئی تھی وہاں تیزی ہوائیں اور سور کی آوازیں آرہی تھیں ۔اس کی آوازوں سے چیر پہ بیٹھی عورت کے دل میں عجیب سا سکون پھیلتا جارہا تھا مگر آنکھوں کی تپش اب بھی برقرار تھی جیسے یہ آواز وہ ان جانوروں کی نہیں بلکہ کسی اور کے حلق سے سُنا چاہتی تھی اور یہ آواز کسی ذبع ہوے وے تڑپنے ہوے جانور کی طرح ہو ۔
“اور ہاں کوشش کرنا اس کے ناخن کا ایک ٹکڑا بھی لے آنا اور جہاں تک ممکن ہوسکے اس جنزادے کی غیر موجودگی میں ہو اگر ایسا ہوا تو سزا کے لئے تیار رہنا ۔”
“جی ۔”
پرمیس کی مری مری سے آواز نکلی ۔
“شاباش ! یہ سب تیس مئی سے پہلے ہوجانا چاہئیے یعنی کے دو ہفتے ہے تمھارے پاس یہ کام کرو پھر تو ہماری رہاہیں آسان ہوجائے گی ۔”
اس کی لڑکی کی بات پر چیر پہ بیٹھی عورت کے لال آنکھوں میں عجیب سی چمک آگئی تھی اور اس چمک میں ایک انتظار تھا وہ دعا کررہی تھی کہ کب وہ پل آئے اور کب وہ ہما زولفقار کا آخری پل انجوائی کرے ۔

اس نے ایک انجیکشن پھوپھو کی گردن کے قریب لگایا اور لگانے کے بعد اس نے پھوپھو کو ہلکہ سا جنجھوڑا
“پھوپھو ۔۔۔پھوپھو ۔”
اس کے کہنے پر پھوپھو نے اپنے آنکھیں با مشکل کھولی پھر اسے دیکھ کر دوبارہ بند کردی کیونکہ ان سے کھولنا مشکل ہوتا جارہا تھا ۔
“زلنین کے بچے یہ کیا کردیا ۔”
وہ ایک اور لگا کر ان کے اُٹھنے کا انتظار کررہا تھا مگر پھوپھو کی آنکھیں کھلتی پھر بند ہوجاتی ۔
جزلان نے سوچا تھوڑا سا ٹائیم دیتے ہیں تب تک وہ شیشے نما کمرے میں دیکھ کر آئے وہ مڑنے لگا تو اسے چارسو چالیس کا جھٹکا لگا ۔وہ کچھ دیر اس کھڑی ہوئی شخصیت کو دیکھتا رہا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا پھر اس کے لب ہلے ۔ تو آخر انھیں اٹھارہ سال بعد آنے کا خیال آہی گیا ۔
“بابا ۔”
یشب ذولفقار سفید کوٹ اور پینٹ میں آنکھوں سے چشمہ اُتار کر اپنے بارعب سنیجدہ شخصیت سے اپنے بیٹے کو سرتاپا دیکھنے لگے جو کافی بڑا ہوگا تھا ۔
“تم جزلان ہی ہونا ۔”
فائیق کی طرح ان کی بھی آواز گونج دار تھی پورے گھر کے دروں دیوار ہل جاتی تھی ان کے آواز سے ۔
جزلان نے جھٹکے سے انھیں دیکھا وہ اسے پہچان بھی نہیں پائے ہاں وہ کیسے پہنچاتے وہ تو چلے گئے تھے جب وہ ایک سال کا تھا ۔ جزلان کو اس معاملے میں فرق نہیں پڑتا تھا ۔ ان کو دیکھ کر نہ خوشی ہوئی ، نہ دُکھ نہ غصے عجیب بات تھی وہ کوئی احساس محسوس ہی نہیں کررہا تھا ان کو دیکھ کر ۔جزلان نے سر اثبات میں ہلایا .وہ اس کے سر ہلانے پر بولے ۔
“کافی بڑے ہوگئے ، اچھا ہے باقی سب کہاں ہے اور یہ کشف کو کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا ۔”
کہتے ساتھ ہی وہ اندر داخل ہوے اور بستر پہ درواز کاشف کو دیکھا جو آنکھیں موندیں ، ہوش و خور سے بیگانہ تھی ۔جزلان ان کو اوپر سے نیچے تک دیکھا جارہا تھا پھر تلخی سی مسکراتے ہوے اس نے ہما کی بات کو سوچا ۔
“اب ہر کوئی آہستہ آہستہ آتا جارہا ہے ، ابھی میرے بابا آئے پھر ماما آئیں گیں پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے سے سوچ میں تھا کہ یشب ذولفقار نے اس کو سوچ کی دُنیا سے نکالا ۔
“کہاں گُم ہو بتاو مجھے کیا ہوا کشف کو ۔”
“ککک کچھ نہیں وہ بس ان کی کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی ، بس آرام کررہی ہے ۔”
“تو یہ اتنے بھاری ٹیکے کیوں پکڑے ہیں ، کیا کررہے تھے ۔”
ان کی سخت آواز پہ باز پرس کرنے پر جزلان نے ایک نظر دیکھا اور ہلکہ سا سر ہلاتے ہوے ہمت کرتے ہوے بولا ۔
“اس ٹیکے سے ان کو تکلیف نہیں ہوتی ۔”
سپاٹ لہجہ ۔
“ہو مگر اسے ہوا کیا تھا ۔”
“آپ کیوں آئے ہیں یہاں ۔”
یہ بات اس نے دل میں کہی تھی اور بےزاری سے جواب دیا ۔
“بس دورے پڑتے ہیں انھیں ۔”
“دورے ؟ ۔”
وہ زچ والے انداز میں مٹھیاں دباتا گہرا سانس لے کر تحمل سے بولا ۔
“آپ کب آئے ؟ دادا سے ملے آپ ۔”
اس کے بات بدلنے پر یشب نے اسے ایک نظر دیکھا اور گویا ہوے ۔
“ہاں بابا کے کمرے میں گیا تو ملازم سے پتا چلا وہ گئے ہوے ہیں پھر فائیق کا پتا کرنا چاہا تو وہ بھی سُنا ہے کہ وہ یہاں آہی نہیں رہا کسی کو اس کے بارے میں کچھ نہیں پتا جب بچوں کا پوچھا تو اس نے بتایا زلنین صاحب تو ڈیوٹی پر گئے ہیں ، پرمیس بھی نہیں ہے مگر تم اور کشف موجود ہو ۔ اس لیے اِدھر آیا ۔”
“اچھا ! ۔”
جزلان ان کی بات پہ صرف اتنا کہہ سکا ۔
“آپ چلے دادا کچھ دیر میں آتے ہونگے یا تب تک آپ اپنے کمرے میں جاکر آرام کر لیں ۔”
“گھر کا نقشہ تبدیل ہونے کی وجہ سے مجھے نہیں معلوم کہ میرا کمرہ کون سا ہے ۔”
“اُف ! ایک جن ہوکر بھی اتنا بھولاپن ۔”
دل میں کہتے ہوے وہ بلا آخر بولا ۔
“چلیے میں آپ کو آپ کے کمرے کی طرف لے جاتا ہوں ۔”
“ہو ، تم کیا کررہے ہو آج کل ۔”
“سائینٹسٹ ہوں ۔”مختصر سا جواب ۔
“بڑے بھیا کی طرح ۔”
ان کا لہجہ بے حد عجیب تھا جزلان نے توجہ نہ دی ۔
“اچھا ہے مگر ان کی طرح اوور سمارٹ مت بنا ۔”وہ اب سڑھیوں کی طرف چڑھ رہے تھے تب یشب نے کہا ۔ جزلان نے انھیں مڑ کر دیکھا اور الجھن امیز نظروں اپنے اوپر پاکر یشب عجیب انداز سے مسکرائے ۔
“دیکھو اچھی بات ہے بنو ضرور بنو مگر اگر ایک چھوٹا سے مشورہ دوں تو عمل کرو گے ۔”
وہ اب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ۔ ان کی بھی آنکھیں فائیق سے ملتی مگر ان کا رنگ گہرا سانولا تھا جو ان کے سارے نقوش کو مانند کرجاتا تھا ۔
“جی کہے ۔”سپاٹ لہجہ ۔
“دیکھو تم میرے بیٹے ہو گلہ بھی ہوگا تمھیں کہ اتنے سالوں بعد آیا ہوں اور اپنے بیٹے کو نصیحت بھی دینے کا فرض سمجھتا ہوں جبکہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا اس کے لئے جو ایک باپ کرتا ہے ۔ میرے بغیر تم ٹھیک بھی لگ رہے ہو خیر کہاں تھا میں ہاں اپنے پروفیشن کو اپنے پروفیشن تک ہی رکھنا اسے پرسنل لائف نہیں آنی چاہیے ورنہ نقصان اُٹھاو گے ۔”
وہ اس کا کندھا تھپ تھپا کر چل پڑے جبکہ جزلان عجیب سی الجھن لئے انھیں جاتا ہوا دیکھنے لگا ۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا وہ اچھلا مڑ کر دیکھا تو پرمیس کھڑی ہوئی تھی ۔
“تم ! ۔”
پرمیس مسکرا پڑی ۔
“جن پہ ڈرتے ہیں یہ مجھے اب پتا چلا ۔”
“تم جیسی سفید بھوتنی ہو تو انسانوں کو کیا جنوں کو بھی ڈر لگے خیر کہاں تھی ۔۔۔”
جزلان کے تیزی سے کہنے پر وہ ہنسی ۔
“کیوں پیار ہوگیا ہے مجھ سے ۔”
“استغفراللّٰہ ! ۔”
جزلان نے کہتے ساتھ بقائدہ کانوں کو ہاتھ لگائے ۔
“میرے پہ اتنا بُرا وقت نہیں آیا کہ میں اپنے سے بڑی وہ بھی چڑیل نامہ جن سے محبت کروں ۔”
“خیر مجھے بتاو گے زلنین کہاں ہے ۔”
“کہاں ہوگا وہ جوڑوں کا غلام ۔”
جزلان کی زبان پھسلی پھر اس نے اردگرد ڈرتے ہوے دیکھا کہ کہی یہ غالب نہ ہوجائے پھر پرمیس کی نظریں پاتے خود پہ قابو پایا ۔پرمیس نے الجھن سے اسے دیکھا ۔
“جوڑوں کا غلام ؟ ۔”
“بیرا غرق کرے تیرا جزلان ۔”
“آج تمھیں پتا ہے کون آیا ہے ؟”
اس نے بات بدلتے ہوے پرمیس سے کہا ۔
“کون ؟”
“یشب زولفقار ۔”
“کون یشب ۔۔۔ او ماموں شیبی وہ کب آئے ۔”
اس نے حیرت سے پوچھا ۔
“پھوپھو کو ٹیکے لگا رہا تھا مڑا تو کھڑے ہوے تھے ۔”
اس نے اپنے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوے کہا ۔
“کیا کہتے ہیں ۔”
اس نے اپنے بازو پہ پہنے بریسلٹ کو چھیڑتے ہوے دیوار کے ساتھ لگتے ہوے کہا ۔
“کہتے ہیں پرمیس کو دو لگاو جس نے زلنین کا جینا حرام کیا ہے ۔”
پرمیس کی آنکھیں لال ہوگئیں ۔
“جزلان میں اب اسے کچھ نہیں کہتی ۔”
“اچھا تو اب اس کا پوچھ کیوں رہی ہو ۔”
“تم زلنین کے چمچے کیوں ہو ؟”
“او ہیلو میں کسی کا چمچہ نہیں ہوں ، بھائی ہے میرا ۔”
“اتنے بھائی ہوتے نا تو اس ہما نامی لڑکے سے ہر ممکن دور رکھنے کی کوشش کرتے ۔”
جزلان نے چونک کر اسے دیکھا ۔
“کیا ؟ ”
“کچھ نہیں میں چلتی ہوں ممی کہاں ہیں ۔”
“نہیں مجھے بتاو تم نے کیا کہا ۔”
وہ جزلان ہی کیا جو کسی کو پیچھا چھوڑے ۔
پرمیس نے اردگرد دیکھا کہ کہی زلنین نہ آجائے پھر رازداری سے اس کے کانوں اپنی طرف لانے کو کہا ۔
“ایک شرط میں بتاوں گی اگر تم زلنین کو نہیں بتاو گے ۔”
“بات کیا ہے ۔”
جزلان نے آہستہ سے کہا ۔
“ہما کالا جادو کرتی ہے ۔”
“واٹ !! ۔”جزلان کو جھٹکا لگا ۔
“آہستہ ۔۔۔ ”
پرمیس نے اسے تنبیہ نظروں سے دیکھا پھر بات جاری رکھتے ہوے بولی ۔
“سُنے میں آیا وہ ہر خوبصورت جن کو قابو کرتی ہے پھر انھیں اپنا دیوانہ بنا کر اپنے مطلب کا کام نکلواتی ہے پھر جب مطلب پورا ہوجاتا ہے تو وہ انھیں چھوڑ دیتی ہیں اور جن جو اس کے اس قدر دیوانے ہوجاتے ہیں حتاکہ اس پر اپنے موہر لگا دیتے ہیں پاگل ہوجاتے ہیں اس پاگل پن کے نتیجے میں اپنے اردگرد سب کو مار دیتے ہیں ۔ اپنے لیے وہ روگ پا لیتے ہیں یا خود کو بھی ختم کر ڈالتے ہیں ۔ ”
اس کی بات پر جزلان کو پسینہ چھوٹ گیا ۔
“قتل ۔”
“موہر ۔”
“دیوانگی ۔”
“روگ ۔”
پرمیس بولی جارہی تھی اور جزلان کا سر چکڑا رہا تھا
فائیق اور زلنین کے واقعات سامنے گزر رہے تھے ۔ زلنین جو کسی لڑکی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا
اچانک سے ایک عام سی شکل و صورت والی لڑکی پہ عاشق وہ بھی عام سے عشق نہیں پاگلوں والا جنون اور دیوانگی سے بھر پور عشق ۔ مر مٹانے والا عشق ۔
عبادت والا عشق ۔
“اس فائیق نے اپنی محبت کے لئے میرے ماں باپ کو مار دیا ۔”
“نانی بھی اسی کی وجہ سے مری جب انھوں نے اس کی حرکتیں جانی ، امریکہ سے بھی باپ نے نکال دیا ۔”
پرمیس کی آواز پہ اسے ہوش آیا ۔ چونے کی طرح سفید چہرہ لئے وہ اسے دیکھ رہا تھا پھر اس کے لب واہ ہوے ۔
“تمھیں کس نے بتایا ۔”
“قسم سے مجھے بھی حیرت ہوئی تھی اتنی بھولی صورت والی ایسے حرکتیں ، اس کو چھوڑو شفق بھی ایسا کرتی تھی دیکھ لو نا فائیق چاچو کی حالت نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے ۔”
“میں پوچھ رہا ہوں کس نے بتایا ۔”
“یہاں کہ ایک بہت نیک بابا ہیں انھوں نے بتایا ان کے ساتھ یہاں کے آس پاس رہنے والوں نے بھی ۔”
عام سے لہجہ میں اس نے کہا ۔
یا اللہ یہ کیا ہورہا ہے ۔
جزلان کو سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ ہما واقعی میں وہ معصوم سی لڑکی ایسا کر سکتی ہے ۔
دل نے کہا نہیں ۔
دماغ نے کہا سب معصوم چہرے دھوکہ دیتے ہیں ۔
دل نے کہا ۔
“پرمیس حسد کے تحت یہ سب کررہی ہے ۔”
دماغ نے کہا ۔
“جو انجام وہ بتارہی ہے اس کا ثبوت تم خود اپنے نظروں سے دیکھ چکے ہو ۔”
“جیزی کسی کو مت بتانا ، میں خود زلنین کو ثبوت دوں گی لیکن میں چاہتی ہوں تم زلنین پہ نظر رکھو اگر تم اسے بے حد چاہتے ہو میں بھی چاہتی ہوں اس لئے یہ سب کررہی ہو میں اسے گہرے کنویں میں جانتے بوجھتے گرتا ہوا نہیں دیکھا سکتی اور مجھے پتا ہے تم بھی نہیں دیکھ سکتے ۔”
جزلان اسے ایک لمحے کے لیا دیکھا پھر کچھ کہے بنا وہاں سے چلا گیا ۔
پرمیس نے اسے مڑ کر دیکھا اور خاموشی سے سڑھیاں چڑھنے لگی ۔
••••••••••••••••
وہ یونی کے اندر داخل ہوئی اور اپنا ڈیپارٹمنٹ ڈھونڈنے لگی ۔ وہ سٹنفورڈ کی پڑھنے والی اس وقت ایک عام سے یونی کو دیکھ کر کنفیوزڈ ہوگئی تھی جو اپنی طرف سے بہت بڑا تھا ۔
سارے سڈوٹنس اپنے خوش گپوں میں لگے ہوے تھے ۔
کچھ اسے ایک نظر دیکھ رہے تھے ، کچھ اس کو بھرپور نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ہما کو اس وقت زلنین کا ساتھ محسوس ہوا پھر اپنے سوچ پہ اسے غصہ آیا ۔
خود ڈھونڈنے کی کوشش میں اسے اپنی کلاس کہی نہ ملی اوپر سے اس نے کسی سے پوچھنے کی زحمت نہ کی ۔
اس کی کنفیوزڈ سراپا کسی کی نظروں میں آگیا ۔
وہ چلتے ہوے اس کی طرف آیا وہ اردگرد فائل تھامے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی جب کسی کے گلا کنکھارنے پہ اچھل پڑی مڑ کر دیکھا تو ایک چھ فٹ کا خوش شکل لڑکا بلیو جینز اور ہری شرٹ میں اس کو مسکراتے ہوے دیکھ رہا تھا ۔
“ہائی یو آڑ نیو رائٹ ۔”
“جج جی ۔”
وہ ہکلاتی آواز میں بولی پھر خود کو کمپوز کیا ۔
“او آئی سی ۔۔۔ آپ کو اپنا ڈیپارٹمنٹ نہیں مل رہا ۔”
وہ شائستہ لہجے میں کہتا خاصا ڈیسنٹ لگ رہا تھا ۔
ہما نے نفی میں سر ہلایا ۔
“آپ کا ڈیپارٹمنٹ کون سا ہے ؟۔ اور جب ہما نے بتایا تو مسکرا پڑا ۔
“او نائس ! مگر آپ لیٹ آئی ہیں اس وقت تو کلاس شروع بھی ہوگئی ہے ۔”
“کیا کلاس شروع ۔”
“یس پندرہ منٹ ہوگئے ہیں اور سر وقاص بہت سٹرک ہیں آپ دوسرا لیکچر لیں لیجیے گا ورنہ پہلے دن کی بے عزتی شاہد آپ برداشت نہ کر پائے ۔”
“میں جان بوجھ کر تو لیٹ نہیں ہوئی مجھے ٹائیم کا بھی نہیں پتا تھا ۔”
“کوئی بات نہیں ہوجاتا ہے بائی دا وے میں عون رضا ، بزنس ڈیپارٹمنٹ سے ہوں اور آپ ۔”
کہتے ساتھ اس نے کھل کر مسکراتے ہوے اسے اپنے چمکتے ہوے دانت دکھائے ۔
ہما کے تھوڑی گھبراہٹ اس کے دوستانہ لہجے سے کم ہوگئی تھی ۔
“ہما ۔”
“آپ ہمیں جوائن کرسکتے ہیں کلاس فیلو نہیں تو کیا ہوا یونی فیلو تو ہیں اور ویسے بھی آدھی کلاسیں آپ کے ساتھ اٹینڈ کروں گا یونو فرسٹ سمیسٹر ۔”
“دوسرا لیکچر میرا ۔”
“اس میں تو ابھی گھنٹہ ہے اس ٹائیم ہمارا بھی ہوگا آپ کے ساتھ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو آپ ہمارے گروپ کے ساتھ وہ سامنے بیٹھی ہوئی ہے ۔”
اس نے اشارہ کیا ۔وہاں چار لڑکے اور تین لڑکیاں بیٹھے باتیں کررہے تھے ۔
“اگر کوئی اعتراض ہے تو اٹس اوکے آپ ۔۔۔”
“اوکے ۔”
ہما کچھ سوچتے ہوے مان گئی ۔ عون مسکرایا اور اسے آگئے چلنے کا اشارہ کیا ہما نے سوچا اب یہاں چار سال پڑھنا ہے تو سب سے کیسے ہچکچانا ۔ویسے بھی فیلوز ہی ہیں ۔
خود کو مطمن کرتی وہ ان کے ساتھ چل پڑی ۔
•••••••••••••••••

“دادا ! ۔”
دادا ذوالفقار نے مڑ کر جزلان کو دیکھا ۔ وہ اپنے سٹک کے ذریعے اوپر اپنے کمرے میں جانے والے تھے کہ جزلان نے انھیں روک دیا ۔
“ہاں بولو جازی ۔”
“دادا وہ آئیں ہیں ۔” اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بابا کی آمد کے بارے کیسے بتائے دادا کیسا رد عمل دکھائیں گئے ۔
“کون آئیں ہیں ۔”
دادا نے چونک کر اسے پوچھا ۔
“آپ کا بیٹا ۔”
دادا زوالفقار کا چہرے پہ بے یقینی تھی پھر ان ما چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا ۔
“فائیق آیا ہے ۔”
انھوں نے مسرت امیز لہجے میں کہا ، جزلان نے زور سے نفی میں سر ہلاتے ہوے کہا ۔
“نہیں دادا ۔”
“تو پھر کون ؟ ۔”
“بابا ۔”
دادا پہلے نا سمجھی سے دیکھتے رہے پھر بھی سمجھ نہ پائے ۔
“کون بابا ؟”
“میرے بابا ۔” اس کی بات پر دادا نے اسے ایسے دیکھا جیسی اس کی دماغی حالت پہ شبہ ہوا تھا ۔
“طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمھاری ۔”
“کیوں مجھے کیا ہوا۔”وہ حیرت سے بولا ۔ وہ سر جھٹک کر جانے لگے ۔
“ہیں !! دادا کو میری بات سیرس نہیں لگی دادا جی ۔۔ ابو سچ مچ آگئے ہیں اوپر کمرے میں ہیں ۔”
اب دادا تیزی سے مڑے تو گرج کر بولے تو جزلان اچھل گئے ۔
“سٹھایا گئے ہو کیا جیزی ، جاو جاکر آرام کرو ۔”
“یقین نہیں آتا آپ کو تو جاکر دیکھ لیں نا ۔”
“جیزی کہی پی ہوئی تو نہیں ہے ۔”
دادا کی بات پر اس نے کانوں کو باقائدہ ہاتھ لگائے ۔
“لاحول ولا ! کیسی باتیں کررہے ہیں دادا ۔”
“یشب کیسے آسکتا ہے ۔”
“کیوں نہیں آسکتے وہ ۔۔۔۔۔”
جزلان حیرت سے بولا ۔
“پھر تو سب مرے ہوے آجائیں میری بیوی کیوں نہیں آئی ۔”دادا نے تیزی سے کہا ۔
“مرے ہوے مگر ڈیڈ مرے کب ۔۔۔”
“جزلان تمھیں واقعی آرام کی ضرورت ہے ۔”
دادا کہہ کر چل پڑے جبکہ وہ ان کو حیرت سے جاتا ہوا دیکھنے لگا ۔
“یہ دادا کو کیا ہوا ہے ؟ عجیب باتیں کیوں کررہے ہیں ۔خیر مجھے کیا خود ہی دیکھ کر انھیں یقین آجائے گا ۔”
وہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
“توبہ میں اتنا کیوں سوچ رہا ہوں ۔”
کہتے ساتھ ہی وہ کمرے کا دروازہ کھولا اور دیکھا تو وہی چکڑا گیا ۔ آئینہ کدھر ہے ۔
“آئینہ کدھر ہے ؟؟؟؟ ”
یہ ہر طرف دیکھنے لگا مگر آئینہ کہی بھی نہیں پایا گیا ۔اس نے اپنا سر پکڑ لیا چہرہ تو سارا رنگ ہی نچوڑ گیا ۔
“زلنین تو میرا قتل کردے گا ۔یا اللہ کہاں گیا وہ آئینہ ۔”
خود سے بڑبڑاتے ہوے اس نے پھر سے ڈھونڈنا شروع کردیا مگر اسے کو ملنا ہی نہیں تھا کیونکہ چرانے والا اپنا کام کر کے چلا گیا تھا ۔
••••••••••••••••
“آپ نے سکینڈری سڈڈیز کہاں سے کی ہیں ۔”
عون اس کے ساتھ چلتے ہوے پوچھنے لگا ۔ ہما نے اپنے بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا اور اس کی بات پر بولی ۔
“پٹس برگ سے اپنا ہائی سکول مکمل کیا ہے ۔”
“یہ کہاں ہیں ؟”
“پٹس برگ کیلیفورنیا میں ۔” وہ ان کے گروپ کے قریب آرہے تھے ان میں سے ایک لڑکی نے عون کو ہما کے ساتھ دیکھا تو اس کے چہرے پہ دلچسپی ابھری اس کے بعد اس نے کچھ کہا تو اس کے ساری ساتھی اس طرف دیکھنے لگا ۔
“واو تو آپ کیلیفورنیا سے یہاں آہی ہیں مگر وہاں تو اتنی اچھی یونیورسٹی چھوڑ کر پاکستان آنا ۔”
ہما نے سب کو دیکھتے پاکر اسے دیکھا تو ہولے سے مسکرائی اعتماد تھوڑا سا بحال ہورہا تھا ۔
“اصل میں ایک سال میں نے سٹینفورڈ میں پڑھا تھا بٹ میری مدَر کی ڈیتھ ہوگئی اور مجھ سے کچھ ہو نہیں پایا ۔”اس نے آہستگی سے مختصر سی بات کی ۔ اس نے نرمی سے کہا ۔
“او سو سوری ٹو ہیر چلے اچھا ہے یہاں آپ کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوگی آئیے میں آپ کو اپنے گروپ سے ملاتا ہوں ۔”وہ کہتے ساتھ ان کے سامنے آئے سلام کرنے کے بعد عون نے انٹروڈئوس کروایا لڑکیوں میں ایک کا نام فریحہ اور ایک کا ندا تھا ۔ جبکہ ایک علی ، ساجد ، سمیر اور پھر عون یہ سب یونی ورسٹی فیلو کے ساتھ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے ۔ندا عون کی کزن تھی ، سمیر اور ساجد اس کے کالج کے ٹائم کے فرینڈ تھے ۔ علی ندا دونوں کزن تھے اور عون کے ماموں زاد تھے ۔اس طرح سارے کے پورے انٹروڈیکشن جان کر عون نے ہما کو ان کی کلاس فیلو کی بطور تعارف کروایا ۔ہما نے ہلکی سی مسکراہٹ سے اپنا تعارف کروایا ۔
“مگر آپ تو سائیکلوجی پڑھ رہی ہیں ۔ ہماری کلاس فیلو ۔”
“سائیکولجی کی جو کلاس ہوگی گدھو اس میں یہ ہمارے ساتھ ہی ہونگیں ۔”
عون نے ان کی کنفیوژن دور کی ۔علی اور سمیر کے دو باقائدہ دانت نکل آئے ۔ ندا نے ان کے دانت نکلنے پر بولی ۔
“آج کے دن کیا کچھ زیادہ برش کیا ہے تم دونوں نے ۔”دونوں نے ندا کو دیکھا ۔
“نہیں تو ؟ ۔”ان کے ایک دم کہنے پر ہما سمیت سب کو ہنس آگئی ان کو اپنی بات کا اندازہ بات میں ہوا تو اس لئے ندا کو بقائدہ گھورا ۔
“ان لوگوں نے تو زندگی میں کھبی برش کی شکل نہیں دیکھی کرتے ہیں یہ برش ۔”
سجاد نے لقمہ دیا ۔ہما کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آگئی اتنی پریشانی کے بعد وہ پہلی بار مسکرائی تھی اور دور کھڑے شخص نے بڑی شدت سے اس کی مسکراہٹ کی سچائی کو محسوس کیا ۔
“یہ میں کیا کررہا ہوں ۔”
اس کے دل سے آواز نکلی وہ بہت دیر سے ضبط کیے اس منظر کو دیکھ رہا تھا ۔ ہما کے سامنے کھڑے شخص کو بھی اس کا دل کررہا تھا ۔ کھینچ کر پھینک دے اور وہ یہ کرنے لگا تھا مگر ہما کے مسکراتے چہرے نے اسے روک دیا تھا ۔ وہ اتنے دنوں بعد کھل کر مسکرائی آہی تھی اور زلنین اس کی مسکراہٹ کے لئے اپنا جان بھی قربان کرنے کے لئے تیار تھا اور اب تک تو اس لڑکے نے کچھ غلط نہیں کیا تھا اور وہ کر بھی نہیں سکتا تھا ۔ضبط کرنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے یہ زلنین کو اب معلوم ہورہا تھا ۔ علی نے سجاد کی گردن دبوچی ۔
“ان کو چھوڑو او بیٹھو ہما ۔”
ندا کے کہنے پر ہما بیٹھنے لگی جب عون اپنا گرا پین جھک کر اُٹھانے لگا اس طرح ان دونوں کے کندھے مس ہے بس پھر زلنین جو اتنی دیر سے صبر کیے کھڑا تھا ۔ اسے آگ لگ گئی ۔ سیدھا ایک فورس کے تحت زور سے عون کو گرایا ۔
سب کا منہ کھل گیا ۔ انھیں لگا وہ بے ہوش ہوکر گرا ہے ۔
ہما نے منہ پہ ہاتھ رکھا ۔سارے دوست اس کی طرف لپکے ۔
“عون !!! ۔”ندا اس کی طرف لپکی باقی بھی ہما کے قریب کھڑے ہوکر اس کی طرف آئے کیونکہ وہ ہما کے عین سامنے گرا تھا ۔ وہ بھی ایک دم زور سے دور جاکر گرے ۔ سب یونی مین موجود آس پاس سٹوڈنٹ نے حیرت سے انھیں دیکھا تو ان کی طرف بڑھے ۔
“یہ کیا ہوا ؟ ”
“کہی کوئی چیز تو نہیں کاٹی ۔”
“کوئی جوس تو نہیں پیا کینٹین سے ۔”
“اُٹھاوں انھیں ۔ ”
کہی کہی لوگ آپس میں بات کرتے ہوے انھیں اُٹھا رہے تھے ۔ہما تیزی سے اُٹھی اور حیران اور فری نظروں سے ان کے بے ہوش وجود کو دیکھنے لگی مگر باقیوں کو پھر جھڑکنے اور پانی پھینکنے سے ہوش آگیا ۔ عون نہیں اُٹھ رہا تھا ۔
“ہما ۔”
ایک سرد لہر ہما کے اندر دوڑی ڈرتے ہوے اس نے مڑ کر دیکھا تو حیرت سے اس کا منہ کھل گیا ۔ پولیس یونی فورم میں آتا تیزی سے زلنین زوالفقار ہی تھا ۔ اس کی چال میں مضبوطی تھی جبکہ چہرے پہ سختی نمودار تھی ۔ایسا تو تب ہوتا ہے جب اسے غصہ آیا ہو مگر وہ غصے میں کیوں ہیں اور وہ اندر کیسے داخل ہوا اور کس مقصد کے لئے آیا ۔
اس کی نیلی آنکھوں میں جنون اور ملکیت کے علاوہ کچھ نہیں پایا تھا ۔ وہ تیزی سے اس کی طرف آیا اور اس دیکھا ہما ایک دم پیچھے ہوئی تھی اور تیزی سے بولی ۔
“آپ یہاں کیا کررہے ہیں ۔”
“ہما میں ۔۔۔۔۔” وہ کچھ کہنے لگا تھا مگر شور سے ہما دوسری طرف متوجہ ہوئی ۔
اس کے اس طرح کرنے پر زلنین ساکت ہوگیا ۔ ہما نے اسے دیکھ کر اُدھر دیکھا عون کو ہوش آگیا تھا اب سب اس کی طرف بیٹھے ایک جوس دے کر بکس سے ہوا دے رہا تھا ۔ ہما زلنین سے ہٹ کر اس کی طرف بڑھی زلنین نے حیرت سے اسے جاتا ہوا دیکھا ۔کچھ ٹوٹا تھا اس کے اندر سے ۔ وہ ڈر گئی تھی اسے دیکھ کر ۔ اس کے چہرے کے تاثرات جیسے وہ پڑھ چکی تھی ۔ وہ کیوں آیا تھا اس کے لئے مگر وہ نہیں چاہتا کوئی ہوا بھی اسے چھوا تو کسی مرد کا لمس وہ کیسے برداشت کر پاتا مگر ہما کا یہ انداز اسے پریشان کرگیا ۔ہما ان کی طرف آکر خیریت سے پوچھا عون نے دیکھا تو سب کو مسکرا کر مطمن کروایا کہ گرمی کے موسم ہے ہوجاتا ہے ۔ ہما نے باقیوں کو پوچھا تو ان کو بھی خود پتا نہیں چلا کہ آخر ہوا کیا ہے مگر وہ اب نارمل گھاس پہ بیٹھے جوس کےہلکے سپ لیتے ہوے اچانک علی بولا ۔
“اوے کہی اس کینٹین والے نے نشہ تو نہیں ملا دیا تھا سموسوں میں ۔”
“سموسے لڑکیوں نے بھی کھائے تھے ان کو کیوں نہیں اثر ہوے ۔”
سمیر تیزی سے بولا ۔
“ان موتیوں کو ویسے بھی نشہ اثر نہیں ہونا تھا سارا چربی میں جذب ہوگیا ہوگا ۔”
ولی کے کہنے پر ندا نے اس کے سر پہ چپیٹ لگائی ۔
“ارے یہ کون ہیں ۔”
ندا نے مڑتے ہوے ہما کی طرف دیکھا تو وہاں کوئی کھڑا تھا ۔ہما کو شور میں بھول گیا زلنین آیا تھا اس سے بات کررہی تھی ۔وہ اس کی طرف دیکھنے کر اُٹھنے لگی مگر زلنین نے فون نیچے رکھ کر مڑ گیا ۔
“زلنین ۔۔۔ “ہما کو یاد آیا اپنا فون بھول گئی تھی اور زلنین اس لئے آیا تھا ۔ وہ کیسے سوچ سکتی تھی کہ وہ یہاں چیکنگ کے لئے آیا تھا ۔ وہ کب سے زلنین سے اتنی بدگمان ہوگئی تھی ۔ وہ اُٹھ کر اس کی طرف پہنچی ۔
“زلنین ۔”
زلنین مڑا اور اسے دیکھا ۔ ہما نے رُک کر اسے دیکھا ۔
“اگر فون رہ گیا تھا تو آپ کو لانے کی کیا ضرورت تھی ۔”
وہ بہت شرمندگی سے بولی تھی مگر زلنین ظاہر کیے بنا نرمی سے بولا ۔
“سارا دن پریشانی رہتی ، وہاں اُدھر کیا ہوا تھا ۔”
“وہ پتا نہیں ان سب کو چکر آگئے ۔”
“ہو ۔۔۔ اپنا خیال رکھنا باہر گرمی ہے ، میں آؤں گا ۔”
بظاہر تو وہ بڑی نرمی سے بول رہا تھا مگر اندر سے توڑ پھوڑ مچی اس کی شخصیت ہما کو تکلیف دے رہی تھی اس کا جنون اور پوزیسونس اس کو دُکھ دے رہا ہے اور اس کی پریشانی زلنین کے لئے کسی درد سے کم نہیں تھی ۔
“تھینک یو زلنین ۔۔۔۔۔” ہما بس اتنا کہہ پائی تھی ۔ کیونکہ اپنی اس حرکت پہ اسے پیشمانی تھی ۔
زلنین مسکرا کر چلا گیا ۔
وہ مڑ کر آئی ۔
“وہ کون تھا ؟ ”
سب کے سامنے آکر اس نے اپنا بیگ میں فون رکھا تب فریحہ نے پوچھا ۔ہما چونکی ۔
“کس کی بات کررہی ہو ۔”
سجاد نے پوچھا ۔
“وہ ایک پولیس والا ہینڈسم سا کوئی لڑکا آیا تھا ، ہما اس کے پیچھے گئی تھی کون ہے ہما ۔”
ہما کو اس کا ہینڈسم منہ سے سُنا نا جانے کیوں عجیب لگا ۔
“ہاں کون ہے اتنا پیارا بندہ میں نے آج تک نہیں دیکھا ۔”
ندا نے بھی مسکراتے ہوے کہا ۔ سجاد نے ندا کو گھورا ۔ ہما کنفیوژڈ ہوگی ۔ عون نے اس کو دیکھا تو بولا۔
“بھائی ہوگا ! میں نے دیکھا وہ تھارا موبائل دینے آیا تھا ۔”
ہما کا منہ سفید ہوگیا ۔ بھائی ۔۔
“ہیں ! ہما یہ تمھارا بھائی ہے یار اپنے بھائی سے ملواتی ۔”
“کیوں اس کے بھائی سے ٹافیاں لینی تھی تم نے ۔”
سجاد نے دانت پیستے ہوے کہا ۔ندا نے اسے گھورا ۔ ہما نے تھوک نکال کر بامشکل بولی ۔
“نہیں وہ میرا بھائی نہیں ہے ۔۔۔ ”
“تو پھر ۔۔۔۔۔”
دونوں لڑکیوں کو کچھ خاص ہی دلچسپی تھی ۔
“بات سُنا ! ۔”
وہ مڑے ایک خوبصورت سے وائٹ ٹاپ اور گرین پینٹ والی لڑکی ان کی طرف آتے ہوے بولی ۔
“ہاں بولو آفت میرا مطلب ہے عفت ۔”
علی نے اپنے وہی بتسیی اس کو بھی پیش کرتے ہوے کہا ۔عفت نے اسے گھورا پھر ہما کو دیکھتے ہوے بولی ۔
“وہ ایس پی زلنین تھا ؟ ”
اس کے کہنے پر ہما نے جھٹکے سے سر اُٹھایا ۔
“جی “ہما نے ناسمجھی سے ہولے سے ہنستے ہوے بولی ۔
“اللہ کیا واقعی وہ زلنین تھا ۔ آپ کا کیا لگتا ہے ۔”
“وہ اس کا ماموں لگتا ہے یار یہ پولیس والا ہے کون جو آیا سب پر چھا کر چلے گیا ایک ہماری نظروں میں نہیں آیا ۔”
سمیر نے چنگویم منہ میں ڈالتے ہوے کہا ۔ہما کو تو پیسنے چھوٹ گئے پھر ایک دم پیشمانی کی جگہ غصے نے لے لی کیا ضرورت تھی زلنین کو آنے کی ۔ اور اتنا کیوں تعریف کررہی ہیں ۔ جیسے انسان ہوتا ہے ویسے ہی آنکھ ناک کان سب کچھ ہے یہ تو ایسے ایکٹ کررہی ہیں جیسے کوئی آسمان سے اُتری ہوی شہہ آگئی ہو ۔
ویسے اس بات سے کوئی انکار تو نہیں تھا ۔ زلنین کی خوبصورتی میں واقعی خود اسے پہلی نظر میں دیکھتے ہوے پھل گئی تھی اس میں ان لڑکیوں کا کیا قصور ۔
“وہ میرا دوست ہے ۔”
“او آپ کا دوست ہے ۔ کیا پلیز آپ مجھ ملوا سکتی ہیں میں نے زندگی میں آج تک اتنا ہیمڈسم پولیس آفیسر نہیں دیکھا اور اتنا شارپ مائینڈ ۔ اخبار میں اس کے کامیاب ترین کیسس کے بارے میں پڑھا تھا ۔”
وہ مزید بولتی کہ عون اُٹھ گیا ۔
“چلو یہ کلاس مس کروانی ہے ، آئیں مس ہما لڑکیوں کی چکر میں اپنے دوسری کلاس مس نہ کردواجییے گا ۔”
اس نے کہا اور ہما نے سر ہلاتے ہوے تیزی سے اُٹھی ۔
لڑکی کا منہ بن گیا جبکہ علی کی ہنسی چھوٹ گئی ہما نے مڑ کر دوسری طرف دیکھا تھا جہاں زلنین وہاں سے گیا تھا ۔
•••••••••••••••••
“غضب ہوگیا زلنین ۔”
وہ جیسے ہی آفس میں آیا تھا ۔ اس کے پیچھے آتا وجدان تیزی سے بولا زلنین نے اپنے کی چین ٹیبل پہ رکھی اور حیرت سے سر اُٹھا کر دیکھا ۔
“کیا ہوا ۔”اس کے پریشان لہجے پہ وہ الرٹ ہوا ۔
“میں ہوسپیٹل گیا تھا ، نانو کی ڈیڈ باڈی کی انوسٹیگیشن کے لئے ۔”
“ہاں تو ۔”
“باڈی غائب ۔”
“واٹ ۔۔۔۔”
“ہاں اور سب بالکل لا عملی کا اظہار کررہے ہیں ۔ کسی کو کچھ نہیں پتا وہ تو خود حیران ہیں کہ باڈی کہاں غائب ہوسکتی ۔”
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔”
زلنین تیزی سے بولتے ہوے مٹھیاں بھینچنے لگا ۔
“پتا نہیں ۔”
“سی سی ٹی وی کیمرے میں چیک کیا ۔”
وہ کچھ سوچ کر بولا ۔
“تو تمھیں کیا لگتا ہے ، کیمرے پھٹ چکے تھے ۔ مجھے بہت بڑی گڑبڑ لگتی ہے ۔”
“یہ تمھیں اب لگ رہا ہے ۔”
زلنین نے دانت پیستے ہوے کہا ۔
“اس شخص کا مجھے مقصد نہیں سمجھ آرہا آخر وہ چاہتا کیا ہے ۔”
“زلنین ۔”
اس نے مڑ کر دیکھا جزلان کھڑا ہوا تھا ۔
“تم یہاں ۔”زلنین نے حیرت سے اسے دیکھا ۔
“یار وہ ۔۔۔۔”
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا پھوپھو کو تو کچھ نہیں ہوا نا ۔”
زلنین کو اچانک پھوپھو کی فکر ہوگئی ۔
“نہیں ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔”
“ابے بول نا یہ وہ وہ کا کیا سسپنس لگایا ہوا ہے ۔”
وجدان تنک کر بولا ۔
“زلنین یار وہ آئینہ غائب ہوگیا ہے ۔”
جزلان نے کہتے ساتھ اپنے بچاو کے لئے آلا لایا تھا کہ زلنین سُنتے ہوے اٹیک نہ کر دے ۔جبکہ زلنین کو سمجھ نہیں آئی اس بات سے اپنا سر دیوار پہ مارے یا جزلان کا ۔

وہ تینوں اس وقت وہی ہاسپیٹل میں پہنچے تھے ۔ جہاں نانو کی ڈیڈ باڈی غائب ہوگئی تھی ۔ زلنین نے آئینہ غائب ہونے کا سُنتے ہوے کوئی ردعمل نہیں دیا تھا ۔ کیا فائدہ جو چیز غائب ہوگئی ہے اس پر غصہ نکالنے کے بجائے جو چیز اختیار میں ہے اس کا اسمتعال کرنا بے حد ضروری ۔ یہ جو کوئی بھی ہے اس کا شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی مقصد تھا ۔ پاگل کرنا ، نا صرف پاگل بلکہ ان کو دماغی حالت خراب کر کے ان کو خاتمہ کرنا ۔تو اس سے پہلے وہ دونوں مزید پاگل ہوجائے یہ گیم اب گیم کھیلنے والے کے ساتھ کھیلنی ہے ۔وہ اب اس روم میں کھڑے جگہ جگہ کا جائزہ لے رہے تھے کہ کہی سے انھیں ثبوت مل جائے ۔ جزلان نے جگہ جگہ اپنے کیمیکل سپرے کرنا شروع کردیا اور وجدان ٹارچ کی روشنی سے ہینڈل چیک کررہا تھا ۔ زلنین البتہ اوپری حصہ میں لگے ایک ٹوٹے ہوے کیمرے کو دیکھ رہا تھا ۔ ٹوٹنے کی وجہ انسانی سوچ میں تو نا سمجھی اور ناممکن سی بات تھی مگر زلنین دوسری مخلوق تھا اور اسے معلوم تھا کہ یہ کام دوسری مخلوق نے ہی کیا ہے ۔
“یار مجھے سمجھ نہیں آرہی ۔۔۔۔ یہ الو کا پٹھا کون ہے جو نہ صرف تم لوگ بلکہ ہمیں بھی ساتھ گنچکر بنا رہا ہے ۔۔۔۔ جہاں تک میری سوچ جاتی زلنین تم غصے کے تیز چالیس سے زائد لوگوں کو پیٹا ہوگا مگر وہ تم سے کیوں پنگے لیں گئے اور اگر لیگا تو اس طرح کا بدلہ میری سمجھ سے بلا تر ہے ۔”
کچھ نہ پاکر جزلان جنھجھلا کر بولا ۔
“تم تو چُپ ہی رہو ، یہ نہ تمھارا ہی سب کیا دھرا ہو اور لوگ پیچھے زلنین اور ہما کے پڑ گئے ہو ۔”
وجدان نے اسے گھورتے ہوے کہا ۔
“بشر جی ۔۔۔۔ مانا کے آپ اشرف المخلوقات ہیں ۔۔۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے پہ الزام لگانا شروع کر جائے ۔ او میں تو بھول گیا الزام تو اب تک انسانوں ہی نے لگائے ہیں ہم جن تو بیچارے اپنے کام سے کام رکھتے ہیں ۔ ”
“او پلیز جن بابے کام سے کام رکھنے والی بات تو آپ نہ ہی کریں ۔ ہر معاملے تو تم گھسے ہوتے ہو ۔ چاہے وہ انسان کا معاملہ ہو یا جن کا ۔ اور یہ جو جن گھس جاتے ہیں ، لوگوں کو ڈراتے ہیں ۔ کالا جادو میں بھرپور ساتھ دیتے اتنا تو ہم انسان اپنا لیڈروں کا ساتھ نہیں دیتے جتنے تم جن لوگ کالے جادوں میں شریک ہوے ہوتے ہو ۔ اوپر سے عاشق بھی تم لوگ ہی ہوتے ہو اور ایسے عاشق ہوتے ہو کہ مرنے کے بعد بھی اس بیچارے یا بیچاری کا پیچھا نہیں چھوڑتے ۔”
وجدان تو پھٹ ہی پڑا ۔زلنین نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا جزلان کو تو اپنے اور جن کے خلاف بات سُنتے ہی آگ لگ گئی ۔
“میں گھستا ہوں ۔۔۔یہ جو اوپر کھڑا نظر آرہا ہے نا گدھا یہ میرے پاس آتا ہے بلکہ یہ کیا میرے سارے خاندانی بے وقوف گدھے آتے ہیں مجھے سے مدد مانگنے اور میں ہمدردی کے ناتے ان کی مدد کردیتا ہوں لیکن مجھے یہ پھنسا کر بھاگ جاتے ہیں ۔۔۔ اور پھر بھی میں ان کی مدد کرتا ہوں ۔ رہی بات ہم جن کی مداخلت او بھئی ہمارے پاس کون سی طاقت تم انسان لوگ ہمیں قابو میں کر کے غلاموں کی طرح کام کرواتے ہو چاہے کسی سےعشق ہو ، یا کالا جادو ۔۔۔۔ خود یہ کام کرتے ہو اور ہمیں پہ الزام لگا دیتے ہو ، قتل ہم جن لوگ کرتے ہیں کیا ، کرپشن ہم جن لوگ کرتے ہیں ، دھوکہ ہم ہی دیتے ہیں ، جھوٹ بھی ہم ہی بولتے ہیں ، ریپ بھی ہم ہی کرتے ہیں ، نا انصافی بھی ہم ہی کرتے ہیں ، ظلم بھی ہم ہی کرتے ہیں دوسرا کا دل ہم ہی دکھاتے ہیں ۔ تم انسان تو کچھ کرتے نہیں ہو سوائے دوسرے کو نا حق ہی ٹکراتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔”
جزلان کی بات کڑوی تھی کیونکہ اس میں سچ تھا ۔ وجدان کو تھوڑی شرمندگی ہوئی اس سے پہلے کچھ کہتا زلنین کی غضیلی آواز نے ان دونوں کی بعث کو ختم کروایا ۔
“ہوگیا تمھارا جزلان ۔۔۔۔ اوارڈ کسی نے نہیں دینا تمھاری اس بات پر ۔ زیادہ آئین ساٹئن اور سٹیفن ہاکنگ بنے کی کوشش مت کرو ۔۔ اور تم وجدان بچے سے بعث کررہے ہو دونوں ہی عقل سے پیدل ہو یہاں انوسٹیگیشن کرنے آئے ہیں عمران کا جلسہ اٹینڈ نہیں کررہے ۔ چلو یہاں سے کچھ نہیں ملا اور آئینہ گھمانے پر اگر میں نے کچھ نہیں کہا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے جزلان کہ تم میری ٹانگ کھینچنے لگ جاو ۔۔ ”
“تو کررہے ہے نا انوسٹیگیشن اب اس میں ہمارا کیا قصور ہے کہ مردے کے بو کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں مل رہا ۔”
جزلان نے تنگ کر کہا ۔
“یہ بات مجھے کہنے چاہیے تھی تمھارے لئے تو کھانا ہے ۔”
وجدان کے کہنے پر زلنین نے ان دونوں کو دیکھا ، جزلان کی حالت ایسی ہوگئے جیسے وہ اب وہ متلی کرنے والا ہے ۔
“میں آدم خور نہیں ہوں ، تم انسان کھاتے ہو یہ سب کھبی سُنا ہے جن آدم خور ہے ، انسان ہی آدم خور ہوتے ہیں ۔”
“شٹ آپ بوت آف یو جسٹ شٹ آپ ۔”
اس کی دھاڑ پر جزلان پیچھے ہوا ۔ شکل تو جیسے بھیگی بلی والی بن گئی ۔
” سو گدھے مرنے کے بعد تم دونوں پیدا ہوے ہو ، ایڈیٹس۔”
“لیکن ابھی تم تو زندہ ہو ۔۔۔”
وجدان کے کہنے پر جزلان کی ہنسی چھوٹ گئی ۔
زلنین نے اسے دیکھا ۔۔ وجدان کی بتیسی نکلی ہوئی تھی ۔
“اپنی اس بتیسی کو اندر کرلے ایک چپیٹ مارنے ہے سارے کے سارے دانت شہید ہوجائے گئے ۔”
وہ آگئے سے کچھ کہنے لگا کہ زلنین کا فون بج اُٹھا اس نے دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا ۔ یہ تو ہما کی گھر کی کال تھی ۔ ہما تو یونی میں ہے اور نانو گھر میں موجود ان کا اس سے کیا لینا دینا ۔۔۔۔ کون ہوسکتا ہے ۔اس نے جلدی سے فون اُٹھایا ۔
“ہیلو ۔”
“زلنین ۔”
اس آواز کو سُنتے ہوے زلنین رُک گیا ۔یہ آواز اس آواز کو سُنتے ہوے اس تیش آجاتا تھا ۔ اس شخص کی آواز سے اسے کتنی نفرت تھی ۔ اس آواز سے کیا اس شخص سے بھی ۔ پہلے تو وہ ساکت تھا اس کے بعد وہ تیش کے مارے فون تیزی سے بند کر کے اسے توڑنے لگا تھا کہ فائیق نے روک دیا ۔
“زلنین فون بند کرنے سے پہلے میری بات دھیان سے سُنا پلیز ۔۔۔۔ یہ بات ہما سے ریلیٹٹ ہے ۔۔۔۔”
زلنین نے ان دونوں کو دیکھا وہ بھی زلنین کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ دیکھ کر حیران ہورہے تھے اور اسے اشارے سے پوچھ رہے تھے کہ کس کو فون تھا ۔
“مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سُنی ۔”
سرد لہجے میں کہتے ہوے وہ فون بند کرنے لگا کہ فائیق کے التجا امیز بے بس آواز آئی ۔
“دیکھو زلنین ۔۔۔۔ اگر تم ہما کو چاہتے ہو تو اس کی خاطر سُن لو ۔۔”
“پہلے بات ہما کا نام بھی آپ اپنے منہ سے نہ لیں ۔۔۔ دوسرا میں اسے چاہوں یا نہ چاہوں اس سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے تیسرا آپ اس کے گھر میں کیا کررہے اور اس کے گھر کے فون سے مجھے کیوں کال کررہے ہیں اس کے پیچھے کیا مقصد ہے آپ کا ۔”
اس کی کاٹ دار آواز پر جزلان کو جھٹکا لگا ۔
“فائیق چاچو ۔”
“کینسرن ہے زلنین ۔۔۔۔۔ بہت بڑا کینسرن کیونکہ تم ہما کے باپ سے بات کررہے ہو ۔۔۔۔ اور میں اس وقت اس لئے یہاں ہوں کیونکہ مجھے ہما کی نانی نے یہاں بلایا ہے ۔”
زلنین لڑکھڑایا جزلان اور وجدان نے اسے بروقت پکڑا ۔
“کیا زلنین بڈی سب ٹھیک ہے نا ۔”
“آپ جھوٹ بول رہے ہیں بکواس کررہے ہیں ۔ دیکھیے یہ سب کر کے آپ میری نظروں میں اچھے نہیں بن سکتے ۔ اور ہما کے باپ شرم آنی چاہیے آپ ہما کے ساتھ ساتھ اس کے ماں پر بھی بڑا دھبہ لگا رہے ہیں ۔ اتنے گھٹیا ہونگے آپ فائیق زولفقار میں نے سوچا نہیں تھا ۔”
زلنین کی آواز پھٹنے کے برابر ہوگئی ۔ آنکھیں تو جیسے لال انگارہ ہوکر باہر سے شعلے لپک رہی تھی ۔ دوسری طرف خاموشی چھا گئی پھر ان کی گھمبیر آواز آئی ۔
“شفق سے میرا نکاح ہوا تھا زلنین اور اسی طرح ہوا تھا جس طرح تم دونوں کا ہوا ہے۔ ہما جائز بیٹی ہے میری ۔”
“ایسا ہو نہیں سکتا ۔۔۔۔ میں مان ہی نہیں سکتا چلو نکاح ہوگیا لیکن بیٹی ایک جن اور انسان کا ایک ساتھ بچہ نہیں ہوسکتا ۔۔۔”
“تو میں نے کون سا کہا کہ ہوسکتا ہے ۔ زلنین میں انسان ہوں یہ بات ہمارے گھر میں سب کو معلوم ہے سواے تمھیں اور کشف کے ۔”
اب تو زلنین کو لگا وہ ہل نہیں سکے گا ۔جزلان کو آواز آگئی تھی ۔ او نو چاچو نے کیوں بتادیا ۔
“زلنین ہوا کیا ہے ۔”
وجدان کو کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔ جزلان نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
“جانتا ہوں تم شاکڈ ہو ۔۔۔۔ ہونا بھی چاہئے مگر میں نے تمھارا والا کام نہیں کیا تھا زلنین میں شفق کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ میں مکمل ایمان دار کے ساتھ اس کی زندگی میں داخل ہونا چاہتا تھا ۔ ہاں میں نے غلط کیا ۔۔ اسے یہ نہ بتا کر کہ میں پہلے جن تھا ۔ اور اس بات پر وہ ساری زندگی مجھے سے نفرت کرتی رہی اور میرے لئے نفرت دل میں رکھے وہ اس دُنیا سے چلی گئی ۔”
کہتے ساتھ وہ خاموش ہوئے ۔ زلنین ان کو سُن رہا تھا ۔ وہ مانتا یا نہ مانتا لیکن ان کے آواز ، الفاظ میں سچائی کی ایسی شدت تھی کہ وہ دل سے انکار نہیں کرسکتا تھا ۔چاچو کھبی جھوٹ نہیں بولتے ۔
“میری زندگی کا پہلا اور آخری جھوٹ نے مجھے تباہ کردیا زلنین ۔”
ان کی آواز بھاری ہوگئی تھی ۔
“تم بھی سوچ رہے ہو میں اور انسان کیسے ؟ عجیب بات ہے نا ۔”
“جس آئینے میں تم جانے والے تھے اس آئینے میں بھی گیا تھا ۔ بھیا نے بھی مجھے وہی آئینہ بنا کردیا تھا لیکن سچ کو تلاش کرنے نہیں بلکہ اپنے اصل کو تلاش کرنے ۔۔۔ وہاں بھیا نے بتایا کہ اس کے ساتھ مجھے ترکی سے لایا ہوا ایک پھول لانا ہے بلیک روز اور اس کو اپنے اس مشکل سفر میں اپنے ساتھ رکھنے میں اس سفر کے دوران ہر مشکل لیول کو کراس کروں گا اور مجھے ایک پھول ملتا جائے گا انعام کے طور پر ۔ زیادہ لمبی بات نہیں کروں گا اتنا بتاوں گا اس مشن میں اللہ کے کرم سے کامیاب ہوگیا آخر میں مجھے ایک بلیک روز سے دوسرے بلیک روز کا مِلن کروانا تھا ۔ اور وہ میں نے کروایا دیا تھا پھر جب میں واپسی میں جانے لگا تھا تو مجھے خود میں کچھ چینج محسوس نہیں ہوا بعد ایک عجیب سے مخلوق میرے قریب آئی اس نے مجھے پر اٹیک کیا تھا جو میری موت کو باعث بنا ۔ ہاں زلنین میں مر گیا تھا اور مجھے زمین میں دفن کردیا تھا پھر اسی مٹی سے میں بنا ایک عورت نے مجھے جنم دیا ۔ یہ سب اسی دُنیا میں ہوا سوچو باہر کے دُنیا میں سب ایک ہفتہ گزرا تھا ۔ اور اندر پورے ستائیس سال گزر گئے تھے اور پھر میں باہر آگیا تھا ۔ میری کہانی میں کوئی لاجک نہیں ہے میں جانتا ہوں مگر یہی سچ ہے اور میرے ساتھ
جو کچھ ہوا تمھیں میں نے بتادیا ۔ سب کو لگا میں جن ہوں کسی نے شفق کی بات پر یقین نہیں کیا ۔۔ اسے مجھ سے چھین لیا اور میرے سے بنا طلاق لئے اس کا کسی اور سے نکاح کروادیا جبکہ وہ میرے بیٹی کی ماں بنے والی تھی ۔۔۔ اب بتاو زیادتی میں نے کی یا میرے ساتھ ہوئی ۔۔۔ چلو میرے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہوگیا مگر میں نہیں چاہتا زلنین یہ سب کچھ تمھارے اور میری بیٹی کے ساتھ ہو جتنے تم میرے بیٹی کے پوزیسو ہو اس سے کہی گنا زیادہ میں اپنی بیٹی کے لئے ہو میں اب لحاظ نہیں کروں گا اس میں چاہئیے تمھاری بھی جان کیوں نہ چلی جائے لیکن میں ایسا بھی نہیں چاہوں گا کیونکہ تم تو میرے بڈی ہو ، میں تم سی بھی بہت پیار کرتا ہوں۔ زلنین میں جانتا تم میری بات پر اب بھی یقین نہیں کرو گئے جتنا میں نے کہا وہ سب بیکار ہوگا تمھاری نظروں لیکن میری بیٹی کے خاطر تم آجاو یہ لو ہما کی نانو سے بات کرلو تمھیں سب سمجھ آجائے گا ۔
“ایک سیکنڈ ۔۔۔۔”
زلنین نے انھیں نانو کو فون دینے سے پہلے روکا ۔
“ہاں بولو ۔۔۔۔ ”
“یہ سب کون کررہا ہے اور کیوں کررہا ہے ۔ آخر اس کا ہما یا میرے سے کیا تعلق ہے ۔”
“شک مجھے اسی پہ تھا مگر اب تو یقین ہوگیا ہے ۔ ایک بابا تھا صدیق نام تھا ۔ شفق کو آنٹی اسی کے پاس لے کر گئی تھی ۔ شفق نے ان سے بدتمیزی کی یہاں تک کہ ان کو مارا بھی اور جعلی کہا تھا ۔ بس آگئے تم سمجھ گئے ہوگے نہ صرف انھوں نے بلکہ دو لوگوں نے بھی مل کر شفق اور مجھ پر جادو کیا ۔”
“کون ؟ ”
اب زلنین نارمل ہوگیا تھا ۔ وہ سب کچھ بھول گیا تھا اسے بس فکر تھی ہما کی اور ہما کے لئے وہ کسی کا بھی سات خون معاف کرنے کے لئے تیار تھا ۔
“زرین ۔۔ شفق کی دوست اور جو دوسرے کا نہیں پتا مجھے جو ان دونوں میں سے خطرناک ہے تم آو مل کر بات کرتے ہیں ہما کہاں ہے ۔”
“یونی ورسٹی ہے کیا میں اسے لاؤں ۔”
“نہیں ابھی اسے کچھ نہیں پتا چلنا چاہیے اگر اسے پتا لگ گیا وہی سے کاونٹ ڈاؤن اس کی موت کا شروع ہوجائے گا اور میں یہ ہرگز نہیں چاہتا ۔”
“ٹھیک ہے میں آرہا ہوں ۔”
زلنین نے کہتے ساتھ فون بند کیا تو جزلان کو دیکھا اس کی نظریں پاکر وہ گھبرا گیا ۔پھر وہ مضنوعی ہنستے ہوے وجدان اور اسے دیکھنے لگا پھر بولا ۔
“اسلام و علکیم ۔۔۔ خدا حافظ ۔”
“جزلان کے بچے ۔”
وہ اس کی طرف لپکنے لگا کہ جزلان ایک چٹکی میں غائب ۔
********

You May Also Like

Leave a Reply