Black Rose Episode 14 By Samreen Shah

Black Rose by Samreen Shah Last Episode. Click Here for Read all Episodes of Black Rose Novel.

بلیک روز

از سمرین شاہ

قسط  14  آخری قسط

فائیق نے فون بند کردیا اور انھیں دیکھا جو نظریں جھکائے اپنے تسبی کو دیکھ رہی تھیں ۔ باہر بادل گرجنے کی آواز آرہی تھی عنقریب بارش ہونے والی تھی ۔ ہوا کے تیز جھونکے کھلی کھڑکھی سے لاوئنج میں آرہے تھے ۔
“مجھے معاف کردو فائیق ۔”
ان کی مدھم آواز کمرے میں گونجی ۔فائیق نے سر اُٹھا کر انھیں دیکھا ان کے مدھم لہجے میں اس نے نمی محسوس کی تھی ۔ اس کے آپس میں پیوست ہوئی وی انگلیاں کو دیکھتے ہوے اس نے ہولے سے سر نفی میں ہلایا ۔
“میں معاف کرنے والا ہوتا کون ہوں ، گناہگار تو میں آپ اور شفق کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کا بھی ہوں ۔”
“ایسے مت کہو فائیق ۔ سارا قصور میرا تھا ۔شفق سے زیادہ ظلم میں نے تمھارے ساتھ کیا ہے اور پھر یہاں آنے کے باوجود تم سے اور اس کے خاندان سے اسے دور رکھا ۔”ان کی آنکھوں میں اشک روا دوا ہونے لگا ۔
“چھوڑے پُرانی باتوں کو ، آپ نے جو کیا تھا ہما کے تحفظ کے لئے کیا تھا ۔ مجھے آپ سے کوئی گلہ یا شکوہ نہیں ہے ۔”
اس نے یہ کہہ کر گویا بات ہی ختم کردی ۔ نانو خاموشی سے اسے دیکھنے لگی پھر کہنے لگی ۔
“اب کیا کرو گئے ۔”
“زلنین کو ہما کو یہ بات اعتماد میں لاکر بتانی ہوگی کہ وہ اصل میں کیا ہے ۔ باقی ساری باتیں تو بات میں آتی ہیں ۔ دوسرا اس کے آنے پر میں آپ سب کو بتاوں گا ۔”
“ابھی بتانے میں کیا حرج ہے ۔”
“آپ جانتی ہیں اس گھر میں ایک جن نہیں بلکہ اکیس جن موجود ہیں ۔”
اس نے انھیں باوار کرایا تھا ۔
“زرین آخر میری بچی کی جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی ۔ایک تو مر گئی لیکن دوسری نے اس کا کیا بگاڑا ہے ۔اللہ اس پر قہر نازل کرے اگر میری ہما کو کچھ ہوا ۔”
وہ جذباتی ہورہی تھی ۔ اور جذبات میں مزید اسے بُرا بھلا بول رہی تھی فائیق البتہ خاموش تھا ۔اور ان کی ملاقات کا سوچ رہا تھا مگر اس سے پہلے مزید سوچتا باہر بیل کی آواز آئی وہ آہستگی سے گہرا سانس لیتا ہوا اُٹھا کہ ضرور زلنین ہوگا مگر اس کی غلط فہمی تھی وہ اپنے انسان بنے پر بھی پچھتایا تھا اس حادثے کے بعد ۔
دروازہ کھول کر آنے والے کو دیکھتا لیکن ایک زور دار ڈنڈا اس کے سر پہ عین لمہے لگا تو وہ چکرا کر زور سے پیچھے گرا اس سے پہلے سنبھلتا دوسرے وار نے اس کی حالت مزید غیر کردی کہ وہ آواز کیا کہرا بھی نہیں سکا ۔
نانو کو کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی لیکن انھیں لگا بھتیجے ، چاچا کے درمیان کوئی گفتگو ہورہی ہوگی اس لئے بیٹھی رہے ۔
دوسری طرف پرمیس کپکپاتے ہاتھوں سے خون سے لت پت زمین بوس ہوے وے اپنے چاچو کو دیکھنے لگی ۔ اس کے چہرے پہ ملال رقم تھا ۔ آنکھیں بھی نم تھیں مگر وہ مجبور اور بے بس تھی ۔ اس پر زنجیریں تھی جس سے اسے باندھ کر رکھا تھا ۔
“آئیم سوری ماموں ۔”
اس نے کہتے ساتھ اپنے آنکھوں کے اشارے سے انھیں کھینچا ۔ اور باہر لے آئی اپنی چھ منٹ کے کاروائی سے اس نے ان کا بندوبست کیا ۔ اور پھر فائق کے روپ میں بدل کر اندر آئی ۔نانو نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا ۔
“کون تھا دروازے پر ۔”
وہ خاموشی سے چلتا ہوا صوفے پہ بیٹھا ۔
“زلنین نہیں آیا ابھی تک ۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا مگر کچھ کہا نہیں ۔
“کوئی بات ہوئی ہے ۔”
انھیں اس کی خاموشی اور عجیب رویہ پہ حیرانی ہوئی تھی ۔
فائیق نے سر اُٹھا کر انھیں دیکھا پھر شک نہ پڑنے پر گلا کنکھارتے ہوے بولا ۔
“کچھ نہیں میرا دوسرا بھتیجا آیا تھا ۔ کچھ بات کرنی تھی زلنین بس آتا ہوگا ۔”
مختصر سے بات کہہ کر وہ اب زمین کو گھور رہا تھا ۔
“مجھے یہ سب ڈرامہ کرنا بالکل نہیں اچھا لگ رہا فائیق پہلے اپنی بچی کو جھوٹی موت کا درد دیا اس کے بعد اسے اکیلا تنہا چھوڑ کر بے آسرا کردیا ۔وہ تو خواب میں بھی ڈر جاتی تھی اور اپنی ماں یا میرے ساتھ لپٹ جاتی تھی اب وہ کس سے لپٹا کرتی ہوگی ۔ اس پر اتنی مصیبتیں آئی اور میں اس کے لئے کچھ نہ کر سکی بس یادداشت جانے کا بہنا کر کے یہاں بیٹھی رہی ۔”
پرمیس حیرت سے یہ سب سُنتے جارہی تھی ۔ وہ نم لہجے میں اپنے دُکھ کو بار بار دہرا رہی تھی لیکن انھیں نہیں پتا تھا کہ مقابل کے لئے یہ بات نئی تھی ۔
•••••••••••••••
اس کی آنکھیں غصے سے لال انگارہ ہوئی تھی مگر اس میں وہ والی بات نہیں تھیں جو طاہرہ بیگم نے اس کو شفق سے الگ کرتے ہوے محسوس کی تھی . فائیق نے اپنے غصے کو قابو کیا پھر سٹرنگ پہ گرفت ڈھیلی کرتے ہوے انھیں دیکھتے ہوے بولا ۔
“آپ یہاں کیا کررہی ہیں ۔آپ پاکستان کیوں آئی ہیں جانتی بھی یہ جگہ آپ کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں ہے ۔”
نانو نے فائیق کو دیکھا پھر نظریں جھکا لیں ۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں آپ سے ۔” اس نے دانت پیستے ہوے انھیں کہا ۔
“میں نے ہما سے کہا تھا کہ ہم امریکہ میں کہی رہ لے گئے مگر اس نے میری ایک نہ سُنی ، میں نے کہا دوسرا ملک بھی ہے پر وہ کہتی تھی اس کی ماما کی جہاں زندگی گزری ہے وہ وہاں رہنا چاہتی ہے ۔”
“آپ سوچ بھی سکتی ہیں اگر یہاں کسی کو معلوم ہوگیا کہ شفق کے بیٹی پاکستان آئی ہے تو پھر کیا ہوگا اس کے ساتھ ۔”
وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی پھر ان کے لب وا ہوے ۔
“تم کہنا کیا چاہتے ہو ۔”
“وہی جو آپ سمجھنا نہیں چاہتی ۔”
“فائیق ہما کے ساتھ کیا ہوگا بتاو مجھے ۔”
“پہلے مجھے آپ بتائیں کیا آپ کو اب بھی لگتا ہے کہ میں جن ہوں ۔”
اس کے ایک دم سے سوال دغنے پر نانو ایک دم خاموش ہوگئی ۔
“بتائیں کیا آپ کو لگتا ہے میں اب بھی جنزادہ ہوں ؟”
وہ ایک بار پھر دہرا کر ان سے پوچھ رہا تھا ۔نانو اسے دیکھتی رہی پھر انھوں نے نفی میں سر ہلایا ۔فائیق نے حیرت سے دیکھا وہ اب بھی توقع کررہا تھا کہ ان کا جواب انکار میں ہوگا ۔ بے اختیار اس نے گاڑی روک دی تھی ۔
“مجھے اسی دن سے معلوم ہوگیا تھا فائیق جب شفق کے شادی ہم نے ریحان سے کروائی تھی ۔ اس دن اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی اتنی کے مجھے لگا وہ مرنے لگی ہے ۔ میں نے ہما کے نانا کو بھی نہیں بتایا تھا اس کی حالت کا کیونکہ وہ ریحان کے ساتھ نیچے بیٹھے ناشتہ کررہے تھے ۔ اگر ریحان کو پتا چل جاتا کہ شفق پہ کوئی جن حاوی یا کسی اور قسم کے اثرات ہیں تو اس نے اس دن ہی بھاگ جانا تھا اور پھر ہماری بیٹی کی الگ بدنامی !!! میں اسی بابا کے پاس جانا چاہتی تھی جن کے پاس میں شفق کو لے کر گئی تھی مگر ان کا کوئی آتا پتا نہیں تھا مجبوراً میں نے میری دوست کی بیٹی کو بلایا جو ڈاکڑ تھی اور اس کے آنے سے پہلے میں نے کسی بہانے سے ریحان اور ہما کے نانا کو بھیج دیا کہ ریحان کو گھما بھی لیں اور شام کے کھانے کے لئے کچھ چیزیں لے آئے۔ ڈاکڑ آئی اور اس نے مجھے جو بات بتائی اس نے میرے پیروں تلے زمین نکال دی ۔ شفق اُمید سے تھی پہلے تو میں حیران ہوئی اتنی جلدی اس کے بعد جب مجھے معلوم ہوا اس کے حمل کو ایک ماہ ہوگیا ہے تو بس ایسا لگا سارا جسم ہی مفلوج ہوگیا تو شفق جو کہہ رہی تھی وہ سچ تھا لیکن میں اس بات کو مانا نہیں چاہتی تھی ۔
“بیٹا ضرور تمھیں غلط فہمی ہوئی ہوگی ، ایسی حالت تو حمل کے مرحلے میں تو نہیں ہوتی ۔”
“آنٹی ایک بات کہوں بہت سی چیزیں شفق کے ساتھ ہورہی ہیں دھیان سے سُنیے گا ۔ پہلی اس کا ایک مہینے ہوا مگر میرے حساب سے یہ ایک مہینہ بھی نہیں لگ رہا ۔ اس سے بھی کچھ زیادہ ہی ہے ۔ دوسرا یہ کچھ کھا بھی نہیں رہی ۔”
“ہاں پانچ دن سے سوائے پانی کے اس نے اپنے اندر کچھ بھی نہیں ڈالا ۔”
“آپ اتنی اریسپونسپل کیسے ہوسکتی ہیں ۔ ابھی تو شفق کی چلنے کی کیا اُٹھنے کی بھی ہمت نہیں ہے ۔ مجھے ڈر ہے یہ بے بی آگئے مزید کیری نہیں کرسکے گی ۔”ڈاکڑ کی پریشان بات پر نانو چونک اُٹھی ۔
“کیا مطلب ہے آپ کا ۔”
“اب یہ مکمل چیک آپ سے کچھ کہہ سکو گی لیکن شفق کے حالت عام پریگنیٹ عورتوں سے خاصی مختلف ہے ۔ پہلا ایسا کیس دیکھا میں نے ۔”
اِدھر سے میں جان گئی یہ بچہ تمھارا ہی ہے لیکن مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ آیا تم انسان ہو یا جن ہو ۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ مجھ سے ایسا گناہ سرزد ہوگیا ہے جس کا میں کفارہ بھی نہیں ادا کرسکتی ۔ شفق کے زندگی اور اس بچے سے جان چڑھانے کے لئے میں نے ہما کا ضائع کروانے کا بھی سوچ لیا ۔ ۔۔۔۔”
ان کی آخر میں آواز بھرا گئیں تھیں پھر انھوں نے فائیق کو دیکھا جو خاموشی سے انھیں دیکھ رہا تھا لیکن جو توڑ پھوڑ اس کے اندر ہورہی تھی وہ اچھی طرح جانتا تھا ۔
“ڈاکڑ نے جیسے ہی میری بات سُنی وہ بدک اُٹھی ۔ اس نے میری عمر کا لحاظ کے بغیر مجھے سُنانے لگ گئی ۔ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی ۔ ظاہر ہے قتل تھا اور قتل کا گناہ مجھ جیسی خاتون سے زیادہ بہتر کون نہیں جان سکتا تھا پھر بھی اس دُنیا اس معاشرے کی خاطر میں نے سارے حقائق سے آنکھیں پھیرتے ہوے کہہ دیا تھا ۔ میں مر کیوں نہیں گئی تھی یہ سب کہنے سے پہلے اور اس میں ہما کی قاتل نہیں شفق کی قاتل کہلاتی ویسے کہلوانا کیا ہے میں ہی شفق کی قاتل اس کی ساری خوشیاں چھین کر میں نے اسے بیس سال پہلے ہی مار دیا تھا ۔”
فائیق اب بھی خاموشی سے انھیں سُن رہا تھا ۔
“تم کچھ کہو گئے نہیں ۔۔۔۔۔۔”
وہ مزید آگئے بہت کچھ کہنا یا بتانا چاہتی تھی لیکن فائیق کی خاموشی ان کے لئے خوف کا باعث بنی ۔
جبکہ وہ ان کے چُپ ہونے پر پھر سے کار سٹارٹ کر چکا تھا ۔
اس کے آنکھیں وقت کی چلتی ، بڑھتی سوئی کے ساتھ ۔ احمر ہوتی جارہی تھی ۔ ان میں نمی کا عنصر بھی نمایا تھا ۔نانو نے بھی مزید بات کرنے کی سکت نہیں کی ۔
“ہما اس وقت کہاں ہے ۔”
اس نے بہت دھیرے سے کہا تھا ۔
“گھر پر اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔”
انھوں نے رُک رُک کر آہستگی سے بتایا ۔
“مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اب کچھ وقت کے لئے ہما کو نہیں دیکھیے گئی اور نہ ہی ملے گی ۔”
اس کی بات پر انھیں جھٹکا لگا ۔
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔”
“اب کچھ عرصے کے لئے میری حراست میں رہے گی اور ہما کے ساتھ پورے مری کے علاقے میں یہ مشہور کیا جائے گا آپ مر گئی ہیں ۔”
اس نے موڑ کاٹتے ہوے اپنے سُنہرے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
“تم مجھے مارنا چاہتے ہو ۔”
وہ بے یقینی سے بولیں ۔
“میں نے یہ کب کہا آپ بالکل محفوظ رہے گی ۔ اس کی بالکل فکر نہ کریں ۔ بس ہما سے کچھ دنوں کے لیے آپ کا دور رہنا لازم ہے ۔”
“ایسا کیوں اب تو سب ٹھیک ہے ۔”
“بظاہر تو سب ٹھیک ہی لگے گا آپ کو ۔۔۔۔۔ مگر میں اس بار ہرگز نہیں چاہتا کہ جو چیز میرے ساتھ ہو وہ میری بیٹی کے ساتھ ہو ۔۔۔۔ کیونکہ شفق سے زیادہ ہما کو عبرت ناک سزا ملے گی ۔”
“ایسا کیوں ہما نے کسی کا کیا بگاڑا ہے ۔وہ تو اتنی معصوم سی ہے ۔”
“معصوم تو شفق بھی تھی اس نے بھی تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا ۔”
فائیق کی دُکھ بھرے لہجے پر وہ خاموش ہوگئی ۔
“میری بات مان جائے بھروسہ رکھے میں بس اس چھپے ہوے شکاری کو منظر عام پہ لاکر اس کا خاتمہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں اس بدلے کی آگ میں بیس سال سے جل رہا ہوں ۔ آپ میرے یا شفق کی خاطر نہیں اپنے نواسی کی خاطر مان جائے ۔۔۔۔ میں اس پیچھے سے وار کرنے والی ڈائن کو ختم کرنا چاہتا ہوں ۔ جس نے میری شفق میری شفق کے ساتھ ساتھ میری بیٹی کو بھی اپنے باپ سے محروم کیا ۔”
ان کی بات پر طاہرہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
یہ کیا ہوگیا ان سے ۔۔۔۔
“بکواس اپنی بند رکھو ۔”
ریحان نے ایک زور دار تھپڑ تیرہ سالا ہما کو مارا ۔
“یہ جو تم نے توڑا ہے ہما اسے صاف کرو ۔”
اس کے زخمی پیروں کی بھی پروا کیے بغیر وہ حکم صادر کررہے تھے ۔
“جب تک یہ وانی سے معافی نہیں مانگی گی اسے کھانا نہیں ملے گا شفق ۔۔۔۔ اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم اس کا انجام اچھی طرح جانتی ہو ۔”
“ماما آ آنٹی نے مجھے دھکا دیا تھا ۔”
اس کے زخمی چہرے کی بھی پروا کیے بغیر ریحان نے اسے تھپڑ جھاڑ دیا تھا ۔
“وانی پہ الزام لگاتی ہو ، اپنی ماں کو بچانے کے لئے ۔”
سارے واقعات ان کی نظروں کے سامنے آرہے تھے ۔ جو بہت تکلیف دے تھے شفق سے زیادہ واقعی میں ہما ہر چیز سے محروم رہی تھی ۔ ہر قسم کی سزا اس نے جھیلی اور کھبی اُف تک نہیں گیا اور اس تکلیفوں کو جھیلتے ہوے وہ کب بڑی ہوئی انھیں پتا ہی نہیں چلا ۔ فائیق ان کی دلی کیفیت بھانپ گیا تھا لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ ہما کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے اگر اسے پتا چلتا تو ایک سیکنڈ نہ لگاتا امریکہ پہنچنے میں اور ریحان کو قبر میں اتارنے میں ۔۔۔۔۔
“جب کسی کا کوئی نہیں ہوتا ، اس کا صرف اللہ ہوتا ہے ۔ اور میری بیٹی کا سہرا صرف اس کا رب ہے ساری چیزیں اس کے حوالے کردے ۔”
زلنین کی کہی ہوئی بات آج فائیق کے لبوں سے نکلی تھی۔ آج وہ زندہ ہی اللہ کے سہارے کی بدولت تھا ۔ورنہ شفق کے دوری کی بعد اس کے اندر باہر سب کچھ ختم ہوگیا تھا ۔
“ک ب تتت ک کے لئے ۔”
ان کی زبان لکنت ہوگئی تھیں ۔ فیصلہ بھی بے حد بھاری تھا ۔ الفاظ تو جیسے گُم ہوگئے تھے ۔
“یہ آپ کو وقت آنے پر بتاوں گا ۔”
“اور میری موت کا کیسے یقین آیا گا ۔۔۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ۔۔۔۔”
“میں بیشک انسان ہوں لیکن میرا پورا خاندان جنات ہیں ۔تو اس کی فکر نہ کرے مجھے خوشی ہوئی کہ زندگی میں ایک احسان تو کیا کاش آپ یہ احسان یہ مہربانی مجھ پر پہلے ہی کر دیتی ۔”

ویسے کیسا لگا ہمارا چھوٹا سا یونی ۔”
اب ساروں کے واپسی کا وقت ہوگیا تھا ۔ سب اپنے گھروں کی راہ لے رہے تھے کیونکہ سب کے پاس اپنے ٹرانسپورٹ سسٹم تھا ۔ عون نے ہما سے دریافت کیا کہ وہ اب تک کیوں نہیں گئی ۔ ہما نے کہا اسے لینے آئے گا تھوڑی ہی دیر میں ۔وہ اس کے خاطر رُک گیا اور باتوں کے آغاز میں بولا ۔ہما مسکرائی پھر بولی ۔
“یہ چھوٹا ہے ابھی بھی آدھا رہتا ہے جو میں نے نہیں دیکھا ۔”
“دیکھ لے گی ابھی تو چار سال پڑے ہیں ، اور گھر میں آپ کے ساتھ کون ہوتا ہے ۔”
وہ اپنے کلائی کی گھڑی ٹھیک کرتے ہوے پوچھنے لگا ۔
“میری نانو اور میں ہوتے ہیں صرف گھر میں ۔”
“اور آپ کے پاپا ؟ ۔”
اس بات پہ ہما رُک گئی ، پہلا سوال ہی یہی بنتا تھا ۔ اور یہ ہی باعث شرمندگی تھی اس کے لئے اس کی شناخت آخر کیا ہے ۔ بیٹی کی تو شناخت اس کے باپ ، شوہر سے ہوتی ہے اور وہ دونوں چیز کسی کو نہیں بتا سکتی تھی ۔
“میرے ڈیڈ نہیں ہے ۔”
“او آئیم سوری مجھے ۔۔۔۔۔”
عون نے ہما کے سپاٹ لہجے پہ جلدی معذرت کی ۔ ہما نے نفی میں سر ہلایا ۔
“نہیں کوئی بات نہیں آپ کے گھر میں کون ہوتا ہے ۔”
وہ بینچ کے ٹیبل پہ ہاتھ پھیرتے ہوے بے ساختہ بولی ۔
“میں ، میری ممی اور میرا چھوٹا بھائی جلیل ، ڈیڈ آرمی میں تھے میں جب سات سال کا تھا تو ان کی اوپریشن کے دوران ہی شہادت پا لی ۔ خیر شروع میں تو دُکھ ہوتا تھا لیکن آئیم پراوڈ آف ہم ۔۔۔ میں آپ کا درد سمجھ سکتا ہوں ماں باپ ہونا کتنا ضروری ہے اور ان سے محروم لوگ ہی بہتر جان سکتے ہیں ۔”
“صحیح کہا آپ نے ۔”
ہما اُداسی سے بولی ۔
“یہ کون لینے آنے والا آپ کو ، لگتا ہے آپ کو بھول ہی گیا ہے ۔ ”
اس کی بات پہ ہما نے پہلو بدلا ۔ زلنین اسے بھولے گا ۔ ناممکن ۔
“آجائے گئے ، آپ کو رُکنے کی ضرورت نہیں ہے میں ویسے بھی نوٹس پڑھ لوں گی ۔”
“اُفوہ پہلے دن ساتھ ہی پڑھائے کئ ٹینشن اور ویسے بھی ہم دوست ہیں ۔ دوستوں کے لئے کچھ بھی انتظار تو بڑی عام سے چیز ہے ۔”
ہما کو ایک دم سے کچھ یاد آیا تھا ۔
“اب تو ہم دوست ہے نا مس ہما ۔”
“میں چھچھوڑا ایس پی بلیو جینز ہوں مس ہما۔”
“یار میں تو پولیس والا ہوں ، پہلا۔پولیس والا جو مجرم سے بھاگ رہا ہے ۔”
“لنڈی سو کیوٹ ۔۔۔ چلے مس ہما کیا یاد کریں گی آپ کا زلنین زوالفقار آپ کو وہاں بھی لے کر جائے گا ۔”
“پلیٹ توڑ کر اپنی فرسٹیشن نکالو ۔”
“ہما میں ہونا تمھارے ساتھ ۔”
“آہ میرا دوست کہاں چلے گئے تم ۔”
ہما نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر کے کھولی پھر اس کی باتیں سُنے لگی ۔ عون واقعی فرینڈلی تھا ۔ اچھے تمیز دار لیکن وہ زلنین نہیں تھا جو سکون جو تحفظ جو دوستانہ احساس اسے زلنین سے ملتا تھا وہ کسی اور میں نہیں ملتا تھا ۔ اب تو وہ زلنین بھی بدل گیا ہے ۔
اس کے فون نے انھیں چونکانے پر مجبور گیا ۔
“لگتا آپ کو لینے والا آگیا ہے تو مس ہما کل ملتے ہیں ۔”
وہ مسکرا کر اُٹھا ۔ ہما نے ایک دم سر اُٹھا کر اسے دیکھا ۔
مس ہما ؟ زلنین کہتا تھا ۔ اس کی لہجے کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھوں اور روے میں بھی اس کے لئے نرمی تھی مگر اب جنون اور پاگل پن کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔
وہ اُٹھ کر فون نمبر دیکھنے لگی زلنین کا ہی تھا۔ جو اب اس کی سوچ میں گُم ہونے کے باعث بند ہوچکا تھا وہ دوبارہ کال ملانے کے بجائے گیٹ کی طرف بڑھی تھی وہاں پہنچ کر اس نے اردگرد دیکھا تو حیرت سے اس کا منہ کھل گیا تھا ۔ زلنین کے بجائے جزلان آیا تھا ۔وہ اس وقت ریڈ ٹی شرٹ اور بلیو جینز میں ملبوس اپنے بڑھتے بالوں میں ہاتھ مارتا ہوا آگئے آیا ۔
“اسلام و علکیم ۔۔۔۔”ہما نے اسے سرتاپا دیکھنے کے بعد بولنے والی تھی کہ جزلان نے اس کے بولنے سے پہلے ہی بول دیا ۔
“وہ زلنین کو کام پڑ گیا تھا ۔ اس لئے اس نے مجھے بھیجا آپ کو لانے کے لئے ۔”
پہلے تو ہر چیز میں جتا رہا تھا میں آؤں گا یہ ہوگا یہ کرنا وہ کرنا آپ کام پر مجھے لانے کی بھی توفیق نہیں تھی ۔
اس نے سر جھٹکا اور خاموشی سے اس کے ساتھ چلنے لگی ۔
“ویسے آپ کی یونی میں پہلا دن کیسا رہا ۔”
کن وہ سیٹ میں بیٹھ گئے تب کار سٹارٹ کرتے ہوے ہما کو بولا جو بیلٹ باندھ رہی تھی ۔ ہما نے جزلان کو دیکھیے بغیر “اچھا ۔”کہا ۔
“ڈیٹس نائس میں جانتا ہوں امریکہ کی پڑھائی سے مختلف ہوگا لیکن فکر نہ کرے ہماری انسیٹیوٹ بھی کمال کی ہیں ۔”
ہما نے سر کو تھوڑا سا ہلایا تھا ۔
“آپ غصہ تو نہیں ہیں ۔”
اس کی بات پر ہما نے اپنا سر اُٹھا کر اسے دیکھا ، اس کی نظریں روڈ کی طرف تھی البتہ وہ کن آنکھیوں سے ہما کے تاثرات دیکھ رہا تھا ۔
“مجھے بھلا کیوں غصہ آئے گا ۔”
“وہ زلنین ۔۔۔۔۔”
“دیکھیں جزلان صاحب ۔۔۔ یہ بات آپ کو بھی معلوم ہے کہ زلنین نے میرے سے زبردستی نکاح کیا ہے میں نے نہیں کیا جو میں اس کے نہ آنے پر ناراض یا غصہ ہوں اگر آپ کا بھائی نے کہا پوچھنے کے لئے تو برائے مہربانی بتادیں انھیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور نہ ہی آئیندہ خوش فہمی رکھیے۔
بے انتہا سنجیدگی سے کہتے ہوے وہ اب کھڑکھی کی طرف دیکھنے لگی تھی ۔جزلان تو بالکل خاموش ہی ہوگیا ۔ یہ کچھ زیادہ ہی بد گمان ہے زلنین سے اب آگئے کیا ہوگا ۔وہ بس سوچتا رہ گیا ۔اگر میں ہما کو ابھی بتادوں کہ اس کے بابا کون ہیں اور وہ اس وقت تمھارے گھر میں موجود ہیں ۔ نہیں زلنین سے بھی پٹے ، چاچو نے بھی حشر کردینا ہے ۔ رہنے دو یہ جانے ان کے کام ۔
سوچوں سے نکل کر وہ اب گھر کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
جبکہ ہما اتنی تھکی ہوئی تھی اس نے سیٹ پر سر ٹکا کر اپنی آنکھیں موند لی تھیں ۔
※※※※※※※※※※※※※
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں چاچو ۔”
جزلان کھانا کھا رہا تھا تو فائیق اس کے پاس آیا تھا اور ایسی چند اِدھر اُدھر کی بات کرنے کے بات اس نے جو بات کہی تھی جس سے جزلان کا حیرت سے منہ کھل گیا ۔
“آہستہ کسی کو کچھ پتا نہیں چلنا چاہیے اور زلنین کو تو بالکل بھی نہیں ۔”
“اب ان کی شکل کی باڈی ۔”
“تم نے ایک مجسمہ بنانا ، ویسے بھی انسان کا جسم ٹھنڈا ہوجاتا ہے یا ایک منٹ میں بھیا کی ایک کتاب لاتا ہوں اس میں ایسا کوئی چیز ہے بے شک تم کسی مرے ہوے انسان کی باڈی لے لو اس کو تھوڑا نانو والا تاثر تو اس کو زخمی کردو ۔”
“چاچو بہت بھونڈا پلان ہے اپ کہہ رہے ہیں وہ گھر میں موجود ہو اوپر سے ان کا جسم ہما کو ایسا دکھایا جائے کہ ان کی موت طبعی تھی لیکن جب پولیس آئے تو وہ خود بخود ہی زخمی ہوجائے واہ اس سے بہتر ہے رہنے دے ۔”
“جزلان جو میں نے کہا ہے اسے دھیان سے سُنو میں نہیں چاہتا ہما کو کسی قسم کا ٹروما ہو ، وہ اگر انھیں ایسی حالت میں دیکھا تو اس کے زہن پر اثر کریں گا ۔”
وہ کاؤنٹر پہ ہاتھ سے کچھ پیٹرن بناتے ہوے بولا ۔جزلان نے پُرسوچ نظروں سے انھیں دیکھا ۔
“لیکن آپ یہ سب کیوں کررہے ہیں اس کے پیچھے کوئی وجہ ۔”اس نے اپنے ٹھوڑی کو کھجاتے ہوے کہا ۔
“وجہ بتانا میں ضروری نہیں سمجھتا ۔”
“دیکھیے چاچو آپ رسکی کام کررہے ہیں ، نہ صرف آپ پھنسے گئے میں بھی الٹا لٹکوں وہ بھی زلنین کے ہاتھوں ۔”
“زلنین اتنا کچھ نہیں کہے گا ۔”
“آپ کو کیوں لگتا ہے کہ وہ کچھ کیوں نہیں کہے گا ۔ اس نے ایک آنسو ہما کا دیکھنا ساری دُنیا کو آگ لگا دینی ہے اس نے ۔”
ایک دم اس کی پھسلتی ہوئی زبان سے یہ بات نکل گئی ۔فائیق ایک دم ٹہر گیا اور حیرت سے اسے دیکھا ۔ جزلان نے اپنے آپ کو کوسا ۔
“کیا کہا تم نے ۔”
“کچھ نہیں میں زرا آیا ۔”
“جزلان ! رُک جاو ۔”
فائیق کی دھاڑ میں انسان بنے کے باوجود بھی کمی نہیں تھی اور آنکھیں بھی ویسے لال ہوجاتی کھبی کھبار تو جزلان کو لگتا وہ بدلے نہیں وہ وہی ہیں ۔
وہ نروس سا ہوکر دوبارہ سٹول پہ بیٹھ گیا ۔
“اب سیدھے سیدھے مجھے ساری بات بتاو ۔”
“ام کیا بتاوں ۔”
“جو کہہ رہا ہوں اس کو جواب دو ۔”
“وہ زلنین ۔۔۔ میرا مطلب ہما کا بہت اچھا دوست ہے ۔”
اس نے ڈرتے ہوے کہہ کر چاچو کو دیکھا جو بڑی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہے تھے ۔
“اچھا ! یہ کب ہوا ۔”
“دو دو ہفتے پہلے ۔”
“کیسے ملاقات ہوئی ۔”
“مجھے کیا پتا چاچو ۔”وہ جنھجھلایا
“میں سارے پتے شتے کھول دوں گا سیدھے سیدھے بتاو ۔”
“اب نیبر ہیں ملاقات تو ہوجاتی ہیں ایسی کوئی چلتے پھرتے ہوگی ۔”
“زلنین پہلے سے ہما کو جانتا تھا ۔”
“نہیں یہی اس نے آتے ہوے دیکھا انھیں ۔”
“وہ کیا جانتا ہے ۔”
“کیا ۔”
“کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا کشف اندر داخل ہوئی تھی ۔
“او برادر صاحب آپ ۔۔۔ خیریت ہے ۔”وہ اپنے لال لپ سٹک سمیت کالے گاون میں بھی اس عمر میں قیامت ڈھا رہی تھی ۔ فائیق نے سر اُٹھا کر انھیں دیکھا تو سنجیدگی سے بولا ۔
“جی خیریت ہے ۔”
“کیسے آنا ہوا ۔”وہ آگئے بڑھ کر کاؤنٹر کے قریب آئی ان کے بالوں کے بال چلنے اور جھٹکنے کے باعث آگے آگئے تھے ۔
“جزلان میں اس وقت میٹنگ بھی جارہا ہوں رات کو میرا کام ہوجانا چاہئیے ۔”
بہن کو بنا جواب دیے وہ سنجیدگی سے کہتے ہوے اُٹھے اور کوٹ کے بٹن دبائے بے اختیار مڑ گئے ۔
“انھیں کیا ہوا موڈ آف لگ رہا ہے اور یہ کس چیز کی بات کررہے ہیں ۔”
پھوپھو کو کوئی اور کام ہی نہیں ہے ۔
“پھوپھو کہاں کی تیاری ہے ۔”اس نے بات بدلتے ہوے ان دھیان کسی اور طرف بٹایا ۔ پھوپھو چونک اُٹھی پھر اسے اور اپنے حلیے کو دیکھا
“کہی کی بھی نہیں کیوں اور ویسے بھی میں کہی ایسے تیار ہوکر باہر جاوں گی ۔”
“یہ آپ کی نو تیاری ہے ۔ ہممم اگر آپ تیار ہونگی تو دلہن کو جوڑا اور بیس کلو کا میک آپ کریں گی ۔”
اس کے شرارت سے کہنے پر پھوپھو تپ اُٹھی ۔ ان کو چھیڑتے ہوے جزلان کے دل میں آیا کہ زلنین کو اگر پتا چلا میں اس پلان میں شامل ہوں تو پھر اللہ ہی خافظ ہے میرا ۔کچھ سوچتے ساتھ اس نے جاکر ایک لاش کا انتظام کیا ۔ پھر اس نے نانو کی شکل جیسا ماسک لیا اور بڑی مہارت سے اپنا کام کر کے وہ ہما کے گھر چھوڑ آیا تھا اور پھر جو ہوا تھا وہ آپ سب کے سامنے تھا ۔
••••••••••••••••••••
زلنین گھر کی طرف پہنچا تھا ۔ تو اس نے بیل دی اندر تو وہ ویسے بھی آسکتا تھا لیکن کچھ فورمیلیٹی کرنے میں کیا حرج ہے ۔
اس نے پانج منٹ ویٹ کیا لیکن کوئی نہیں آیا ۔
اس نے دوبارہ بیل بجائی ۔۔۔۔ مگر وہی دس منٹ گزر گئے کوئی نہیں آیا ۔ یہ سب اس نے جلدی کرنا تھا ورنہ اس سے پہلے ہما پہنچ جائے ۔دو تین بار یہی کرنے کے بعد اسے گڑبڑ کا احساس ہوا ۔
اس نے بیل کے بجائے سیدھا اندر داخل ہوا ۔
“چاچو ۔۔۔۔۔ ام نانو ۔۔۔۔ کوئی ہے ۔”
اس نے اونچی آواز سے انھیں ایک وقت میں پکارا لیکن کوئی جواب نہیں زلنین کو اپنے ایک قدم من من کے محسوس ہورہے تھے ۔
وہ ایک دم چونک کر چلتا ہوا ڈرائینگ روم آیا تو جو اس کے سامنے منظر تھا وہ اس حقیقی معنوں میں اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی ۔
نانو زمین پر منہ کے بل گری ہوئی تھی ۔ فائیق اس کے فائیق چاچو نے ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر ان کے بال کھینچ کر حقارت سے انھیں دیکھ رہے تھے اور وہ کچھ دوسری زبان میں کہہ رہے تھے ۔ ان کی آگ رنگ آنکھیں زلنین کی سمیت بھری ۔ تو ان کے چہرے پہ بڑی مکار مسکراہٹ آئی ۔
“ولکیم زلنین ولکیم بڈی ۔۔۔۔۔”
ان کی چیر پھارتی ہوئی آواز پورے سماعتوں میں گونج رہی تھی ۔نانو نے سسک کر اپنا زخمی چہرہ اُٹھایا ۔
“یہ یہ سب تم ۔۔۔”
زلنین نے ایک دم نیچے پھر سر اُٹھا کر دھاڑتے ہوے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا ۔ اس کے چاچو نے اس کے چاچو نے پھر اس کا اعتماد توڑا جو اب صحیح سے جڑا بھی نہیں تھا ۔
“کیوں بھتیجے صاحب میں نے سوچا ساتواں قتل آپ کے سامنے کروں وہ بھی اس عورت ۔ (دباو بڑھا ) نانو کی چیخے نکلی ۔ جس نے میری شفق کو مجھے سے چھینا میری شفق کو اپنے عبرت ناک موت تک پہنچایا ۔ میں اس زندہ گاڑ دوں گا ۔”
اس سے آگئے وہ کچھ کرتے زلنین نے پھرتی سے انھیں فورس کے تحت دھکا دیا اور دور دیوار پہ جاکر ٹکرایا ۔
اب زلنین کی شکل بھی بدل گئی تھی ۔ آج اس زندگی میں کھبی اتنا غصہ نہیں آیا تھا جتنا آج آیا تھا آج زندگی کھبی اتنی نفرت نہیں ہوئی تھی اس شخص سے۔ آج اس نے فیصلہ کر لیا تھا اس گندی نالی کے کیڑے والی مخلوق کا خاتمہ کر دیں گا ۔ اس نے ایک مکا ان کے چہرے پہ مارا ۔
وہ پیچھے کو جاکر لگے ۔
“تمھیں آج میں ختم کردوں گا ۔”
وہ پاگلوں کی طرح انھیں مارنے لگا ۔ فائیق نے اس کا جبڑا پکڑا اور دور جاکر اس پھینکا وہ کمرے سے باہر اگر ٹیبل پہ جاکر گرا ۔
“ختم تو میں تمھیں کروں گا ۔”
ان کی شکل بھی خوف ناک ہوگئی ۔ آنکھیں نکل کر باہر آگئی تھی ۔ آواز عجیب خوفناک ہوگئی تھی ۔ پیچھے کی دیوار ٹوٹنے کے باعث تیز بارش کا پانی اندر آنے لگا تھا ۔ ان کی گردن الٹی ہوگئی تھی بالوں نے ان کے ابھرتے خوفناک چہرے کو چھپا دیا لیکن اس کے باوجود بھی ان کی سفید اور کالی آنکھیں بالوں کے باہر تک آرہی تھی ان کے ۔ ناخن اتنے لمبے ہوگئے تھے کہ وہ دیکھنے میں ناخن کوئی الا ہی معلوم ہورہا تھا ۔ بادل کی گرجنے میں مزید تیزی آگئی تھی جس سے درو دیوار ہلنے لگی تھی ۔
وہ آگئے بڑھے اور زلنین کے چہرے پر زور سے وار کیا ۔ زلنین چیخ پڑا ۔
“میری معاملے میں جو آئے گا اس چیڑ کے رکھ دوں گا ۔”
ایک اور وار ۔ زلنین کی گردن سے شعلے بڑھکنے لگے تھے ۔ نانو نے ہمت کر کے اُٹھنے کی کوشش کی لیکن ان کی گردن پہ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کوئی پتھر رکھ دیا ہے ۔ تکلیف سے ان کی آنکھیں سرُخ ہوگئی تھی ۔ اور چہرہ تکلیف کی باعث زرد پڑ گیا تھا ۔ ان کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ اچانک ایک دم سے ۔۔۔۔ فائیق کو ہوا کیا ہے وہ تو بالکل ٹھیک تھا اور وہ تو انسان تھا تو یہ کیا تھا ۔اس سے قبل تیسرا وار وہ زلنین پہ کرتے ۔ زلنین نے ان کی ٹانگیں پکڑ کر زور سے گھما کر لاوئنج کی طرف پھینکا اور وہ سیدھا ٹی وی پہ جاکر گرا اور زلنین اس سے اونچا دھاڑا کہ اس کی دھاڑ کی بدولت ساری تصویر اور پینٹنگز ٹوٹ کر گر گئی ۔
“میری بیوی اور اس کے گھر والوں کے معاملے میں گھسے گا تو میں بھی اس کا ریشہ ریشہ الگ کردوں گا یو بلڈی ۔۔۔۔۔ وہ تیزی سے اس کی طرف آیا اور ایک مکا اس کے منہ پہ مارا ۔
اس کی ایک مکے میں اتنی طاقت تھی کہ پرمیس کا سر شدت سے گھوم اُٹھا تھا مگر اس جادو میں زیادہ طاقت تھی جو اس پر حاوی تھی ۔ اس نے زلنین کی پیٹ پہ اپنے ناخن گھسائے ۔ زلنین چیخ کر پیچھے ہوا ۔
“ریشہ تو میں تمھارا الگ کروں گی زلنین ۔”وہی کان پھاڑ دینے والی آواز ۔۔۔۔
زلنین نے اس کی کروں گی پہ غور نہیں کیا تھا اس نے سامنے پڑا واز دیکھا اور آنکھوں کے اشارے سے اپنے پاس لاکر سیدھا فائیق کے سر پہ مارا ۔
فائیق کہ ایک بار پھر قدم ڈگمگائے ۔
•••••••••••••
اپنے علاقے میں داخل ہوتے انھیں موسلادھار بارش اور تیزی اندھی طوفان کا سمانا کرنا پڑا ۔ اس سمیت دوپہر کے باوجود اتنا اندھیرا چھا گیا تھا اور پُراسرار ماحول بنا رہا تھا ۔ ہما کو کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔
جزلان نے اس کا اضطراب محسوس کر لیا تھا ۔تو اسے تسلی دیتے ہوے بولا ۔
“ایسا موسم ہر سال آتا ہے ۔ آپ پریشان نہ ہوے ۔”
“لیکن اتنا خراب موسم ۔۔۔۔ اسلام آباد میں تو بالکل ٹھک تھا ۔ ”
“بس یہ علاقہ ایسا ہے کہ پتا ہی نہیں چلتا کب دھوپ آئی کب بادل ، کب برسات اور کب بہار ۔۔۔۔ ”
وہ موڑ کاٹ رہا کر بولا ۔ پربت کے اس پاڑ دیکھتے جہاں ان کا گھر موجود تھا وہاں تو بہت زیادہ ہی اندھیرا تھا ۔ خوف نے ہما کو اندر تک جھنجھوڑ دیا تھا ۔ پتا نہیں کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا جیسے بہت کچھ ہوگیا تھا اور وہ اس سے لا علم تھی ۔ زلنین وہ تو ٹھیک ہوگا اور نانو انھوں نے ناشتہ تو کر لیا تھا اور کہا تھا تھوڑی واک کر کے گھر ہی آجاوں گی ۔ وہ تو ٹھیک ہوگی نا ۔ انھوں نے دوائی اور کھانا تو لیا ہوگا یا اللہ میرے اندیشے غلط ثابت کرنا میں دوبارہ نانو کو کھونا نہیں چاہتی ۔اس نے دل سے دعا کی ۔
“جزلان بھائی آپ گاڑی احتیاط سے چلائے گا ۔”
اس نے مڑ کر جزلان کو کہا نو وریز ۔ ایک دم سے طوفان کے باعث بجلی کی کڑک پڑی جو سیدھا جاکر پائن کے درخت کو ٹکڑائی شاد اس کی جڑیں مضبوط نہیں تھی اس لئے فوراً تیز ہوا اور بجلی کی جھٹکوں کے زد میں وہ آخری کونے میں تقریباً لٹکا ہوا ٹوٹ کر گاڑی پہ گرنے لگا ۔ ہما کی چیخے نکل گئی جزلان پہ بھوکلا گیا ۔ اس سے سمجھ نہیں آئی کہ کیا کرے اس سے قبل وہ اس پائن کے درخت کو اپنے گاڑی کے اوپر گرنے سے روکتا ۔
ہما کی دل نے کہا اس درخت کو دیکھو اور اللہ پہ بھروسہ رکھو یہ تمھارے قریب نہیں آئے گا ۔ پتا نہیں کون سا احساس تھا جو اس کے اندر گزرا تھا اور اس نے دیکھا پھر اس نے جزلان کی سٹیرنگ کو دیکھا اس نے تیزی سے سٹیرنگ کو پکڑا اور جزلان کے بازو کو روکا ۔
“بریک مت دبائے گا سپیڈ بڑھائے ہم گزر جائے گئے ۔”
جزلان نے جھٹکے سے دیکھا ہما کی گرفت بڑی عجیب تھی ایسی تو ہماری ۔۔۔ نہیں کیا سوچ رہا ہے ۔
اور اس نے بریک کو دبائے بغیر سپیڈ بڑھائی اور وہ تیزی سے گزر گئے اور وہ درخت نیچے جا گرا ہما ایک دم ہوش میں آئی اس نے حیرت سے ڈرتے ہوے اردگرد دیکھا ۔
“تھینک گاڈ ہم بچ گئے ، ورنہ سیدھا اللہ کو پیارا ہوجانا تھا ابھی تو میں نے نماز بھی نہیں پڑھنی شروع کی ٹھیک یو ہما تمھاری عقل سے بچ گئے ۔”
وہ تشکر سے اسے دیکھتے ہوے بولا ہما نے ناسمجھی دے اسے دیکھا پھر اردگرد کا جائزہ لیا بارش اور موسم اب بھی ویسا تھا ۔ ابھی پائن کا درخت گرا تھا اور درخت کہاں گیا ۔یا اللہ یا اللہ مجھے ہوش ہو حواس میں رکھنا ۔ اس نے سر جھٹکتے ہوے زلنین کو فون کرنے کا ارادہ کیا ۔

“آپ ! ۔”
وہ صوفے پہ تقریباً نیم دراز بیٹھی ہوئی ناخنوں کو چھیڑ رہی تھی ۔ جب دروازہ ناک کرنے اور فائیق کے اندر داخل ہونے پر وہ حیرت سے بولتے ہوے اُٹھی ۔
فائیق نے بیڈ پہ طاہرہ بیگم کو سوتے ہوے دیکھا ۔
“اسلام و علکیم ! آنٹی کو دیکھنے آیا تھا ۔۔۔ پر یہ تو سو رہی ہیں ۔”
“آپ کہے تو جگا دوں ویسے بھی انھوں نے کہا تھا کوئی ملنے آئیں تو جگا دینا ۔”
اس نے نرمی سے کہا ۔فائیق نے نفی میں سر ہلایا ۔
“نہیں ، رہنے دو ایسے اُٹھانا ٹھیک نہیں ہے ۔ تم بتاو کیسی ہو ۔”
“میں ٹھیک ۔۔۔ آپ اتنے دن سے کیوں نہیں آئے تھے ۔”
وہ چل کر صوفے پہ بیٹھا اور چابی کو انگلی سے گھماتے ہوے اسے بتانے لگا ۔
“کسی کام سے تُرکی گیا ہوا تھا ۔”
“آپ تُرکی گئے ہوے تھے مگر کب ؟ آپ نے بتایا نہیں ۔”
“بس دو دن کے لئے کوئی کام تھا ہوٹل سے متعلق ۔۔ آپ بتائیں انکل کہاں ہیں ، آنٹی کب ڈسچارج ہورہی ہیں ۔”
شفق چلتے ہوے سامنے والی کُرسی پہ بیٹھی اور اپنے پونی کیے ہوے بالوں سے نکلتے ہوے لٹوں کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوے ۔ آہستگی سے اسے بتانے لگی ۔
“بابا گھر گئے ہوے ہیں فریش ہونے ابھی آتے ہونگے اور ممی کو ہفتہ یہاں رکھیں گئے لیکن میں چارہی تھی ممی کو گھر لیں جاتے ہیں مگر بابا کا کہنا تھا میری پڑھائی کا حرج ہوگا پہلے ہی کتنا چھٹیاں کی ہوئی ہیں ۔”
“واقعی میں کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں جب تک آنٹی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوجاتی اس دوران وہ ہاسپٹل ہی قیام کریں ۔” اس کی بات پر شفق ہولے سے مسکرائی ۔
“کل آپ کی فیملی آئی تھی ۔ ”
شفق کے کہنے پر فائیق نے حیرت سے سر اُٹھایا ۔
“کب ؟ کون آیا تھا ۔”
اس کی حیرت کو دیکھ کر شفق کو بھی حیرانگی ہوئی ۔
“کیا آپ کے بھیا نہیں بتایا ، ان کی مسز بھی آئی تھی اور ان کا کیوٹ بیٹا زلنین ۔ بہت زیادہ پیارا اتنی مزے کی بات کرتا ہے کہ دل ہی نہیں کررہا تھا اسے ان کے ساتھ بھیجوں ۔”
“بڑے بھیا اور بھابی آہیں تھے ۔ واو مجھے کسی نے بتایا نہیں ۔”
“ویسے آپ نے جو اپنے بھیا جو خاکہ بنایا ہوا تھا اس سے تو بالکل مختلف ہے اتنے ہینڈسم ہیں اور جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ سائینٹسٹ ہیں مطلب سچی مچی والے سائینٹسٹ تو میں شاکڈ میں تھی ۔”
“میرے بھائی مجھے پر ہی جائے گئے ۔”
اس نے فخر سے کہتے ہوے شرارت سے کہا ۔شفق ہولے سے ہنس پڑی ۔
“زلنین تو آپ کے ساتھ بہت آٹیچ ہے ہر بات اس کی آپ سے شروع ہوتی تھی اور آپ پہ جاکر ختم ہوجاتی تھی اور اس نے جو آپ کے قصے بتائیں کہ مت پوچھے آپ تو چھپے رستم نکلے ۔”
فائیق اس کی بات پر گڑبڑ گیا ہلکی سی ماتھے پہ شکن لاتے ہوے بولا ۔
“کیا کہا اس نے اگر ایسی ویسی الٹی بات کی ہے تو یقین مت کرنا ۔”
“ارے اتنا گھبرا کیوں رہے ہیں آپ ۔۔۔کیا واقعی آپ نے کچھ ایسا کیا ہے ۔۔۔۔۔”
وہ شرارت سے اسے دیکھتے ہوے بولی ۔فائیق نے اسے ہلکہ سا گھورا اور یونہی دونوں باتیں کرتے رہے اتنی دیر میں شفق کے ابو آگئے اور انھوں نے شفق کو گھر جانے کا کہا کہ کالج سے آئی ہوئی ہو تھکی ہوی ہو ۔
فائیق جس موقع کی تلاش کررہا تھا اس کو وہ مل گیا ۔
شفق شروع میں جھجھک رہی تھی مگر ابو نے اسے اجازت دے دی ۔ فائیق کی شرافت کو وہ بھانپ چکے تھے وہ اس معاملے میں مطمن تھے ۔
“چلیے شفق میڈم ۔”
وہ مسکراتے ہوے اس کو دیکھتے ہوے بولا ۔شفق نے سر اسے دیکھا پھر سر ہلا کر اپنا بیگ اُٹھایا ۔
••••••••••••••••••••
“یہ زلنین فون کیوں نہیں اُٹھا رہا ۔”
چھٹی دفعہ کال ملاتے ہوے اس نے پریشان ہوتے ہوے کہا ۔ وہ اب بالکل گھر کے قریب ہی پہنچنے والے تھے یہاں تو حالت اس سے بھی زیادہ بدتر جگہ جگہ ٹوٹے ہوے درخت ۔۔۔ مٹی ، گرد ، ڈھیر سارے پتے ۔۔۔ حتاکہ ٹوٹی ہوئی کانچ کے ٹکڑے بھی لگتا بہت سخت قسم کا طوفان گزرا تھا ۔
“سگنل کا برابلم ہوگا بس پہنچ ہی گئے ہیں ۔ مل لیجیے گا ۔”
“کیا مطلب ۔”
ہما نے اسے دیکھا ۔جزلان ایک دم گڑبڑا گیا ۔
“آپ تو کہہ رہے تھے کہ
جزلان نے گاڑی اپنے گھر کے قریب روک دی تھی ۔ ہما تیزی سے باہر نکلی جزلان نے اسے روکنا چاہا تھا مگر پتا نہیں کیا تھا جو ہما کو تیزی سے اپنے گھر بھاگنے پہ مجبور کررہا تھا جیسے کچھ غلط ہورہا ہے ۔ جیسے وہ اس کے ہاتھ سے کچھ کھو رہا ہے ۔ جو بند مٹھی میں ریت کی طرح نکلتا جارہا ہے ۔ جیسے کوئی اس سے اس کی متاع جھپٹ رہا ہے ۔
جزلان نے حیرت سے ہما کو اتنے تیزی سے وہاں پہنچتے ہوے دیکھا۔ اتنی بجلی کی رفتار ۔۔۔۔ تو انسانوں میں ۔۔۔
“ہما ۔۔۔”
وہ پیچھے بھاگا اسے بھی گھر کے حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی ۔
ہما دروازے کی طرف پہنچی تھی اس وقت پرمیس فائیق کے روپ میں زلنین کو اُٹھایا اور اسے دروازے کی طرف پھینکا اور زلنین تیزی سے باہر جاکر ہما کے ساتھ لگ کر گرا ۔
ہما زلنین سے لگنے پر دور سڑک پہ جاکر گری اور زلنین اس کے تھوڑے سے فاصلے پر ۔
ہما کو لگا ساری دُنیا جیسے گھوم اُٹھی ہو ۔ درد کے لہر تیزی سے سر سے لے کر جسم میں پھیلا ۔زلنین اُٹھا تو اس نے دیکھا وہاں ہما گری ہوئی تھی ۔
“ہما ! ۔”
زلنین تڑپ کر تیزی سے اُٹھا اور اس کی طرف آیا ۔ اور اس کو دیکھا جو تکلیف کے باعث بھی مشکلوں سے اُٹھنے کی کوشش کررہی تھی ۔ زلنین نے دیکھا اس سر کی طرف خون نکل رہا تھا ۔
“ہما ہما آنکھیں کھولو ۔”
اس نے اس کے گال تھپ تھپائے ۔ ہما نے دُنھدلائی نظروں سے اسے دیکھا پھر اُٹھنے کی کوشش کی ۔ جزلان بھی اس طرف آیا اور زلنین کی حالت دیکھ کر ہما کو جھٹکا لگا یہ کیا تھا ۔ ایک دم وہ پیچھے ہوئی ۔
“ہما ۔۔۔۔”زلنین اس کی طرف آیا ۔
“کون ہو تم ۔۔۔”
وہ درد کی پروا کیے بغیر تیزی سے بولی ۔جزلان اس طرف آیا او شوٹ !!!!! زلنین جن کے روپ میں ۔
“جزلان بھائی یہ کون ہے ۔”
ہما کا چہرہ سفید پڑتا جارہا تھا ۔ زلنین نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تو پھر اسے احساس ہوا کہ کیا ہوگیا ہے ۔پیچھے سے زور دار قہقہے کئ آواز آرہی تھی اور نانو کی سسکیاں ۔ زلنین ہما کو چھوڑ کر تیزی سے اندر کی طرف بڑھا اس کے تیور اس پر حد سے زیادہ خطرناک تھے ۔ وہ تیزی سے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا جہاں وہ کمینہ ہنس کر اوپر کھڑا نانو کو بالوں سے پکڑے گھما رہا تھا اور پھر زلنین کو دیکھ کر رُکو ۔
“تتت ہما تھی بیچاری کو چوٹ لگی ہائے میری بیٹی کدھر ہے ۔”
ہما ڈرنے کے باوجود اس سمیت اُٹھ کر بڑھی کیونکہ اس کو نانو کا خیال آیا تھا ۔اسے لگا وہ بیسٹ جیسی شکل والا بندہ نانو کا حشر کردے گا ۔
“نانو نانو ۔۔۔ وہ زلنین کے پیچھے سے آئی تو اس کی دلخراش چیخے پورے گھر میں گونج اُٹھی ۔زلنین تیزی سے مڑ کر ہما کو دیکھا ۔
“نانو نانو ۔۔۔۔۔” وہ آگئے بڑھی ، فائیق نے نانو کو زور جھٹکا دیا نانو کی چیخے نکلی ، پرمیس فائیق کو روپ دھاڑ چکی تھی ۔ ہما تو ان کی شکل دیکھ کر شاکڈ رہ گئی ۔
“پہچانا میری بچی ۔۔۔۔ ”
اس کا قہقہ پورے گھر میں گونجا ۔
“تمھارا باپ ، تمھاری کمینی ماں کا پہلا شوہر ۔۔۔۔ بدقسمتی سے تمھارا باپ ۔۔۔۔ ”
زلنین بھی اپنے روپ میں اچکا تھا ۔ ہما نے اسے دیکھا تو ڈر کر پیچھے ہوئی اس نے زلنین کو پھر اوپر دیکھا ۔
“کون ہو تم لوگ ۔۔۔۔۔ یہ سب کیا ۔۔۔۔ چاہتے ہو ۔”
وہ ہمت کرتے ہوے کمزور آواز میں بولی ۔
“یہ تو تمھارا شوہر یہ بتائیں گا کیوں زلنین ۔”
“میں بتا رہا ہوں فائیق چھوڑ دوں ورنہ تمھیں ریزہ ریزہ کردوں گا ۔”
زلنین ایک بار پھر دھاڑ اُٹھا ہما کو لگا اس کے کان کے پردے پھٹ جائے گئے ۔ صدمے کے عالم نے اسے اپنے شوہر کو دیکھا پھر اپنی نانو کو پھر اپنے باپ کو ۔۔۔۔
یہ کیا ہورہا تھا قسمت کون سا اس کے ساتھ مذاق کررہی ہے ۔
“پہلے اپنے وجود کو تو سمیٹ لو جگر پھر میرا ریزہ ریزہ کرنا ۔ خیر میری بچی تم یہ سب دیکھ کر حیران ہورہی ہو تو میں بتاتا چلوں میں تمھارا باپ ایک جنزادہ اور یہ تمھاری نانی کالے جادو کرنے والی جس نے تمھاری ماں کو مار دیا ۔۔۔ اس کو مجھے سے دور کیا ۔ نکاح کے اوپر نکاح کروایا ۔ تمھیں بھی مارنے کی کوشش کی ۔ پھر جان بوجھ کر تمھارے سوتیلے باپ کے کان بھر کر اپنے بیٹی اور تمھاری کُٹ لگواتی رہی ۔ اپنے بیٹی کو طلاق دلوائی اس کے بعد ساسو ماں میں ہی بولتا رہوں گا یا آپ بھی اپنے کارنامے بتائیں گی ۔”
وہی بے ڈھنگے انداز میں قہقہ لگایا ۔ زلنین نے ٹیبل اُٹھایا اور اس پر اٹیک کیا لیکن فائیق نے اپنا بچاو کرلیا اور اب نانو کو چھت کے ساتھ چپکا دیا ۔ نانو کی حالت دیکھ کر ہما کا دل چیڑ رہا تھا لیکن اس کی بات نے اس کنگ کردیا تھا ۔
“کمینے !!! ۔”
زلنین پاگل ہوتے ہوے اس پر اُڑ کر چھپٹا ۔۔۔۔ لیکن جزلان نے پیچھے سے آکر زلنین کو پکڑا ۔
“زلنین ۔۔۔۔۔”اس نے سب دیکھ لیا تھا ۔ وہ بھی ہما کی طرح اندر آتے ہوے صدمے سے اپنے چاچو کو دیکھ رہا تھا ۔ مطلب زلنین سچ کہہ رہا تھا ۔ چاچو ہی ہمارے دشمن تھے انھوں نے ہمیں نے وقوف بنایا ۔
زلنین نے جھٹکے سے الگ کر کے جزلان کو تھپڑ مارا ۔
ہما دیوار سے لگے بالکل ساکت یہ سب دیکھ رہی تھی ۔
اسے نے اس پل شدت سے دعا کی تھی اس کے آنکھیں اور کان ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے ۔ یا یہ جو کچھ ہورہا یہ سب خواب اور وہ اسی دُنیا میں آجائے جہاں وہ اور اس کی نانو امریکہ میں ہو ۔۔ اتنا عذاب اتنی تکلیف تو امریکہ میں نہیں تھی ۔ پاپا کے بے رحم تھپڑ میں اتنی جلن نہیں تھی جتنی وہ اس وقت اپنے جسم اور روح میں محسوس کررہی تھی ۔ نمی اس کی آنکھوں سے خون بن کر گر رہی تھی لیکن کسی کا اس طرف دھیان نہیں تھا کون دیکھتا سب اپنی اپنی جنگ لڑ رہے تھے ۔
جزلان نے زلنین کے بھپرے ہوے انداز کو دیکھا ۔ جو اب اس کے سمیت جذباتی انداز میں چیخ رہا تھا ۔
“دیکھ لیا تم نے دیکھ لیا اٹھارہ سال اٹھارہ سال سے میں پاگلوں کی طرح ایک ہی بات کرتا رہا ہوں ۔ مگر میری بات میری بات سب کو بکواس لگی یہ شخص معصوم اگر یہ شخص معصوم ہے تو دُنیا کے ہر کُتا کمینہ معصوم ہے ۔۔۔۔۔ نہیں تم نے کہنا تھا زلنین تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے چاچو ایسے نہیں ہے نہیں ہے ایسے دیکھو لو اسے دیکھو لو اب بھی یقین نہیں آتا ۔ اس نے میرے تو مارے ہی مارے جزلان لیکن تمھارے باپ کا کیا قصور تھا کیا قصور تھا اس کا بس اتنا کہ سمجھایا تھا بڑے بھائی کے طور پر ۔۔۔۔۔ اس بات پر کوئی مارتا ہے بھلا ۔۔۔۔۔”
“لیکن زلنین پاپا تو زندہ ہیں ۔۔۔۔ وہ تو گھر پہ موجود ہے تم یہ کیا کہہ رہے ہو ۔”
جزلان کی بات پہ زلنین ایک دم پیچھے ہوا ۔ اور اسے دیکھ رہا تھا اس نے اپنے بال پاگلوں کی طرح پکڑ کر نوچے ۔پھر مڑ کر اسے دیکھا ۔
“تم نے اس کو بھی پاگل کر کے مارنا چاہتے ہو ۔”
“عقل مند کے لئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے زلنین اور تم کافی عقل مند ہو ۔”
وہ ہنسے ۔۔۔۔۔۔
“خیر ہما !!!! میری بچی اب دیکھو کتنے ظلم ہوے اس کے بدلے میں چھ سات قتل بھی نہیں کرسکتا تھا ۔ میری دُنیا چھین کر خود کیسے خوش رہ سکتے تھے ۔
میں نے تو بس بدلہ پورا کیا ہے اور اس میں گناہ ہی کیا ہے ۔”
وہ ہما کو دیکھتے ہوے اس کے پاس چلتے ہوے نرمی سے بولے ۔ زلنین نے زور دار مکا اس کے منہ پہ مار کر دیوار سے مارا ۔
“ہما سے دور رہو ۔۔۔۔۔ ”
ہما کی آنکھیں سے ایک بار پھر نمی نکلی اور اس کے ہونٹوں کو جاکر چھوئی اس نے محسوس کیا یہ پانی نہیں خون تھا ۔ مگر اس نے چھو کر تصدیق نہیں چاہیے تھی اسے ضرورت نہیں تھا ۔ سر میں جیسے دھماکے ہورہے تھے ۔ کانوں میں ایک عجیب سا شور تھا ۔ پیچھے کھڑا جوکر اپنا کام کر کے چلا گیا تھا ۔
اس نے ہما کے آدھے بال کاٹ کر انھیں جلانا شروع کردیا تھا ۔ اور اس کی شاطر مسکراہٹ اس تماشے کو باخوبی انجوائی کررہی تھی ۔ ہما کے لئے یہاں کھڑا رہنا محال ہوگیا تھا وہ مڑ کر چلنے لگی ۔۔۔۔۔ اسے چلتے ہوے معلوم بھی نہیں ہوا کہ وہ کہاں پر آگئی ۔۔۔۔ مگر اسے کوئی پروا نہیں تھی اسے کچھ نہیں چاہئے تھا نہ ماما ، بابا ، زلنین ، نانو ، دوست کوئی بھی نہیں اسے سکون چاہئے تھا ۔ اللہ کی ذات چاہئے تھی ۔ چلتے ہوے کب ہچکیاں لینے لگی تھی اسے پتا نہیں چلا تھا ۔ پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی خون کے آنسو سچ کے خون کے آنسو ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کے لکنت ہوی زبان سے نکلا ۔
“رحم مالک رحم ۔۔۔۔ اس گناہگار بشر پر رحم کردے ۔”
وہاں فائیق زلنین سے بچ کر نانو کو لے کر غائب ہوگیا کیونکہ پرمیس کی آہستہ آہستہ ساری طاقت ختم ہورہی تھی ۔ اس لئے اسے یہ سب کرنا پڑا ۔ جزلان تو وہی کہ وہی کھڑا یہ سب دیکھتا رہا ۔ جبکہ زلنین نے زمین سے سر ٹکا کر ہما کی طرح ہی رونا شروع کردیا ۔ اس وقت اس کی بھی دُنیا الٹ ہوگئی تھی وہ بھی یہی بول رہا تھا ۔
“رحم ۔۔۔۔ مالک رحم ۔۔۔”

“میرے گھر کا راستہ تو اس طرف نہیں ہے فائیق ۔”
فائیق کو مختلف سمیت بڑھتا ہوا دیکھ کر وہ حیرت سے بولی تھی۔ فائیق کے چہرے پہ البتہ مسکراہٹ تھی اور اس کی ایسی مسکراہٹ شفق سمجھنے سے قاصر تھی ۔
“جانتا ہوں ۔۔۔”
“تو پھر آپ ۔۔۔ آپ کہی مجھے کڈنیپ تو نہیں کررہے ۔”
اس کی بات پر فائیق نے ایک زبردست سا قہقہ لگایا ۔
“آپ کو کیسے پتا چلا ۔۔۔۔” وہ موڑ کاٹتے ہوے اس کی سمیت دیکھتے ہوے شرارت سے بولا ۔اس نے گھور کر فائیق کے کندھے پہ مکا مارا ۔
“مذاق ! کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔”
“آپ نے خود کہا تھا ۔۔۔ میرا تو ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔”
وہ محفوظ مسکراہٹ لئے اس دیکھتے ہوے بولا ۔
“ہونا بھی نہیں چاہیے ورنہ امی ابو نے قیمہ بنا دینا تھا ۔”
“میں تو قیمہ بنے کے لئے بھی تیار ہوں ۔”
اس کے کہنے پر شفق نے اس دیکھا ۔ وہ اس کے سمیت نہیں دیکھ رہا تھا ۔
“پھر وہی فضول بات !! خیر آپ کہاں لے کر جارہے ہیں مجھے ۔”
“سرپرائز ۔”
اس کے عجیب سے لہجے پر شفق نے اسے دیکھا ۔
“سرپرائز جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میرا کوئی ایسا خاص دن نہیں ہے جس پر آپ مجھے سرپرائز دیں ۔”
“کھبی کھبی سپرائز دینے کے لئے کسی خاص موقع کی ضرورت نہیں ہوتی ۔بس دن ہونا چاہیے ۔”وہ سیٹھی پہ کوئی دُھن بجاتے ہوے بولا ۔
“کیسی باتیں کررہے ہیں آپ ۔۔ مجھے تو آپ کی ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی ۔”
“اچھا اس بات کو چھوڑو ۔۔۔ جنوں کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے ۔”
“کن کے بارے میں ؟ ۔”
اس نے شیشے کے پاڑ سے درختوں سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا ۔
“جن ۔” اس کی بات پر شفق نے اسے گھورا مگر کوئی جواب نہیں دیا ۔ فائیق نے اس کی نظریں اپنے اوپر پر پاتے ہی ہنسنا شروع کردیا ۔
“او کم آن شفق میں نے بس پوچھا ہے بائی گاڈ میرا کوئی شرارت کا ارادہ نہیں ہے ۔”
“جی بالکل تو جن اور چڑیل سے پھر کیا تعلق آپ اتنے عجیب سوال پوچھتے کیوں ہیں ۔”
“میں بس ان کے بارے میں رائے مانگ رہا ہوں ۔ ہر انسان کی ان کے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے تو ہوگی ۔”
“انسانوں کی ہوتی ہوگی میری ان کے بارے میں کوئی رائے نہیں بلکہ نام سُن کر میرا دل عجیب ہوجاتا ہے ۔”اس کا واقعی دل عجیب ہورہا تھا ۔
“مطلب آپ انسان نہیں ہے ۔”
فائیق ہنستے ہوے بولا ۔
“اُف فائیق ۔”وہ جھنجھلائی ۔ فائیق نے ہاتھ اُٹھا کر کہنا شروع کردیا ۔
“اچھا اچھا سوری ۔۔۔
“اتنا گھبراتی کیوں ہو ۔ آج تک ایسا کوئی واقع ہوا ہے تمھارے ساتھ ۔”
“نہیں تو ۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
“تو پھر اتنا گھبرانے کیا یار وہ بھی اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں ۔”
“بے شک مگر مجھے خوف آتا ہے اور اب بار بار ان کا کیوں ذکر کررہے ہیں ۔ ماما کہتی ہیں اگر ان کا ذکر کرو تو وہ متوجہ ہوجائیں ہیں ۔”
“بالکل صحیح کہتی ہیں ۔”
وہ بڑبڑایا ۔
“اچھا ویسے اگر آپ سے وہ اگر کوئی جن انسان کے روپ میں ملنے آتا اور آپ کو اس سے پیار ہوجاتا ۔۔۔۔۔۔
“فائیق !! ۔”
“نہیں سُنو نا میں کہہ رہا ہوں اگر کوئی ایسی مخلوق تمھاری زندگی میں آجائے اور وہ دیکھنے میں بُرا بھی نہ ہو اچھا خاصا گڈ لکنگ پیسے والا ہو ۔۔۔”
“سیدھا سیدھا کہے آپ اپنا تعارف کرنا چاہتے ہیں ویسے آپ اور جن کی شکلوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔”
وہ شرارتی مسکان اس کی طرف اچھالتے ہوے بولی ۔
“شفق تم دھیان سے بات کیوں نہیں سُنتی ۔”فائیق اب کی بار سنجیدگی سے بولا ۔
“کیونکہ مجھے سُنا ہی نہیں ہے جن اوران کی زندگی کے بارے میں ۔”
“اتنی انٹریسٹنگ تو ہوتی ہے ان کی لائف ۔”
“نہیں نہیں ۔۔۔مجھے آپ کے ساتھ آنا ہی نہیں چاہیے تھا ، پہلے ہی کالج اور ممی کا اتنا سٹریس ہے بجائے ریلیکس کرنے کے آپ تو بندے کی نیند ہی اُڑ دیتے ہیں ۔”
وہ ناراضگی سے اسے بولی ۔ فائیق صرف مسکرا ہی سکا تھا ۔ منزل پہ وہ پہنچ چکے تھے ۔ یہ وہی گھر تھا جہاں زلنین کا سکول تھا ۔ یہ وہی گھر تھا جس میں فائیق اور شفق کی یادیں جڑی ہوئی تھی اور یہ وہی جگہ تھی جسے ہما نے اسے دیکھنے سے پہلے اپنے خواب میں دیکھا تھا ۔
دور وادیوں میں یہ اکیلا گھر ۔ جس کے اردگرد دھند ہی دھند پھیلی ہوئی تھی ۔ بس اس کی احمر اور کالی رنگ کی چھت تلے ایک کھڑکھی بڑے واضعے طور پر نظر آرہی تھی ۔
شفق نے اس طرف دیکھ کر فائیق کو دیکھا ۔ فائیق اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
“ہم یہاں کیوں آئیں ہیں ۔”اس نے دوبارہ گھر کی طرف دیکھتے ہوے فائیق سے پوچھا ۔فائیق بنا کچھ کہے گاڑی سے اُتر گیا ۔
شفق حیران ہوئی اس سے پہلے وہ نکلتی فائیق نے اس کی طرف آکر اس کا دروازہ کھولا اور ہاتھ آگئے کیا ۔ شفق کو کچھ سنگین لگا رہا تھا پتا نہیں کیا تھا مگر فائیق کا انداز بتارہا تھا ۔ پہلے تو وہ فائیق کے ہاتھ دیکھتی رہی پھر بغیر سوچے سمجھے اس نے تھام لیا اور باہر نکلی ۔باہر خنکی کا احساس نے اس کو گھیرا تو وہ کانپ اُٹھی ۔
“یہاں کچھ زیادہ ٹھنڈ نہیں ہے ۔”
اس نے فائیق کا ہاتھ چھوڑتے ہوے بازو اپنے گرد پھیلائے ۔
“ہاں کافی اوپر آئے ہیں ہم ۔ اس لئے چلو اندر آو ۔”
“ویسے مجھے یہ گھر کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ۔”
پتا نہیں کیا عجیب سے سکوت بھرا ماحول تھا جس کی بدولت شفق کو کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔
“ارے تم پھر ڈر رہی ہو گھر عجیب سا ضرور ہے لیکن جب تم اندر جاو گی تو لگے گا کسی شہزادی کے جزیرے پہ آگئی ہو ۔”
اس کے مسکرا کر کہنے پر شفق نے ناک چڑائی ۔
“ہاں اندر سے پریاں ، شہزادی ، فرشتے اور جن برآمد ہونگے اور میری آنکھیں حیرت سے چندھیا جائیں گئیں ہے نا ۔”
فائیق بے اختیار ہنس پڑا ۔
“ہاں ہو بھی سکتا ہے یو نیور نو ۔”
“پتا ہے عام سے گھروں سے کچھ زیادہ فینائل اور پوچھا مارا ہوگا۔ اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں ملے گا ۔”
اس کی بات پہ فائیق ہنس ہنس کر دوہرا ہورہا تھا پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر کی طرف بڑھا ۔
“چلو میڈم اس سے پہلے ڈر کے مارے اس کے اندر نہ جانے کے بجائے آپ مجھے یہی کھڑا ہنساتی رہیں ۔”
وہ شفق کی چالاکی خوب سمجھ چکا تھا ۔ شفق ایک دم اپنے پکڑے جانے پر منہ بسورنے کے سوا کیا کر سکتی ۔
“ایسا کیا کہی آپ نے کوئی کیوٹ سا پپی تو نہیں رکھا جس کو آپ نے اپنے ابو سے چھپا کر یہاں رکھا ہو اور مجھے دکھا رہیں ہیں ۔”
“تم جانور کچھ زیادہ نہیں پسند ۔”
“تو کیا پیارے نہیں ہوتے وہ ۔۔۔ پتا نہیں لوگوں کی حقارت زدہ نظریں عجیب لگتی وہ بھی تو اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ کی سارے چیز ہی محبت کے لائق ہیں ۔”وہ اس طرح بولتے ہوے کوئی معصوم بارہ سال کی بچی معلوم ہورہی تھی ۔ فائیق اسے دیکھتا رہا پھر شرارت سے بولا ۔
“جن بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔” اس کے کہنے کی دیر تھی اور شفق کا زور دار مکا اس کے کندھے پر ۔
“آپ نے اگر دوبارہ جنوں کا نام لیا نا تو میں چڑیل بن کر آپ کو خون پی جاوں گی ۔۔”
فائیق نے دلکشی سے مسکراتے ہوے اس کے گھورتے ہوے چہرے کو دیکھا اور پھر سر ہلاتا ہوا دروازہ کھولا ۔
اور ہاتھ آگئے کیے ۔
“آفٹر یو میم ۔”
شفق بنا کچھ سوچے آگئے بڑھنے لگی پھر ایک منٹ ٹہر گئی مڑ کر اسے دیکھا ۔ فائیق نے آبرو سوالیہ انداز میں اوپر کیے ۔
“ضرور کچھ ہے ، جو مجھے خوف زدہ کرنے کا باعث بنے گا اس لئے پہلے آپ جائے ۔”
فائق کے ماتھے پر اب کی بار بل آئے ۔
“اُف مس وہم آپ ہر وقت میرے پاس اتنا ٹائیم نہیں ہے کہ میں ڈراتا پھیروں اور ویسے بھی میں اب جیسی اچھی اور پیاری لڑکی سے کوئی ناراضگی مولانا بھی نہیں چاہتا کیونکہ اگر میں نے کچھ کیا آپ کے پاپا تو مارے گی ہی مگر میرے ڈیڈ نے اپنی لاٹھی اُٹھا کر میری کمر دکھا دینی ہے ۔
اس نے اتنا کہا تھا اور شفق کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ بکھیر چکی تھی مگر گھور کے انگلی اُٹھائی ۔
“اگر کچھ ہوا نا تو پھر اس کے زمہ دار آپ ہونگے ۔”
فائیق نے سر کو ہلکہ سا خم دیا ۔
“میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں ، اب میڈم اندر تشریف لائے گی یا کچھ اور کرنے پڑے گا ۔”
“اُف جارہی ہو جارہی ایک تو اتنے ڈرامے ۔۔۔۔
جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا اس کا منہ سے جملا ادھورا رہ گیا ۔ تھوڑی دیر پہلے جو آنکھیں چندھیا جانے کا کہہ رہی تھی واقعی انکھیں چندھیا گئیں ۔
※※※※※※※
زلنین نے جلدی سے اپنا سر اُٹھایا اور اپنے آنسو پونچھ کر تیزی سے اُٹھا اس نے جزلان کو دیکھا جو بالکل خاموش کھڑا غیر نقطے پر غور کررہا تھا ۔ زلنین اُٹھ کر اس کی طرف گزر کر جانے لگا جب جزلان نے اس کا کندھا پکڑ لیا ۔ زلنین نے تیزی سے مڑ کر اسے دیکھا لیکن حیرت کی انتہا تھی کہ اس وقت جزلان کا چہرہ کرخت تاثرات لئے ہوئی تھی ۔ اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی تھی ۔ آنکھوں میں عجیب سی وحشت تھی ۔ جزلان اس نہیں دیکھ رہا تھا لیکن زلنین کو معلوم تھا اس کی نظریں نفرت کا پتا دے رہی تھی ، حقارت جو اور کسی کے لئے نہیں زلنین کے لئے تھے ۔
“تم جس شخص کو اپنا دُشمن سمجھ رہے ہو وہ تمھارا دُشمن نہیں ہے ۔”زلنین نے اپنا کندھا جھٹکا لیکن جزلان کی گرفت مضبوط تھی ۔
“تم نے اس شخص کے ابھی بھی تلوے چاٹنے ہیں تو میری بلا سے تم بھاڑ میں جاو آج کے بعد میرا اور تمھارا کوئی تعلق نہیں جزلان ۔
زلنین نے بھی نفرت امیز لہجہ اپنایا ۔
“یہی تو تمھارے جیسے جذباتی انسان کی غلطی ہے کے ایک جن کسی اور کے روپ میں آکر کہہ رہا ہے کہ وہ یہ ہے ۔ ٹھیک ہے مان لیا وہی شکل وہی لہجہ وہی طاقت ۔۔۔۔ مگر اتنے طاقت ور جن کی طاقت اس کے بھتیجے سے کم ہوجائے پر بھاگ جانا مجھے ہضم نہیں ہوئی پھر دوسری بات اس میں جب طاقت ختم ہوگی تو اس کی نیلی اور گلابی رنگ کی امتزاج آنکھیں ابھرنے لگی جو اور کسی کی نہیں بلکہ ہمارے خاندان میں صرف ایک لڑکی ہے ۔”
زلنین نے اسے یو دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوکر آخر کہنا کیا چاہتے ہو ۔
“پرمیس یہ سب اور کوئی نہیں صرف پرمیس کہہ رہی اور اس نے نانو اور چاچو کو قبضہ کر لیا ہے زلنین ۔”
اس نے اتنا کہا تھا اور زلنین کا قہقہ گونج اُٹھا تھا اور اس نے تالی مارنا شروع کردی ۔ اب جزلان کو لگ رہا تھا کہ اس کی دماغی حالت خراب ہے ۔
زلنین بجا کر آگئے بڑھا اور اس کی کنپٹی پر انگلی سے ٹیپ ٹیپ کی ۔
“اپنے اس چھوٹے دماغ پہ زیادہ زور مت ڈالیں سائینٹسٹ صاحب یہ نہ ہو کہ آپ کا مذاق بنا شروع ہوجائے ۔ تم پر اس شخص نے جادو کیا ہے اور مجھے اس کا پتا کا پختہ یقین ابھی تھوڑی دیر پہلے ہوگیا تھا ۔اس لئے بولتے رہو خدا حافظ ۔۔۔۔۔”
“مذاق تو تم اپنا بنا رہے ہو زلنین وہ لڑکا جو بھی کہہ رہا ہے بالکل صحیح کہہ رہا ہے ۔”
کسی نسوانی آواز پر ان دونوں کا سر بے ساختہ اُٹھا تھا ۔
ایک عورت ویل چیر پہ بیٹھی ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوے بولی ۔ اس کے پیچھے ایک چھوٹی سی بچی زلنین نے اسے شاہد پہلے بھی دیکھا تھا سوچنے میں ایک منٹ نہیں لگا تھا یہ اس کے ساتھ والی گھر کی لڑکی تھی غالیہ جس کی امی اپاہج ۔۔۔۔
“زیادہ زہن پر زور نہ ڈالو میں بتاتی ہوں میں زرین ہوں ، تمھارے ۔۔۔۔”
“او تو وہ آپ جس نے یہ سب سارا فساد کیا تھا میرے چاچو اور باقی سب لوگوں کی زندگی برباد کی بولیں کہاں رکھا ہے میرے چاچو کو اگر آپ نہیں بتائیں گی تو میں ۔۔۔۔
جزلان بھپرتے ہوے انداز میں آگئے بڑھنے لگا کہ زلنین نے پھرتی سے اسے پکڑا ۔
“جزلان !!!!! یہ کیا کررہے ہو ۔”
زلنین نے غصے سے کہا کیونکہ اسے پتا تھا یہ سب چاچو نے اس پر بے بنیاد الزام لگائے ہیں بھلا ایک اپاہج عورت کسی کا بُرا کوئی چاہیے گی ۔پیچھے غالیہ بھی آگئی تھی اس نے زلنین کو دیکھا اور تیزی سے بولنے لگی ۔
“زلنین بھائی ہما آپی کہاں ہیں ۔”
“زلنین چھوڑ مجھے میں ان دونوں ماں بیٹیوں کو آج ختم کردوں گا ، ایک شفق مر گئی اب تم اس کی آخری نیشانی کو بھی جینے نہیں دینا ۔”
وہ بھی اسی کے انداز میں دھاڑا تھا تو غالیہ ڈر کر پیچھے ہوے تھی جبکہ اس عورت کا چہرہ پُرسکون تھا اور وہ مڑ کر بیٹی کو تسلی دینے لگی ۔
“بیٹا یہ آپ کو کچھ نہیں کہے گئے ۔۔۔ ڈرو مت ۔۔۔۔ بھائی ہیں ۔”
“بھائی ہم سب کی زندگی برباد کرکے تم اپنی بیٹی کو بھائی کہہ رہی ہو امی ۔”
اس عورت کی آنکھوں میں اچانک ہی نمی آگئی زلنین بس یہ سب دیکھ رہا تھا ۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے لیکن اس نے اور ہما نے دونوں نے رحم کی بھیگ مانگی تھی ۔
اب جب رحمت ان کے دروازے پہ آئے تب بھی وہ اس سے بے نیاز ہیں ۔زلنین نے اس عورت کے آنسو پہ بے ساختہ کہا تھا ۔
“آپ یہاں اس وقت کیوں آئی ہیں اتنی طوفان میں ہما کے گھر ۔۔۔۔”
چونکہ وہ انسان تھی اور اس طرح کے حالت میں اچانک آنا کچھ معیوب سا لگ رہا تھا ۔ غالیہ آگئے بڑھی اور ماں کے گرد بازو پھیلا کر زلنین کو دیکھا ۔
“زلنین بھائی آپ پلیز ہما آپی کو بلا لیں ان کی زندگی خطرے میں ہے اور آج جمعہ کی تیرویں تاریخ ہے آج اگر وہ یہاں سے نہ گئی تو بہت مشکل ہوجائے گی ۔”
“ہاں ہاں کر لو جتنی بکواس کرنی ہے لیکن ہم تمھاری باتوں میں نہیں آئے گی دو منٹ میں سب کچھ بتاو اور میرے چاچو اور نانو کو حوالے کرو ۔۔۔۔۔۔”
“ہم نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔ ہم سچ میں ہما کا بھلا چاہتے ہیں ۔”وہ دونوں واقعی قابل رحم لگ رہی تھی ۔ کہی سے آوازیں آرہی تھی زلنین جو کچھ کہہ رہی ہے سچ کہہ رہی ہے یقین کرو ۔۔ زلنین کسی چیز کے زیر اثر نہیں آنا چاہتا تھا اس نے اپنا سر جھٹکا ۔
“جس نے تمھارا محبوب چھینا اس کی بیٹی سے ہمدردی ہماری سمجھ میں نہیں آتی ۔”
“زلنین ایک بار میری بات سُن لو ۔۔۔۔ میں تمھیں سب بتاتی ہوں ۔”
اس عورت نے ہاتھ جوڑ کر زلنین سے گرگراتے ہوے کہا ۔
“میں مزید گناہ کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتی ۔۔۔۔ زلنین پلیز سُن لو ۔”
“میں نے کہا ہے نا نہیں سُنے گئیں ۔”جزلان نے تیزی سے کچھ اُٹھا کر ان پر وار کرنا چاہا زلنین نے روک دیا اور غصے سے اسے دیوار سے لگایا ۔
“جب وہ کہہ رہی ہیں کہ ایک بار سُن لو تو تمھیں سمجھ نہیں آرہی دُنیا جہاں کے قصور وار جن میں میرا چاچا بھی شامل اس کی سُنتے آئے ہیں تو اس بیچاری عورت کی بات سُنے میں کیا حرج ہے ۔”
اس نے جزلان کی گردن تقریباً دبوچی ہوئی تھی ۔جزلان نے اسے زور سے دھکا دیا اور غائب ہونے سے پہلے پھنکارتے ہوے بولا تھا ۔
“اللہ کرے تم مر جاو زلنین زولفقار ۔”
زلنین اسے دیوار کو دیکھتا رہا پھر نظر ایک دم نیچے ہما کی تصویر پہ گئی تھی ۔ وہ اس تصویر کو دیکھتا رہا کانچ کے کرچیوں سے بھری تصویر میں وہ اس کے معصوم چہرے کی معصومیت محسوس کرسکتا تھا ۔ اس کی پیاری لڑکی اس کی معصوم سی صاف دل لڑکی کی زندگی میں ایسا بونچھال آیا کہ وہ اس کی تاب نہ لا سکی تھی ۔ پھر ایک دم اسے خیال آیا وہ کہاں ہے اس لڑائی کے چکر میں وہ کیسے بھول گیا وہ کہاں ہے ۔
“ہما ! ۔”
“بیٹا تم ہما کو بھی بلا دو میں تم دونوں سے ضروری بات کرنا چاہتی ہوں
“ہما !!! ۔”
اس نے ایک بار پھر دُہرایا ۔ اس نے پھر تیزی سے سر تھاما ۔
“یہ اللہ یہ مجھے سے کیا ہوگیا ہے ۔”
اس نے منہ پہ ہاتھ پھیرا اور پھر تیزی سے اس گھر سے غائب ہوا اپنی ہما کو تلاش کرنے ۔
“زلنین !!!!! ۔”وہ تیزی سے ہاتھ اُٹھا کر بولی ۔ غالیہ نے برستی آنکھوں سے اپنی امی کو دیکھا ۔
“اب کیا ہوگا امی ۔۔۔ یہ تو چلے گئے ہما آپی کا بھی پتا نہیں دیا ۔”
“لیکن جو کچھ بھی ہوجائے غالی ہمیں یہ روکنا ورنہ وہ وہ ہما کو ماردیں گئے ۔

چلتے ہوئے ایک جگہ جب رُک کر اللہ دے رحم مانگ رہی تھی ۔ اس وقت اس کے وجود میں سنسنی دوڑی تھی ۔ اس لگا جیسے اس کا سارا بدن چیونٹیوں سے رینگ رہا ہو ۔۔۔۔ اس نے اس احساس کو ختم کرنے کے لئے اپنے بازو اور دیگر حصے پہ تیزی سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے ڈھیر ساری چونٹیاں اس کے وجود کے اندر دھُنسانا چارہی ہے اس کے گوشت کے ایک اک زرے کو ختم کرنا چارہی تھی ۔
ایسی حالت تو مرنے کے بعد والے کی ہوتے ایسا کیوں ہورہا ہے وہ جس جگہ کھڑی ہوئی تھی وہاں وہ اپنے گھر سے کافی آگئے آچُکی تھی یہ زلنین کے گھر سے تھوڑے سے فاصلے کے دائیں جانب تھی جہاں سے جنگل شروع ہوجاتا ہے اس کے دو راستے ہیں ایک ٹریک نمہ راستہ ، دوسرا میٹھا چشمہ ۔۔۔۔ یہ ایک سو سال پُرانا کنواں تھا جہاں جنگلوں کے پیج و پیچ میں کہلاڑے ، شکاری اور دیگر غیر علاقہ کے لئے ٹھنڈا پانی میسر کیا جاتا تھا ۔ طوفان تھم چکا تھا اور ہما کی حالت اور عجیب ہورہی تھی وہ تیزی سے اپنے بازو کو خراش کرنے لگی جب احساس بڑھتا گیا تو نوچنے پڑ آگئی ۔ تیزی سے چلتے ہوے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ رہی تھی مگر ایسا کچھ نہیں مل رہا تھا جس سے وہ اس احساس کو مٹا سکتی ۔ ہوا کا جھونکا اسے نا معلوم انداز سے اس چشمے کی طرف کھینچا رہا تھا ۔ طوفان کے باعث پتے ‘ ٹوٹی ہوئی شاخیں اور سیاحوں کو کیے ہوے گند اس کے پیروں میں آرہے تھے وہ بے دھیانی میں کین کی بوتل کو روندتے ، بوتل کے پیروں سے لڑکھڑاتے ایک محبت بھرے احساس سے کھینچتی جارہی تھی ۔ جس کنوئیں کے کونے میں اس کا باپ گرا ہوا تھا ۔ بے ہوش ‘ لاچار ‘بے بس ۔ اکیلا بالکل اکیلا کوئی رشتہ ہمدرد اور محبت کا اس کا نہ تھا ۔ اس کی یہ محرومی پورے کرنے اس کا خون تکلیف سے اس طرف آرہا تھا ۔ اپنے تکلیف کردے روح جسم کو سکون بخشنے ۔۔۔
” اللہ اس تکلیف کو مجھ سے دور کردے مجھ سے سہنا مشکل ہورہا ہے ۔”
خون گالوں پہ خشک ہوچکا تھا اب اس میں پانی نکل رہا تھا ۔ فائیق کی آنکھیں بند تھی لیکن جیسے جیسے ہما قریب آتی جارہی تھی اس کے جسم میں ہلکی ہلکی جنبش ہورہی تھیں جیسے اسے جینے کی وجہ مل رہی ہو ۔ اسے معلوم نہ ہو مگر اس کا دل اس کا دل کسی خشبو کے احساس سے تیزی سے دھڑکنے لگا تھا ۔ اندر دوڑتا خون جوش مارنے لگا تھا مگر ابھی اس کی آنکھیں بند تھیں ۔ اس کا دماغ اس جینے کی وجہ پوچھ رہا تھا کیونکہ وہ اس کی ہوش کی طرح اب بھی بیگانہ تھا ۔ ہما نے کنویں کی طرف دیکھا تو سکون اس کے دل میں اُترا اور تیز سے کنویں کی طرف بھاگتے ہوے آئی ۔ فائیق کے ہلکے ہلنے لگی ۔
“فائیق اگر میں نہ ہوئی تو میرے احساس ہر پل آپ کے ساتھ ہوگا ۔ میں اب ہر جگہ ہوگی ، ہر کسی کی شکل میں آپ کو میں نظر آؤں گی ۔ ہماری محبت وجود کو حاصل کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ ہماری محبت دو جوہر کو ایک کرنے کا نام ہے ۔ ”
“فائیق میں نہ ہوئی تو کیا ہوا ، آپ کی ہما تو ہے وہ آپ کو مجھ سے زیادہ محبت دے گی آپ پاکستان آجائے اسے آپ کی ضرورت ہے ۔ آپ کے خون کو آپ کی ضرورت ہے ۔”
“اللہ تعالی نے ہما اور میری شکل ایک جیسے کیوں رکھی آپ کو پتا ہے ، تاکہ آپ کھبی اُداس نہ ہو ۔۔۔۔ مجھے کھو کر آپ رشنگی نہ محسوس کریں ۔ میری بیٹی باپ کی شفقت پیار ، عزت کی محروم رہی فائیق آپ کے بغیر آپ کی بیٹی ، میں اسے اپنی بیٹی نے آپ کی بیٹی کہتی ہوں اور قیامت تک ایسا ہی کہوں گی ۔۔۔۔ کہ ہما زوالفقار فائیق زوالفقار کی بیٹی ہے مگر لبوں پہ اعتراف نہ لا سکی ۔ ہما کو اس کا حق جو اس کا آپ پر تھا نہ دے سکی ۔
اور آپ کے ساتھ ساتھ اس کی بھی مجرم ہوں ۔ ”
ہما نے پانی نکال کر اپنے جسم پر ہلکے ہلکے چھینٹے مارے تو انجانے میں اسے سکون بخش احساس ہوا ۔ اس کی ٹانگیں دکھنے لگی تھی ، تقریباً شل بھی ہوچکی تھی وہ بنا سوچے سمجھے بیٹھ گئی اور اپنے گیلے بازو کو دیکھنے لگی جہاں احساس ایک دم جیسے غائب ہوگیا تھا مگر اپنے بازو ، گردن نوچنے کے باعث وہ انھیں زخمی کر چکی تھی ۔ وہ ان پر ہاتھ پھیر کر درد کو محسوس کررہی تھی ۔ تھکے ہوے انداز میں اس نے آنکھیں موند لیں ۔ پانی پھر آنکھوں سے بہنے لگا ۔ وہ اب خاموش نہیں رہ سکتی تھی اس لئے اس واقعے کو دوبارہ یاد کر لے سسکنے لگی ۔
“اللہ تعالی اتنا بڑا امتہان ، جس جس کو میں چاہتی تھی اس اس رشتے نے مجھے اتنا بڑا دھوکہ دیا ۔”
فائیق کی آنکھیں کھل گئیں ۔
“چلو زلنین تو ایک اجنبی ، اجنبی سے کچھ بھی اُمید کی جاسکتی ہے لیکن نانو اور ماما ۔”
اس کا لہجہ صدمے سے چور تھا ۔فائیق اس آواز کو اپنے اندر تک محسوس کررہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا جو اس کے اندر جناتی جان جو اسے زنجیر سے باندھ کر رکھی ہوئی تھی وہ آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی تھی ۔ وہ انسان نہیں تھا نہ کبھی بن سکتا تھا ۔ اس کے ساتھ بھی بے پناہ دھوکے ہوے تھے ۔ اس کے بھی ایمان کا امتہان لیا گیا تھا ۔جو چیز سرے سے ہو نہیں سکتی تھی جس کا خدا نے ذکر بھی نہیں کیا تھا ۔ یہ سب کفر سوچ تھی ۔ جو فائیق کے اندر داخل ہوچکی تھی اور اس کی یہی سزا اس کو ملی تھی ۔ اس کے پیارے اس سے دور ہوگئے تھے ۔ ایک لڑکی جس کے بغیر وہ سانس نہیں لے سکتا تھا ۔ اللہ نے اسے چھین کر اسے سزائے موت سے بھی کڑی سزا دے دی ۔ اس کی بیٹی کا وجود بھی اس سے دور رکھا ۔ اس کے سارے رشتے اسے جھوٹا اور قاتل سمجھنے لگا جو اس سے پیار کرتے تھے وہ اسے حقارت کی نظروں سے دیکھتے یہ سب لوگوں کے کرنی کے بجائے اس کی کیے ہوئی کی سزا تھی ۔ وہ جو یہ سمجھ بیٹھا تھا ایک شیشے سے پھولوں کے مِلن سے انسان بن جائے گا تو اس کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی ۔ دُنیا میں سارے معجزے ہوسکتے لیکن مخلوق کا بدلنا اس دُنیا میں ناممکن تھا ۔
“اور یہ جن ۔۔۔۔جادو یہ سب کیا ہے اللہ ! میں جس سائنسی دور کی لڑکی ہوں کیا مجھے اس بات کا یقین کرنا چاہئیے ۔ کرنا تو چاہئیے کیونکہ قرآن پاک میں آپ نے خود کا ان کا ذکر کیا ہے ۔ ان کی ایک سورہ بھی رکھی ۔۔۔۔
تو کیا میرا شوہر دوسری مخلوق ہے ۔۔۔۔ ”
فائیق اب اُٹھ بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کو یہ آواز سکون بخش رہی تھی ۔ یہ آواز اس کے دل کے بہت قریب تھی ۔اس کے لب تبسم میں پھیلنے لگے تکلیف کے باوجود بھی ۔۔۔۔۔۔ اس نے پرمیس کے اٹیک کرنے پر اللہ سے رحم کی طلب کی تھی معافی مانگی تھی اور اللہ نے اسے بیس سال کے بعد معاف کردیا تھا ۔۔۔ آخری دفعہ وہ تب کھل کر مسکرایا تھا جب شفق کو اپنا اصل بتاتے ہوے اور اسے شادی کا پیغام دیتے ہوے اس کا حیرت سے یا شاکڈ سے چہرہ دیکھتے ہوے وہ جی بھر کے ہنسا اور مسکرایا تھا اور اس کے ہر انداز کا لطف اُٹھایا تھا ۔
“اور اگر زلنین واقعی جن ہے تو کیا مجھے اس کے رفاقت بھرا ہاتھ تھامنا چاہئیے کیا میں زندگی بھر رہ سکتی ہوں ۔” وہ اب اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور چل کر گھومتے ہوے اس طرف آیا تھا جہاں وہ کنویں سے ٹیک لگائیں آنکھیں موندیں اپنے رب سے مخاطب تھی ۔ فائیق ہل نہیں سکا تھا ۔ جتنی وہ تصویر میں اپنی ماں کا عکس لگتی حقیقت میں تو ایسا لگتا تھا جیسے سامنے شفق بیٹھی ہو ۔۔۔۔ فائیق یک ٹک اس کے سسکتے ہوتا وجود کو دیکھ رہا تھا ۔
اتنا خوبصورت منظر ۔۔۔۔ اس کی بیٹی ۔۔۔۔ نمی فائیق کی آگ رنگ آنکھوں میں بھر کر آئی تھی ۔۔۔۔۔ سسکی کو چھپانے کے لئے اس نے لب سختی سے دبا لئے تھے ۔ وہ اس خوبصورت اور پیاری سی جوان بچی کا باپ تھا ۔ یہ اس کی بیٹی تھی ۔۔۔ دل پگھل رہا تھا اور اس کی پگھلاہٹ پورے جسم میں پھیل کر باہر تک آنے کو بیتاب تھی ۔ ہما اب اپنے گال صاف کررہی تھی لیکن گال پھر بہے جا رہے تھے ۔ فائیق اب گھٹنے کے بل بہہ گیا اسے ہر طرف شفق کی حیرت ، خوشی ، روتی دھوتی ہر قسم کی آوازیں سُنائی دیں رہی تھیں جن کا وہ دیوانہ تھا ، جن آوازوں کو وہ عرصہ محروم ہوچکا تھا ۔
اس کی سزا ختم ہوگئی تھی ۔ اسے یقین ہوگیا تھا اس رب نے اسے بخش دیا ہے ۔ اب وہ ساری زندگی اس رب کا شکر ادا کرتے ہوے نہیں تھکے گا ۔
“میں زلنین کو چھوڑ کر امریکہ چلی جاوں اللہ تعالی ۔۔۔۔ مگر جب یہ بات کرتی ہوں تو میرے نھنھا سا دل تڑپ اُٹھتا ہے جیسے یہ میرا دل نہیں زلنین کا دل ہے میرے سارے تار زلنین سے جڑ گئے ہیں جیسے اگر میں اس سے دور ہوتی گئی تو یہ جڑی تار یا ڈور ٹوٹ جائے گی اور میرا دل جیسے ختم ہوجائے گا ۔۔۔ نہیں میں اسے نہیں چھوڑ سکتی ۔۔۔۔
کہتے ساتھ وہ سر زور سے ہلانے لگی بے بسی والی کیفیت ۔۔۔۔۔۔۔
“یہ کس مشکل میں لاکھڑا کردیا مجھے میرے مالک ۔۔۔۔ نہ اس کے قریب جا سکتی ہوں نہ اسے دور ۔۔۔۔ مگر وہ جن ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے اس کو تو آپ نے ہی بنایا ہے ۔۔۔۔ اس کی طاقت میرے لئے خطرے کا انجام بھی نہیں بنی تھی ۔۔ بلکہ اس نے میری رکھوالی کی تھی ، میری آبرو کو بچایا تھا ۔۔۔۔
دماغ آہستہ آہستہ کام کرنا شروع ہورہا تھا اور دل کے فیصلے کا ساتھ دے رہا تھا ۔
” اس نے تو ہمیشہ میری فکر کی ہے ۔۔۔۔ ”
“وہ ہمیشہ سے میرا ہمدرد رہا ہے ۔”
وہ کہتی جارہی تھی اور فائیق آنکھوں میں نمی لئے چہرے پہ تبسم بھرا یک ٹک بیٹے کو دیکھ رہا تھا ۔ اپنے بیٹی کی آنسو اس کے لئے ناقابل برداشت تھے مگر وہ اسے چھونا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اسے لگتا تھا جیسے ہما کہی غائب ہو جائے گی مگر آنسو جب بڑھنے لگی چہرے کی تکلیف بڑھنے لگی تو فائیق سے رہ نہیں گیا ۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کیے ۔ ہما کی پٹ سے کھلی اسے لگا جیسے زلنین آگیا ہو ۔ وہ اس کو غائب پاکر کیسے رہ سکتا تھا ۔۔۔۔ مگر حیرت کی انتہا جب اس نے فائیق کو دیکھا تو اس کو سکتہ تیاری ہوگیا تھا ۔ اب یہ شخص اس کے سامنے اتنا سب کچھ کر کے اس کی نانو کو یہاں سے لے گیا تھا اور اب ۔۔۔۔۔ فائیق نے ہاتھ بڑھا کر اس کے دوسرے گال صاف کیے پھر اس کے سُرخ گالوں کو دیکھا تو پتا چلا یہ خون جما ہوا ہے پھر مزید غور کیا اس کی گردن اور بازو پہ ناخن کو نیشان تھے ۔۔۔۔ تکلیف کا احساس فائیق کے گرد پھیلا ہوا ہے ۔
“یہ کیا ہوا ہے ۔”
ہما اُٹھ کر تیزی سے بھاگنا چاہتی تھی مگر ان کے رندھے ہوے لہجے نے اسے روک دیا اور وہ انھیں دیکھنے لگی وہ ویسی ہی تھے جیسے ماما کی تصویر میں تھے خوبصورت ، پُرکشش ، اپنے طرف کھینچ دینے والی صلاحیت رکھنے والی شخصیت ۔۔۔۔ مگر کچھ تھا جو بہت کچھ بدل گیا تھا ۔ کالے بالوں کی جگہ سُنہرے بالوں نے لے لی تھی ۔ مسرت چہرے کی جگہ ایک بس انسان کی شکل لیں لی تھی اور ان کی نمکین پانیوں سے بھری آگ رنگ آنکھوں میں ایذا ہی ایذا بھر چکا تھا ۔ فائیق نے اس کا جواب نا پاکر پھر سے بولے ۔
“ہما !! میں ۔۔۔ میں فائیق ہوں ۔۔۔”
زبان نے تو گویا لکنت پا لی تھی ۔ ہما کسی چیز کو نہیں بس ان کو دیکھے جارہی تھی اس کا سارا بوجھ ساری تکلیف جیسے ان کو دیکھنے سے غائب ہوگئی تھی ۔۔۔ فائیق نے پیار سے اس کے گال تھپ تھپائے جس گالوں پہ ریحان نے تھپڑ مارا تھا اس کی جلن غائب ہوگئی تھی ۔ اس کی جگہ ٹھنڈی پھوار نے لے لی تھی ۔
“تم میری بیٹی ہونا ۔۔۔۔ ” یہ جملہ !!!! یہ کتنا عام سا جملہ تھا مگر ہما کے لئے یہ کسی آب حیات سے کم نہیں تھا ۔ اسے لگا اس کا گاہل جسم میں کوئی مرہم لگا رہا ہے ۔۔۔ ٹھنڈا مرہم ۔۔۔ وہ کسی کی بیٹی ہے ۔۔۔۔ اس کی شناخت آخر مل گئی کوئی کہنے کو تیار ہے کہ وہ اس کی بیٹی ہے ورنہ وہ تو صرف ہما تھی ۔۔۔۔ ہما ۔۔۔۔ آج وہ کسی کی بیٹی ہے ۔ ایک باپ کیا ہوتا ہے ہما کو ان کو دیکھ کر محسوس ہورہا تھا ۔۔۔۔۔
“تم تو بالکل شفق ہو ۔۔۔۔ وہی چہرہ ، وہی معصومیت ۔۔۔۔۔۔ مجھے میرا تحفہ بہت دیر سے کیوں ملا ۔۔۔۔ مجھے تو تمھیں گود میں اُٹھانا تھا ۔ تمھاری نرم چھوٹے سے جسم کو اپنا احساس بخشنا تھا ۔۔۔۔۔ تمھارا رونا سُنا تھا ۔ تمھاری چھوٹی چھوٹی شرارتیں دیکھنی تھی ۔ تمھاری ساتھ ڈھیر ساری یادیں بنانے تھی ۔۔۔۔ تمھیں انگلی سے پکڑ کر چلنا سکھانا تھا ۔ تمھیں سکول بھیجنا تھا ۔ تمھارے ساتھ پارک جانا تھا ۔۔۔۔ تمھارے ساتھ ڈھیر ساری باتیں کرنی تھی ۔۔۔۔ میں نے تو بہت سے پل کھو دیے ۔۔۔۔۔۔۔ ”
یہ الفاظ تھے یا ہما کا ہم درد ان کا اور اس کا درد ایک ہی تو تھا ۔۔ بیٹی باپ سے محروم تھی باپ بیٹی سے محروم تھا ۔۔۔۔ ہما ان سے ڈر نہیں رہی تھی ۔ ہما کو یقین ہوگیا تھا یہ ہی ہے وہ شخص وہ ایک بُرا خواب تھا وہ ایک دھوکہ تھا سب کی طرح یہ شخص دھوکہ نہیں ہوسکتا کم سے کم ان کی آنکھیں تو جھوٹ نہیں کہہ رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے فائیق کا ہاتھ تھام لیا اور لزرتے ہوے لہجے میں کہا ۔
“بابا !!! ۔”

جزلان سیدھا پرمیس کے کمرے کی طرف پہنچا تھا ۔ اس نے دروازہ زور سے کھٹکھٹایا تھا ۔آج بہت ہوگیا جو کام زلنین نہیں کر سکا ۔ وہ یہ کرے گا ۔ چاچو کو بے گناہ ثابت کرنا بہت ضروری تھا ورنہ وہ کھبی خود کو معاف نہیں کر سکے گا ۔جب دستک کرنے پر بھی کوئی جواب موصول نہ ہوسکتا تو جزلان کو چلانا پڑا ۔
“پرمیس دروازہ کھولو !!! ۔”
“پرمیس !!! ۔”
“پرمیس میں تمھارے لحاظ کررہا ہوں کیونکہ تم میری بہن ہو مگر اگر تم نے دس سیکنڈ میں نہ کھولا تو بُرے انجام کے لئے تیار رہنا ۔”
اس نے اتنا کہا تھا اور پرمیس نے دروازہ فوراً کھول دیا تھا ۔اس کو دیکھتے ہے جزلان نے اس جس نظروں سے دیکھا تھا کہ خود کو کافی حد تک کمپوز کیے ہوئی پرمیس اس کے تیور دیکھ کر کنفیوزڈ ہوگئی ۔
“کِک کیا بات ہے ۔”
اس نے نارمل لہجے میں اس سے آنے کی وجہ پوچھی ۔
جزلان کا دل کررہا تھا اسے ایک تھپڑ لگا دے لیکن پھر پھوپھو کے مزاج کا پتا تھا اسے ۔۔۔۔ اس لئے بے حد تحمل سے مگر دانت پیستے ہوے بولا تھا ۔
“چاچو کہاں ہیں ؟ ”
پرمیس نے چونک کر اسے دیکھا ( ڈرامے باز )
“چاچو ؟ کس چاچو کی بات کررہے ہو ۔”ناسمجھی کا اظہار
“پرمیس میں بڑے آرام سے پوچھ رہا ہوں تم سے کہ چاچو کہاں ہیں ۔”
“مجھے کیا پتا اگر تم فائیق چاچو کی بات کررہے ہو تو وہ تو امریکہ ۔۔۔۔۔
وہ آگئے سے اپنی بات پوری کرتی جزلان کا ضبط ٹوٹ گیا اور اس نے زور دار تھپڑ پرمیس کے چہرے پہ مارا کہ وہ سیدھا زمین کے بل گری ۔۔۔۔۔پھر وہ دھاڑا ۔۔۔
“‘میرے چاچو کہاں ہیں !!! بتاو مجھے ۔۔۔”
پرمیس نے تیزی سے مڑ کر اسے خنخوار نظروں سے دیکھا ۔
“تمھاری اتنی جراَت ! کہ تم نے مجھ پہ ہاتھ اُٹھایا ۔” وہ چیخی ۔۔۔۔
“مجھے یہ سب کرنے پہ تم نے مجبور کیا ہے ۔ اب سچ سچ بتاو کون ہے جو تمھیں اسمتعال کر کے یہ سب کررہا ہے یا تم ہی اپنے حسد کی چکر میں اتنی آندھی ہوگئی ہو کہ بے قصور کی بھی جان لے رہی ہو ۔ ”
پرمیس خاموش رہی ۔۔۔ بس اسے گھوری جارہی تھی ۔
“پرمیس اگر میں دادا زولفقار کے ساتھ ساتھ زلنین کو بھی بیج میں لے آیا نا ۔۔۔ تو پھر سواے پچھتاوے کے تمھارے بس کچھ نہیں ہوگا ۔”
پرمیس کا چہرہ ایک دم سفید ہوگیا ۔۔۔ وہ اسے یک ٹک دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ اپنے فیصلے کی مضبوطی تھی ۔۔۔۔ اس نے خود کو نارمل کیا اور مطمن انداز ، قدرے مکار مسکراہٹ اسے اچھال کر بولی ۔
“جو کرنے ہے کر لو ۔۔۔۔ پھر اپنے فائیق چاچو اور ہما کی نانی کے موت کے زمہ دار صرف تم ہوگے ۔۔۔۔۔”
جزلان نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا یہ پرمیس کی آواز ۔۔۔۔
لیکن سر جھٹک کر اس نے انگلی اُٹھا کر اسے کہا ۔۔۔۔
“دو گھنٹے دے رہا ہو چاچو اور نانو کو واپس لاؤ ورنہ تم اپنی موت کی زمہ دار ہوگی اور مجھے قتل کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہوگی ظاہر ہے میرا پورا خاندان قاتلوں سے بھرا تو میں کیوں پیچھے رہوں ۔”
سرد لہجے میں وہ پرمیس کو ایک بدلے ہوے روپ میں پایا تھا ۔ جزلان رُکا نہیں مڑ کر تیزی سے غائب ہوا ۔
••••••••••••••
“بابا !”
ہما نے اتنا کہا تھا اور فائیق نے اسے اپنے ساتھ لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا ۔ اس دُنیا میں وہ اپنے آپ کو اس وقت خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہا تھا ۔ اس نے اللہ سے رحم مانگا تھا ۔ اللہ نے اس کی کھوئی ہوئی رحمت لٹا دی تھی اور وہ رحمت ہما تھی ۔ ہما کا بھی ضبط ٹوٹ گیا اور اپنے کمزور بازو اُٹھا کر ان کے گرد پھیلائے ۔
“بابا ! ”
وہ رونے لگی ۔۔۔۔ اسے لگا جیسے اس کی ماما واپس آگئی ہوں ۔۔۔۔
“آپ کدھر چلے گئے تھے بابا ۔۔۔۔ آپ مجھے کس بے رحم دُنیا میں لے آئے تھے جہاں آزمائشیں رُکنے کا نام ہی نہیں لیتی ، جہاں محبت ، عزت کے لئے انسان ترستا ہے ۔ جہاں نفرت ، تنہائی اپنے عروج پہ ہے اور کسی سانپ کی طرح ہر وقت ہر پل یہ لوگ ڈستے رہتے ہیں ۔ کیوں آپ نے کیوں مجھے چھوڑ دیا ۔ نہ میرے پاس ماما رہی ، نہ نانو اور اب زلنین ۔۔۔۔۔۔”
زلنین کے نام پر فائیق نے اسے الگ کیا اور ہما کے آنسو پونچھے ۔
“زلنین نے تم سے نکاح زبردستی کیا تھا یا اس میں تمھاری رضا مندی شامل تھی ۔”
ان کے بھاری مگر سنجیدہ آواز میں ہما سے پوچھا ۔۔۔۔ ہما انھیں دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
“ہما میں تمھارے سے کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔ بتاو کیا ہوا تھا ۔ تم یہاں کیا کررہی ہو اور یہ تمھارے بازو پہ کس نے نیشان مارے ہیں کیا زلنین نے ۔۔۔۔۔”
اپنے بابا کی پریشانی دے کر وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکی تھی ۔ اس نے فائیق کے آنسو پوچھنے تھے ۔۔
“کسی نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔ یہ مجھے خیر جانے دے مجھے یہ تکلف آپ کے پاس لے کر آئی اور زلنین نے کچھ نہیں کیا وہ کیا کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔”
“وہ کہاں ہے اس وقت ۔۔۔۔ اور یہ ۔۔۔۔”وہ اردگرد دیکھنے لگا پھر ہما کو دیکھا کہ ہما کے زہن میں بہت سے سوال آنے لگے ۔
“آپ ایک بات بتائیں کیا آپ واقعی زلنین کے چاچو ہیں ۔”
فائیق نے اسے دیکھا ۔۔۔۔ پھر سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
“وہ آپ سے نفرت کیوں کرتا ہے ۔”فائیق نے اس کی بات پر اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔
“بتائیں نا پاپا آخر ایسا کیا ہوا تھا اور یہ جن اور انسان کی کہانی ۔۔۔۔مجھے سب کچھ جانا ہے پاپا پلیز اس راز کو اس راز کو اب آپ ہی کھول کر ختم کریں میں جانا چاہتی ہوں یہ سب کچھ میرے اردگرد ہورہا ہے اس کی وجہ کیا ہے ماما کی ریحان سے کیسے شادی ہوی ۔ آپ سے کب ہوئی تھی آپ دونوں ایک دوسرے سے الگ کیسے ہوے تھے ۔۔۔۔۔
وہ بہت بے چین ہورہی تھی ایک ہی سانس میں اس نے کئی سوال کر ڈالے تھے ۔
“میں سب بتاتا ہوں لیکن تمھاری نانو کہاں ہے ، اور زلنین ۔۔۔۔۔”
فائیق نے بیٹی کی بات سُنی تو ایک دم انھیں خیال آیا کہ جس نے انھیں اٹیک کیا تھا اس کا کیا مقصد تھا اور وہ یہاں کیسے پہنچے نانو اور زلنین ۔۔۔۔۔
“ہما اُٹھو جلدی سے اُٹھو ۔۔۔۔”
وہ اُٹھے اور انھوں نے ہما کو اُٹھاتے ہوے بے حد عجلت میں کہا ۔
“کیا ہوا ؟ ”
“زلنین اور تمھاری نانو وہ ۔۔۔۔۔۔”
“کیا پاپا ۔۔ کیا ہوا ہے وہ ۔۔۔۔” فائیق نے اس کا ہاتھ تھاما اور بنا کچھ کہے اسے لے کر یہاں سے نکلنے لگے ۔
“بابا بتائیں تو سہی کیا ہوا ہے ۔ زلنین اور نانو تو اس گھر میں ۔۔”
فائیق رُک کر تیزی سے مڑا ۔
“تم وہاں گئی تھی کیا ہوا تھا بولو ۔۔۔”
“وہ ۔۔۔
پھر اس نے سارا فائیق کے گوش گزارا ۔ فائیق سفید چہرہ لیا سب سُنتا گیا ۔
“میری جیسی شکل ۔۔۔ اور زلنین ۔۔۔۔ وہ کدھر ہے ۔”
انھیں اب بھتیجے کے فکر لگ گئی ۔۔۔
“میں ان سب کو چھوڑ کر آگئی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی بابا ۔۔۔۔ میرا اعتبار ٹوٹا تھا ایک سیکنڈ اگر زلنین جن ہے تو آپ اس کے چاچو ۔۔۔ آپ جن ہیں تو میں ۔۔۔۔
“ہما جلدی چلو ۔۔۔۔ سب باتیں اپنے وقت میں پتا چلی جائے گی اگر زلنین کو کچھ ہوگیا تو میں جی نہیں سکوں گا ۔۔۔”
ہما بالکل ٹھنڈی پڑ گئی اگر زلنین کو کچھ ہوگیا تو کیا وہ جی سکے گی ۔
اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
“چلیے پاپا ۔”
وہ ان کے ساتھ اس جنگل سے نکلنے لگی ۔
※※※※※※※
وہ گھر پہنچے تھے، خالی گھر کے علاوہ انھیں کچھ نہیں ملا تھا ۔ ہما کا دل جیسے بند ہورہا تھا ۔فائیق بیسمنٹ سے آیا تھا ۔ اس نے ہما کو دیکھا جو بالکل رونے والی ہورہی تھی ۔
“ہما پریشان نہ ہو اسے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔ ہم ابھی گھر جائے گئے ضرور اُدھر ہوگا ۔۔۔۔”
“پاپا مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ ہونے والا ہے ۔”
“اللہ نہ کرے ہما ۔۔۔” فائیق تڑپ اُٹھا اور انھوں نے پیار سے اس کے گال تھپ تھپائے ۔
“ہما ابھی تو مجھے خوشیاں ملی ہے اور میں اس خوشی کے لئے ہر کسی سے لڑ جانے کے لئے تیار ہوں میں ان فسادی کو ختم کے رہوں گا ۔ اب پریشان نہ ہو چلو آو ۔”
انھوں نے ہما کے سر پہ شفقت بھرا بوسہ دے کر اسے چلنے کو کہا ۔
وہ اب چل کر باہر آئے تھے اور بامشکل ہی ڈرائیو وے کی طرف پہنچے کے بھوکلایا ہوا جزلان بھاگتے ہوے آیا ایک دم ہما کے ساتھ فائیق کو دیکھ کر اس کے تیزی بڑھتے ہوے قدم رُکی ۔۔۔
“چاچو !! ”
فائیق نے ہما کا ہاتھ چھوڑ کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔
“جیزی میں ہوں ڈرو مت ۔۔ میری آنکھوں سے تم دیکھ سکتے ہو میں کوئی بہروپیا نہیں ہوں ۔”
“میں جانتا ہوں چاچو ۔۔۔۔ آپ کیسے ہیں آپ کدھر چلے گئے تھے ۔۔۔”
وہ تیزی سے چاچو کے ساتھ لگ کر بولا تھا ۔۔۔ فائیق نے اسے تھپ تھپا کر الگ کیا تھا ۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں جزلان تم پریشان نہ ہو زلنین کہاں ہے ۔”
“زلنین ۔۔۔۔ چاچو زلنین زلنین ۔۔۔۔”
وہ جو اب چاچو کی طرف سے مطمن ہوگیا تھا اسے زلنین کی پریشانی ہوگئی تھی ۔
“کیا ہوا زلنین کو ۔۔۔ بولو بتاو ۔”
“وہ زلنین کی جان خطرے میں ہے چاچو بلیک روز میں ہے چاچو مجھے جانے دے ۔۔۔ورنہ میرا بھائی ۔۔”
“تم کیسے پتا چلا ۔۔۔۔ بتاو مجھے جیزی ۔۔۔”فائیق تیزی سے بولا ۔۔۔
“وہ میں اس کے کمرے میں گیا تھا کیمیکل لینے اور اور ۔۔۔مجھے وہاں دیوار پہ خون کے بوند سے لکھا ہوا لفظ پڑھا جس پر وہ زلنین کو بلیک روز ہوٹل بلا رہا تھا ورنہ ہما اور نانو کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گئے ۔
“کیا !!! ۔”
“ہاں چاچو اس لئے مجھے جانے دے۔۔۔۔ آپ بس دعا کیجیے گا ۔۔۔ اور چاچو اس میں پرمیس بھی شامل تھی !! آپ اس وقت دادا کے پاس جاکر سب کچھ سچ سچ بتائیں ۔۔۔ میں تب تک زلنین کو لے آوں گا ۔”
“پاگل مت بنو !! میں چل رہا ہوں تم اِدھر رہو ۔۔۔ ہما ۔۔
وہ اسے غصے سے کہہ کر مڑا تھا لیکن ہما ہما یہاں نہیں تھی ۔۔۔ فائیق کا دماغ بھک سے اُڑھ گیا ۔
“ہما !!! ۔”
پوری وادی فائیق کی تیز آواز پر گونج اُٹھی تھی ۔۔۔۔
※※※※※※※
زلنین اس وقت ہوٹل کی حدود میں داخل ہوا تھا ۔ اس ہوٹل کی اس نے رینیو ویشن کروانی تھی جس سے اس ہوٹل کی حالت کافی حد تک بہتر ہوگئی تھی مگر ابھی بھی بہت کام ہونا تھا ۔۔۔ ہوٹل کی لابی میں اس وقت چوہے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ سامنے بڑے بڑے جالی لگے ہوے تھے جس پر عام انسان تو نہیں گزر سکتا تھا مگر زلنین بڑے آرام سے گزر کر بڑے محتاط انداز سے قدم اُٹھا کر اردگرد دیکھ رہا تھا ۔ یہاں کی خاموشی بڑی پُر اثرار تھی ۔ جیسے ابھی وہ دوسرا قدم اُٹھائے گا تو کچھ بُرا ہوگا مگر جیسے جیسے وہ قدم بڑھا رہا تھا ایسا کچھ بھی نہیں جس چیز کی وہ توقع کررہا تھا ۔ہوٹل کے زمین پہ بڑے ہوے گند کو روندتا ہوا ۔۔۔۔ اس نے بلا آخر گرد و غبار سے بھری سڑھیوں پہ قدم رکھ کر آواز دی ۔
“میں آگیا ہوں ۔”
اس کی آواز پورے ہوٹل میں گونجی ۔۔۔ ہوٹل کے فانوس سے لے کر ٹوٹے ہوے واز تک لزر تھے ۔
سکوت ٹوٹ چکا تھا مگر سوائے چمکدار کے ایک دم سامنے آنے اور زلنین کے تیزی سے اسے اٹیک کرنے پر جو اب دور جاکر شیشے سے ٹکرا کر نیچے گرا ہوا تھا ۔ کچھ نہیں ہوا تھا ۔
“میں کہہ رہا ہونا آگیا ہوں میں ۔۔۔۔۔ میری ہما واپس کرو ۔۔۔۔ نانو کو بھی میرے حوالے کرو ۔۔۔۔”
“فائیق زوالفقار !!!! ۔”
وہ ایک بار پھر دھاڑا ۔۔۔۔
وہ اب چل کر سیڑھیوں سے اوپر قدم اُٹھانے لگا تھا اسے محسوس ہوا کوئی اس کے پیچھے وہ تیزی سے مڑنے سے پہلے اوپر ہوگیا تھا تاکہ مڑنے پر کوئی اس پر اٹیک نہ کرے ۔ جب وہ اوپر چھت کے قریب مڑ کر دیکھنے لگا وہاں کوئی نہیں تھا ۔
“زلنین ۔۔۔”
زلنین کی بیٹ اس آواز پر مس ہوئی تھی ۔
“زلنین ۔۔۔۔”
“زلنین تم کہاں ہو ۔۔۔”
ہما ۔۔۔۔ کی آواز زلنین تیزی سے نیچے کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔ اور لابی کی طرف آیا ۔۔۔۔ جہاں ہما ہر طرف اردگرد دیکھ کر بے چینی اور بے قراری سے اسے آوازیں دے رہی تھی ۔
زلنین کی آواز پر وہ اس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔
زلنین کو اس نے دیکھا الجھے ہوے بال ، سُرخ آنکھیں ۔ چہرے پہ تھکے بڑھی ہوئی شیو ۔۔۔ سرُخ ناک چہرے کے کچھ اردگرد حصے پہ زخم بھی تھے ۔۔۔ ہما تڑپ اُٹھی تھی اور تیزی سے اس کی طرف بھاگی تھی اور زلنین کے ساتھ لگ گئی تھی ۔۔۔
“ہما ! ۔”
“زلنین ۔۔۔ ( وہ اس سے الگ ہوئی تھی ) ۔۔۔اور اس کے دونوں گال اپنے ہاتھوں سے تھامے تھے اس کے آنکھیں پھر سے بھیگنے لگی تھی ۔
“مجھے لگا تھا ( وہ رُکی پھر اس کو دیکھتے ہوے بولی ) مجھے لگا
میں تمھیں کھو دوں گی اور میں نے اپنے آپ کو کھبی بھی معاف نہیں کرنا تھا ۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا سچ میں زلنین تم جیسے بھی ہو صرف میرے ہو تم قاتل ہوتے تب بھی مجھے کوئی پروا نہ ہوتی تو ایک جن ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے تم نے کیوں چھپایا اب مجھے سمجھ آئی تم نے شادی پہ زبردستی کیوں کی تھی کیونکہ تمھیں پتا تھا پتا تھا کہ میں ان حالات سے تنگ آکر تمھیں اور اس جگہ کو چھوڑ کر واپس چلی جاوں گی ۔۔یا اگر مجھے معلوم ہوگا کہ تم ایک جن ہو تو میں تب بھی یہاں سے بھاگ جاوں گی اور تم تم مجھے کھونا نہیں چاہتے ۔۔۔۔ یہی نا ۔۔۔۔ اس لئے سب کیا اور میں پاگل تم سے نفرت کرتی رہی حالانکہ وہ نفرت نہیں تھی وہ صرف غصہ تھا تم پر اور مجھے یقین ہے اب مجھے یقین ہوگیا ہے وہ تھپڑ مارنے والے بھی تم نہیں ہو تم تو میرے آنسو نہیں برداشت کر سکتے تھے کجا کے مجھے مارو گئے ۔۔۔۔۔ وہ آگئے سے کچھ کہتی زلنین نے اس کا ہاتھ ہٹا کر اس کے گال تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔
“ہما بس بس تم مجھے صفائی مت دو ۔۔۔۔ میں نے تم سے محبت کی ہے ۔۔۔ بے پناہ تمھارے پر تو سات قتل بھی معاف کر سکتا ہوں یہ تو پھر تمھاری چھوٹی سے ناراضگی اور بے اعتباری تھی اور مجھے خوشی ہوئی کہ تمھاری یہ غلط فہمی دور ہوگئی ۔۔۔ میں کوشش کرتا تھا کہ تمھیں سب بتاوں مگر تمھیں کھونے سے ڈرتا مجھے اس زندگی سے بھی نفرت تھی ہما لیکن کیا کروں میرے رب نے مجھے عطا کی تھی تو اس کے فیصلے سے میں کیسے پھیر سکتا تھا ۔۔۔۔ بدلے میں مجھے کسی جادو کے زیر سے انسان بنے کا طریقہ آزمانا چاہتا تھا مگر اس کے بدلے مجھے کیا ملا تمھاری ناراضگی تمھارا غصہ جو بالکل میرے لئے برداشت سے باہر تھا ۔۔۔۔۔۔ بولتے ہوے چونکہ ہما اس کے پیچھے کسی کو دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ خوفناک حد تک سفید ہوچکا تھا ۔۔۔۔ زلنین اس سے قبل مڑتا ہما نے اسے تیزی سے دھکا دیا اور جو تیزی سے جوکر زلنین کو مارنے آرہا تھا اس کا آپا سیدھا ہما کو جاکر لگا ۔۔۔۔ ہما کے دھکا دینے سے زلنین سیدھا منہ کے بل گرا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس لئے وہ یہ دیکھ نہیں سکا تھا ۔۔۔۔ ہما کی آواز اس کے حلق سے نہیں نکل سکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس نے ہمت سے اپنے پیٹ پہ دھرا تیز دار آلا نکالا ۔۔۔۔۔۔ اور اسے جوکر کو ایک زور دار مکا مارا ۔۔۔۔۔۔ اور پیٹ کو تھام کر نیچے گری ۔۔۔۔۔۔۔۔ زلنین اُٹھنے لگا تو اس نے دیکھا ہما زمین پہ جھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
“ہما !!! ۔”
وہ ہما کے قریب آتا اس جوکر نے ہما کے بال کھینچ کر عجیب سے آواز اس کے منہ سے نکال کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا ۔
“ہما !! ۔”
ہما کسی فورس سے دور جاکر دروازے سے پہ گری ۔ زلنین نے تیش سے اُٹھ کر اس جوکر کے منہ پہ لات ماری ۔۔۔۔ پھر ایک دوسری لات اس نے تو گویا لاتوں کی بارش کردی ۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس جوکر نے زلنین کا پیر پکڑ لیا ۔۔۔۔ اور اسے فانوس کی طرف پھینکا ۔۔۔۔ زلنین کا سر زور دار انداز میں وہاں لگا ۔۔۔۔ ہما نے دُنھدلائی نظروں سے دور سے اس منظر کو دیکھا اور پھر اس نے اُٹھنے کی کوشش اس کے کانوں میں بڑے ڈروانی اورکان پھاڑ دینے والی آواز آنے لگی جو اسے خوف زدہ کررہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے قیامت آگئی ہو ۔۔۔۔۔۔ ہما نے اپنے پیٹ کے درد کی پروا کیے بغیر اپنے کانوں پہ ہاتھ جما کر اُٹھنے کی کوشش کی حیرت کی انتہا تھی اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اس میں اتنی ہمت تھی کہ وہ سامنے پڑا واز اُٹھانے لگی ۔۔۔۔ اور اس سیدھا جوکر کے سر پہ وار کیا اور بالکل نشانے پہ جاکر لگا تھا قہقہ لگاتے ہوے خطرناک شکل والا جوکر زلنین پہ مزید اٹیک کرنے والا تھا کہ سر پہ زور دار واز لگنے سے وہ لڑکھڑایا ۔۔۔۔ مگر سنبھلا ۔۔۔۔ اس نے مڑ کر ہما کو دیکھا ۔۔۔ جو دانت پیسے درد کو پیچھے چھوڑتے ہوے لڑکھڑاتے قدموں سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے اشارہ کیا تو دیوار پہ لگی پُرانی تلوار خود بخود نکلی اور سیدھا ہما کی طرف بڑھنے لگی کہ زلنین نے ان تلواروں کو ہما کے پہنچنے سے پہلے ہی دور جا کر پھینکا
۔۔۔۔۔۔۔
اور اس نے ہما کو تھاما کہ وہ جوکر پھر بھاگتے ہوے زلنین کی طرف پہنچا اس نے زلنین کی شرٹ پکڑی اورزور دار انداز میں کھینچ کر ہما سے دور کیا ۔ اس کے منہ سے بڑی عجیب آوازیں نکل رہی تھی اور اس کا عجیب ہی انداز تھا ہما کو ایک دم کوئی چیز یاد آئی تھی سٹیفن کنگ کے ناول ” اٹ ” میں بھی ایک جوکر تھا وہ بھی تقریباً کچھ ایسی حرکت کیا کرتا تھا ۔۔ اُس جوکر میں اُداس اور غم کی جھلک تھی جبکہ اس میں بھی ۔۔۔۔۔ کیا کرے وہ کیا کرے ۔۔۔۔۔۔ غبارہ !!! لال غبارہ اس میں اس جوکر نے بھی یہ پکڑا تھا لال غبارہ اس جوکر کی کمزوری تھی تو کیا اس کی بھی یہی کمزوری ہوگی ۔۔۔۔۔۔
“ہما بھاگ جاو یہاں سے ۔۔۔۔۔”
زلنین نے اونچی آواز میں اسے اٹیک کرتے ہوے کہا تھا ۔۔۔۔
“یا اللہ میں کیا کروں جیسے آپ نے زلنین کے پاس مجھے بھیج دیا ہے ایسی کچھ کرے ۔۔۔”
درد اب جسم میں پھیلتا جارہا تھا ۔۔۔۔ اس نے دیکھا میوزک پلیئر پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔میوزک کیا میوزک سے وہ رُک سکتا تھا ۔۔۔۔ وہ بامشکل قدم اُٹھاتے ہوے اس طرف بڑھی تھی کہ اس طرف سے ایک کالی بد شکل چڑیل نمودار ہوئی اور اس کی گردن فوراً دبوچی ۔۔۔۔ ہما کے منہ سے زور دار آواز نکلی ۔۔۔۔ زلنین اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔ اس نے دیکھا تو بس جو اس کا غصہ تھا اس نے جوکر کو سائڈ پہ پھینک کر اس کالی چڑیل کو ہما سے الگ کر کے اس کا حشر کیا تھا ۔۔۔۔ وہ کسی طرح سے رُک نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔ ہما نے گردن تھام کر گہری سانس لینا چاہی مگر اسے سانس نہیں آرہی تھی ۔۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا جیسے موت کا فرشتہ آس پاس ہے وہ اس کو لینے آرہا ہے ۔۔۔ اس کا وقت ختم ہوگیا ۔۔۔ اس کی خوشیاں تھوڑے وقت کے لئے تھی ۔۔۔۔اس نے اس طرف دیکھا وہ جوکر اس کی طرف دیکھ رہا تھا بڑی عجیب نظریں تھی اس کی ہما ایک دم ڈر گئی اس کی آنکھیں نشے سے بھرپور ہوئی تھی پھر ہما نے اس کی گردن کو زور سے مڑتے ہوے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ اتنی تیزی سے پھر وہ ایک دم ٹوٹ کر زمین پہ گری تھی اور اس طرف گری تھی جہاں ہما کا پیر تھا ۔۔۔ ہما نے چیختے ہوے اس کے سر کو پیروں سے مارنا چاہا لیکن اس کے بڑے تیز دھار دانت اس کے پیروں کو اٹیک کرنے لگے ۔۔۔۔۔ ہما تیزی سے پیچھے ہٹی مگر آگئے پڑے ٹیبل کو بنا دیکھیے ہی اس کا پیر لڑکھڑایا تھا ۔۔۔۔۔ اور وہ منہ کے بل گری ۔۔۔۔۔ اب وہ نہیں بچ سکتی تھی اس کا وقت بس ختم ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔ انجانے سے اس کے لبوں سے کلمہ شہادت ادا ہوا تھا اور اس سے قبل وہ جوکر اس کو مکمل طور پہ ختم کرتا فائیق پہنچ چکا تھا اور اس نے جوکر کا سر دو حصوں میں کاٹ کر دور جاکر پھینکا تھا اور وہی شیروں والی دھاڑ جو پرُانے فائیق کی ہوا کرتی تھی جس سے بلیک روز کی داروں دیوار ہل گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
جزلان نے بھی دیگر بھوت کو بھی زمین میں ان کے حصے کرتے ہوے اس کی طرف بڑھا ہوا تھا ۔۔۔۔ جہاں زلنین اس چڑیل سے نمٹ رہا تھا جو اس کے چہرے کو کافی حد تک زخمی کر چکی تھی یہ والی کچھ زیادہ ہی نڈر معلوم ہورہی تھی ۔ فائیق نے اسے چھوڑ کر ہما کی طرف لپکا ۔۔۔۔
“ہما میری بچی ہما میری جان آنکھیں کھولو ۔۔۔ اس نے ہما کا چہرہ اُٹھایا اس کی آنکھیں ہلکی ہلکی بند ہورہی اس طرف زلنین کو بھی اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔
“ہما جان آنکھیں کھولو ۔۔۔۔۔ ”
“بابا زلنین ۔۔۔۔۔”
اس نے زلنین کو پکارا ۔۔۔۔ فائیق نے مڑ کر زلنین کو دیکھا جو جزلان کے ساتھ اس چڑیل کو مار مار کر ہلکان ہورہے تھے ۔۔۔ نہیں ہما کو زلنین ہی یہاُں سے لے کر جاسکتا ہے ۔۔۔ اس سے پہلے وہ زلنین کو بلاتے ، زلنین تیز سے اسے چھوڑ کر ہما کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔ اس نے فائیق کو نہیں دیکھا تھا وہ بس ہما کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ فائیق نے اسے دیکھا جو ہما کو اُٹھا رہا تھا ۔۔۔۔۔
“اُٹھو ۔۔۔۔۔ ہما ہما !!!! ۔۔”
اس نے اُٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر اُٹھایا ، ہما بھی زلنین کی گرمائش پاکر ہمت کرتے ہوے اُٹھی ۔۔۔۔ فائیق یہ سب دیکھنا چاہتا تھا لیکن جزلان سے اس چڑیل کو نپٹانے کے لئے مڑا ۔۔۔۔ زلنین نے ہما کا سر اُٹھایا جو اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“تم ٹھیک تو ہو ہما !!! ۔۔۔
ہما کچھ بول نہیں پائی بس اسے دیکھی جارہی تھی ۔۔۔۔۔ زلنین نے اسے جنجھوڑا ۔۔۔۔۔
“ہما ۔۔۔”زلنین ڈر کر تیزی سے بولا ۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں ۔”
زلنین نے اس کے سر پہ پیار کیا ۔۔۔۔۔
“میں تم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں ۔۔۔۔”
اس کے شدت سے بھرا لہجہ ہما کے مدھم پڑتی دھڑکن کو بھی تیز کر پایا تھا مگر ہما جانتی تھی وہ کتنا چاہتا ہے اسے اس کے محبت میں دھڑکن تیز ہونا بھی ضروری نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ہما نے پھول اپنے ٹراوز کی پوکٹ سے نکالا اور اپنے خون الود آنکھوں سے اس کے سامنے کیا ۔۔۔
زلنین نے چونک کر اسے دیکھا ۔
“یہ کالا گلاب دیکھ رہے ہونا زلنین ۔۔۔۔۔ تم ضرور اسے پہنچاتے ہوگے ۔۔۔۔ یہ وہی گلاب جو کچھ روز پہلے میں اسے اپنے ساتھ لے آئی تھی جو تمھارے کمرے کے باہر شیشے کے اندر پڑا ہوا تھا جانتے ہو کیوں ۔۔۔۔
وہ رُکی آواز بھی غائب ہورہی تھی ۔۔۔۔۔
“تم بھی کہتے ہوگئے کہ میں کالا گلاب کیوں اپنے ساتھ لاؤں گی ۔۔ جو دیکھنے میں بد رنگ ، سوگ اور غم کے ساتھ کالے علم کی نیشانی ہے ۔۔۔۔ مگر نہیں اس میں ایسا نہیں ہے اس میں مجھے تمھارا عکس نظر آتا ہے اس کو غلط بالکل نہ لینا کالا خوبصورتی کی نیشانی ہے اللہ کو بھی یہ رنگ بے بد پسند ہے ۔۔۔۔۔ اس میں مجھے تمھاری خشبو آتی ہے یہ خشبو ہی تو مجھے تمھارے تک لائی ۔۔۔۔
یہ مجھے ہمیشہ احساس دلاتا تھا کہ تم چاہئیے جیسے بھی ہو میرے ہو
اس نے مجھے اس لمحے بھی احساس دلایا کہ تم چاہیے جن ہو یا انسان مجھے تم سے محبت ہے اور ہمیشہ رہے گی مرتے دم تک اور مرنے کی بعد بھی ۔۔۔۔۔”
کہتے ساتھ ہی اس نے زلنین کے سینے میں منہ دے دیا ۔۔۔۔۔۔زلنین نے اس کے گرد بازو پھیلائے ۔۔۔۔۔اس نے اونچا اُٹھا کر اسے گھمایا اسے لگا وہ اسے حادثے سے کہی ٹروما میں نہ چلی جائے نکالنے سے پہلے یہ طریقہ آزمانا ضروری تھا کہ یہ سب بھول جائے ورنہ اس کے لئے جینا مشکل ہوجائے گا ۔۔۔۔۔پر وہ رُک گیا اسے ہما کی کمر میں نمی محسوس ہوئی اس نے ہاتھ اُٹھا کر دیکھا تو لزر اُٹھا خون اور اس کی کمر اور پیٹ سے تیزی سے نکلتا ہوا خون ۔۔۔۔ ہما کو گرنے سے پہلے اس جوکر نے اس کے پیچھے بھی وار کیا تھا لیکن ہما کو پتا نہیں چلا تھا ۔۔۔۔۔ اس نے ہما کو دیکھا جس کا چہرہ ٹھنڈا ہوچکا تھا ۔۔۔ ہاتھ جو اس کے گرد پھیلے ہوے تھے وہ ساکت ہوکر گر گئے تھے ۔۔۔ بس اس کی ہلکی سی آواز آئی تھی ۔۔۔۔۔
“الوداع زلنین ۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے زلنین کی ٹھوڑی چھوتی ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔ اور زلنین کو لگا وہ سانس نہیں لے سکے گا ۔۔۔۔۔۔
ہما اس کے ہاتھ میں دم توڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

ہما اس کے ہاتھ میں دم توڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔ زلنین بھی جیسے ساکت ہوکر اس بازو میں لئے زمین کے بل گر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
فائیق اور جزلان نے مڑ کر دیکھا تو ان کو لگا جیسے پوری دُنیا جیسے گھوم گئی ہو ، دونوں تیزی سے چلاتے ہوے بڑھے تھے ۔۔۔۔
“ہما !! ۔”
زلنین بس اس کے سفید چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ختم ہوگئی ۔۔۔۔۔ اس کی ہما ختم ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا مذاق کیا اس کی قسمت نے ۔۔۔۔۔۔۔ اتنا بڑا مذاق ۔۔۔ فائیق نے تڑپ کر ہما کا چہرہ پکڑا ۔۔۔۔۔
“ہما ہما آنکھیں کھولو ۔۔۔۔۔ زلنین اسے کیا ہوا ہے یہ تو بالکل ٹھیک تھی ۔۔۔۔۔۔ بس تھوڑی سی چوٹوں سے کون مر سکتا ہما ہما ۔۔۔۔۔”
انھوں نے دیوانہ دار اس کے چہرے کو جھٹکے دینے شروع کردئے ۔۔۔۔ جزلان کھبی اسے تو کھبی زلنین کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ہما مر گئی زلنین کی ہما مر گئی ۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ایسا کیوں ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
“زلنین سے اُٹھاو یہ مجھ سے اپنی ماں کی طرح ناراض ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہما میں نے وعدہ کیا تھا تمھارے ساتھ رہوں گا تمھیں چھوڑوں گا نہیں ہما ابھی تو تو تم مجھے ملی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ پلیز اُٹھو ہما اُٹھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھوں نے ہما کے چہرے پہ اپنا سر ٹکا دیا تھا ۔۔۔۔
جزلان کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں ۔۔۔ اس نے زلنین کا کندھا ہلایا ۔۔۔۔” زلنین ۔۔۔۔۔۔ زلنین ۔۔۔۔۔۔۔ ”
زلنین کا سکتہ نہیں ٹوتا تھا اس نے بس ہما کا ہاتھ تھاما ہوا تھا جو ٹھنڈا یخ تھا پیچ میں ہما کے ہاتھ میں بلیک روز تھا ۔۔۔۔ جو ان کے درمیان دبا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فائیق کے آنسو ہما کے چہرے کو بگھو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ اور ایک ایک نمی ہما کے اندر جذب ہوتی جارہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“زلنین ۔۔۔۔۔ چاچو زلنین کو دیکھے زلنین ۔۔۔۔
جزلان نے فائیق کو مخاطب کرتے ہوے پاگلوں کی طرح زلنین کو جنجھوڑا مگر زلنین اندر سے مر چکا تھا اس نے زندہ لاش ہی رہنا تھا ۔۔۔۔۔۔ سارے زندگی اس کی سزا تھی مگر یہ سزا نہیں آزمائش تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس آزمائش پہ زلنین کو گزرنا تھا ۔۔۔۔۔۔ تب ہی جاکر اسے اپنا انعام ملنا تھا ۔۔ اللہ کے خاص بندوں کو خاص آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ اور یہ آزمائش میں صدیاں بھی لگ جاتی ہے ۔۔۔ لیکن کسی کو بھی اس آزمائش میں ہمت نہیں ہارنے چاہیے اور یہی چیز زلنین کررہا تھا ۔۔۔۔۔ وہ ٹوٹ گیا تھا وہ ہار گیا تھا ۔۔ اس کی متاع اس سے چھین لی گی تھی ۔۔۔ اندر اتنی توڑ پھوڑ ہوگئی تھی کہ کہنے کے لئے کچھ رہ ہی نہیں گیا تھا ۔۔۔۔۔ کیا کہتا اب کیا کہتا ۔۔۔۔۔
“زلنین ہوش میں آ میرے بھائی ۔۔۔۔”
جزلان نے اس کے گال پکڑ کر اسے جھٹکے دئے اسے تھپڑ مارے ۔۔۔۔۔ کچھ تو کرے مگر وہ کچھ نہیں کر پارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
“زلنین ۔۔۔۔۔۔۔ زلنین ۔۔۔”
زلنین چونکہ اس نے اس طرف دیکھا جہاں سے کوئی اسے پکار رہا تھا ۔۔۔۔
“زلنین مجھے بچاو ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“زلنین انھوں نے مجھے قید کر لیا ہے ۔۔۔۔ زلنین زلنین ۔۔۔
زلنین نے سر اُٹھا کر دوسری طرف منہ کر کے دیکھا تھا وہاں کوئی نہیں تھا پھر اس نے ہما کی طرف دیکھا لیکن یہاں یہاں ہما نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔
فائیق کو احساس نہیں ہوا تھا کہ اس کے بیج میں ہما کی باڈی کو اُٹھا لیا گیا تھا اور اس میں اب بھی تھوڑی سی سانس باقی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ مری نہیں تھی وہ زندہ تھی وہ مرنے کے قریب تھی ۔۔۔۔ اسے قید کر لیا تھا ۔۔۔۔ اور کسی میں نہیں کالے آئینے میں وہی سُنہری رنگ سے بنایا ہوا جزلان کا سُنہری آئینہ جس میں بہت سے راز پتا لگنے تھے ، بہت سے چیزوں سے پردہ اُٹھنا تھا ۔۔۔۔۔ اور زلنین کو اپنے ہما واپس پانی تھی جس میں انسانی طاقت کم جناتی طاقت زیادہ آگئی تھی وہی طاقت جس سے ہما انجان تھی جس کے استعمال سے وہ اپنے دُشمن کو ایک سیکنڈ میں ختم کر سکتی تھی اس دشمن نے خوف کے زیر اسے کالے آئینے میں قید کردیا تھا ۔۔۔۔ ورنہ آج وہ جس مقصد میں کامیاب ہوچکے تھے انھوں نے بُری طرح ناکام ہونا تھا ۔۔۔۔
وہ سارے تیزی سے اُٹھے
“ہما !!!!!! ۔۔۔”

… پہلےحصےکااختتام
_______دوسراحصہ _ کالا آئینہ ______

You May Also Like

Leave a Reply