Black Rose Episode 3 by Samreen Shah Urdu Novel

Black Rose Episode 3 by Samreen Shah Urdu Novel Read Online Here.

“میں بالکل ڈسڑب نہیں ہوں ہما ویسے بھی کل سنڈے ہیں میری آف ہے ۔”
وہی دھیمی سی مسکراہٹ اور روشن آنکھوں سے دیکھنا ہما نے نظر چُرا لی
“دیکھیں زُلنین ۔”
“میں دیکھ ہی تو رہا ہوں !”
ہما نے جھٹکے سے سر اُٹھایا
زُلنین نے خاموشی سے اسے دیکھا پھر بول کر اُٹھا
“آئے میں آپ کو چھوڑ دو ۔مجھے آپ کمفرٹیبل نہیں لگ رہی ۔”
“تھینک یو ۔”
“مجھے بار بار تھینکس مت کہا کریں ۔”
وہ جھنجھلاتے ہوئے کہنے لگا
“کیوں ؟ آپ کو اچھا نہیں لگتا ۔”
“مجھے سوری ، تھینکس بڑے ہی بے معانی لفظ لگتے ہیں ۔”
“حالانکہ یہ تو سب سے بڑے میجیکل ورڈز ہیں ۔”
وہ آرام سے اُٹھی اور اسے دیکھتے ہویے کہنے لگی
“سپاٹ لہجے میں آگر آپ تھینک یو اور سوری کہے گئے تو خاک میجیکل ورڈز ۔”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا
“آپ خائف کیوں لگ رہے ہیں ۔”
“خائف نہیں ہو یار آپ کا اخلاق میٹر کرتا ہے یہ سوری اور تھینک یو ورڈز رہ گئے اخلاق تو جیسے غائب ہی ہوگیا ہے معاشرے میں ۔”
“یہ بات تو بالکل صحیح کہی ہے آپ نے ۔”
وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے کہنے لگی
“اور ویسے بھی دوستوں میں ایسے بتکلفانہ اور فیک ورڈز اینڈ فارمیلٹی تو ہرگز نہیں ہونی چائیے اس لیں آپ پرہیز کیجیے گا ۔”
“میں آپ کی دوست کب سے بن گئی ۔”
ہما کے حیرت زدہ لہجے پہ وہ مڑا اور مسکراہٹ دبائی
“آج سے اور دوست بنے کے لیں یہ بچوں کی طرح تو نہیں بولنا پڑتا کے آپ مجھ سے دوستی کرو گی ۔”
“میں نے آپ سے بات کیا کی اور آپ نے دوست ہی بنا لیا ۔”
وہ گھور کر بولی مسکراہٹ اب غائب ہوچکی تھی
“دیکھ لے پورے مری میں مجھ سے زیادہ اچھا اور مخلص دوست کہی نہیں ملے گا ۔”
جب کی اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی تھی
“اپنے منہ میاں مٹھو !”
“یہ لفظ مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا کیا انسان اپنے منہ کا میاں ہوتا ہے یانی وہ اپنی زبان کا شوہر ہوتا ہے اور ساتھ میں طوطے کا کیا ذکر ۔”
“اُف کیا کہہ رہے ہیں ۔”
وہ اس کی الجھی بات پہ الجھنے لگی
“نہیں میں یہی کہہ رہا ہو ا رہنے دیں آپ سمجھ نہیں پائے گی ویسے ہم دوست ہے اب بس یہ تہہ ہوگیا میرا تو آپ نے انٹرویو لیتی رہی ہیں چلے آپ بتائیں آپ نے کیا پڑھا اور اس وقت کیا کررہی ہے ۔”
“جیسے آپ کو پتا نہیں ہوگا !”
“ارے اب ایسی بھی بات نہیں ہے نام نمبر کہاں سے آنے کے علاوہ مجھے معصوم کو کچھ نہیں پتا !”
“معصوم!”
وہ اپنی ناک چڑا کر بولی زُلنین نے بھی ایسا کیا
“جی معصوم !”
وہ خاموشی سے چلنے لگی
“جلدی انٹرو دینے میں کیا ہے بتائے نا ۔”
“ہما شفق نام ہے میرا اپنی نانو کے ساتھ کلیفورنیا سے یہاں آئی ہوں رہنے کے لیں ۔”
“وطن کی محبت !”
زُلنین نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“کچھ ایسا ہی سمجھ لے میری نانو کی یہاں پوری زندگی گزری تھی تو ان کا اب دل تھا ہم دونوں ماما کی ڈیتھ کے بعد یہاں آگئے ۔”
“ائیم سوری !”
زُلنین نے اہستگی سے کہا
“کس چیز کے لیں ؟”
ہما چونکی
“آپ کی مام !”
“ہاں بس اللّٰلہ کی چیز تھی واپس جانا تو تھا !”
ہما کا لہجہ تلخ سا تھا جو زُلنین نے بہت محسوس کیا
“ظاہر ہے اللّٰلہ کی چیز تھئ وہ اور اپنے وقت پر گئی ہیں جیسے میرے جب میں دو سال کا تھا۔”
ہما نے سر اُٹھا کر دیکھا
“اور آپ ایسے اکیلے ! کون سنبھالتا تھا ۔”
“خود ہی سنبھل گیا !”
“کیا ؟”
“ماں باپ نے اتنی جائیداد چھوڑی تھی اور دوسرا مجھے ہمارے گھر کے پُرانے ملازم نے سنبھالا خوش قسمتی سے ایمان دار نکلے اپنے وائف کے ساتھ مل کر ایک پڑھا لکھا انسان بنا دیا ٹل سیکنڈ ایر اس کے بعد بس دونوں بھی سال کے گیپ میں اللّٰلہ کے پاس !”
وہ مسکراتے ہوئے بتارہا تھا دُکھ اس کے چہرے پہ کہی نہیں تھا ہما کنفیوزڈ ہوگئی یہ دُکھی کیوں نہیں ہے یا اپنا دُکھ ظاہر نہیں کرنا چاہتا اور وہ جیسے اس کئ سوچ پڑھ چکا تھا تبھی بولا
“ہما اپنے درد اور ہزار فیلنگز چھپانے کے لیں سپاٹ چہرہ یا سختی کا لبادہ نہیں اپنانا پڑتا اس سے آپ مزید کمزور دکھتے ہو ،ایک میجک صرف ایک میجک وہ ہے آپ کی ہنٹوں کا کچھاوں لوگ آپ کو ہر وقت مسکراتا ہوا دیکھ کر آپ کی اندر کی کمزوری بھی نہیں ڈھونڈ پائے گئے انھیں اپنا درد دکھانے کے بجائے دھوکے میں ہی رکھو تو زیادہ بہتر ہے ۔”
وہ اسے مشورہ دیں رہا تھا اور اپنی اس مسکراہٹ کی وجہ بھی بتا رہا تھا
“آپ نے اپنی چھوٹی سئ ڈیٹیل دیں اور آپ کا گھر بھی آگیا خیر پھر ملے گئے دوست خدا خافظ ۔”
زُلنین نے اسے اشارہ کیا ہما اس کی باتوں میں اتنی کھوئی ہوئی تھی اسے احساس ہی نہیں ہوا کے وہ پہنچ گئی ہے ۔
“تھینک یو فور
“آاا بس چُپ کر کے جائے ! ”
اس نے ہلکی سی گھوری دیتے ہوئے کہا
“اللّٰلہ حافظ !”
ہما کہتے ہوئے چل پڑی اور دروازے کی طرف پہنچ کر مڑی تو دیکھا وہ چلا گیا لیکن اتنی جلدی اس نے اس طرف دیکھی لیکن اتنی دُھند میں وہ نظر نہیں آیا اور ہما کو پتا بھی نہیں چلا وہ اس کے قریب کھڑا ہے
اور وہ اسے سوچتے ہوئے مسکرا پڑی
“کتنا سویٹ ہے ویسے !”
وہ خود سے بولی اور پاس کھڑے زُلنین کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آگئی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“آج لیٹ کیوں اُٹھی ۔”
نانو نے اسے سڑھیوں سے نیچے اُترتے ہوئے دیکھا اور ٹائیم دیکھتے ہوئے کہا جدھر صبح کے دس بج رہے تھے
“رات کو نیند دیر سے آئی تھی ۔”
ہما اپنے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
“اچھا ! ناشتہ پڑا ہوا ہے اور نماز تو پڑھی نا ۔”
“نماز پڑھ کر سوئی تھی ۔”
وہ کچن کی طرف گئی بڑھی جب اس نے کچن کی کھڑکھی کی طرف دیکھا زُلنین دور ہی کھڑا کسی سے بات کررہا تھا لیکن جس سے بات کررہا تھا وہ نظر نہیں آرہا تھا وہ اسے دیکھ رہی تھی نیوی بلیو سویٹر کے ساتھ بلیو جینز پہنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہما کو اچھا لگ رہا ہے یا پیارا
“کیا دیکھ رہی ہو ناشتہ کرو نا !”
نانو کی آواز پہ ایک دم اچھلی
“نانو آپ نے تو ڈرا دیا !”
ہما اپنی کفیت کو چھپانے کی خاطر پانی کا گلاس اُٹھاتے ہوئے بولی
“تیار ہوجاو میں نے نکلانا ۔”
“نانو آپ چلی جائے میں گھر ٹھیک ہوں !”
ہما کا دل نہیں کررہا تھا اس کا دل زُلنین کے پاس جانے کو کررہا تھا لیکن اس نے یہ اعتراف خود سے بھی نہیں کیا تھا
“کیوں کل تک تو مان گئی تھی اور مجھے بھی کہہ رہی تھی کچھ لینا ہے اچانک سے کیا ہوگیا ۔”
اُف ایک تو نانو کی مشکوک آواز
“نانو بس طبیعت ٹھیک نہیں ہے میری !”
وہ بیزاری سے بولی
“ٹھیک ہے پھر میں نہیں جاتی کیا ہوا ہے طبیعت کو !”
نانو ایک دم پریشان ہوگئی
“کچھ نہیں نانو ایسی سر میں درد ہے آپ جائے خوامخواہ رُک کر کیا کریں گی اچھا ہے اپنے لوگوں سے ملے ۔”
ان کے رُک جانے پر ہما بھوکلا گئی لیکن پانی کا سپ لیتے ہوئے بولی
“پھر ایک وعدہ کرو !”
نانو اسے تھوڑی دیر دیکھنے کے بعد بولی
“کیسا وعدہ ؟”
وہ ٹوسٹ اُٹھاتے ہوئے نانو کو بولی
“تم اس لڑکی کے سامنے دوبارہ نہیں او گی اور خبرادر ذولفیقار ہاوس گی ۔”
“نانو وہ دیکھنے میں قاتل نہیں لگتا اور وہ پولیس آفسر ہے ۔”
ہما کو اچھا نہیں لگا زُلنین کے بارے میں نانو کی رائے
“تم یہاں ہر بندے سے پوچھو گی تو سب کی یہی رائے ہوگی اور تم نئی آئی ہو جبکہ یہ لوگ برسوں سے رہ رہیں ہے وہ اچھا نہیں ہے خوبصورت شکل ہی انسان کو دھوکہ دیتی ہے اور میری جان میں تمھیں اس لیے کہہ رہی ہو کے میں تمھیں کھونا نہیں چاہتی میری جان ۔”
“لوگوں کی باتوں میں کیوں آرہی ہیں آپ !”
“نہیں آرہی میں اور مجھے لگتا ہے تمھاری اس سے بات ہوئی ہے اور کچھ زیادہ گہری باتیں ہوئی اس لیے ایسا کہہ رہی ہو میں نہیں جاتی !”
نانو کے فیصلہ کُن انداز پہ وہ ایک دم بھوکلا گئی
“نانو میری نہیں ہوئی قسم سے وہ بس پلیٹ دینے آیا تھا میں نے پوچھا وہ کون ہے اپنا بتا کر وہ چلا گیا تھا اور میں ذولفیقار ہاوس نہیں گئی تھی آپ کو پہلے بھی بتایا ہے۔”
ہما کو پریشانی ہوگئی پہلی بار ایسی پابندی پر اسے اعتراض ہوا تھا ورنہ وہ کسی چیز منع ہونے پر نہیں مائنڈ کرتی تھی
“پھر وعدہ کرو !”
“نانو یہ کیسا وعدہ ہے آپ تو ایسے کہہ رہی ہے جیسے وہ سامنے آئے گا گولی سے اُڑا دیں گا بہر حال نہیں جاتی یہی رہو گی گھر میں سٹوری لکھوں گی ۔”
اب نانو کے چہرے پہ اطمینان آگیا اور ہما کو حیرت ہوئی اسے پتا لگانا کے آخر ایسا سچ ہے یا یہ جھوٹی افواہیں ہیں زُلنین نے کہا تھا کے کچھ لوگوں نے اس کے گھر کو ہانٹٹ کہا ہے کیا سچ میں ہانٹٹ ہے کیا واقی زُلنین نے چھ بندوں کا قتل کیا ہے اس کے لیے ایک نیا ایڈونچر بھی تھا دوسرا وہ زُلنین کو قریب سے جانے گی آخر وہ ویسا ہے جو دیکھنے میں لگتا ہے یہاں اس نے اچھائی کا لباس پہنا ہوا ہے
وہ سوچ رہی تھی اور مڑ کر دیکھا جہاں زُلنین اب بھی کھڑا تھا لیکن وہ اب کسی سے بات کرنے کے بجائے سوچ میں گُم تھا پھر وہ گہرا سانس لیتا ہوا چہرہ موڑ کر اس طرف دیکھنے لگا جہاں ہما اسے دیکھ رہی تھی پھر زُلنین کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی اسے دور سے ہی ہما نظر آگئی مگر کیسے وہ ہات ہلا رہا تھا اور ہما نے دیکھا نانو چلی گئی ہیں اسے سمجھ نہیں آئی کے کیا ریکائٹ کریں

نانو اس پیار کر کے اور بار بار تاکید کر کے چلی گئی اور وہ دروازہ بند کرنے لگی جب وہ مڑی تو زُلنین نے بھاؤ کیا اس نے چیخ مارتے ہوئے منہ پہ ہاتھ رکھا اور زُلنین کا قہقہ چھوٹ گیا
“ہاہاہا اتنی ڈرپوک ہے آپ اُف آپ کو تو نانو کے ساتھ چلے جانا چاہیے تھا اکیلے تو ڈرتے ڈرتے مر جانا تھا ۔”
ہما نے غصہ سے اسے دیکھا اور اس کے پاوں پہ زور سے مارا لیکن زُلنین کو کچھ محسوس ہی نہیں ہوا
وہ ہنسے جارہا تھا
“آپ میرے گھر کیسے اندر آئے جائے یہاں سے !”
اسے تو غصے آگیا
“ارے دوست آپ تو ناراض ہوگئی آپ جب نانو سے مل رہی تھی میں چھپکے سے گھس گیا اور آپ اُف میں دیکھنا چارہا تھا کے ہاررز کی دیوانی کو اگر رییل لائف میں ہارر سین اس کے ساتھ ہوجائے تو وہ کیا کریں گی
وہی جو ساری لڑکیاں کرتی ہے چیخ مارنا یار ویسے آپ سے امید نہیں تھے اور کیا کوئی جن بھوت آئے گا تو کیا آپ اس کا پیر کچلے گی اور یہ کہی گی کے جاو یہاں سے ۔”
وہ اب اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہنے لگا
“پہلے بات ہے بھوت وغیرہ اکزیزٹ نہیں کرتے ۔”
“چلے بھوت نہیں جن تو کرتا ہے نا !”
وہ اب بالکل سنجیدگی سے بولا
“تو میں کیا کرو اور پلیز جن اور بھوت کو ذکر کیوں لے بیٹھے یہ میرے شوق ہیں آپ کے نہیں ۔”
“شوق ہے تو ڈرتی کیوں ہیں ۔”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا
“ایس پی صاحب آپ کے بارے میں اور آپ کے گھر کے بارے میں میں نے اچھی رائے نہیں سُنی پھر بھی میں آپ کے گھر آئی اور آپ کے سامنے ہوں کیا مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔”
ہما نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
“اللّٰلہ آپ بھی لوگوں کی باتوں میں مس ہما !”
زُلنین نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا
“اس سے بھی زیادہ ہانٹٹ جگہ ہیں میں آپ کو دکھا سکتا ہوں !”
“تو میں کیا کرو ! ”
“کچھ نہیں پتا نہیں میرے خوبصورت سے گھر کو سب نے کیوں نو انٹری کا بورڈ لگا دیا ہے ۔”
وہ بیچارگی سے بولا
ہما اس سے پوچھنا چاہتی تھی کے کیا اس نے سچ میں چھ بندوں کا قتل کیا لیکن نہیں ایک قاتل بھلا کیوں کہے گا ہاں میں نے مارا ہے
“کہاں سوچ میں گُم ہوگئی آپ !”
زُلنین نے چُٹکی بجائی ہما نے سر اُٹھایا
“ام کہی نہیں !”
“کہی نہیں چلے کہی چلتے ہیں ۔”
“میں کہی نہیں جاسکتی !”
وہ زُلنین کو تیزی سے کہتے ہوئے جانے لگی
“او کم آن دوست آپ میری سے ناراض کیوں ہوگئی ۔”
“میں آپ سے بھلا کیوں ناراض ہوگی۔” ہما اپنا لیپ ٹاپ اُٹھانے لگی جب زُلنین نے سٹیفن کنگ کی بے شمار ہارر ناولز دیکھے ان میں سے اس نے ایک اُٹھائی
“او کوئی تو بہت ہی دیوانہ ہے لیکن آپ کو دیکھ کر تو نہیں لگتا !”
“اب کیا شکل دیکھ کر شوق پورے کرنے چاہیے ۔”
ہما نے اسے کتاب کھینچی وہ آگئے سے کچھ نہ بولا
“تو مس ہما انٹرو تو دیں دے ۔”
“میرا کیا انٹرویو ہے جو بار بار میری انٹرو کا پوچھ رہے ہیں ۔”
“اُف لگتا ہے نانو سے بہت ڈانٹ پڑی ہے تبھی تو چڑی ہوئی لگ رہی ہے ۔”
وہ اس کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ گیا تھا
اور جو لیپ ٹاپ پہ اپنا فیس بُک آن کررہی تھئ اچانک کچھ دیکھنے پر اس کا چہرہ سفید ہوگیا اور آنکھیں عجیب سی ہوگئی
“کیا ہوا خیریت ! ”
وہ ہما کا سُرخ چہرہ دیکھنے لگا جو اپنے لب بھینچ رہی تھی اس نے لیپ ٹاپ سائڈ پہ رکھا اور تیزی سے اُٹھ کر باہر کی طرف بھاگی
“ہما !”
زُلنین نے ایک دم لیپ ٹاپ کی طرف دیکھا تو ایک منٹ کے لیں چُپ ہوگیا واقی یہ بہت تکلیف دے خبر تھی
اور زُلنین تیزی سے ہما کی طرف بھاگا
“ہما ! ہما رکو ! ۔”وہ روتے ہوئے تیزی سے بھاگ رہی تھی اور زُلنین تیزی سے اس کے پیچھے آیا
“میری ماما پاگل نہیں تھی کیوں کیا اُنہوں نے ایسا کیوں ۔”
وہ خود سے بولی بس نہیں چل رہا تھا ریحان علی کو گولی مار دیں انہوں نے گھٹیا پن کی انتہا کردیں تھی
اس کی ماما کے نام سے پاگل خانہ کھولا اور انھیں ڈیڈیکیٹ کیا جو پاگل تھی جنہوں نے ان کا جینا حرام کردیا لیکن ان کا دل کتنا بڑا تھا جو پھر ان سے محبت کرتے ان کی یاد میں پاگل خانہ کھولا اس کے پاپا مشہور سائیکٹریسٹ تھے اس لیے سب کو ان سے دل ہمدردی محسوس ہوئی جب انھوں نے ماما سے متعلق سپیچ کی اور سب جھوٹ تھا ۔ہما کا ضبط جواب دیں گیا تھا پاپا نے ماما کو مرنے کے بعد بھی بخشا نہیں آخر ایسا کیا کردیا تھا ماما نے جس کا بدلہ پاپا لیں رہے ہیں
وہ ایک جگہ روڈ پہ بیٹھ کر اپنا سر تھام کر رونے لگی
زُلنین کو پریشانی ہوئی اور اس کے پاس آیا
“ہما اُٹھے ہما پلیز کہاں بیٹھ گئی ہے اُٹھے ۔”
وہ اسے کھینچتے ہوئے بولا اور اس کی فورس وہ تیزی سے اُٹھی لیکن ہما کو زہنی دھچکا لگنے کی وجہ سے محسوس نہیں ہوا زُلنین اسے سیدھا اپنے گھر کے نیچے والے سٹیپس پہ لیں گیا اور اسے بیٹھایا اور اسے کے ساتھ بیٹھا اس نے ایسے اکیٹ کرنا تھا جیسے وہ کچھ نہیں جانتا اس لیے اسے دیکھتے ہوئے کہنےلگا
“رو کیوں رہی ہیں آپ !”
زُلنین نے اسے سر تھماتے کھل کر روتے ہوئے دیکھا تھا وہ کسی کے سامنے کھبی نہیں روئی تھی نہ اوین ماما کے سامنے بھی نہیں زُلنین میں پتا نہیں کیا تھا جس سے وہ اپنا ضبط طور کر رونے لگی تھی جیسے لگا تھا وہ تسلی دیں گا اسے دلاسا دیں گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا وہ رو رہی تھی اور وہ ہما کو دیکھے جارہا تھا
“بہت غصہ آرہا ہے ۔”
وہ اس کے مٹھیاں زور سے بھینچتے ہوئے دیکھ رہا تھا جس سے اس کا ہاتھ کافی زیادہ سُرخ ہوگیا تھا
“ہاں بہت زیادہ !”
وہ بھرائی آواز میں بولی
پھر اچانک زُلنین نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اُٹھا کر اوپر لیکر گیا اس نے کچھ نہیں پوچھا اور نہ ہما کچھ بولی چُپ کر ہے روتی رہی
اور اس کے ساتھ زولفیقار ہاوس کی طرف بڑھی
زُلنین نے دروازہ کھلا اور اسے ساتھ لیکر جانے لگا گھر میں کوئی نہیں تھا سارے دوسرے شہر گئے تھے دادا ابا کے کزن بلا آخر شادی کرنے والے تھے اس لیے سب وہاں گئے تھے جزلان نے بھی زُلنین کو چلنے کو کہا تھا لیکن زُلنین نے منع کردیا تھا کیونکہ وہ ہما سے خود کو دور نہیں کرسکتا تھا
وہ کچن میں پہنچ گئے اس نے ہما کا ہاتھ چھوڑا اور الماری کھول کر اس نے پلیٹس نکالی ہما اپنے آپ کو کمپوذڈ کر کے اسے دیکھنے لگی یہاں تک کے زُلنین اس کے پاس آگیا اور پلیٹس کاونٹر پہ رکھ کر اسے ایک اُٹھا کر دیں
“چلو توڑو !!”
“کیا !”
“پلیٹ توڑ کر اپنی فرسٹیشن نکالو !”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگا
Are you in your senses
“پتا نہیں ابھی سکیولیجیسٹ کی کلاس نہیں ہے میری توڑو!”
“زُلنین تم پاگل ہو !”
آج پہلی بار اس نے زُلنین کو آپ کے بجائے تم کہا تھا کیونکہ واقی زُلنین کا دماغ توازن پہ نہیں تھا زُلنین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پلیٹ پکڑائی اور ایک ڈرکیشن میں دیکھا کر پلیٹ زور سے پھینکی پلیٹ ٹوٹ گئی
“چلو نیکسٹ !”
اور وہ منہ کھولے اسے ٹوٹی پلیٹ کو دیکھ رہی تھی
“یہ کیا پاگل پن ہے ۔”
وہ اس ٹوٹی پلیٹ کو دیکھنے لگی اور پھر زُلنین کو دیکھا جو خطرناک حد تک سینجیدہ لگ رہا تھا
“وہ سامنے دیوار ہے ہما ! اور اس شخص کو سوچو جس نے تمھیں تکلف دیں پلیٹس تمھارے سامنے ہیں جتنا چاہیے اس مارو کوئی تمھیں روکے گا نہیں اور کسی کو اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ یہ میرا گھر ہے جو فل چاہیے کرو ۔”
“نہیں زُلنین !”اس نے منہ پہ ہاتھ پھیرا پھر اپنی ساری عقل اور تعلیم اور تربیت کو ہٹا کر اس نے پلیٹ اُٹھائی اور زور سے دیوار پہ ماری زُلنین کی ہنسی چھوٹ گئی
“یہی ہوئی نا بات دیکھو ابھی آٹھ پلیٹیں ہیں توڑو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے بہت امیر آدمی ہوں ۔”
وہ اشارے کرتے ہوئے بولا
“نہیں بس فرسٹیشن ختم ۔”
وہ گھبڑا گئی
“ارے پلیٹ کیا ہر چیز دیتا ہوں اسے توڑو کہوں تو دیوار پہ اس شخص کی تصویر لگا دوں ۔”
“وہ میرے فادر ہیں زُلنین۔ ! ”
ہما ٹوٹی پلیٹ کو دیکھ کر کہنے لگی
“فادر ایسے ہوتے ہیں جو اپنی اولاد کو تکلیف دیں ۔”
وہ اس کی سوجی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
“وہ مجھے اپنی اولاد مانتے ہی نہیں ہے ۔”
وہ آہستگی سے کہنے لگی اس کے چھپے کرب نے زُلنین کو بہت زیادہ تکلیف دیں بس نہیں چل رہا تھا اس کے باپ کو الٹا لٹکا کر خوب مارے
“تمھاری فرسٹیشن ابھی ختم نہیں ہوئی توڑو !”
“پاگل ہو تم ! ”
وہ ہسنتے ہوئے کہنے لگی
“دیکھو کیا کردیا ! ”
“کچھ بھی نہیں کیا رکو ! اگر پلیٹ نہیں توڑنا چاہتی تو اِدھر او۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لیکر جانے لگا ہما اس خوبصورت ترین گھر کو دیکھ رہی تھی جو بہت سی انٹیق پیسس اور تصویروں سے بھرا ہوا تھا ایسا لگ رہا تھا وہ کسی میوزیم آگئی ہوں پھر اچانک ایک تصویر کے نیچے بلیک روز پہ پڑی جو ایک گلاس میں مقید تھا لیکن وہ چمک رہا تھا وہ مزید اس پر غور کرتی لیکن زُلنین اسے کھینچ کر کمرے میں لیے گیا جو جم ہی تھا سامنے اتنے بڑے پنچنگ بیگ کی طرف لیکر گیا اور ہما کو سمجھ آگئی وہ کیا کرنے والا ہے

“سریسلی زُلنین میں اب اپنی فرسٹیشن اتارنے کے لیے باکسنگ کرو گی !”
اس نے دیوار پہ ایک بڑا سا پوسٹر دیکھا جو گریٹ باکسر محمد علی کا تھا اور اس کے ساتھ ایک کوٹیشن تھی جس سے ہما کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئے زُلنین تبھی اتنا پوزیٹو تھا
To be a great champion ,you must believe your the best ,if you’re not pretend you are
“کیا دیکھ رہی ہو یہ میرے فیورٹ ہے تمھارا کون سا فیورٹ باکسر ہے !”
زُلنین باکسنگ کلوز پکڑے ہما کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“میں نے کھبی باکسنگ دیکھی ہی نہیں ۔”
“اُف ہما کتنی سڑی ہوئی روح ہے تمھاری !”
زُلنین نے منہ بنایا ہما ہنس پڑی
“یہ سب لڑکوں کے شوق ہے کھبی کسی لڑکی سے سُنا ہے وہ ان چیزوں میں دلچسپی لیتئ ہو ۔”
وہ اب اس بڑے سے جم کو دیکھ رہی تھی تب اچانک لگا کوئی سامنے دروازے سے بڑی تیزی سے گزرا ہے
“زُلنین کوئی گھر میں ہے کیا !”
زُلنین نے نے اس کے کہنے پر مڑ کر دیکھا
“نہیں تو کیوں پوچھ رہی ہو !”
“ابھی سامنے سے کوئی گزرا تھا !”
“وہم ہوگا چلو چھوڑو آو کرو !”
“مجھے نہیں کرنا نا !”
وہ منہ بناتے ہوئے بولی
“تمھاری فرسٹیشن !”
“مجھے فرسٹیسٹٹ نہیں ہوں اب میں گھر جانا چاہتی ہوں تھینک یو زُلنین ۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولی اور زُلنین نے گلوز ایک پہنا اور اس کے سامنے آیا
“اگر آگئے سے بولی گی آپ تو مارو گا آپ کو !”
“پھر نانو آپ کو مارے گی ۔”
ہما پھر سے آپ جناب پر آگئی
“ہاں وہ تو زیادہ خطرناک ہیں ۔”
زُلنین سوچ میں چلا گیا پھر تائیدی انداز میں بولا
“تو پھر نانو کی نواسی کو اب اجازت اگر انھیں پتا چلا کے میں زولفیقار ہاوس آئی ہوں تو بس میری قبر کا انتظام !”
“ہما !!! ”
زُلنین کی گرجدار آواز پہ ہما ایک دم اچھل گئی وہ زُلنین کو دیکھنے لگی جس نے اچانک اپنا چہرہ موڑ لیا کے وہ اس کی سُرخ آنکھیں نہ دیکھ لے

“کیا ہوا زُلنین سب ٹھیک ہے ۔”
وہ پریشانی سے اس کے پاس آئی جو اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ چکا تھا وہ اپنے رنگ کو نارمل کررہا تھا
“کچھ نہیں بس آنکھوں میں کچھ لگ گیا ہے ۔”
وہ تیزی سے کہنے لگا
“دکھائے ! کیا چلا گیا ہے ایک تو آپ نے کھڑکھی کھولی ہے کچھ فضول چیز تو آئے گی ۔”
وہ اس کے پاس آنے لگی کے اچانک زُلنین نے سر اُٹھایا
“ارے کچھ نہیں اب ٹھیک ہوں اور چلے کہی باہر چلتے ہیں ۔”
“نہیں میں چلو گی نانو !”
“نانو کی فکر نہ کریں ان کے آنے سے پہلے ہم پہنچ جائے گی بس نتھیا گلی جائے گے پاکستان آئے آپ کو ہفتے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے اور ابھی تک آپ گھر سے باہر نہیں نکلی ایسے تو نہیں چلے گا وہاں باہر آپ کے بابا مزے کررہے ہیں اور آپ اپنا یہاں خون جلاتی رہیے گا ۔”
بات اس نے بالکل پتے کی کی تھی ہما نے دل میں کہا
“ٹھیک ہے لیکن دیکھیے آپ نے صحیح سلامت پہنچانا ہے ورنہ نانو کو پتا ہے نا ۔”
وہ ڈرتے ہوئے بولی
“توبہ اتنا ڈر ! نانو کی تو صحیح دہشت پھیلی ہے ۔”
وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کھل کر ہنسا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“یہ شفق نہیں ہے !”
فائیق اِدھر اُدھر چکر کاٹ رہا تھا اور جزلان صوفے پہ بیٹھا ان کو دیکھ رہا تھا جن کے چہرے پہ سوچو کی لکیر تھی
“شفق کے بال لمبے تھے جبکہ اس لڑکی کی چھوٹے ۔”
“تو چاچو انھوں نے کٹوا لیے ہوگے آج کل تو چھوٹے بالوں کا فیشن ہے ۔”
جزلان کی بات پر فائیق نے اسے سخت نظروں سے دیکھا
“شفق کھبی مر کے بھی اپنے بال نہ کٹواتی ۔”
اس کا لہجہ کرخت تھا
“اور اس لڑکی کی ناک کھڑی ہے جبکہ شفق کی ایسی نہیں تھی ۔”
“کیا ان کی بیٹھی ہوئی ناک ہے ویسے چاچو ناک کھڑی کیسے ہوسکتی ہے ۔”
جزلان سوچ میں بولا
“تم اپنا منہ بند رکھو گے ۔”
وہ دھاڑ ہی اُٹھے جزلان نے منہ بنایا
فائیق نے اپنی سخت نظریں ہٹا کر سیدھا نظر تصویر شفق پہ پڑی جو کھلی مسکراہٹ سے پھولوں کو چھو رہی تھی اور بےشمار تتلیاں اس کے چہرے کو اور اس کی کھلکھلا ہٹے کھبی فائیق کو خوش کرتی تھی آج صرف دل ہی جلاتی ہیں
پتا تو کرو اور اگر اس لڑکی کے ساتھ وہ طاہرہ بانو ہیں تو پھر ان کا وقت ابھی سے شروع وہ شفق کی تصویر سے نظر اُٹھاتا آگ لہجے میں ہی بولا جزلان تو کانپ اُٹھا اگر زُلنین کو پتا چلا تو بس وہ گیا کہاں پھنس گیا ہے وہ
“چاچو !”
“اب تم جاسکتے ہو !”
فائیق سرد لہجے میں کہتا ایک جگہ بیٹھ گیا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
وہ اس کے ساتھ باہر آئی جب اس نے دیکھا وہاں بےشمار گاڑیاں کھڑی ہوئی تھی اور ایک سے ایک برانڈ نیو ماڈل ! زُلنین نے اس کے حیرت زدہ آنکھیں دیکھی تو مسکرایا
“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو !”
“آپ تو ہر چیز کے دیوانے ہیں ۔”
“ہاں صحیح کہا دیوانہ تو میں ہوں لیکن سب سے زیادہ میں صرف ایک چیز کا ہوں ۔”
وہ اپنی روشن آنکھیں ہما کی طرف گاڑتے ہوئے کہنے لگا
“وہ کیا ؟”
وہ گاڑی کی طرف نظر ہٹاتے ہوئے بولی
“پھر کھبی بتاوں گا فل حال چلے ۔”
وہ اوڈی کے پاس آیا
“آپ تو اچھے خاصے امیر ہیں ۔”
وہ کار کا دروازہ کھولتے ہوئے بولی
“ہاہاہا اس میں کون سا بڑا کمال ہیں ۔”
وہ سیٹ پہ بیٹھتے ہوئے بولا اور انگیچشن میں چابی ڈالنے لگا
“کیا پیسہ ہونا سب سے بڑا کمال نہیں ہے جیت تو ہمیشہ پیسے والوں کی ہوتی ہے جیسے میرے پاپا کی ۔”
خاموشی آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی تھی اور وہ لڑکی کسی کے سامنے نہ کھلنے والی زُلنین کی سامنے کھلتی جارہی تھی
“جیت ہمیشہ ایمان والوں کی ہوتی ہے باقی سب چیزیں بے کار ہیں وقتی جیت بھی کوئی جیت ہوئی بھلا کسی کا دل ایمان اور محبت سے بھرا ہو تو ونر اور چمپین تو وہ ہوتا ہے، پیسہ اور طاقت تو آنے جانے والی چیز ہے جو اللّٰلہ ایک سکینڈ میں دیں دے یا ایک ہی سکینڈ میں چھین لے ایک اس کا کُن کہنا کے ہو جا پھر ہوجا اور پھر یا انسان کی زندگی سنور گئی یا پھر الُٹ گئی ۔”
وہ بہت ڈیپ بات کررہا تھا
“آپ بہت ریلجس لگتے ہیں اور آپ کے ورڈز بہت سٹرانگ اور پوزیٹو ہے ۔”
ہما بہت امپریس ہوئی تھی یہ بلیو جینز اپنی اچھی عادتوں سے اس کی جان ہی نہ لےلے
“کیونکہ نگیٹوٹی سوائے فرسٹیشن اور دل جلانے کے علاوہ کرتی ہی کیا ہے اگلا تو بندہ سکون میں رہتا اس کا کیا بگرنا ہیں ہم ہی اپنا آپ کو تکلیف دیتے رہتے ہیں اس لیے مارو گولی ان نگیٹو تھاٹس کو ۔”
“میں سائیکولجی پڑھ رہی ہوں لیکن ایسا لگتا ہے کے مجھے تو کچھ نہیں پاتا ہیومن سائیکی کے بارے میں آپ ہی سب کچھ جانتے ہیں ۔”
وہ کہہ رہی تھی اور وہ مسکرا رہا تھا
“قران ! یہ ایک ایسی کتاب ہے کے یہ کوئی آن پڑھ بندہ پڑھ لے اس کو ہرچیز کی نالج ہوگی اور اتنی نالج میں یہ کہہ سکتا ہوں کے کسی پڑھے لکھے میں بھی نہیں ہوگی کوئی ہم انسان ایک چیز میں سپیشلایزڈ ہوگئے لیکن قران پڑھنے سے ہمیں لگے گا ہم نے تو بہت کچھ جان لیا ہے سب کچھ تو ہے اس میں کوئی چیز نہ ہوں تو میں بتاو ! ”
“نانو آپ کی باتیں سُن لے تو ان کے دل میں غلطی فہمی دور ہوجاے آپ تو اتنی اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں ۔”
“کون سی غلط فہمی !”
وہ چونکہ
“وہ بھی لوگوں کی باتوں میں آکر یہی سمجھتی ہیں کے آپ جلاد ہیں ۔”
“میں کیا ؟ جلاد ؟”
وہ ایک ایک لفظ کو دہرا رہا تھا ہما نے سر ہلایا
وہ ہنس پڑا ہما نے اسے دیکھا
“آپ کو بُرا نہیں لگا ۔”
اس کے ہنسنے پہ اسے حیرت ہوئی
“مجھے کیوں بُرا لگنا وہی بات نا ہما کے بُرا کسی بات پہ بھی نہیں مانا چائیے ہاں اس جلاد نام پر ہنسی آرہی ہے مجھے ایک اور بات جبھی غصہ آئے یا تو پلیٹ توڑو جو کے نانو تو نہیں توڑنے دیں گی یا پھر ہر بات ہنسی میں اُڑا دوں جو آپ کو آگ بگھولہ کرتی ہیں یا پھر ایک چیز ۔۔”اس نے کار روکی ہما نے دیکھا وہ کار سے اُتر گیا اور وہ اردگرد دیکھتی رہی وہ اب کافی اوپر اچکے تھے اسے احساس نہیں ہوا کے زُلنینُ نے اسے باتوں میں لگا کر ایک گھنٹے کے سفر کو چھ منٹ میں تبدیل کردیا وہ گاڑی کے خوبصورت ریڈ لیدر کی سیٹ کو چھو رہی تھی جب گاڑی کا دروازہ کھلا اور اندر آیا
“یا پھر ٹھنڈی کوک پی کر اپنے دماغ کو ٹھنڈے کریں کسی کو کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے زلما کولا کولا پلا دیں ۔”
اس نے کوک کی ٹھنڈی بوتل ہما کو پیش کی ہما ہنس پڑی اور اس سے لے
“یا وہ بھی نہیں ہوتا تو ابھی اپنا منہ کار سے باہر نکلائے اور تیز ہوائیوں میں اس بندے کو دس بارہ باتیں سُنا دیں تو آپ کا اور اس کا بیشک کچھ نہیں جائے گا لیکن اندر کا غبار کم ہوجائے گا ۔”
وہ ڈروایو کرتے ہوئے کہنے لگا
“ویسے اتنی ٹھنڈ میں کوک ۔”
ہما نے بوتل کو اوپر کیا
“چلے کوک کو گرم کر کے پیی لیجیے گا اور ویسے بھی اگر میری دوست ہے تو یہ ضرور جانے کے میں گرمی میں ہاٹ کافی اور سردی میں ٹھنڈی چیز پیتا ہوں بھئی جو موسم اس سے اوپزیٹ کام کیوں کریں جیسا موسم ہے اسی ٹائیپ چیزیں کھائے اور پیے ۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور ہما کھل کر ہنسنے لگی
“اُف بہت ہی عجیب ہے آپ ویسے اور پھر کپڑے بھی اس کے مطابق پہنتے ہوگے ۔”
“نہیں دیکھے نا سویٹر پہنی ہے اب ایسی بھی بات نہیں ہے ہاں تھوڑا جھلا ہوں لیکن دل کا بہت سویٹ ہوں اتنی سویٹنس سے دیکھنا آپ کو شُکر ہوجائے گی ۔”
وہ ایک بار پھر ہسنے پھر گھوری ڈال کر بولی
“بددعا تو نہ دیں !”
“اللّٰلہ اللّٰلہ میری زبان کٹ جائے اگر آپ کو بددعا دوں ۔”
وہ شرارت سے بولا

کیا شفق واپس آگئی لیکن کب ؟”
پھوپھو کشف میک وائپس سے اپنا میک اُتار رہی تھی اور اتنی بھیانک شکل دیکھ کر تو ایک منٹ کے لیے تو جزلان بھی ڈر گیا تھا
“پھوپھو !!!چاچو کو میں نے بتادیا!”
“کیا!!!!!”
پھوپھو کی چیخ سے چڑیل بھی ڈر جاتی تھی یہ اس کے دوست علی نے کہا تھا اور بالکل صحیح کہا تھا
“ستیاناس جائے تمھارا جیزی !”
پھوپھو کشف نے پرفیوم کی بوتل اُٹھا کر اس پر پھینکی جس نے جزلان نے پھرتی سے پکڑا
“اب پتا نہیں فائیق بھیا کا کیا حال ہوگا جزلان کے بچے کیا کردیا تم نے ۔”
“پھوپھو میں نے کچھ نہیں بتایا تھا انھوں نے میری زُلنین کی باتیں شائد سُن لی تھی اور آپ کو پتا ہے چاچو کی نظریں اُف !! سب کچھ اگلوا دیا۔”
“اُف اُف !! اور تمھیں زُلنین نے کچا چبا دینا ہے اس کی کوئی بھی بات اگر فائیق بھائی کے کانوں میں گھسی کیا کرتے ہو جیزی !”
“پھوپھو میں نے اس لیے بتایا فرض کریں کچھ ہوتا تو آپ ہینڈل کر لے گی ۔”
“مجھے پتا تھا تم جو کچھ کرتے ہو اس کے بعد مجھے ہی بتاتے ہو کے میں کچھ نہ کچھ حل نکالو اور یہ شفق اتنے سالوں بعد کیوں واپس آئے وہاں مری رہتی نا !”
وہ غصے سے بولی
“پھوپھو مری میں تو رہنے آئی اور وہ اتنی ینگ سمارٹ ابھی تک واقی چاچو کی چوائس پہ داد دیتا ہوں جو ان پر اتنے عاشق ہوگئے کے اس کے بعد کوئی ان کے دل میں نہیں بسی !”
“اب اگر وہ آگئی تو فائیق بھائی نے کیا کرنا یہ بات ابا کے سامنے نہیں آنی چائیے انھوں نے الٹا ہی کام کرنا ہے ۔”
“ایسا تو نہ کہے !”
جزلان نے انھیں ٹوکا
“تب تک فائیق کی نظر پڑئ ہے اس پر ۔”
“ہلکی سی جھلک دیکھی ہے اس کی اس وقت زُلنین کھڑا ہوا تھا اس کے ساتھ !”
“زُلنین ! ”
“ہاں زُلنین !”
“کچھ تو چکر ہے فل حال خبرادر فائیق بھائی کو ریپورٹ دیں وہ مارے نہ مارے زُلنین نے مار دینا ہے تمھیں ۔”
“اُف کہاں پھنس گیا !!”
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“ویسے یہ تو اس سے زیادہ پیاری جگہ ہے نانو کا گھر کیوں نہیں تھا یہاں !”
ہما کار سے اُترتے ہوئے کہنے لگی اس نے کار کھلے میدان کی طرف روکی جہاں دور ہی بچے فٹ بال کھیلتے ہوئے نظر آئے سورج کی روشنی یہاں زیادہ تھی اور جو ہما کے چہرے پہ پڑی تو اس کی رنگت تماتمانے لگی زُلنین ایک منٹ کے لیے مہیبوت رہ گیا پھر سر جھٹک کر بولا
“ہاں ! افسوس تو ہوا ویسے خیر میں آپ کو لیے جاو گا آپ جب مجھے کہے گی ۔”
وہ اس کے پاس آتے ہوئے گلاسس اپنے آنکھوں میں ٹکاتے ہوئے بولا
اُف ہینڈسم بلیو جینز ۔ !
ہما کے دل سے بے اختیار نکلا
“چلے آج آپ کو یہ جگہ دکھاتا ہوں ایسے ایسے ہانٹٹ پلیسس قبرستان کے آپ باہر امریکہ کے فصول میوزم اور گھروں کو بھی بھول جائیں گی ۔”
“نہیں اللّٰلہ توبہ وہ جگہ اتنی ڈروانی وہ کنجرنگ مووی ہے نو وہ ٹرو سٹوری پہ بیس تھی وہاں اصلی گھر تھے اصلی لوگ بھی میرا بڑا دل کیا وہاں جاو دیکھو میں نے وہاں کی رہنے والی عورت کی بُک پڑھی کہتی ہے وہاں اچھے جن بھی تھے اور بُرے بھی کیا واقی ایسا ہوتا ہے جن تو بس بُرے ہی ہوتے ہیں .”
“نہیں جن تو بُرے بھی ہوتے ہیں اور اچھے بھی انسان جیسے طور طریقے ہوتے ہیں بس وہ اشروالمخلوقات ہے سب سے بڑا اعزاز اللّٰلہ نے دیا ہے ان کو حالانکہ پیدا ہمیں پہلے کیا تھا لیکن جو اہمیت انسانوں کی ہے وہ ہم جن کی کہاں !”
“کیا ؟ یہ آپ اپنے آپ کو جن کیوں کہہ رہے ہیں ۔”
“کیونکہ میں جن ہوں !”
وہ سچ بولا تھا لیکن ہما پہ یہ ظاہر کیا تھا کے وہ شرارت سے کہہ رہا ہے
ہما نے گھورا اور پھر اس کا جائزہ لینے لگی ایک دم سوچ کر کچھ بولی
“آپ کے پاس آئی ڈی کارڈ ہے !”
زُلنین اس کی انھوکی بات پہ حیران رہ گیا ہما کی سوچ کی لکیر بڑھتی گئی
“ظاہر ہے کیوں نہیں ہے سٹیزن ہوں میں یہاں کا !”
وہ اپنی جیب سے والٹ نکالتے ہوئے اسے دکھانے لگا
“زُلنین زولفیقار ،
پیدائش چھ جون ۔۔۔
ہما نے جھٹکے سے سر اُٹھایا
“آپ کی اور میری برتھ ڈے کی ڈیٹ سیم ہے ۔”
زُلنین سپرائزڈ سا دیکھنے لگا
“او میری اور میری دوست کا جنم دن ایک ہی دن ہے واو اللّٰلہ جلدی سے یہ وقت آجائے پھر خوب انجوائی کریں گے ۔”
وہ بہت اکسائیٹٹ لگ رہا تھا
“خیر ! اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کے آپ جن نہیں ہے کیونکہ جن کے پاس آئی ڈی کارڈ نہیں ہوتا ۔”
“کس نے کہا ہے ایسا ؟”
زُلنین مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا
“کامن سینس ! ایس پی صاحب جو کامن نہیں ہوتی وہ سنینس میرے پاس ہے آئی ڈی کارڈ انسانوں کا ہوتا ہے ۔”
“ہاں تو میں نے کونسا کہا کے جن کا ہوتا ہے ۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولا اُف اس کی کلر سمائیل
“ابھی آپ نے کہا آپ جن ہیں ۔”
“میں نے کب کہا !”
“اُف !!! آپ کی باتیں !”
جنجھلاہٹ سے نقش کھینچے گئے
“ہے نا دلچسپ ! خیر چھوڑیں سائیکولجسٹ صاحبہ تو فارغ کیا کریں گی ۔”
“کچھ نہیں جب تک نیا سیشن سٹارٹ نہیں ہوجاتا تب تک ایسی ٹائیم پاس ۔”
“تو ٹائیم پاس بھی مزے کا ہو یا یہی نانو کی باتیں سُن کر خود سے باتیں کرنا اور یہ سٹوری پہ لکھ کر گزارے گی ۔”
وہ اب دونوں ہل کی طرف چل رہے تھے جہاں سائڈ پہ بے شمار بڑے بڑے خوبصورت گھر تھے
“کیا کرو دل تو بہت کچھ کرتا ہے مرنے سے پہلے کم سے کم اپنی سو تو نہیں کم سے کم سو خواہشیں پوری کرو ۔”
وہ سوچ میں تھی تب بولی
“سوچنے سے زیادہ عمل کرنا زیادہ بہتر نہیں ہے ۔”
وہ بول رہا تھا اور وہ اسے کی طرف دیکھنے لگی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“جو سوچا ہے اس پر عمل کرو کرنے سے نہ ڈرو کے یہ صحیح ہے یا غلط میرے خیال سے کام ایسا ہو جس سے آپ کا دل مطمن ہو اور کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو اس لیے کچھ کرنے سے نہ ڈرو کرو اکسپرینس تو ہوگا نا گڈ اکسپرینس کے ساتھ بیڈ اکسپرینس بھی ہونے چاہیے ۔”
“آپ کہی ٹیچر تو نہیں ہے ۔”
اس کی کہنے پر زُلنین ہنس پڑا
“آپ کو کیسے پتا ! ہاں میں اپنے علاقے کے بچوں کو انگلش اور میتھس پڑھاتا ہوں چھوٹا سا سکول بنایا ہے ان بچوں کے لیے جو افورڈ نہیں کرسکتے میرا بھی ٹائیم ہاس ہوجاتا ہے نیکی بھی کما لیتا ہوں بچوں کا مستقبل بھی بن جاتا ہے آئے اپنا سکول دکھانے کے لیے تو لایا ہوں ۔”
وہ اس کی بات پہ شاکڈ ہوگی یہ بندہ کیا چیز ہے اتنی خوبصورت سوچ کا مالک لوگوں کی رائے آخر کیوں بُری ہے اس کے بارے میں شاہد اس کو اتنے قریب سے نہیں جانتے تھے اگر جانتے تو جدھر بھی اس شخص کو دیکھتے سلیوٹ مارے بغیر نہ رہ سکتے
“آپ کے پاس بچے آکیسے جاتے ہیں اور ان کی ماں باپ بھیج کیسے سکتے ہیں اگر ان کی رائے آپ کے لیے اتنی بُری ہے ۔”
“اُف آپ سے پتا لگ رہا ہے بہت ہی ہیٹٹ پرسن ہوں میں ایسا مجھ معصوم نے کیا کردیا بس ایک ہانٹٹ جیسا گھر میں رہتا ہوں اور ایک سخت پولیس آفسر جانا جاتا ہوں ایک دفع مجرم کی کُٹ لگا دیں لوگوں نے تو مجھے بدنام کردیا ۔”
“لوگ یہ تو کہتے ہیں لیکن ان کا یہ کہنا ہے آپ نے چھ بندوں کا قتل کیا ہے ۔”
اب زُلنین کے قدم رُک گئے ہما بھی اس کے رُکنے پر رُک گئی زُلنین نے شُکر ہے گلاسس پہن لی تھی ورنہ ہما اس کی لال آنکھیں دیکھ لیتی وہ ایک دم حلق پھاڑ کر ہنسنے لگا
“اُف جب بھی آپ کی کوئی بُرائی کرتا ہے آپ ہنسنے کیوں لگ جاتے ہیں ۔”
ہما نے جنجھلاتے ہوئے اس شخص کو دیکھا جو پیٹ پکڑ کر ہنس رہا تھا
“زُلنین لوگ باہر آجائے گے عجیب لگتا ہے مت ہنسے ۔”
ہما اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے اس کے اونچی آواز پہ ہنستے ہوئے کہنے لگی
“افوہ ! مجھ سے آدھی مکھی نہیں ماری گئی اور ایک پورا انسان ایک اور ایک بھی نہیں چھ اُف مس ہما کہاں سے لاتی ہیں اتنی دلچسپ خبریں ۔”
وہ ہنستے ہوئے ہما کو کہنے لگا
“نانو نے بتایا !”
“لگتا ہے آپ کی نانو سے ملنا پڑیں گا خیر لیکن چھ بندے میرے اللّٰلہ !”
“اچھا بس بھی کریں مسخرے لگ رہے ہیں ۔”
“آئیڈیا ہما سرکس نہ کھول لے کمائی بھی ہوجائے گی اور لوگوں کو میرے بارے میں رائے بھی بدل جائے گی ۔”
اس کی آئڈئیے پہ ہما کو بھی ہنسی آگئی
‏You’re unbelievable
“وہی نا میں یہی سوچ رہا ہو پولیس کا کام بہت بورنگ ہیں لو پہنچ گیا میرا چھوٹا سا سکول !”
ایک چرچ کے ساتھ چھوٹا سا کاٹج ٹائپ گھر تھا اور بالکل ویسا ہی جو ہما نے خواب میں دیکھا اس کا چہرہ سفید ہوگیا اور وہ جھٹکے سے زُلنین کی طرف دیکھنے لگی
“یہ یہی سکول ہے نا !”
زُلنین رُک گیا اس کی ہما کی آواز ٹھیک نہیں لگی
“کیا ہوا نہیں اچھا ہاں میں امیر ضرور ہے لیکن خود اکیلا پینٹ نہیں کرسکا اتنا مصروف تھا اوپر سے میں اسے بہت اچھے سے رنیوٹ کرنا چاہتا تھا آئی نو یہ بہت زیادہ سکیری لگ رہا ہے خیر اب آپ آگئی ہے اب تو میں شوق سے اس جگہ کو ایک نوٹ لینڈ بنا دو گا ۔”
وہ ہلکے پھلکے لہجے میں کہنے لگا
“یہ گھر میں نے پہلے بھی کہی دیکھا ۔”
ہما اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولی
“او نو ایسا گھر کہی اور پر جس نے میری کاپی کی ۔”
وہ مصنوعی غصے سے بولا اچانک اس کی نظر جزلان پہ پڑی جو اسے اشارہ کررہا تھا زُلنین نے اسے اگنور کیا
“زُلنین اِدھر آو !!!”
اور ہما اس جگہ کو دیکھ رہی تھی بالکل ویسی جگہ ویسا گھر ویسے سامنے پڑیں لہلہاتے پتے جو ہوا کے پاس ہل رہے تھے فرق صرف یہ تھا وہاں جھولا نہیں تھا جو اس نے خواب میں دیکھا تھا اور دروازے کی اوپر پلیٹ لگی ہوئی تھی
‏The macaw
‏By zulnain zulfiqar
‏Be like a bird
‏Smart and independent
“اُف کیا تھا یہ شخص ! ”
اس کی چہرے پہ دھیمی سی مسکراہٹ آئی اور زُلنین کو دیکھا جو اب کہی نہیں تھا
“زُلنین !”

زُلنین !
“یہ کہاں گیا !”
وہ مڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی اچانک اس نے اپنا فون اُٹھایا اور زُلنین کا نمبر ملانے لگی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“بولو کیا تکلیف ہے منع کیا تھا میں جب ہما کے ساتھ ہوں تو میرے آس پاس مت نظر آیا کرو ۔”
وہ جزلان کے چہرے پہ دھاڑا
“زُلنین تمھیں دادا زولفیقار نے بلوایا ہے ۔”
“تو تمھیں کیوں بھیجا ہے خود نہیں مجھے میسج کرسکتے ۔”
وہ سخت نظروں سے دیکھنے لگا
“زُلنین تُرکی سے ان کے رشتے دار آنے والے ان کو تم سے اجازت درکار ہے ۔”
“جزلان جو کچھ وہ مانگ رہے ہیں میں ہرگز نہیں دوں گا میری جگہ سے وہ دور ہی رہے تو بہتر ہوگا اپنے بیٹے فائیق سے کیوں نہیں مانگتے اور ایک تو یہ طاہرہ بیگم ہما کے دماغ میں کیا ڈال رہی ہیں ایک تو ان لوگوں کا بھی منہ بند کرواتا ہوں وہ بچاری ہچکچا رہی تھئ میرے سے بات کرنے سے پتا نہیں ان کا کیا ہے ۔”
زُلنین وہ والا لگ ہی نہیں رہا تھا جو ابھی تھوڑی دیر پہلے والا تھا
“زُلنین اس کو چھوڑو اور ہرچیز میں احتیاط کیا کرو چاچو کو پتا لگ گیا نا تو پھر گئے ۔”
جزلان نے اسے خبردار کرنا چاہا
“ڈرتا نہیں ہوں میں اور ان کو خبر تب تک نہیں ملی گی جب تم ان کے کان میں کچھ نہیں ڈالو گے اور اگر ایسا ہوا با جزلان تمھیں قید کردوں گا میں اب بار بار مجھے تنگ مت کرو اور کشف پھوپھو کے ساتھ بھی کم گپے لگایا کرو ۔”
وہ اسے وارن کرتا جانے لگا جب اس کا فون بجا
💀💀💀💀💀💀
“آپ کدھر چلے گئے تھے ۔”
وہ اس جگہ کو دیکھ رہی تھئ اچانک اس لگا کسی نے اس کا کندھا چھوا ہے وہ مڑتے ہوئے کہنے لگی وہاں کوئی نہیں تھا
“زُلنین کہاں چلے گئے آپ !”
وہ پریشان ہوگئی آخر گیا تو کہاں گیا
اس نے دیکھا وہاں اوپر والی کھڑکھی پہ بلیو سویٹر والا نظر آیا
“وہ اندر بھی چلے گئے مجھے پتا نہیں چلا ۔”
وہ خود سے کہتی ہوئی دوبارہ اوپر دیکھا وہ فون کان سے لگائے کسی سے بات کررہا تھا ہما نے ہمت کر کے آگئے چلی اور دروازے کے قریب آئی اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ گھبڑا کیوں رہی ہے ایک دم اس نے ہینڈل کو پکڑا اور گھمایا دروازہ کھلتا گیا وہ اندر داخل ہوئی کمرا اندھیرے سے بھرا ہوا تھا اس نے اپنی فون کی ٹارچ آن کردیں دیکھا تو انٹرنس کے دیوراوں پہ کافی دڑاڑے پڑی ہوئی تھی اور ایسا لگ رہا تھا یہ کافی عرصے سے پینٹ نہیں ہوا چلنے سے اس لکڑی زدہ فلور کی بھی عجیب سی آواز آرہی تھی جب قدم بڑھاتے
“فائیق ! ”
اسے لگا کسی نے ہنستے ہوئے کہا ہے
“فائیق تم کہاں ہو ! ”
آواز بے حد جانی پہنچانی لگ رہئ تھی ہما کے ہاتھ سے موبائل گرا
“فائیق آئی لو یو ۔”
“کون ہے ؟”
ہما اونچی آواز سے ڈرتی ہوئی بولی
اس نے جھک کر تیزی سے فون اُٹھایا پھر وہی ہنسی
ہما مڑی اس نے ہر جگہ لائٹ ماری وہاں کچھ نہیں تھا چلتے چلتے وہ سڑھیوں کے سامنے آئی
“فائیق مجھے پکڑ کر دکھاو !”
ایک اور آواز
“زُلنین ! ”
وہ اسے پکارنے لگی
“زُلنین !”
اس کا دل کیا وہ یہاں سے بھاگ جائے لیکن اس کو وہم ہوسکتا ہے یا کیا پتا زُلنین اس کو ڈر ارہا ہو ہاں تبھی تو وہ ایک دم غائب ہوگیا تھا وہ چیک کررہا ہے کے میں ہارر کی دیوانی ایسی شوخیاں مار رہی ہوں
“ٹھیک ہے زُلنین تم جو کچھ بھی کر لو میں ڈرنے والی نہیں ہوں ۔”
ہما تیزی سے کہتے ہوئے اردگرد کا جائزہ لینے لگی
“امی نہیں مان رہی وہ سمجھتی ہے میں پاگل ہوں ۔”
اسے لگا اس کی ماما کی آوازیں ہیں
“ماما !!”
اب اس کا چہرہ حقیقتاً سفید ہوگیا
“نہیں ماما کیسے ہوسکتی ہیں ۔”
وہ کچھ سوچ کر سڑھیوں کی طرف بڑھی اور چلتے چلتے اس کچھ فلیش بیک محسوس ہوا لیکن کچھ نظر نہیں آرہا تھا
ایک دم اس نے آنکھ بند کی اب اسے غصہ آیا اگر وہ اسے ڈرا رہا ہے تو وہ ضرور کامیاب ہورہا ہے اور وہ اسے کچا چبا جائے گی
وہ آخری سیڑھی پہ پہنچی سامنے ونڈوز تھے جس سے وادیاں نظر آرہی تھی اور سورج کی روشنی نے اس کو تھوڑا سا ریلکس ہوئی اتنی ڈروانی نہیں ہے جگہ وہ قریب آئی ایک دم ایک ایک خوبصورت فاختہ آئی اور شیشے سے ٹکڑائی وہ ایک دم پیچھے ہوئی
“زُلنین مار کھاو گئے تم مجھے سے پلیز اب سامنے آجاو ۔”
“میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی ۔”
ایک روتی ہوئی آواز اسے لگا کوئی زاروقطار رورہا ہے
وہ مڑ کر دیکھنے لگی
اس نے ہمت کی اور کمرے کی طرف جانے لگی
“پلیز مجھے یہاں سے لیں جاو مجھے امی کے پاس نہیں جانا پلیز فائیق !”
“ہما ! ”
“ہما !
زُلنین کی آواز پہ دروازے کو چھونے لگی تھی ایک دم مڑی اور زُلنین کو دیکھا جو نیچے سے آواز دیتا ایک دم اوپر آیا اور وہی کھڑی رہی پھر غصے سے آئی اور ایک دم اسے مارنے لگی وہ ایک دم بھوکلا گیا
“تم دُنیا کے بدتمیز انسان ہو مجھے نہیں بات کرنی تم سے ۔”
“او ہما کیا ہوا ؟ کس نے کہا تھا اندر جانے کو لائٹ تو کھول دیتی کیا ڈر گئی تھی ۔”
وہ فکرمندی سے پوچھ رہا تھا اور ہما کو لگا وہ اس کا مزاق بنا رہا تھا
“دیکھنا میں تمھارے ساتھ بھی کیا کرو گی ۔”
وہ انگلی اُٹھاتے ہویے بولی
“ارے ہوا کیا ہے میرے بتائے بغیر اندر کیوں چلی گئی ۔”
وہ مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا
“کہاں چلے گئے تھے ۔”
“ارے آپ کو بتایا تھا اکسکیوزمی کال اٹینڈ کر کے آتا ہوں اور واپس آتا تو آپ غائب اور اب ڈری ہوئی کیوں لگ رہی ہے ۔”
“تم نے مجھے ڈرایا تھا اور میں زرا سا بھی نہیں ڈری ۔”
وہ بہت غصے سے بولی زُلنین کو کچھ تو شک پڑا لیکن یہاں اس کے مکان میں کوئی بھی جن کو آنے کی اجازت نہیں ہے تو کون تھا جس سے ہما ڈر گئی شاہد جزلان کے کیمیکل
“اچھا اچھا سوری آپ تو بُرا ہی مان گئی ۔”
“میں دیکھنا بدلا لو گئ ۔”
وہ گھور کر بولی
“بدلا لیتے ہویے تھوڑی بتاتے ہیں اس سے میں محتاط ہوجاو گا ۔”
وہ شرارت سے بولا
“واپس چلو !”
“ارے نہیں میں انھی لائٹ آن کرتا ہوں اور مل کر ڈسکس کریں گے اس جگہ کا کیا کرنا ہے ۔”
“مجھے تو حیرت ہے بچے یہاں کیسے آجاتے ہیں زولفیقار ہاوس تو کچھ بھی نہیں ہے ۔”
وہ اس جگہ کو دیکھ رہی تھی جس کا ایک شیشہ بھی ٹوٹا ہوا پڑا ہوا تھا
“مجھے کوئی اچھی سی جگہ ہی نہیں مل رہی تھی یہ تھا تو میرے دادا کا گھر لیکن اسے ٹھیک کرنے کا موقع ہی نا مل سکا ۔”
اسے یہی بہانا ملا کیا کہتا ہے یہ گھر برباد کردیا گیا تھا اور کس نے کیا تھا وہ بھی اچھی طرح جانتا تھا اور یہ جگہ کسی بھی بندے کے بغیر ٹھیک نہیں ہوسکتی تھی سوائے ایک کے

نانو کو فنکشن ختم ہونے سے پہلے ہی جانے کی پڑ گئی انھیں ہما کی فکر تھی وعدہ تو اس نے بیشک کر لیا تھا لیکن اس چیز کا بالکل بھروسہ نہیں تھا وہ کہی ہما کو کچھ نقصان نہ پہنچا دیں
“بیٹا عقیل یہ میرے گاڑی والے کو بلوا دو ۔”
“ارے آنٹی آپ اتنی جلدی کیوں جارہی ہیں ۔”
عقیل انھیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“بس بیٹا ویسے بھی اندھیری میں مری جانا زیادہ اچھا نہیں ہے اوپر سے میری نواسی ہما بھی اکیلی ہے طبیعت بھی نہیں ٹھیک اس کی ۔”
“لے آتی انھیں انجوائی کرتی وہ آپ نے ان بچاری کو گھر میں بند کردیا ۔”
“بس آئیندہ لے آو گی ۔”
گاڑی کا انتظار کررہی تھی کے اچانک بلیک رولز روئیس چمکتی دمکتی نانو کے سامنے آئی نانو بھونچکا گئی
کیونکہ کار کے آگئے جو سائین تھا وہ زولفیقار فمیلی کا پتا دیں رہا تھا
“یہ آپ کی کار ہے ؟”
عقیل بھی اتنی مہنگی گاڑی کو دیکھ کر حیران رہ گیا
“نہیں یہ میری کار نہیں ہے ۔”
وہ گھبراتے ہوئے تیزی سے جانے لگی جب کسی فورس نے انھیں روک دیا جس سے وہ آگئے چل ہی نہیں پائی
خوف نے ان کے جسم سے خون نچوڑ دیا جب انھوں نے مڑ کر وہی آگ رنگ آنکھیں دیکھی جو ہمیشہ سے انھیں ہانٹ کرتی رہی اس کی نظروں میں اتنی طاقت تھی کے وہ وہ خودبخود چل کر کار کی سیٹ تک آئی اور دروازہ کھول کر بیٹھ گئی اور جب بیٹھی تو ان کا اثر ختم ہوگیا اور انھیں احساس ہوا کے اب وہ دلدل میں دُنھس چکی ہیں
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“کچھ کہے گی نہیں آپ !”
سرد آواز پوری کار میں گونجی نانو نے مڑ کر اسے دیکھا
گرے سوٹ میں ہلکے سفید بالوں والا ابھی بھی وجاہت سے بھرپور فائیق زولفیقار ان کی بیٹی کی محبت تھا ان فخر ہوتا اپنی بیٹی کے چوائس پر مگر وہ انسان ہوتا تب
“شفق کہاں ہے !”
دوبارہ بات بھی فائیق نے شروع کی نانو نے تو جیسے لب سیے لیے
“شفق کہاں ہے ؟طاہرہ بیگم !”
“وہ وہ نہیں رہی مر گئی وہ !”
نانو سے ضبط نہ ہوسکا تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
“روئے مت !”
وہی دل کا چیر دینے والی دھاڑ نانو ایک دم دہل گئی
“روئے مت ! یہی تو ہونا تھا اس کے ساتھ بالکل ٹھیک ہوا ہے اس کے ساتھ ۔”
اُف فائیق کا چہرہ غصے سے نیلا پڑ گیا جب کے سٹیرنگ پہ گرفت مضبوط ہوگئی
نانو بالکل ساکت ہوگئی اس کو دیکھ کر
“اس نے میرے بجائے اس ریحان کو پرفیر کیا موت تو آنی تھی جبکہ وہ میرے ساتھ رہتی ابھی تک آپ کی نظروں کے سامنے ہوتی ۔”
اُف اس کا کٹیلا لہجہ کوئی سُن لے تو اس کے کانوں کے پردے پھٹ جائے نانو کے زبان ہی نہیں ہل رہی تھی کے کوئی اللّٰلہ کا کلام ہی شروع کردیں ان کا گلا جیسے خشک ہورہا تھا لگ رہا تھا جیسے کے آہ صدیوں کی پیاسی ہوں
“جانتا ہوں آپ کہے گی موت تو اٹل ہے وہ تو ہر ایک مخلوق پر آنی ہیں لیکن اس طریقے سے نہیں آنی تھی جس طرح میری شفق پر آئی اس کے بعد اس کو موت کے بعد میں چین نہیں لینے دیا تالیاں آپ کی چوائس پر
مسز فہیم ! اشروالمخلوقات دیکھ لیے میں نے کیسے ہیں ۔”
اس کا چہرہ خوفناک روپ میں لیکر جارہا تھا نانو بالکل خاموش رہی
“آپ لوگوں نے زرا بھی رحم نہیں کیا اس پر وہ پٹتی رہی اس ریحان سے اور آپ چُپ کر کے خاموش تماشائی بنے رہے اس کے نیل پر بھی نظر چُرا لی آپ لوگوں نے ۔”
“اگر تمھیں اس سے اتنی محبت تھی تو تمھاری محبت کے آگے ہم بھی ہار جاتے فائیق اور اگر ہم سے زیادہ تمھیں اس کے درد کی پروا تھی تو کیوں نہیں لیکر گئے کیوں نہیں مارا تم نے اس ریحان کو !”
نانو نے دل میں کہا لیکن فائیق ان کا جواب سمجھ کا تھا اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑا اتنا ہنسا کے اس کی ہنسی نے نانو کو خاموش کروادیا
“کیونکہ وہ کیا کہتے ہیں اللّٰلہ کے کلام میں طاقت ہے ایسی طاقت کے ہم مخلوق اِدھر سے اُدھر قدم نہیں رکھ سکتے وہی چیز آپ نے شفق پہ استمعال کی اور میں اس سے دور رہا لیکن اب نہیں یہ کلام کا اثر ختم کرنا پڑیں گا اور یہ تب ہوگا جب آپ ختم ہوگی کیونکہ میں اب کی ناکامی ہرگز برداشت نہیں کرو گا ۔”
نانو کو وہ جن نہیں موت کا فرشتہ لگا تھا دل میں کلمہ شہادت پڑھ کر انھوں نے آنکھیں موند لی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“جلدی جلدی کی رٹ لگا دیں آپ نے میں نے تو ابھی آپ کو گھر دکھایا ہی نہیں تھا ۔”
زُلنین نے جلدی سے گاڑی اس کے گھر سے فاصلے پہ روکتے ہویے کہا
“ایسی دل گھبڑا رہا ہے اور اوپر سے نانو کا میسج آیا تھا اور وہ مجھے گھر میں نہ پاتی تو بس جی میرا اللّٰلہ ہی حافظ لیکن یاد رہے ایس پی صاحب میں اپنا بدلہ نہیں بھولی ۔”
وہ انگلی اُٹھاتے ہوئے بولی وہ ہنس پڑا
“اچھا ہما سُنے ۔”
ہما نکلنے لگی جب زُلنین کی سینجیدہ لہجے پہ وہ رُک گئی
“جھوٹ مت بولیے گا اگر وہ کچھ پوچھے جھوٹ سے ہمیشہ سے بے سکونی پیدا ہوتی ہے اوپر سے بندے کو ابھی تو لگ رہا ہوتا ہے سب ٹھیک ہے لیکن بعد میں انسان نقصان ہی اُٹھاتا ہے دوسرا ہاں کچھ چھپا ضرور سکتے ہیں جیسے کے آپ کی ممی کے ساتھ کی گئی زیادتی کیونکہ وہ مزید دُکھی ہوجائیں گئ ان کی طبیعت بھی خراب ہوسکتی ہے ممکمن ہوسکے تو یہ زکر نہ چھیڑے گا جتنی آپ کو بیٹی ہوکر تکلیف ہوئی ہے وہ تو پھر بھی ماں ہے سمجھ رہی ہے نا۔”
اُف یہ پیاری سوچ کا مالک اگر ایسے دُنیا میں اور آجائیں تو دُنیا جنت سے کم نہیں ہما نے سر ہلایا
“اللّٰلہ حافظ !”
“خدا حافظ !”
وہ بھی مسکراتے ہوئے کہنے لگا
“اور ایک اور بات ہما ہر وقت مسکراتی رہا کریں صدقہ ہے ہمارے نبی کریم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کا فرمان
ہے ۔”
ہما کی مسکراہٹ گہری ہوگئی اس شخص سے صرف چار ملاقاتیں ہوئی اور انھیں ملاقات میں وہ بے حد دل کے قریب لگنے لگا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اس نے دیکھا لائٹس آن تھی اس کے دل میں ڈر آگیا کہی نانو آ تو نہیں گی
وہ جلدی سے اندر آئی اور اس کا شک صحیح نکلا نانو آچُکی تھی اور اس وقت صوفے پہ بیٹھی آنکھیں موندئے شاہد اسی کا انتظار کررہی تھی
“ائیم سوری نانو ! میں وہ !”
“جھوٹ مت بولنا !”
کوئی آواز اس کے کانوں میں گونجی
“ام نانو آپ کب آئی کتنی دیر ہوگئی ہے ۔”
وہ گھٹنے کے بل جھک کر نانو کے گود میں سر رکھتے ہوئے بولی
“سوری نانو میں نے آپ سے کیا ہوا وعدہ توڑا لیکن میں کیا کرو میرا دل کھینچا چلا جاتا ہے اس گھر کی طرف پتا نہیں کیا ہے اس گھر میں ، اور نانو آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے زلفیقار ہاوس کچھ بھی نہیں ہے اور زُلنین تو جلاد بالکل بھی نہیں ہے وہ تو اتنی پیاری باتیں کرتا ہے اور وہ اسلامی بھی ہے آپ کو تو ایسے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں نانو تھک گئی ہوگی میں آپ کے لیے کچھ لاو ۔”
اس نے سر اُٹھا کر دیکھا نانو ابھی تک آنکھیں موندئے ٹیک لگائی ہوئ تھی
“لگتا ہے آپ سوگئی لیکن اتنی پکی نیند کب سے ہوگئی خیر ایک سکینڈ میں آپ کے لیے کمبل لائی ۔”
وہ نانو کے کمرے میں آئی اس نے الماری سے کمبل نکلا اور باہر آئی تو نانو اسی پوزیشن میں تھی ہما کو عجیب لگا پھر سر جھٹک کر آگئے بڑھی
“ٹھنڈ میں ایسی بیٹھ گئی بندہ ہیٹر بھی لگا دیتا ہے ۔”
اس نے کمبل اوڑھا اور ان کی ماتھے پہ پیار کیا لیکن دیکھا ان کا جسم بالکل ٹھنڈا ہے اس کے دل کی بیٹ مس ہوئی اس نے سر اُٹھا کر دیکھا نانو میں ہلکی سے بھی جنبش نہیں ہوئی اس نے نانو کی گردن سیدھی کرنا چاہی کے وہ آرام سے لیٹ سکے شائد ٹھنڈ اور تھکن کا اثر تھا لیکن اسی پل نانو کی گردن ایک طرف لڑھک گئی اور ہما کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی
“نانو !نانو نہیں یہ مزاق مت کریں نانو پلیز ۔”
اس نے نانو کا چہرہ اپنے طرف کیا اور جنجھوڑا
“نانو پلیز میری غلطی کی اتنی بڑی سزا نہ دیں نانو پلیز میں اکیلی رہ جاو گی پلیز آنکھیں کھولے نانو !”
وہ ان کے سینے میں دیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

کالے بادل نے مری کو اپنے گھیراوں میں لے لیا تھا ،تیز بارش اور تیز ہوائیوں نے ایک عجیب سی سوگوارت خاموشی سمیت ایک سوگ کا سما بنا دیا تھا ان بارشوں کے ساتھ صرف ایک کے اشک بہہ رہے تھے اور وہ تھی ہما کی کالی آنکھیں جو اس وقت بالکل ساکت تھی لیکن نمکین پانیوں نے اس کی آنکھوں کی چمک بڑھا دیں تھی اور کالی شلوار قمیض ڈوپٹہ اپنے سر پہ لپیٹے نماز ختم کر کے وہی بیٹھی ہوئی تھی اس کا جسم ساکت تھا سوائے انگلیوں کے جو تسبی کو چھو رہی تھی ۔ نانو کو اس دُنیا سے گئے صرف چوبیس گھنٹے ہوئے تھے چوبیس گھنٹے بھی گزر گئے اور اسے پتا ہی نہیں چلا وہ تنہا چوبیس گھنٹے رہی نہیں وہ تنہا کہاں تھی چند لوگ تھے جو اس کے غم میں شریک تھی چند اشک بہا کر افسوس کر کے وہ چلے گئے تھے ۔ ہاں وہ کیا لگتی تھی ان کی جو اس کے ساتھ بیٹھے رہتے اس کے اپنے اس کے ساتھ نہیں رہ سکے تو اجنبیوں کو کیا ضرورت تھی اس کے پاس رہنے کی
اس کا دل کررہا تھا کھل کر چیخ چیخ کر روئے اور اس رب سے شکوہ کریں جو اس کو تنہا چھوڑ دیا اس دُنیا میں لیکن اس سے کیا ہونا تھا کیا ماما اور نانو نے واپس آجانا تھا کیا ؟ کیا بابا کے دل میں رحم آجائے تو وہ اس کے پاس آکر دلاسا دیں دیتے وہ نہیں ہے تو کیا ہوا میں تو ہونا !!”
دل جیسے سسک رہا تھا اسے کسی کی آغوش کی ضرورت تھی جسی کے گرد وہ اپنے درد اور آنسووں منٹوں میں بہا ڈالے اپنے اندر کا بوجھ اس سے برداشت نہیں ہورہا تھا لیکن اسے کرنا پڑا لب سختی سے دبائے وہ اپنے آپ کو کنڑول کررہی تھی لیکن آنکھوں کو کون کنڑول کرپاتا جس کو سختی سے میچنے کے باوجود بھی مٹھی بند ریت کی مانند نکلتے جارہے تھے وہ اپنا راستہ جانتے تھے اس لیے تو نکل رہے تھے کیونکہ آنکھوں میں اتنی سکت نہیں تھی کے وہ ڈھیر جما کر پاتی اچانک کسی کا ہاتھ اس کے سر پہ آن ٹہرا ہما کا ساکت وجود میں زرا سی بھی جنبش نہیں ہوئی جب کسی کی سوفٹ آواز اس کی کانوں میں گونجی تب اس کے وجود میں حرکت پیدا ہوئی کوئی گھٹنے کے بل بیٹھا اور ہما کو پتا تھا وہ کون ہے وہ اس کی طرف دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس کا مخلص دوست کہاں تھا کہاں تھا وہ جو اتنے دعوے کررہا تھا چوبیس گھنٹے ہوگئے اس پر قیامت گزرے ہوئے اور وہ چوبیس گھنٹے بعد آرہا ہے اس تعزیت کرنے کم سے کم وہ زُلنین سے یہ اُمید نہیں کرسکتی تھی
“آئیم سوری آئیم رئیلی سوری !”
شرمندگی سے بھرا ٹوٹا ہوا لہجہ ہما کا ضبط آزما رہا تھا
“مجھے آئی سویر ٹو گاڈ نہیں پتا تھا ہما کے نانو اتنی جلدی میں تو ملا بھی نہیں تھا اور دل کئ وابستگی پیدا ہوگئی تھی ان سے میری طرف دیکھو ہما پلیز آئیم رئیلی سوری ۔”
اس نے ہما کے سر پہ ہاتھ رکھا اور اس کے سر پہ ہاتھ دُھرا ہاتھ میں بہت کچھ تھا
عزت ،احترام ،سکون بخش دینے والا احساس اور ایک عجیب سا تحفظ جو ہما کو اپنے گرد محسوس ہوا
“اللّٰلہ سے صبر مانگوں ہما وہ صبر دیں گا اگر تمھاری دعاوں میں شدت ہوئی تو لازمی دیں گا اور خوب اشک بہاؤں اس کے سامنے اسے بندے کے آنسووں بہت پسند ہے وہ انسانوں کی طرح بے حس نہیں ہے وہ تو بہت رحمان ہے رحیم ہے وہ رحم کریں گا تم پر اللّٰلہ کو اپنا محافظ جانو بیشک اس نے ہمیں بنایا ہے اور وہ ہی ہماری حفاظت کریں گا ۔”
اس کے نرم لہجے پہ ہما کو ضبط نہ ہوسکا تو وہ اس کے کندھے پہ سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر روپڑی
“یہ سب ظالم کیوں ہیں کیوں نہیں رحم آیا انھیں مجھ پر میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا زُلنین جو سب میرے وجود سے بھاگنے لگے میرے اپنوں کو کیوں میری فکر نہ تھی انھیں پتا تھا میں ابھی بھی بچی ہوں اور کمزور ہوں سہارے کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر انسان ہوں بیشک تنہا پسند ہوں لیکن معاشرتی حیوان ہوں انسانوں کی ضرورت ہے اس ویرانی سے گھر میں اکیلے کیسے رہوں گی میرے اپنوں کو زرا رحم نہیں آیا ایک کے بعد ایک زخم دیں کر چلے گئے کیوں نہیں ہے انسانوں میں رحم کیوں انھوں نے یہ صفت اپنے اندر اوکھاڑ پھینکی ہے کیوں سنگدلی ان کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے میں اس بے رحم دُنیا میں کیا کرو گی زُلنین بتاو مجھے اللّٰلہ سے کہتی ہوں مجھے بھی اُٹھا لے مجھے اور دُنیا کو ایک دوسرے کی ضرورت نہیں ہے پر اللّٰلہ نہیں سُن رہا زُلنین تم تو کہتے ہوں وہ سُنے والا ہے تو کیوں نہیں سُن رہا خدا تم تو کہتے ہوں خدا رحم کرنے والا تو خدا کیوں نہیں رحم کررہا ہے مجھ پر میں سب کچھ برداشت کرسکتی ہوں زُلنین یہ تنہائی مجھ سے نہیں برداشت ہوگئی نہیں ہوگی ہوسکتا ہے اللّٰلہ تمھاری سُن لے تم تو بہت نیک ہوں بولے انھیں کے مجھے اپنے پاس بلُا دیں ۔”
“ہما !”
زُلنین کے لہجے میں کرب اور دُکھ تھا اس نے بڑے پیار سے اس کا سر تھپکا
“فضول باتیں مت کرو ،کُفر مت کرو اِدھر دیکھو میری طرف ۔”
اس نے ہما کا چہرہ اُٹھایا
“بس تھک گئی ہوں پاگل لڑکی اللّٰلہ تم سے پیار کرتا ہے وہ اپنے پیارے بندوں کو آزمائشوں میں ڈالتا ہے کیوں نہیں سمجھ رہی وہ تمھیں ٹیسٹ کررہا ہے ہے تم کتنا چاہتی ہوں اپنے رب کو وہ آزمائش کے لیے ہر طریقے اپنا سکتا ہے چائیے وہ تمھیں سب کچھ دینے کی صورت میں ہو یا تم سے چھینے کی ہو اور مرنا سب نے اپنے وقت پر ہے ہما نانو اور آنٹی کا وقت تھا اس لیے وہ چلی گئی ہم نے بھی اپنے وقت پر مرنا ہے سمجھی اور مجھے دیکھو اکیلے رہ رہا ہوں نا وہ بھی اتنے سالوں سے لیکن دیکھوں مسکراہٹ ہر وقت میرے چہرے پہ موجود ہے مایوس نہیں ہونا اللّٰلہ تعالی کو مایوسی نہیں پسند ۔”
“تم لڑکے ہو تم اکیلے رہ سکتے ہو ۔”
اس کے دل پہ تھوڑی سی تسلی ہوئی زُلنین واقی اپنے لفظوں سے جادو بکھیر دیتا تھا وہ آنسو سے بھری آنکھوں سے بولی وہ ہولے سے مسکرا پڑا
“اور تم اپنے آپ کو زرا دیکھنا نا تم اپنے اندر جھانکو گی تو دس آدمی نکلے گئے ۔”
“یہ کیسی بات کی ۔”
اس نے گھورا
“اوہو سمجھی نہیں تمھارا دل تو اتنا مضبوط ہے اور اتنئ چٹانوں جیسی سختی ہے تم میں کے اتنی کسی مرد میں بھی نہ ہو ۔”
اس نے ہلکی سی چپیٹ ہما کے سر پہ لگائی
“تم کدھر تھے کیوں نہیں آئے مخلص دوست کہتے تھی کدھر گئی یہ مخلصی ۔”
زُلنین سے اپنائیت محسوس کرتے وہ شکوہ کر بیٹھی
“سوری تمھیں چھوڑنے کے بعد مجھے کسی ایمرجنسی کے لیے جانا پڑا آج واپس آیا تو خبر ملی میں سمجھ سکتا ہوں ہما تم پر کیا گزری تھی معاف کردوں اب کھبی تمھیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا تم ہر وقت مجھے اپنے ساتھ پاو گی ۔”
“یہ مت کہو تم بھی مجھے چھوڑ دو گئے سب کی طرح ۔”
وہ دوبارہ ہچکی لیتے ہوئے بولی زُلنین کا دل کیا وہ بھی روئے اس کو ہما کی آنسووں تکلیف دیں رہے تھے لیکن آنسو نہیں نکل پارہے تھے ایک دُکھ بھری مسکراہٹ آئی اس نے اپنے کان پکڑے
“سوری ! اس کے علاوہ لفظ ہی نہیں ہے پلیز ائی پرامس تمھاری لیے یہ دُنیا آسان بنا دوں گا بس مجھ پہ بھروسہ رکھو !”
زُلنین نے ہاتھ آگئے کیا اور ہما نے اس کی بلیو آنکھوں کو دیکھا ہما نے صحیح کہا تھا وہ واقی مقابل کو اپنے سحر میں جھکڑ لیتا تھا وہ یہ بات تہے دل سے تسلیم کر چکی تھی لیکن زبان پہ لانے کی ہمت نہ تھی اس نے ہمت کر کے زُلنین کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا
“مجھے منظور ہے لیکن یہ آخری بھروسہ ہے پلیز میرا بھروسہ مت توڑنا ۔”
زُلنین نرمی سے مسکرایا اور ہلکہ سا اس کا سر تھپکا
“جب تک میری سانسیں چل رہی ہے تب تک اس وعدے کو نبھاؤں گا اور اس بھروسے کو توڑنے بھی نہیں دو گا ۔”
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
پہلی عنوان کا اختتام

 

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *