Black Rose Episode 2 by Samreen Shah Urdu Novel

Black Rose Episode 1 by Samreen Shah Urdu Novel Read Here Online

ہما کو اس بات پر غصہ آیا
“ناٹ فنی مسڑ بلیو جینز !”
“بلیو جینز مس ہما ؟”
وہ نا سمجھی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“اُف مجھے بتائیں کے آپ کو میرا نام کیسے پتا !”
ہما نے چڑ کر کہا
“ابھی تو آپ نے مجھے بتایا نیور مائینڈ مس ہما پھر بات کریں گئے ویسے کہاں رہتی ہے آپ ۔”
اس کے لہجے میں دلچسپی تھیں
“کوئے کاف اب بتائیں مجھے بلیو میرا مطلب ہے ایس پی صاحب کے اس دن آپ نے مجھے جب پکڑا تھا تو میرا نام کیسے پتا چلا ۔”
“ارے وہاں تو جن رہتے ہیں آپ کیا جن ہیں !”
اس کے لہجے میں اشتیاق آیا
“ویسے آپ بڑی مزے کی باتیں کرتی ہے لیکن کیا کریں ڈیوٹی پر جانا ہے پھر ملاقات ہوگی ۔”
وہ پیاری مسکراہٹ اچھال کر چلا گیا
اور ہما مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی
“اُف ! آگ لگے سب کو !”
وہ غصے بھری نظر زُلنین کی طرف دیکھنے لگی جو اب اپنی رینج رور پہ بیٹھ چکا تھا زُلنین نے ایک نظر مرر پر ہما کا لال بھپو چہرہ دیکھا اور پھر گلاسس پہن کر آگئے بڑھ گیا
اور ہما اپنے گھر کی طرف مڑ چکی تھیں
💀💀💀💀💀💀
“کدھر گئی تھیں ؟”
نانو نے جیسے ہی اسے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو گھور کر بولی
“ایسی ہی چہل قدمی کرنے ۔”
ہما کے لہجے میں بیزاری تھیں
“اور یہ چہل قدمی ذولفیقار ہاوس سے آگئے تک کیوں گئی ۔”
ہما ایک دم رُک گئی اُف پکڑے گئے بیٹا
“کون سا زلفیقار ہاوس ؟”
انجان لہجے میں وہ کہتی اگے بڑھنے لگی جب نانو اس کے سامنے آئی
“ہما ! جھوٹ بھی بولنے لگی گئی ہو!”
“ایسا کیا ہے وہاں جو آپ مجھے منع کررہی ہے ۔”
“وہاں کچھ نہیں ہے لیکن وہاں کی سڑک کافی خطرناک ہے ۔”
نانو نے نظر چراتے کہا
“او کام آن یہ تو کوئی ریزن ہی نہیں ہوئی رہنے دیں آج مجھے سے کوئی بات نا ہی کریں تو بہتر ویسے ہی دماغ میرا پہلا خراب ہے ۔”
ہما خراب لہجے میں کہہ کر سڑھیوں کی طرف بڑھ گئی
اور نانو اس کو دور جاتا ہوا دیکھنے لگی اب انھیں لگ رہا تھا یہاں آکر انھوں نے سب سے بڑی غلطی کی ہے
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
بیڈ پہ جانے کے بجائے وہ سیدھا پچھلے ٹیرس کی طرف چل پڑی
اس کنفیوزن نے اس کا بیرا غرق کردینا تھا اس لیں اس کنفیوزن کو گولا مارنے کے لیں وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی سرد ہوائوں کی لہروں نے اس کے چہرے کو چھوا
خود کو ریلکس کرنے کے لیں وہ زمین پہ بیٹھ گئی اور بازو اپنے ٹانگوں کے گرد لپیٹ لیے پھر اس نے آنکھیں بند کردیں اچانک وہی آنکھیں
“اُف بھاڑ میں جاو تم ! جو کوئی بھی !”
جنجھلاتے ہوئے اُٹھی اور اپنی بے چینی دور کرنے کے لیں وضو کرنے لگی سوچا کے سارے شیطانی کام چھوڑ کر قران پاک کی تلاوت ہی کر لی جائے مما نے تو ہمیشہ سے اس کو عادت ڈالی تھیں کے فجر کے بعد فورن تلاوت کرنی ہے بس ماما کی ڈیتھ کے بعد وہ سب بھول گئی تھی بس نانو کی ڈانٹ زور سے نماز پڑھ رہی تھیں اور اس کو بھی یہی لگ رہا تھا یہ ساری عجیب حرکتیں اللّٰلہ کی عبادت نہ کرنے کا نتیجہ ہے جب انسان کو لگے وہ بہت بے چین ہے ایسی بے چینی جس کا وہ تو کیا کوئی حل نہیں کر پاتا تو وہ اپنے اللّٰلہ سے ربطہ کریں بیشک وہ دلوں کا حال جانے والا ہے اور مشکلات دور کرنے والا ہے
وضو کر کے وہ کمرے سے باہر نکلی اور سڑھیوں کئ طرف بڑھنے سے پہلے رُکی
“اسے جیل کیوں نہیں بھیجا گیا !”
“کیسے بھیجتے بی بی جی اسے کوئی ہاتھ تو لگائیں تو موت کو دعوت دینے والی بات ہے ۔”
نانو اور کام کرنی والی ماسی کی آواز پر وہ وہی رُک کر سُنے لگی
“مجھے تو ہما کی فکر ہے اسے تو شوق ہوتا ہے انھوکی جگہ جانے کو اور اس جگہ تو سب سے انھوکی جگہ ذولفیقار ہاوس ہے اور اگر اس کی نظر ہما پر پڑ گئی اس سے آگئے میں سوچ نہیں سکتی ۔”
“ہائے بی بی جی ہما بی بی کو اتنی ڈروانی جگہ جانے کا شوق ہے ۔”
“ہاں وہ ایسی ہے ڈرتی ورتی نہیں ہے امریکہ میں بھی رات کے تین بجے اپنی ماں کی قبر پر چلی جاتی تھیں ۔”
ہما کا منہ کھل گیا یہ سب نانو کو کیسے پتا چل جاتا ہے
“ہائے اللّٰلہ جی پھر تو بی بی جی دور ہی رکھیے آپ ہما باجی کو ورنہ اس جلاد نے ہما باجی کے عورت ہونے کا بھی لحاظ کرنا ۔”
یہ کس جلاد کی بات کررہے تھے ہما سوچ میں پڑ گئی
بہرحال اس نے ابھی کچھ نہیں سوچنا اسے ابھی صرف زہنی سکون چائیے
وہ دبے قدموں نیچے آئی اور نانو کی طرف بڑھی جو اب
تسبی پڑھنے میں مصروف تھی اور ماسی اُٹھ چکی تھیں
“نانو مجھے اپنا قُرانِ پاک دیں دے ۔”
ہما کا لہجہ سپاٹ تھا اور وہ ناچاہتے ہوہے بھی بڑے ہی غور سے نانو کو دیکھ رہی تھیں جو سر ہلاتے ہوئے اُٹھی لیکن منہ سے کچھ نہیں بولی
نانو اُٹھ گئی تو ماسی جو جانے والی تھیں ہما نے اسے روکا
“بات سُنے !”
ماسی ایک دم مڑی
“جی بی بی !”
“دیکھیں آپ مجھ سے کچھ چھپائے گا نہیں لیکن یہ زُلنینُ زولفیقار اس بڑے محل نما گھر کا مالک ہے ۔”
ہما نے بڑی نرمی سے کہا
“جی جی مجھے نہیں پتا آپ کس کی بات کررہی تھیں ۔”
“جھوٹ سے کیا فائدہ ہوگا ایسا کیا ہے جو سب اس جگہ سے بے حد گھبڑا رہے ہیں ۔”
“ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بی بی جی مجھے واقی نہیں پتا میں اس سائڈ پہ کھبی گئی نہیں ہوں نہ اس کے بارے میں پوچھا یہ تو کونے کی طرف ہے ہیں میں تو دوسرے راستے پر جاتی ہوں ۔”
وہ اتنا لمبا اور تیزی سے بول رہی تھی جیسے ہما کو اس نے نہ بتانے کا ہی ارادہ رکھ لیا تھا
نانو کو آتا دیکھ کر وہ بولی
“ٹھیک ہے صحیح کہہ رہی ہوگی آپ !”
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
“نانو میں سوچ رہی ہوں کے میں تیاری شروع کردیتی ہوں ایسے بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے خالی دماغ شیطان کا ہوتا ہے کچھ کرلو ۔”
رات کو وہ نانو کے کمرے میں ایسے ہی باتیں کرنے کے لیں آئی تھیں تب اچانک بولی
“ہاں کیوں نہیں ویسے بھی تین چار مہینے کے بعد تمھاری یونی شروع ہوجائیں گی اس پہلے جو دل کریں وہ کرو ۔”
نانو نے پیار سے ہما کا چہرہ دیکھا
“ویسے کرو گی کیا ؟”
“ام مزے کی بات بتاو آپ کو میں ایک ہارر ناول لکھنا چاہتی ہوں ۔”
ہما مزے سے بولی نانو نے منہ کھولے حیرت سے دیکھا
“توبہ ہے ہما ریحان آپ کا کیا بنے گا !”
ہما نے اپنا نام کے ساتھ ریحان کہنے پر انھیں گھورا
“مجھے ہما ریحان نہیں ہما شفق کہا کریں ۔”
“نام تو وہی کاغذ میں ہر جگہ ہے اب تم ریحان کی بیٹی ہوں اس تو انکار مت کرو بیشک جتنی ناراضگی ہوں ۔”
“ناراضگی ناراضگی نانو میں ان سے نفرت کرتی ہوں انھیں زرا میری ماں کی پروا نہیں تھی ایک پل بھی میری ماں سے انھیں محبت چلے محبت کو چھوڑیں ہمدردی محسوس ہوتی چلو ماما کو بھی چھوڑیں ان سے تو کوئی تعلق واسطہ نہیں رہا تھا لیکن میں میں تو ان کی بیٹی تھی انھیں زرا بھی پروا نہیں تھی کے میری پڑھائی حرج ہوگی اوپر سے میں ماما کی موت کے بعد کتنی ٹوٹ گئی ہوں وہ تو یہ ہے کے میں ظاہر نہیں کرتی لیکن میں بھی انسان ہوں مجھے بھی باپ کا شفقت بھرا ہاتھ اپنے سر محسوس کرو چلے وہ تو نہیں لیکن ایک دلاسے کا ایک جملہ تو دیں دے ہما کے فکر نہ کرو تمھارا باپ ہے نا بس لیکن انھوں نے تو گھر سے کیا اس ملک سے بھی نکال دیا کے وہ مجھے دیکھنا نہیں چاہیتے کسی بھی حالت میں خیر چھوڑیں کیا باتیں لیکر بیٹھ گئے ہیں ۔”
خود اس نے بات شروع کی اور خود ہی اس نے ختم کئ نانو خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر خود کو کمپوز کرتے ہوے بولی
“کیا نام رکھو گی اپنے ناول کا ؟”
ہما کو اپنے کام کی بات پر تھوڑی ہلکی پھلکی ہوگئی
“ابھی تو سٹوری سوچنی ہے پھر دیکھنا نانو کیسے مشہور ہوگا ۔”
ہما چہکتے ہوئے بولی
اور کھڑکھی میں کھڑا زُلنین اسے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا تو خود بھی مسکرا اُٹھا اور مڑنے لگا جب اس نے جزلان کو دیکھا تو اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے
“تم یہاں کیا کررہے ہو!”
زُلنین کا لہجہ کرخت ہوگیا جبکہ آنکھیں سچ مچ والی سُرخ
“سچ میں زُلنین ؟ ایک انسان سے ۔”
“بکواس اپنی بند رکھو !”
وہ غرایا
“اور میں بتا رہا ہوں کوئی اس پہ نظر نہیں رکھے گا اور اگر تم نے ایسا ویسا کچھ بھونکا تو سوچ لینا کے تمھارا کیا حال کرو گا ”
زُلنین جانے لگا جب جزلان بولا
“تم نے ٹھیک نہیں کیا زُلنین اس لڑکی کے ساتھ !”
“یہ میرے بس میں نہیں تھا اس کی معصومیت نے مجھے جکھڑ لیا تھا ۔”
“اور تم نے اسے عزاب میں دکھیل دیا ہے ۔”
زُلنین نے سر اُٹھایا
“جب تک میں زندہ ہوں کوئی درد یا تکلیف اسے چھو کر نہیں گزرے گی ۔”
وہ کہتے ہوئے تیزی سے چل پڑا
وہ آج کچھ سوچ کر کہانی لکھنے بیٹھی تھی لیکن تھوری کنفیوزڈ سی تھیں
کے کیا لکھے پہلے سوچا کے کوئی ہارر فلم سے آئیڈیا لے لیکن پھر اپنی سوچ پہ لعنت بھیجا کے اس طرح تو کاپی ہوگی اس نے اپنی کہانی میں کچھ الگ لکھنا جو دیکھنے میں بالکل اصلی ہوں سوچتے سوچتے اچانک وہ ڈیسک سے اُٹھ گئی کے باہر آندھیری ٹیرس میں جاکر لکھے
لیپ ٹاپ اُٹھا کر وہ باہر آگئی اور ایک چیر جو درخت کے قریب تھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی جبکہ ٹانگیں سامنے چھوٹے سے ٹیبیل پر رکھ دیں
اور کچھ سوچتے ہوئے اس کی نظر سامنے فل مون پر پڑی پورے چاند کو دیکھ کر وہ بے اختیار کھو گئی تھیں
اچانک اس کا فون بجا اس نے چونک کر نظریں ہٹائی اور پھر دیکھا کے انون نمبر کی کال تھیں اس نے بے اختیار اُٹھا لیا
“ہلیو !”
“کیسے آپ فارغ تو ہے نا ؟”
ہما نے فون کو کان سے ہٹا کر دیکھا آواز تو جانی پہنچانی لگ رہی تھیں
“ارے مس ہما بھول گئی آپ کو کہا تھا نا میں نے کے بڑی مزے کی باتیں کرتی ہے آپ اس وقت تو ڈیوٹی تھی اب فارغ اب بتائیں کیا کہنا ہے آپ کو ۔”
زُلنین کی شرارت سے بھری آواز پر اس کی بھنوئیے کھینچ گئی لیکن پھر جھٹکا لگا پہلے نام پھر نمبر
“آپ کو میرا نمبر کیسا پتا چلا ؟”
“ارے آپ نے ہی تو مجھے نمبر دیا تھا یاد تو کریں ۔”
“میں نے کب دیا تھا آپ کو میں آپ سے پوچھ رہی تھیں اور آپ بھاگ گئے ۔”
“میں بھاگا تو نہیں تھا مس ہما میں اصل میں چل کر گاڑی میں گیا تھا اور آپ کو بتا کر گیا تھا ۔”
“اُف کیا چیز ہے یہ ۔”
ہما بڑبڑآئی
“اور اب کال کس خوشی میں کی ہے ایس پی صاحب نے ۔”
“خوشی کی تو خیر آپ بات ہی نہ کریں کے کوئی انتہا نہیں ہے ۔”
“خاصے چھچھورے ہے آپ ۔”
ہما دانت پیستے ہوئے بولی
“نوازش !”
“کون ہو بھائی کیوں تنگ کررہے ہو اور اتنے عجیب کیوں ہو۔”
“اللّٰلہ توبہ میری ! اتنا ہینڈسم لڑکا آپ کو بھائی لگتا ہے
اُف اُف میرے کان کے پردے کیوں نہیں پھٹ گئے یہ سُنے سے پہلے ۔”
وہ صدمے سے بولا
“یا اللّٰلہ کیا چیز ہے یہ !”
“چیز تو کھانے والی ہوتی ہے مجھے آپ چیز سے کیوں کمپیر کررہی ہے ۔”
وہ ہما کے کہنے پر مزایا انداز میں بولا
ہما نے گھورتے ہوہے فون بند کردیا
“بدتمیز ! اویے فری ہورہا ہے ۔”
دوبارہ فون بجنے لگا
“اُف !ہلیو !”
“کسی سے بات کرتے کرتے اچانک فون کاٹ دینا ایک انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہے ۔”
بات تو سنجیدگی سے کی جانی تھی لیکن اس کے لہجے میں کوئی خاص سریسنس لگ نہیں رہی تھی
“اور کسی لڑکی کو چھیڑنا کیا اخلاقی حرکت ہے ۔”
ہما نے طنزیا لہجے میں کہا
“او مائی لارڈ ! انا وڈا الزام مس ہما تُسی کی ایے سٹائل نہیں جچتا !”
“مسڑ زالنین !”
“ایک منٹ ایک منٹ میں زالنین نہیں زُلنین ہوں اچھا خاصا نام بگار دیا آپ نے میرا ۔”
وہ جیسے بُرا منا گیا تھا
“آپ زُلنین ہو یا زالنین ہو میری طرف سے آپ سمندر میں ڈوب جائیں ۔”
“واہ کیا نیا سٹائل ہے عموماً لڑکیوں سے بھاڑ میں جاو یا جہنم میں جاو سُنا تھا سمندر کی کیا خاص بات ہے ۔”
“سو ڈھیٹ مرے ہوگے تب آپ پیدا ہوئے ہوگے ۔”
ہما ابھی تک اس کی بونگیاں سُن رہی تھی
“یار مس ہما آپ اتنا بھی نہ بنے مجھے پتا ہے آپ میری باتوں کو انجوائی کررہی ہے ۔”
“جی بالکل !”
ہما نے نظریں گھمائی اور سپاٹ لہجے میں کہا
“دیکھا !”
“ہوگیا آپ کا ایس پی صاحب !”
“ہائے مس ہما اتنی عزت نہ دیں مجھے ۔”
“اُف بولتے رہے میں بند کررہی ہوں ۔”
وہ سمجھے اب منتے کریں گا لیکن الٹ ہئ حساب ہوا
“کوئی نہیں پہلی کال تھی ہماری اتنا کافی ہے آپ اپنا کام کریں ال دا بیسٹ اللّٰلہ حافظ !”
وہ کہہ کر فون بند کرچکا تھا اور ہما کو یقین نہیں آرہا تھا کے کتنے آرام سے اس سے بات کر چکی تھی وہ بھی اجنبی تھا لیکن جانا نے کیوں نہیں لگا تھا اور اس کی سوچ پہ اسے یہ نہیں پتا چلا کے اس نے آل دی بسٹ بولا
“اُف توبہ توبہ نانو کو پتا چلے تو کچا چبا جائے ۔”
اس نے لیپ ٹاپ کو دیکھا جا اس کے نہ یوز کرنے پر بند ہوگیا اس نے جنجھلاتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کیا اور اُٹھ گئی
“عجیب ہے ٹوٹلی عجیب خوامخواہ فری ہورہا تھا میں دوبارہ اس طرف نہیں جاو گی نانو صحیح کہہ رہی تھی ۔”
خود سے بڑابڑتے ہوئے اندر گھسی اور ٹیرس کا دروازہ بند کیا
اچانک زُلنین نے دیکھا وہ اب دوبارہ نہیں آئے گی تو درخت سے اترا اور دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا
“مائی بیوٹفول اینجل !”
اس کی سکائی بلیو آنکھیں چمک رہی تھی جب کے لب مسکرا اُٹھے
وہ خود سے کہتے ہوئے مڑ گیا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“نانو آپُ کو پتا ہے غالیا کا گھر کس طرف ہے ؟”
ہما نانو کے کمرے میں آئی جہاں وہ کوئی دوائی ڈھونڈ رہی تھی
“کیوں ؟”
نانو نے حیرت سے سر اُٹھایا
“ایسے ہی بور ہورہی ہوں ایک تو آپ نے ہر جگہ کی پابندی لگائی ہوئی ہے سوچا اس کے گھر ہو آو بولا بھی تھا کے میں اس کی مما سے ملنے آو گی اب پانچ دن ہوگئے ہیں اچھا تھوڑی لگتا ہے ۔”
“لیکن وہ تو شہر گئی ہوئی ہے ۔”
“کیوں ؟”
ہما نے پوچھا
“غالیا کے ماموں آئے تھے انھیں لیں گئے کیوں فرزین کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی ۔”
“ہے یہ کیسا بھائی ہے جو اپنی بہن کو تن تنہا معزور حالت میں جس کے پاس صرف چھوٹی سی بیٹی ہے اگر خدانخواستہ انھیں کچھ ہوجاتا پھر کہاں جاتی کس سے مدد مانگتی ! اُف یہ خونی رشتے ہوتے ہی فضول ہے ۔”
ہما کو ناجانے کیوں بہت بُرا لگا یہ خون کے رشتے وقت کے ساتھ اتنی سفید کیوں ہوتے جارے ہیں آخر انسان تعلیم اور ترقی کے پاتے ہی اپنے اندر کی انسانیت اور ہمدردی کیوں ختم کررہا اس سے لاکھ درجہ بہتر تو جاہل ہے کم سے کم اپنے سے جڑے رشتے کی اسے قدر تو ہوتی ہے
وہ سوچنے لگی
“کیا ہوا اتنی خاموش کیوں ہوگی ۔”
نانو نے اپنا چشمہ ٹھیک کیا اور اس کو پُرسوچ انداز میں دیکھا
“اتنا مت سوچا کرو ہما پاگل ہوجاو گی ۔”
نانو کی بات پہ اس نے سر اُٹھایا
“کیا کرو اس جگہ پہ رہوں گی کوئی بولنے والا نہیں ہوگا تو انسان کے پاس سوچنے کے علاوہ کیا کام ہوگا ۔”
“ہما پہلے بھی تو کوئی نہیں تھا اب اچانک کیا ہوا ؟”
“پہلے ماما تو تھی نا !”
ہما بڑبڑائی
“میں نہیں ہو کیا !”
نانو نے منہ بنایا ہما مسکرائی اور ان کے کندھے پہ سر رکھنے سے پہلے ان کے گال پہ پیار اور پھر بولی
“ایک بات مانے گی !”
“ہاں بولو ۔”
“مجھے کچھ چیزیں چائیے وہ بھی مال روڈ جانا پڑیں گا کیا میں جاسکتی ہوں ؟”
نانو نے مڑ کر اسے گھورا
“اگر آپ کو رش نہیں پسند تو میں اسلام آباد چلی جاتی ہوں ۔”
“کیا چائیے تمھیں ؟”
نانو نے مڑ کر اسے دیکھا
“مجھے پاکستان گھومنے کا موقع مل جائے گا اور ۔۔ام کچھ خرید لو گی ۔”
“اکیلے !ہمارے پاس تو گاڑی بھی نہیں ہے ہما !”
“نانا کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے کیا !”
“ہے بہت اچھی جاکر گیراج میں دیکھ آو بس کسی مکینک کی ضرورت ہے ۔”
نانو مسکراتے ہوئے بولی
“اچھا واہ داٹس امیزنگ میں دیکھ کر آتی ہوں ۔”
ہما جانے لگی جب نانو نے اسے روکا
“ہما رکو !”
نانو کی پریشانی زدہ آواز پر مڑی
“کیا ہوا نانو !”
“یہ تمھاری گردن پر کیا ہوا ہے !”
نانو نے اس کی گردن کے پچھلے حصے کو چھوا ہما نے الجھن زدہ نظروں سے دیکھا
“میری گردن ۔”
“یہ نیل ٹائپ پڑا ہوا تمھیں کہی گری تھی ۔”
“نہیں تو مجھے زرا دیکھنے دیں !”
ہما نے بڑھ کر نانو کی شیشے کی طرف دیکھ اور سویٹر کو تھوڑا سا کھینچا تو دیکھا یہ bruise تھے یہ کیسے ہوا کال تک تو ایسا کچھ نہیں تھا
“تکلیف تو نہیں ہورہی بیٹا !”
نانو نے ہولے سے چھوا ہما کو تھوڑا سا درد محسوس ہوا ویسے پہلے تو ایسا ویسا کچھ نہیں محسوس ہوا اچانک یہ کہاں سے ۔
“نہیں نانو ایسے ہی ہوجاتا ہے کھبی کھبار گری ہوگی اب نیشان نظر آیا ہوگا ۔”
ہما نے سویٹر کو چھوڑ دیا اور مڑ کر نانو کو کہا
“ویسے تمھارے بال بھی لمبے ہوتے جارہے ہیں کٹوانا نہیں بہت پیاری لگ رہی ہوں ۔”
نانو نے پیار سے میرے بالوں کو چھوا جو واقی تھوڑے سے بڑے ہوئے تھے امومن میں کٹنگ کروایا کرتی تھی ہر مہینے لیکن عرصہ ہوگیا ہے موقعہ ہی نہ ملا
اپنے آپ کو دیکھا اور ہولے سے مسکرا پڑی پھر مڑی
“اچھا چلے گاڑی دیکھنے ۔”
“تم جاو میں زرا نفل پڑھ لو ۔”
“اوکے گیراج کی چابی دیں دے ۔”
“اچھا رکو !”
مانو مڑی تو ہما نے دوبارہ سے بالوں کو ہٹا کر اپنے نیشان کو دیکھا یہ کیسے ہوا آخر وہ اسے چھونے لگی جو پرپل اور بلیوش سا ہوا وا تھا لگتا تھا جیسے کسئ نے اس کو مارا ہوں
💀💀💀💀💀💀💀💀
اس نے گیراج کا دروازہ اوپر ڈریگ کیا اور پھر سائڈ لائٹ آن کی کار کے آوپر کپڑا چڑھا ہوا تھا کار دیکھنے میں تو خاصی بڑی لگ رہی تھی نانو نے بتایا تھا نانا دو چیز رکھنے کے بے حد شوقین تھے پُرانی گاڑیاں وہ بھی انٹیک دوسرا ڈفرنٹ ڈیکروشن پیسس جو لندن کے زمانے کے سٹائل کے ہوں اصل میں ہما کے نانا لندن سے بلانگ رکھتے تھے وہ تو جب اس کی ماما تھوڑی سی بڑی ہونے لگی تو اس کی تربیت کی خاطر انھیں پاکستان آنا پڑا وہ اکثر ماں باپ جو کرتے ہیں تاکہ بیٹے آزاد ماحول میں بگڑ نہ جائے لیکن ظاہر ہے جس ماحول میں ان کا گزارا تھا ان کا مزاج اور شوق نہیں بدل سکتے تھے اس لیں ان کا تو کاٹج برٹس سٹائل پہ بنا تھا
ہما نے سوچا اس طرح نظر نہیں آئے گا کیوں نہ دھکا دیں کر باہر نکال کر دیکھے وہ کار کے پیچھے کی سائڈ کی طرف گئی اور اسے دھکا دینے لگی پہلے تو بہت مشکل تھا پھر اسے نے بہت زور لگایا اور اتنا زور سے پُش کرنے سے اس کا سانس پھول گیا
“پہلے کپڑا تو ہٹا لو ۔”
کار ہلکی سے آگئے ہوئی تھی جب اس نے خود سے کہا
اور کھینچ کر اُتارا دیکھا تو اس کا منہ کھل گیا یہ تو واقی انٹیق گاڑی تھی لائٹ بلیو کلر کی بلیو تو اس کا فیورٹ تھا اس کی آنکھیں بھی اس رنگ کی تھی پھر اپنے سر کو جھٹکا
تو اس کو دیکھنے لگی
‏Wow Chevrolet 1957 one of the best vintage car it’s yours
ہما اس کی کو چھو رہی تھی جب کسی کے کہنے پر اچھلی دور ہی وہ کھڑا ہوا تھا بلیو جینز ایس پی صاحب جو اس وقت ڈارک گرے ٹریک سوٹ میں ملبوس تھے کالے بال ماتھے پہ گرے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ہما وہی کھڑے ہوکر بلیو کار کو دیکھنے کے بجائے اس بلیو بیوٹی کو دیکھنے لگی
وہ قریب آکر اس دیکھنے لگا
“آپ اِدھر بھی آگئے ۔”
ہما نے چونک کر اسے قریب آتے ہوئے دیکھا تو تیزی سے بولی
“وہ آپ اتنی چھوٹی سی جان مونسڑ کو دھکا دیں رہی تھی سوچا آجاو دور سے نظر آرہا تھا اوپر سے کار واو اتنی یونیق کار ہے آپ کے پاس اب تو یہ بہت کم اویلیبل ہے ۔”
“بہت ہی فارغ ہے آپ ویسے پاکستان کی پولیس خاصی کام چور لگتی ہے ۔”
ہما نے مسکراتے ہوئے طنز کیا وہ بُرا منائے بغیر ہنس دیا
“صبح کے آٹھ بجے سے لیکر میری شام کے پانج بجے تک ڈیوٹی ہوتی ہے اب کیا کرو کھبی کھبار تو رات تک بھی بھاگنا ہوتا ہے وہ تو آج کل آپ کے مبارک قدم پڑیں ہیں تو ٹف روٹین کم ہیں ۔”
“واٹ اویور !”
ہما نے اس کی اتنی لمبی سٹوری پہ نظریں گھمائی اور کار کو دیکھنے لگی واقی بہت پیاری تھی لیکن اسے صاف کرنے کی ضرورت تھی
“تو آپ نے بتایا نہیں کے یہ آپ کی کار ہے ۔”
“میرے نانا کی ہے بس اب آپ یہاں سے تشریف لیں جائے ۔”
ہما نے اسے جانے کا رستہ دکھایا
“ارے اتنی روڈنس مس ہما امریکہ والوں کا سُنا تھا آج دیکھ بھی لیا ۔”
اب تیسرا جھٹکا اسے کیسے پتا چلا
“ایک بات بتائیں آپ میری جاسوسی کرتے رہے ہیں ۔”
ہما نے بازو اپنے گرد لپیٹ کر اسے دیکھا
زلُنین نے اسے ناسمجھی سے دیکھا
“میں بھلا کیوں کرو گا آپ کی جاسوسی !”
“تو میرا نام ، نمبر پتا کیسے پتا لگا ۔”
“آپ کو تو پورا مری جانتا ہے میں تو آپ کا نیبر ہوں لیکن آپ اور آپ کی نانی ہمسائیوں کے حقوق نہیں جانتی ۔”
وہ مضنوعی ناراضگی سے بولا
“اُف جائے اپنا کام کریں اور ہم فضول لوگوں کے حقوق نہیں ادا کرتے ۔”
“اچھا فضول !”
وہ بدستور مسکرا کر اسے دیکھتا رہا
‏Why are you so creep
ہما نے اس کے دیکھنے پر جنجھلا کر کہا
“پتا نہیں حالانکہ اتنا جینٹل مین ہوں سب کو لگتا ہے آپ کو کر یپ ۔”
“چلے نام اور پتا کو تو ٹھیک ہے نمبر کیسے پتا لگا ۔”
ہما نے قریب آکر اسے گھورا
“ایزی ایزی محترمہ !! نمبر آج کل کے زمانے میں اتنا مشکل نہیں ہے پر آپ نے ہی تو دیا تھا ۔”
“میں نے نہیں دیا تم کون ہو کیا ہو ؟”
زلُنین نے اس کے کہنے پر قہقہ لگایا
“پچاس دفعہ بتایا ہے لیکن خیر میں ہوں زُلنین زولفیقار ، عمر ہے میری ستائیس سال ، ایس پی کے عہدے پر ہوں انگلش لیٹرچر میں ماسڑ کیا تھا پویٹ بنے کے لیں لیکن اچانک سے پولیس میں چلا گیا ماں باپ کا اکلوتا وارث ہوں بابا میرے سائنٹسٹ تھے ماما میری پویٹس پوئٹری لکھتی تھی دونوں اس دُنیا میں نہیں ہے اور میں اکیلا اپنے دادا کے گھر میں رہتا ہوں بالکل اکیلہ فرائی ڈے سے سُنڈے اپنے باقی کام کرتا ہوں صبح چھ بجے کے وقت جاکنگ اور شام کے چھ بجے جاکنگ جم تو ہے گھر میں لیکن مجھے کھلی فضا میں اکسیرسائز کرنا پسند ہے ۔
“وہ بولتا جارہا تھا کے اسے بولنا پڑا
“اچھا اچھا بس بس ! جان لیا کیا ہے آپ ساتھ میں چھچھورے بھی بے حد ہے ۔”
ہما نے منہ بنایا
“تھینک یو کمپلیمنٹ کے لیں خیر چلے گی میرے ساتھ واک کرنے اگر گھر نہیں بلانا ۔”
“اس وقت تو پاگل کرتے ہیں واک ! اور نقصان ہے آکسیجن کے بجائے انسان کاربن ڈائی اوّکسائیڈ اپنے اندر گھساتا ہے اور دوسرا میں ایک اجنبی کے ساتھ بھلا کیوں واک کرو ۔
وہ غصے سے بولی
“خیر مجھے اس سے کون سا فرق پڑنا ہے کون سا کاربن ڈائی اوّکسائیڈ مجھے اثر کریں گی ۔”
“کیا !”
“میرا مطلب ہے سالوں سال سے کررہا ہوں مجھے تو ایسا ویسا کچھ نہیں ہوا ۔”
وہ گڑبڑا کر بولا
“اُف جاو یہاں سے ۔”
“ہما دیکھ لی تو آجاو ! ”
نانو کی آواز پہ وہ گڑبڑائی اور اس کا بازو پکڑا اور اسے دھکا دینے لگی
“جاو نانو نے دیکھ لیا تو مارے گی ۔”
“ارے ملنے تو دیں مجھے ۔”
اچانک اس کی نظر ہما کی گردن پر پڑی تو اس کے تاثرات بدلے اور یہ تاثرات خاصے سخت ہوگئے
“یہ آپ کے گردن پر کیسے ہوا !”
لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی پتھر سے بھی سخت ہوگیا
ہما نے اسے دیکھا پھر اپنے گردن کو
“اپنی نظر کو نیچی رکھا کریں ۔”ہما نے اپنی سویٹر کو تھوڑا اوپر کیا اور سخت لہجے میں کہا جبکہ زُلنین نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیے لیکن کنڑول کر کے پیاری مسکراہٹ لایا
“پھر ملاقات ہوگی مس ہما خدا خافظ !”
اس کی نظریں ابھی تک ہما کی گردن پر تھی تیزی سے مڑا اور چلنے لگا
ہما نے اسے دور جاتے ہوئے دیکھا اور نانو کی آواز پر سر جھٹک کر یہاں سے نکلی
“نانو !”
ہما انھیں ڈھونڈ رہی تھی انھیں کہی نہیں نظر آئی
“یہ کہاں گئی ابھی تو مجھے پکار رہی تھی نانو !!!”
ہما نے دیکھا لائونج کے سائڈ پہ سٹور روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا لیکن اس طرف اندھیرا تھا نانو دروازہ کھلا کیوں چھوڑ گئی بھلا اسے حیرت ہوئی کہی ماما کے کمرے میں تو نہیں گئی اُدھر جانے سے پہلے وہ دروازہ بند کرنے کے ارادے سے آگئے بڑھی اور پُش کرنے لگی اچانک کسی فورس نے اسے دھکا دیا وہ سیدھا دروازے کو جاکر لگی
“آاااا!!!!”
اسے دروازہ بہت زور سے سر پر لگا تھا
اس نے اپنا سر تھاما اور سنبھل کر نیچے بیٹھی
“میں ٹھیک ہوں !”
خود کو ہمیشہ کی طرح بولی لیکن اسے حیرت ہوئی کے دروازہ اسے لگا آخر کیسے ایسا تھا جیسے کسی نے بڑی زور سے دھکا دیا اسے اب احساس ہوا کے اس کے کمر میں بھی شدید درد ہے
“ہما !”
نانو کی آواز پہ اس نے اپنا دکھتے سر کو اگنور کیا اور کھڑی ہوئی درد کو اپنے اندر دباتے اُٹھی فل حال درد ایسا تھا کے باقی چیزیں سوچنے کی ہمت نہ ہوئی
“آئی نانو ۔”
نانو کو کہتے ہوئے وہ پہلے کمرے میں جانا چاہتی تھی کے تھوڑی پین کلر کھا لے
سڑھیوں پہ پہنچی تھی تو ایک دم لگا کسی نے اس کا ہاتھ چھوا تھا اسے اپنا وہم لگا جب اسے لگا کے دوسرا ہاتھ بھی چھوا ہے تو وہ ایک دم ڈر کے ہاتھ اپنے سینے تک لیکر گئی ایک اور اونچی آواز میں کہا
“اللّٰلہ اکبر !”
“ہما کیا ہوا !”
ہما نے نانو کی آواز سُنی تو پُرسکون ہوگئی ایک دم وہ جھک کر سڑھیوں پہ بیٹھ گئی
“ہمی ! کیا ہوا ہمی! ٹھیک تو ہوں نا میری چندا !”
نانو نے ایک دم اس کا پیلا چہرہ دیکھا تو ان کا دل بیٹھ گیا
“ہما ! منہ سے بولو کچھ ہما !!”
“میں ٹھیک ہوں نانو!”
اس نے آہستگی سے کہا
“میں پانی لائی !
ہما اپنا سر تھامے بیٹھی رہی اسے احساس نہیں ہوا کوئی اس کے پیچھے بیٹھا بہت ہی حقارت زدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
زُلنین تیزی سے جزلان کے کمرے میں آیا جزلان کو دیکھا جو اپنے کمرے کے ڈیسک پہ مصروف کچھ کیمیکل بنا رہا تھا
زُلنین نے آگئے بڑھ کر اسے دھکا دیا کیمیکل کا فلاسک اس کے ہاتھ سے چھوٹا !
زُلنین نے اس کا گیڑبان پکر کر کھینچ کر اسے دیوار کے ساتھ لگایا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پہ لگایا
“میں نے کچھ بکواس کی تھی کے تم کسی کو کچھ نہیں بھونکو گئے لیکن دکھا دیں نا اپنی اوقات ! کیوں بتایا تم نے سب کو میری پوزیشن ہما ہے !ایک انسان ہے !”
اس کے دھاڑ نے پورے زولفیقار ہاوس کو ہلا دیا
جزلان نے خود کو کنڑول کیا اسے پتا تھا زُلنین کے غصے کا سب سے زیادہ خطرناک اور غصیلے طبیعت کے دو ہی فرد تھے ان کے خاندان میں ایک فائیق زولفیقار دوسرا زُلنین
“میں نے کچھ نہیں بتایا !!! زُلنین !”
تو ہما کو گردن پہ بروزز کیوں پڑے تھے !”
اس کی دھاڑ میں زرا سا بھی فرق نہیں تھا اور وہ آگ برساتی آنکھوں سے سچ مچ والی آگ برساتی آنکھوں سے جزلان کو دیکھ رہا تھا
“مجھے چھوڑو تو صحیح !”
اس نے زُلنین کا اپنے اوپر ہاتھ ہٹانا چاہا لیکن زُلنین نے مضبوطی سے پکڑیں رکھا
“اس کو پتا نہیں کتنی تکلیف ہورہی ہوگی اس کے پاس بھی نہ رہ سکا منع کررہا ہوں سب کو میری لائف میں اور میرے معاملے میں مت پڑیں تو بہتر ہے ورنہ تم سب لوگوں کو ختم کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاو گا ۔
وہ اس کا گیربان چھوڑ کر اپنا سر کے بال پیچھے کرنے لگا آنکھوں کی تپش تھوڑی سی کم ہوئی تھی
“دیکھو زُلنین خوامخواہ پاگل ہورہے ہو کیا پتا کہی گری ہوں عموماً ایسے زخم پڑ جاتے ہیں ۔”
“وہ کوئی عام زخم نہیں تھے اور اگر مجھے لگا کے اس کا ہاتھ ہے میں سارے رشتے کا لحاظ بھلا دو گا ۔”
“تم تو واقی اس کے عاشق ہوگئے ہو زُلنین مجھے ڈر ہے یہ ہسٹری رپیٹ نہ ہوجائیں پلیز یار دادا ابا بہت پریشان ہے پہلے سے تم ہی ان کی امیدیں ۔”
“بس چُپ کرو تم ! ”
“کیوں چُپ رہو ! تم اس کی ایک چوٹ برداشت نہیں کررہے تم واقی اس کے عاشق ہوگئے ایسا کیا تھا اس میں ۔”
“یہ تم فائیق زولفیقار سے پوچھتے اسے شفق فہیم سے کیسے عشق ہوا تھا ۔”
وہ تلخ لہجے میں کہتا وہاں سے جانے لگا لیکن جانے سے پہلے مڑا
“میں بتا رہا ہو تمھیں اور سب کو دور رہنا اس جگہ سے ۔”
اس کے لہجے کی کرختگی پر وہ کیا کرسکتا تھا سوائے سر ہلانے کے
“تم فکر نہ کرو کوئی ہما کو ایک نظر بھی نہیں دیکھے گا ۔”
💀💀💀💀💀💀💀💀
“کیا ہوا تھا گر گئی تھی !”
نانو نے اسے پانی پلایا اور اسے اپنے ساتھ لگایا
“ڈاکڑ کے پاس لیں جاو زیادہ تو نہیں لگئ ۔”
ہما مسکرا پڑی نانو کی پریشانی سے
“نہیں نانو کچھ نہیں ہوا بس ایسی ہی پتا ہے بہت ہی فرکشنلیس ہوں تبھی بار بار گر جاتی ہوں ۔”
“اچھا تمھاری پیلنس ختم کرو کچھ دوں کھانے کے لیں ۔”
نانو گھنٹے پہ ہاتھ رکھ کر زور لگا کر اُٹھی
“اُف لگتا ہے بلینسگ کلاس لینے پڑئ گی ۔”
ہما خود سے کہتے ہوئے بڑبڑائی اچانک کسی ناک کی آواز آئی وہ ایک دم ڈر کر اُٹھی اس نے دیکھا مین ڈور پہ ناک ہورہی تھی ایک دم اس کے دل میں ڈر آیا تھا لیکن اپنی اس بیوقوفی پہ غصہ آیا ایسے ڈرتا ہے کوئی بھلا
وہ ہمت کر کے مین ڈور کی طرف بڑھی اور ہینڈل کو گھمایا اور کھلا اور زُلنین کو دیکھ کر بولی
“آپ !!!!!”
زُلیُن اسے دیکھ کر چونکا وہ اتنے پیل کیوں لگ رہی تھی اچانک کنڑول کرنا پڑا ورنہ اپنے غصے کا اسے خوب پتا تھا ہر چیز ایک منٹ میں تہس نہس کردیتا تھا
اس نے پلیٹ اوپر کی
“آپ تو ہمساہیوں کے حقوق ادا کرنے سے رہی سوچا میں کردو مجھے اندر آنے کا نہیں کہی گی ۔”
وہ چہرے پہ گہری مسکراہٹ لاتے ہوئے بولا ہما ایک بار پھر ہمیشہ کی طرف اس کی بلیو اُف یہ بلیو اتنے اٹرکیٹو کیوں ہوتے ہیں ۔”
“ہلیو ! آپ ٹھیک تو ہے ۔”
“اُف کتنے بار پوچھے گئے ٹھیک ہو بھئی سب کہتے ہیں ایون میں خود کو کہتی ہوں اُف جب سے مری آئی ہوں ایک دن اس پاگل پن میں ہی مری میں مر جانا ہے ۔”
وہ اب چڑ گئی تھی زُلنین ہنس پڑا
“ہائے اتنی چھوٹی سے عمر میں مرنے کی باتیں مس ہما ۔”
“میں کیا ٹیچر ہوں جو بار بار مس کہہ کر اپنے آپ کو چھوٹا بنا رہے ہیں ۔”
“خاصی سمجھدار ہے آپ ابھی تو تھوڑی دیر پہلے اپنی عمر بتائی تھی آپ کو میں تو آپ کو ریسپیکٹ دیتا ہو لیکن لگتا ہے امریکہ والوں کو راس نہیں آتی عزت ۔”
“کون ہے ہما !”
نانو کی آواز پر ہما مڑی اور پھر بولی
“کوئی نہیں نانو ایک فقیر ہے ۔”
“بہت شکریہ آپ کا لیکن یہ جو آپ لائے ہیں یہ مجھے اور نانو کو بالکل نہیں پسند اس لیے آنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے خدا حافظ !”
اس سے پہلے دروازہ بند کرتی زُلنین نے پاوں رکھ دیا
“توبہ توبہ پہلے بھائی بنایا اب فقیر ایسے کرتے ہیں کسی جینٹل مین کے ساتھ جو اتنے جینٹل طریقے سے پیش آرہا ہے ۔”
وہ منہ بسورتے ہوئے بولا
“کیا چیز ہو !”
“میں چیز ہوں بڑی مست مست اب بس بھی کردیں نہیں تو میں سارے ثبوت لیں آو گا اتنا انڑوڈیکشن تو کوئی سکول والوں اور سی ایس ایس والے انٹرویو والے نے نہیں لیا جتنا آپ لیں رہی ہے اور یہ نہیں پسند آپ کو سریسلی گلاب جامن جسے نہیں پسند تو واقی وہ بہت ہی کڑوا انسان ہے جیسے کے آپ !”
“میرے گھر پہ مجھے ہی کڑوا کہہ رہے ہو آپ خود کڑوے ہو!”ہما اب تیزی سے اس کے قریب آئی اور انگلی اُٹھا کر کہا
“ارے آپ تو بُرا مان گئی آپ واقی بہت سویٹ ہے اتنی سویٹ کے سب کی سویٹنس کھا گئی اس لیں آپ کو میں کڑوا لگ رہا ہوں !”
“اُف دو مجھے اور جاو اب جب دیکھو منہ اُٹھا کر آجاتے ہیں ۔”
“آئیندہ میں منہ گرا کر آو گا ٹھیک ہے ۔”
زُلنین کی شرارت سے کہنے پر اسے ہنسی آئی لیکن لب دبا لیں
“چھچھورا !”
خود سے بڑابڑائی
“دیکھے میری بُرائی آپ اونچی آواز میں بھی کرسکتی ہیں میں بالکل بھی بُرا نہیں مناؤں گا لیکن سردی ہے تھوڑی سا تو اندر آنے دیں ۔”
وہ اب چہرے پہ مسکنیت تاری کرتے ہویے بولا

“میرے خیال ہے آپ اسی ٹائیم جاکنگ کرتے تھے اور اس ٹائیم سردی نہیں لگی اب لگ رہی ہے ۔”
اس نے طنزیا مسکراہٹ سے زُلنین کو دیکھا جو ابھی تک ٹریک سوٹ میں ملبوس تھا
“میری ایک ایک چیز پہ غور کرتی رہی ہے آپ خیرت ہے ؟”
اس نے ایک بار پھر ایک خوبصورت مسکراہٹ سے نوازا اُف اس کی مسکراہٹ واقی اچھے اچھوں کی جان لیں لے وہ گڑبڑا گئی اگر وہ دو منٹ میں بھی اس کے ساتھ کھڑی رہی یقینن وہ اس کی اسیر ہوجائیں گی پتا نہیں کتنی لڑکیاں اسیر ہوئی ہوگی
‏I’m one women man
وہ گنگناتے ہوئے کہنے لگا ہما نے ایک دم اسے دیکھا یہ سوچے بھی پڑھ لیتا ہے
“اس بات سے کیا مطلب ہوا ؟ ”
“ارے میں تو جان لیجنڈ کا گانا گارہا تھا میرا فیورٹ ! ویسے آپ کا فیورٹ کون ہے ؟”
یہ بلیو آنکھیں بلیو جینز جیسی آنکھیں اُف بھاگو !”
“بائی اینڈ تھینک یو !”
ہما نے تیزی سے دروازہ بند کیا اور دروازے کے ساتھ لگ گئی اس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا اور اپنی تیز دھڑکنوں کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگی
پھر اس نے اپنے پلیٹ کو دیکھا شیرے سے بھرے گلاب جامن دیکھے اسے بالکل نہیں پسند تھے لیکن زُلنین کو پسند تھے
“کون تھا ہما کس سے بات کررہی تھی !”
وہ سامنے اآئی جب نانو کھانا لگا رہی تھی ہما نے پلیٹ۔ سامنے دکھائی
“ہمارے نیبر تھا ! یہ دینے آیا تھا ”
“آیا تھا یانی لڑکا !”
نانو نے اسے تیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ہما کُرسی کھینچ کر بیٹھ گئی
“جی لڑکا ! ایس پی صاحب تھے ۔”
نانو ایک دم ساکت ہوگئی
“کون ؟”
خود کو سنبھل کر وہ ایک دم ہما کو دیکھنے لگی البتہ ان کا چہرہ سفید ہوگیا تھا
“جی وہ زولفیقار ہاوس میں ہوتا ہے اس نے دیں ہیں ۔”
“ہما !! وہ یہاں کیوں آیا ہے !”
ہما نے سر اُٹھایا نانو نے کی آواز بڑی عجیب تھی
“نانو آئے گا نا کیوں کے وہ ہمارا نیبیر ہے ۔”
“تم وہاں گئی تھی ! ”
ان کی سختی سے کہنے پر ہما کا منہ کھل گیا
“میرا جانے سے اور اس کے آنے سے کیا تعلق ہوگا ۔”
ہما ہمت کر کے بولی
“ہے بہت بڑا تعلق ہے وہ کھبی نہیں آتا اگر تم وہاں نہ جاتی ۔”
“میں نہیں گی ۔”
ہما نے جھوٹ بولنا ضروری سمجھا
“ہما میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہو ! ”
نانو کی آواز سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی
ہما نے جلدی سے ان کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ بات دُئرائی پتا نہیں وہ کیوں جھوٹ بول رہی تھی شاہد وہ زُلنین کو دیکھ نہ پاتی پھر
“اچھا ٹھیک ہے کھاو لیکن تم وہاں جانے کی کوشش نہ کرنا میں نے اس لڑکے کی بارے میں کچھ اچھا نہیں سُنا ۔”
وہ اب ہما کے کہنے پر تھوڑا سا مطمن ہوگئی تھی اور پھر بولی
“اور کیا سُنا ہے آپ نے !”
ہما کو اچھا نہیں لگ رہا تھا زُلنین کے بارے میں اس طرح بات کرنا
“وہ اس علاقے کا جلاد مشہور ہے !”
“رئیلی ! ”
جلاد اور زُلنین ذولفیقار امپوسبل
“اور وہ سب سے خطرناک ہے ۔”
اچھا ! ہما خاموشی سے ان کی سُنتے رہی ضرور اس ماسی نے پٹی پڑھائی ہوگی ورنہ زُلنین اور ایسا کھبی نہیں
“اور میں بتارہی ہوں ہما تم وہاں نہیں جاو گی اور اس لڑکے سے دور رہنا ۔”
“نانو وہ دیکھنے میں کتنا جینٹل مین ہے لوگوں کی رائے اتنی بُری کیوں ہے ۔”
ہما ایک دم بول اُٹھی نانو نے سر اُٹھایا
“جینٹل مین اور وہ چھ بندوں کا قتل کر چکا ہے اور کوئی بھی اس جگہ جاتا ہے کھبی واپس نہیں آتا ۔”
اب ہما کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹ گیا چھ بندوں کا قاتل نہیں ایسا کھبی ہو نہیں سکتا
“بس اور کچھ سُنا چاہتی ہو اب میں بتا رہی ہوں ہما اس جگہ سے دور رہنا اور یہ جب آئے اس سے زیادہ بات نہ کرنا ہاں لیکن لڑنے نہ شروع کردینا کل میں اسلام آباد جارہی ہوں میری دوست ہے اس کی پوتی کی شادی ہے اٹینڈ کرنا ہے نہیں تو اسلام آباد گھوم لینا ۔”
نانو کہہ کر بات ختم کر چکی تھی اور ہما کو ساکت بیٹھی زُلنین کی آنکھوں کو سوچنے لگی
“نہیں وہ ایسا نہیں ہے سب جھوٹ ہے میرا دل کہہ رہا ہے وہ ایسا نہیں ہے وہ ہو نہیں سکتا !”
دل کو تسلی دیتے ہوئے وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“آج میرے لاڈلے کو میری یاد کیسے آگئی ۔”
دادا ذولفیقار اپنے خوبرو پوتے کو دیکھ کر چہکے سب سے زیادہ جان ہی اس میں تھی کیوں اس میں تھا ہی ایسا جو سب کو اپنا دیوانہ کردیں
“یاد نہیں آئی مجھے آپ کے بیٹے کی وجہ سے آیا ہوں ۔”
وہ نفرت سے کہنے لگا دادا زولفیقار کا دل بیٹھ گیا
“اب کیا کیا اس نے وہ تو یہاں ہے ہی نہیں !”
“دادا ذولفیقار سمجھا دیں انھیں کے اپنے کام سے کام ہی رکھے تو زیادہ بہتر ہوگا ورنہ میں نے لحاظ نہیں کرو گا ۔”
“تم میرا لحاظ نہیں کرو گے تم ہو کیا چیز زُلنین !”
زُلنین سے زیادہ گرجدار اور چیر پھاڑ دینے والی آواز اس گھر میں گونجی زُلنین مڑا نہیں لیکن اس کے چہرے پہ نفرت سے بھری مسکراہٹ آگئی
“تم کب آئے فائیق !”
دادا اابا نےاگنور کیا اور فائیق کو دیکھتے ہوئے کہا
“میں چار سکینڈ میں یہاں پہنچ چکا تھا جب مجھے خبر ہوئی کے بھتیجے صاحب میری تعریفوں میں لگے ہوئے تھے۔”
وہی سرد سے بھری آواز جس سے انسان تو کیا جن بھی کانپنے لگ جائے
زُلنین جانے لگا جب اسے ایک دم روک دیا گا فائیق نے اس کا ہاتھنہیں پکڑا تھا پکڑنے کےلیےاس کی ایک ہی نظر کافی تھی زُلنین نے نفرت سے سر اُٹھایا اور دیکھا
فائیق زولفیقار کو
وہ زلینن سے ایک انچ بڑے تھے ان کی بلڈ آپ بھی زلینن سے زیادہ تھی چوڑے شانے اور خوبصورت نقوش جس کی آنکھیں آگ رنگ کی تھی لگتا تھا ان آنکھوں سے شہلے ہی نکلے گے بال بھی سفیدی کی طرف جارہے تھے اور وہ کوئی نہیں زلینن کے سگے چاچا فائیق زولفیقار تھے

بستر پر جانے کے بجائے آج وہ پھر لیپ ٹاپ پہ بیٹھ کر کچھ لکھنے کی کوشش کررہی تھی لیکن اسے ایک بار پھر نہیں سمجھ آرہی تھی ڈفرنٹ ڈفرنٹ گھر اس نے دیکھے ،ہانٹت سٹوری پڑھی سب ناجانے کیوں ایک جیسی ہی لگ رہی تھی
“یا آللّٰلہ ! کچھ ایسا ہو جو بہت ہی منفرد ہو لیکن سمجھ نہیں آرہی ۔”
اس نے لیپ ٹاپ ڈیسک پہ رکھا اور اُٹھ کر اپنے کمرے میں چکر کاٹنے لگی
“سوچ سوچ پر اسے احساس نہیں ہوا کے چیر چلتے ہوئے اس کے بالکل قریب آگئی اور اسے پتا ہی نہیں چلا جو ہی مڑی اچانک پیر چیر پہ جاکر لگا اور وہ گرنے لگی کے ایک دم اس نے کُرسی کو تھام لیا
“ائیم اوکے !!”
اس کا تاکیہ قلام بن گیا تھا جب بھی گرتی
پھر سنبھل کر اس نے دیکھا اور اس کا منہ کھل گیا چیر یہاں پر کیسے آئی سر جھٹک کر وہ چیر اُدھر لیکر گئی پھر وہ مڑی تھی اسے محسوس ہوا کوئی اس کے بہت قریب آرہا ہے اتنے قریب جیسے اس کا ارادہ گلا دبانے کا تھا آنکھ بند کر اللّٰلہ کا نام لیا تو مڑی کوئی نہیں تھا سینے پہ دونوں ہاتھ رکھے دل کیا نانو کے پاس چلی جائے لیکن نانو ڈر جائے گی اس کے گھبرانے سے اور دوبارہ کمرے میں اکیلے سونے بھی نہیں دیں گی اور اگر اکیلے نہیں سونے دیں گی تو کہانی بھی نہیں لکھ پائے گی
“وہم ہے ہارر سوچو گی تو ہارر ہی ہوگا ۔”
خود کو مطمن کرتے ہوئے وہ ٹیرس پہ جانے لگی تاکہ کھلی ہوا میں کچھ صحیح سوچ آئے باہر زیادہ سردی تھی لیکن اسے بالکل نہیں محسوس ہورہی تھی عجیب سی گھبراہٹ تھی چہرا پیسنے سے بھر چکا تھا عجیب سی متلی محسوس ہوئی
“یہ کیا ہورہا ہے ۔”
پیٹ کو اس نے پکڑ لیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی
اور آنکھیں بند کردیں اور بس ایک بار اس نے پکارا تھا اور وہ آللّٰلہ ہی تھا اور اللّٰلہ بیشک سُنے والا اور مدد کرنے والا ہے
💀💀💀💀💀💀💀💀
زُلنین اس سے پہلے کچھ کہتا اسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا فائیق زولفیقار اسے دیکھ رہے تھے
“کیوں بھتیجے صاحب چُپ کیوں ہوگئے آج میری شان میں قصیدے نہیں پڑھنے تھے آپ نے ۔”
زُلنین کی آنکھ سیاہ کالی ہوگئی
“میں آپ کے منہ نہیں لگنا چاہتا راستہ چھوڑے میرا ۔”
“فائیق راستہ چھوڑو اور میرے کمرے میں کوئی تماشہ نہیں ہونا چاہیے ۔”
دادا زولفیقار کو سختی سے بولنے پڑا کے دونوں ایک جیسے طاقت کے حامل بندے تھے ایک بار جب غصہ آجائیں دنیا اِدھر کی اُدھر ہوجائیں کوئی ان کو روک نہیں سکتا تھا چاہیے بیج میں ہزار جن ہی نہ آجائے ۔
“آپ کی ہی لحاظ ہے مجھے ابا ورنہ میں اچھے اچھوں کو سیدھا کرنا بہت آچھی طرح جانتا ہوں ۔”
فائیق نے شعلہ بار نظروں سے زُلنین کو دیکھا جبکہ زُلنین تیزی سے ایک دم غائب ہوکر فورن ہما کے گھر پہنچا
اور تیزی سے اس کے کمرے میں آیا خطرے کی گھنٹی بار بار بج رہی تھی اور اس کی چھٹی حس بالکل دُرست نکلی کیونکہ ہما بیہوش پڑی ہوئی تھی
“ہما !”
وہ تیزی سے پہنچا اور اتنی ہی تیزی سے اس بیڈ پہ لیٹایا
“ہما !! اینجل آنکھیں کھولو ! ہما ۔”
اس نے اس کی نبض چیک کی تو تھوری رُک رُک کر چل رہی تھی پھر اس نے ہاتھ دیکھا جو بالکل ٹھنڈے ہوچکے تھے اچانک اس کو گڑبڑ محسوس ہوئی اس نے ہما کا ہاتھ سختی سے پکڑا اور اتنی سختی اس کی آنکھیں بالکل فائیق کے طرح ہی آگ رنگ ہوگئی کچھ بڑبڑاتے ہوئے اس نے ہما کے پیٹ پہ پھونکا اچانک ہما کی آنکھیں کھلی زُلنین کی جان میں جان آئی ہما اسے دیکھ نہیں سکتی تھی اچانک ہما نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا اور تیزی سے اُٹھی اور واش روم کی طرح بھاگی
زُلنین وہی بیٹھ گیا وہ اس کے پیچھے نہیں گیا تھا اچانک اس کے نظر اسے جن پر پڑی وہ تیزی سے اس کے پاس گیا اور اس کی گردن پکڑ لی اور سائڈ پر لیکر گیا
“تو تم تھے ! کس کمینے نے تمھیں بھیجا ہے اور اگر یہ فائق زولفیقار کا کام ہے تو ابھی بتادو ورنہ تمھارا وہ حشر کرو گا کے یہ درخت میں ایک ایک مخلوق تمھاری چیخوں سے کانپ جائے گے بھونک !”
وہ اتنا گردن پہ دباؤں بڑھا رہا تھا کے اس کے آنکھوں سے خون ٹپکنے لگا
“وہ ۔۔ وہ میں نے شش رارت کی تھی ۔”
اس کو لگا وہ ابھی بسم ہوجائیں گا
“آئیندہ ایسی شرارت کی تو میں تمھاری ساری نسلوں کو برباد کردوں گا دفعہ ہوجا یہاں سے اور بتادینا دور رہنا سمجھے !!!”
اُٹھا کر اس نے اتنی زور سے اس پھینکا کے وہ دور جاکر کسی درخت سے لگا
خود کو سنبھالا اس نے اور پھر کمرے میں گھسا جہاں ہما کمرے سے باہر نکل رہی تھی وہ اس کے پیچھے آیا
وہ نیچے پہنچی تب تک زُلنین اپنی پاور سے دروازے پہ دستک کرنے لگا وہ بھی ہلکی ہلکی سی ہما ایک دم ڈر گئی اور ایک دم پیچھے ہوئے زُلنین نے اسے سنبھالا
وہ ہما کی دھڑکن کی تیزی کو بہت اچھی طریقے سے محسوس کرسکتا تھا اس لیے آنکھ بند کر کے اس پکڑیں رکھا جب تک وہ نیچے نہیں پہنچ جاتی ریلنگ کو سختی سے تھامے ہما ہرسا ہوکر چلی رہی تھی زُلنین نے اسے ڈرانا ضروری نہیں سمجھا
وہ جب نیچے پہنچ گئی تو کچن کی طرف بڑھی پھر ایک دم زُلنین دروازے کی طرف گیا اور دستک دینے لگا
ہما نے آنکھیں سختی سے بھینچ لی اور درود پاک پڑھنے لگی اب وہ مڑ کر نانو کے کمرے کی طرف بھاگنے لگی تھی جب شیشے پہ ناک ہوا ہما نے کڑ کر دیکھا زُلنین کو دیکھ کر اس کی رُکی ہوئی سانس بھال ہوئی اور وہ بالکل ریلکس ہوگئی ناجانے کیوں اس کو دیکھ کر ایک عجیب تحفظ کا احساس جگا تھا اس نے اشارہ کیا کے کچن کا دروازہ کھول دیں ہما نے جاکر آہستگی سے دروازہ کھولا اور اسے دیکھا جس کے چہرے پریشانی تھی
“آپ ٹھیک تو ہے ہما آپ کی چیخ کی آواز سُنائی دیں تھی ۔”
وہ فکرمندی سے پوچھ رہا تھا ہما کو جھٹکا لگا
“میں کب چیخی اور آپ کو اُف آپ ۔۔”
“میں چھچھورا ایس پی بلیو جینز ہوں اس کو چھوڑیں بتائیں آپ کو ہوا کیا تھا ۔”
وہ جلدی سے جواب دیں کر پوچھنے لگا
ہما کی ہوا کی وجہ سے ٹھنڈ محسوس ہورہی تھی اس نے اپنے گرد بازو لپیٹے
“مجھے بتائیں آپ مجھے جوتے تو نہیں مارے گی ۔”
اس کی بات پر ہما نے سر اُٹھایا
“کیا ؟ ”
“تو کیا میں آپ کے گھر میں اپنے مبارک قدم بڑھا سکتا ہوں اگر آپ اجازت دیں کیونکہ آپ کو ٹھنڈ لگ رہی ہے اور مجھے بھی میرا نہیں تو اپنا خیال کر لے ۔”
“ٹھیک ہے اندر آجائیں !”
ہما آہستگی سے کہتی ہوئی پیچھے ہوئی اور وہ اندر داخل ہوکر دروازہ بند کر چکا تھا
“ہوا کیا تھا !”
“میں چیخی کب تھی اور آپ کو کیسے پتا چلا ۔”
“میں جن ہوں اس لیے ۔”
وہ چڑتے ہوئے سچ بول چکا تھا
“ویری فنی ! ”
“آپ اپنے لفیٹ سائڈ پہ دیکھے تو آپ کو میرا گھر ٹاپ پہ نظر آئے گا اور بالکل سامنے میرا کمرہ ہے میں ویسے ہی چیر پہ بیٹھا سگ ۔۔۔”
“کیا آپ سگیرٹ پیتے ہیں ۔”
ہما اس کا آدھا جملہ سمجھ چکی تھی
“نہیں میرا مطلب ہے نقلی سگیرٹ جو ویسے سردی میں فاگ سے نکلتی ہیں ۔”
اُف زُلنین کیا بکواس کررہا ہے اس نے خود کو ملامت کی
“بہرحال اچانک آپ کی آواز آئی میں نے اُدھر اُدھر دیکھا کوئی نہیں نظر آیا پھر دوربین لایا اور پھر آپ کو دیکھا آپ ریلنگ پہ جھکی ہوئی تھی اور اور میں پریشان ہوگیا سوری اس ٹائیم آنا پڑا ۔”
اس نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا جہاں رات کے ایک بج
“کوئی بات نہیں تھینک یو کے آپ آئے ۔”
“یور ولیکم جی خیر اگر مہمان آگیا ہے تو اس کی تھوڑی خاطرداری نہیں ہوسکتی میں غریب مسکین بھوکا بچارا ۔”
“آپ اور غریب اتنے بڑے محل میں آپ کو کھانا نہیں ملتا کیا اور ویسے بھی آپ کی تو بھوک لوگوں کی دماغ کھانے سے نہیں پوری ہوجاتی ۔”

“اب اس بچارے کی کوئی ماں یا بہن نہیں ہے جو اس کا خیال رکھے خود ہی بناتا ہوں اور خود ہی کھاتا ہوں آج کچھ بنایا نہیں تھا سوائے گلاب جامن کے ۔”
“اتنے بڑے گھر میں کوئی نوکر ہی نہیں رکھا آپ نے ؟”
ہما نے آہستہ آواز میں کہا اسے بُرا بھی لگ رہا تھا اگر نانو کو پتا چل جاتا
زُلنین نے معصوم سی شکل بنا کر نفی میں سر ہلایا
“کچھ پاگلوں نے فضول باتیں پھیلا دیں ہیں کے وہ ہانٹٹ ہاوس ہے اس لیں کوئی قریب نہیں آتا اس گھر کے آئی مین اتنی خوبصورت جگہ کھبی ہانٹٹ ہوسکتی ہے سٹوپڈ !”
“واقی تبھی وہ ماسی نانو کو ۔۔خیر آپ کوئی ایسا ڈھونڈے نا جو واقی ان باتوں پہ بلیو نہ کرتا ہو آئی مین میری بات سمجھ رہے نا آپ ایسا تو بہت مشکل ہوتا ہوگا آپ کے لیے ۔”
زُلنین کھل کر مسکرایا جس پر اس کے موتی جیسے دانت نظر آئے پھر وہی ہما کو مسمرائز ہونا پھر ایک دم سر جھٹکا
“یہ کیا کہا آپ میں آپ کو تو اپنا نوکر نہیں بنا سکتا ۔”
وہ باقئدہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا ہما گھورنے کے باوجود کھل کر ہنس پڑی اور زُلنین کو اس کی ہنسی ٹھنڈی پھوار کی طرح پڑی
“کیا کھائے گے آپ !”
وہ ہنسی پہ قابو پاتے ہوئے بولی
“جو آپ کھلانا چاہیے میں بس دعا دوں گا اور کچھ نہیں ۔”
وہی نرم مسکراہٹ سے کہا گیا
“ویسے سارے لوگ ڈر گئے آپ کیوں نہیں ڈری اس بات سے حتاکہ آپ وہاں پہنچ بھی گئی تھی کوئی خوف نہیں تھا آپ کے دل میں ۔”
زُلنین کے دماغ میں سوال اُٹھا تو پوچھ بیٹھا
“مجھے بہت کم ڈر لگتا ہے ایسی چیزوں سے ہاں ماما کی ڈیتھ کے بعد میں گھبڑا ضرور جاتی ہوں !”
وہ فریج سے کچھ ڈھونڈ رہی تھی لیکن اسے کچھ مل نہیں رہا تھا
“رائٹ !”
وہ خاموش رہا
“کیا ہوا ؟ ارے رہنے دیں اگر کچھ نہیں ہے ویسے بھی اب تو ناشتے کا ٹائیم ہو جائیں گا اور میرا اس طرح ہونا اچھا نہیں لگتا آپ اپنا خیال رکھیے گا آللّٰلہ حافظ !”
وہ یہ کہہ کر چل پڑا اور ہما اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی کتنا بُرا لگا وہ اس کے لیے پریشان دوڑا چلا آیا ہے اور وہ اس کے لیں کچھ نہیں بنا سکی نہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ مہمان تھا اور مہمان اللّٰلہ کئ رحمت ہوتے ہیں نانو کا کہنا تھا “کوئی بھی آپ کے گھر آئے چاہیے وہ آپ کا دُشمن ہی کیوں نہ ہو اسے بھوکے پیٹ اور پیاسا مت واپس بھیجنا ۔”
ہما کشمکش میں پڑ گئی پہلے تو اس نے اپنے گلاس میں پانی ڈالا اور گھونٹ پی کر اس کی باتوں کو سوچنے لگی
“گھر میں کوئی نہیں ہے جو میرے لیے کچھ کریں ۔”
اس کا دل اچانک پریشان ہوگیا پھر کچھ سوچتے ہوئے اس نے سٹو آن کیا اور کچھ سوچتے ہوئے ماما کی آل فیمس چار منٹ کا سیلڈ کے ساتھ ٹونا سینڈیوچ او یس
جلدی سے اس نے پہلے چیک کیا کے آواز نہ آئے کچن کا دروازہ بند کر کے وہ سب بنانے میں مصروف ہوگئی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
زُلنین اپنے کمرے میں آیا دیکھا تو اپنی پھوپھو کشف کو دیکھ کر ٹھٹکھا اور پھر لب بھینچ لیے جبکہ ماتھے پہ بل آگئے
“تم کدھر گئے تھے ۔”
کشف آئینے میں اپنی سُرخ لپ سٹک کو بند کر کے جینز کی پوکٹ میں رکھا اور زُلنین کو دیکھتے ہوئے کہا
“آپ بغیر اجازت کے میرے کمرے میں کیا کررہی ہیں ۔”
زُلنین عورتوں کی ہمیشہ رسپیکٹ کرتا تھا اس نے کھبی بھی اونچی آواز اور سخت لہجہ نہیں اپنایا چاہیے وہ عورت اس کو زہر سے بھی بدتر لگتی ہوں
“بات کرنی تھی فائیق بھائی سے بدتمیزی سے کیوں بات کی تمھیں پتا ہے وہ ابھی تک اتنے غصے میں ہیں آدھی سے زیادہ چیزیں تو وہ تھوڑ پھوڑ چکے ہیں وہ تو ابا نے زرا ڈانٹ زور کی تو چُپ ہوئے زلی بچہ ایسے تو نہیں کرنا چاہیے تھا بھائی ویسے بھئ دو مہینے بعد آئے ہیں پہلے سے تھوڑے شانت لگ رہے تھے پھر بڑکھا دیا تم نے زُلنین کب یہ نفرت ختم کرو گے ۔”
اس نے کشف کی بات مکمل کرنے دیں اور خاموشی سے سر جھکا کر منتظر تھا کے اب آپ کی بات سُن لی گی ہے برائے مہربانی تشریف لیں جائے
“زیادہ غصہ مت کیا کرو اور بھائی کو اوئیڈ کیا کرو اور آج کل بڑے بزی ہو خیرت تو ہے نا۔”
وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی جبکہ زُلنین سے اپنا غصہ کنڑول کرنا مشکل لگ رہا تھا دل کررہا تھا جزلان کے پاس جاکر گلا دبا دیں پھوپھو کا تو پکا سہیلی تھا دل میں جزلان کا حشر کردینے کا اعزم باندھے وہ بولنے لگا
“بس مصروف ہوں اب مجھے تنہائی چاہیے ۔”
اب وہ نارمل لہجے میں کہنے لگا کیونکہ اس کی سوچ پہ ابھی ہما سوار تھی
“اوکے مائی سن ٹیک کیر میں زرا اپنی دوستوں سے ملنے جارہی ہوں ابا اور بھائی کو پتا نہ چلے احتیاط کرنا ۔”
زُلنین نے سر ہلایا
وہ اس کا چہرہ تھپ تھپا کر چل پڑئ جبکہ وہ اپنے اعصاب کو ڈیھلہ چھوڑتا ہوا بستر پہ گر گیا
💀💀💀💀💀💀
ہما نے ہوڈی پہنی اور لنچ باکس پکڑ کر بڑی ہی آہستگی سے دروازہ کھول کر باہر نکلی اندھیری کالی رات جس پہ آج چاند بھی کہی کھویا ہوا تھا سُرسراتی ہوئی آوازوں کو اس نے اگنور کیا تھا حتاکہ پہلے والا ڈر زُلنین کے آنے سے کب کا غائب ہوگیا تھا لیکن اس ٹھنڈ سے بھری کالی رات اور سُنسان سڑک نے اس کا دل ایک بار پھر کانپنے پہ مجبور کیا
اپنے فون کے ٹارچ ذریعے وہ تیزی سے راستہ ناپنے لگی
یہاں تک کے وہ پل پہنچ گئی جزلان بیٹھا ٹی وئ آن کیے اپنے شغل میں مصروف تھا جب اسے احساس ہوا کے کسی انسان نے ابھی آس پاس قدم رکھا یہ طاقت اس کے پاس تھی اس ٹائیم کوئی انسان ! وہ گلاس رکھ کر اُٹھا اور سیدھا گھر سے باہر نکلا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا جب نیچے ہی ٹارچ کی روشنی نظر آئی وہ اس روشنی کی طرف بڑھا دیکھا تو بونچھکا گیا
“یہ شفق کب آئی اور ابھی تک اتنی ینگ سمارٹ یہ انسان بوڑھے نہیں ہوتے میں جاکر چاچو کو بتاتا ہوں خوشی سے پاگل ہوجائیں گئے ان کی شفق واپس آگئی ہیں ۔”
وہ تیزی سے مڑا اور سیدھا فائیق زولفیقار کے کمرے کے دروازے پہ پہنچا کیونکہ اس کے بعد وہ جگہ رسٹرکٹٹ تھی کوئی بھی جنات اس کمرے کے اندر انٹر نہیں ہوسکتا تھا جزلان کو ڈر لگ رہا تھا لیکن اس ہمت کرنی پڑی اور ناک کیا دو بار ناک کرنے کے بعد کوئی جواب نہیں آیا
“ہیں ! کہی چاچو سو تو نہیں گئے یہاں کمرے میں موجود نہیں ہے پتا لگاتا ہوں ! وہ مڑنے لگا جب دروازہ ایک دم کھلا اور فائیق زولفیقار نکلے آنکھیں سُرخ تھی جبکہ چہرے پہ کرخت آثار تھے جزلان گھبڑا گیا اُف ان کی نظریں کسی کو بسم کردینے کے لیں کافی تھی زُلنین کی ہمت ہے جو زبان چلا لیتا تھا شاہد وہ اللّٰلہ کے کلام کی طاقت پہ زیادہ یقین رکھتا تھا اس لیں اس کے دل میں کوئی ڈر اور خوف نہیں تھا
“اب بولو گئے !”
ہمیشہ کی طرح کرخت لہجہ
“چاچو شفق واپس آگئی !”
اب اچانک فائیق کے چہرے پہ کچھ عجیب سے چیز آئی جو جزلان کیا وہ خود بھی آئینے میں دیکھتا تو سمجھ نہ پاتا ایک نام کا ہی اتنا جادو تھا کے سب کو پگھل گیا ساری نفرت سارا غصہ لیکن سوچتے ہوئے پھر اچانک وہی تاثرات واپس آئے لیکن اس بار خطرناک آئے
“کیا کررہی ہے وہ یہاں !!! ”
اب اس کی پھاڑ دینے والی آواز زُلنینُ تک پہنچی وہ تیزی سے اُٹھا اور اس نے محسوس کیا جیسے ہما یہی اس پاس ہیں
“او شٹ پاگل لڑکی اس وقت کیوں آگئی ۔”
زُلنین تیزی سے اُٹھا
بال سنوار کر وہ باہر نکلا اور دیکھا ہما پریشانی سے دروازے کے قریب پہنچی تھی زُلنین کو سمجھ نہیں آرہی تھی کے کیا کریں اگر وہ اس کے پورشن میں آتی تو کوئی مداخلت نہ کرتا لیکن یہ پورشن فائیق چاچو کا تھا اسلیے اس پریشانی ہوئی کے کیسے ہما کو اپنے پورشن پہ لیکر آئے کچھ سوچتے ہوئے اس کے دماغ میں آئیڈیا آیا لیکن اس کا دل نہیں تھا لیکن کرنا پڑیں گا وہ نہیں چاہتا تھا کے فائیق زولفیقار کی اس پر نظر پڑے ہما بیل بجانے لگی تھی جب ایک دم زُلنین اندر گھس گیا اس کے بعد ہما کے سامنے آندھیرا چھا گیا
💀💀💀💀💀💀💀💀
ہما کی آنکھیں کھلی تو خود کو بے حد نرم بستر پہ پایا
وہ تیزی سے اُٹھی اس نے دیکھا وہ اپنے کمرے کے بجائے کہی اور تھی یہ بہت ہی کوئی بڑا ماسٹر بیڈروم معلوم ہورہا تھا جس پہ بہت ہی ہیوی قسم کی دیواروں پر کارونگ ہوئی تھی سامنے اتنا بڑا لارج سائز ایل آئی ڈی لگا ہوا تھا کمرے میں روشنی کی وجہ اوپر شینلیر (فانوس )تھا جو بہت ہی بڑا اور دیکھنے میں پُرانا لیکن بیش امیر لگ رہا تھا خود جس بستر بھی تھی وہ کنگ سائز کا تھا ایسا جیسے کسی بادشاہ کا کمرا ہوں
اس نے ترکی میں جتنے پیلس ٹی وی پہ دیکھے تھے بالکل ایسا ہی کمرا تھا
بلیو ائینڈ وائٹ کے امتزاج کا یہ کمرا ہما کو اپنی ونڈر لینڈ میں لے گیا
“توبہ کتنا گرتی ہیں آپ یا آپ جہاں قدم رکھتی ہے وہاں شاہد بھر مار کیلے کے چھلکے ہوگئے یا پھر اس جگہ گریوٹی کم ہوتی ہے یا بالکل ہی ختم ہوجاتی ہے جس سے آپ گر جاتی ہیں خیر اتنی رات کو آنے کی کیا تُک بنتی تھی مس ہما نانو سے مار کھانی تھی کیا ۔”
وہ اس کے سامنے آیا ہما نے سر جھٹکے سے اُٹھایا پھر اسے سمجھ آئی وہ یہاں کیسے پہنچی لیکن وہ گری کب تھی وہ بیل بجانے لگی تھی کے اچانک اس کے سامنے آندھیرا چھا گیا تھا اور اب وہ زُلنینُ کے بستر پہ اسے شرمندگی ہوئی
“ائیم سوری میں نے آپ کے لیں کچھ بنایا تھا اور یہاں آئی تو پتا نہیں ۔”
“ہاں دیکھ بھی لیا اور کھا بھی لیا سو سویٹ آف یو بٹ ہما آپ کو واقی اس ٹائیم نہیں آنا چاہیے تھا وہ تو ویسے ہی ایک تو آپ کی چیخ خاصی صاف سے کے چڑیلوں کو بھی اچھی طرح سُنائی دیں کے وہ بھی کانپ جائے میں تو ٹھہرا ایک انسان ! نے تو ڈرنا تھا باہر آیا تو مجھے گھر کے پچھلے حصے میں ملی میں دوسرے سائڈ پہ رہتا وہ جگئ بند رہتی ہے سوری بولتا بہت زیادہ ہوں یہ لے پانی پیجیے ۔
وہ ایک دم پاس آکر سائڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اُٹھا کر پکڑانے لگا ہما نے اپنا سر پکڑا ٹھیس ہلکی سی اُٹھی تھی جب تھوڑا سا ہلی
“آپ کا بیلنس بہت خراب ہے تھوڑی پریکٹسٹ کیجیے ۔”
“آپ تھوڑے دیر کے لیں چُپ نہیں ہوسکتے کتنا بولتے ہیں آپ ۔”
وہ پانی کا گھونٹ لیتے ہلکی سے بیزاری سے بولی
“او سوری بس میں بھی شروع ہوجاتا ہوں آپ کو پوچھا ہی نہیں آپ ٹھیک تو ہے نا ۔”
ہما خاموش رہی
“پتا نہیں کس عزاب میں پھنس گئی ہوں عجیب خواب ، عجیب حرکتیں میرا بار بار گرنا بے ہوش ہوجانا عجیب سی طبیعت ہونا ۔”
زُلنین خاموش رہا پھر اسے تھوڑی دور کُرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولا
“آج آپ کی ویسے ہی ٹھیک نہیں تھی طبیعت اس لیں شاہد آپ کو چکر آگئے ہوں ۔”
“ہاں یہ بھی میں اب چلتی ہوں !”
وہ اُٹھنے لگی جب اس نے ہاتھ اُٹھا کر روکا
“بیٹھے ابھی آپ کی پیلنس ہیں اوپر سے اتنی ٹھنڈ میں اکیلے جانے دو گا میں چھوڑ دوں گا ۔”
“دیکھیے زُلنین ۔”
“سمجھ جائے ہما ابھی صرف ڈھائی ہوئے ہیں ۔”
“اللّٰلہ ڈھائی ساڑھے تین نانو اُٹھا جاتی ہیں ۔”
“تو بے فکر رہیں ساڑھے تین سے پہلے پہنچا دو گا آئی اشور یو ۔”
وہ دھیمے مسکراہٹ سے کہنے لگا
“پر آپ بھی تو ڈسٹرب ہورہے ہیں ۔”

NEXT EPISODE INSHA ALLAH ON 22ND JULY

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *