Black Rose Episode 9 by Samreen Shah

blacl rose episode 9

Black Rose Episode 9

“کیا ہوا چہرہ پہ بارہ کیوں بجنے لگے ۔”
وہ ڈرائیو کررہا تھا جب پریشان سے شفق کو دیکھ کر مسکراتے ہوے بولا تھا وہ چونکہ پھر دھیمی سی مسکراہٹ سے اسے دیکھتے ہوے کہنے لگا وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی پھر پریشانی کے باوجود دھیما سا ہنس پڑی
“ایسا لگ رہا ہے کچھ غلط کررہی ہوں ۔”
وہ بڑبڑاتے ہوے اپنے نوٹس پہ ناخن پھیرنے لگی وہ اسے دیکھتا رہا مگر اس کی اس بات پہ جواب نہیں دیا
“تو کیسا چل رہا کالج تم لگتا ہے انجوائی نہیں کررہی ۔”
اس نے مڑ کر فائیق کو دیکھا تو حیرت سے اسے دیکھنے لگی کہ اسے کیسے پتا چلا واقعی میں وہ تو تنگ آگئی تھی اسے لگ رہا تھا وہ لا کے لیے بنی ہی نہیں ہے بیزاری سے چھا رہی تھی شخصیت سے
“نہیں بس ٹف پڑھائی ہے تو زندگی تھوڑی بور سی ہوگئی ہے ۔”
وہ انگلیاں مروڑتے ہوے سامنے دیکھتے ہوے کہنے لگی
“او یار بور کیوں گزر رہی ہے اس عمر میں بور تو نہیں گزرنی چاہیے ۔”
وہ کھلکھلاتے ہوے موڑ کاٹتے ہوے بولا
“جب سے پاکستان آئی ہوں واقعی بہت بور ہوگئی ہوں اُدھر میرے بہت سارے فرینڈز تھے ۔”
“ارے تو کالج میں نہیں بنے آپ کے ۔”
“نہیں نا بہت ہی ٹپکل سوچ ہے نہ ان کا میوزک میں انٹرسٹ ہے ، نہ کوئی انٹرٹیمنٹ سے ریلیٹٹ بات بس وہی ٹیپکل اس کلاس کے لڑکے کا اس کے ساتھ چکر ہے
اس کے منگنی اس کی شادی اس کے بچے بھئی یہ کیا ہے اگر کوئی ٹی وی سے ریلیٹٹ بات کرو تو ابا جی نہیم دیکھنے دیتے کوئی پی ٹی وئ ڈرامے پہ شروع ہوجاتا کوئی ہالی وڈ کے بارے میں کوئی ایک سنگل بات کرنا نہیں پسند کرتا سب کانوں کو ایسے ہاتھ لگاتے اویں پاگل ۔”
وہ اس کی باتیں سُنتے ہوے کھل کر ہنس پڑا
“پاکستانی یو نو ان کی باتیں ایسی ہی ہوتی عادت پر جائے گی بعد تم خود لگی ہوئی ہوگی۔”
“توبہ ایسی فضول کی گوسپ ! میں تو کھبی بھی ملوث نہ ہوں خیر آپ کا ہوٹل کیسا چل رہا ہے ۔”
“بورنگ !! آج کل موسم کی تبدیلی کے باعث بالکل ٹھنڈا پڑا ہوا کام فارغ ہوں آج کل میرے تو ایسا ہی آدھے سال کام میں اتنا مصروف ہوتا ہوں کہ سر کھجانے کا ٹائیم نہیں ہوتا اور پھر آدھے سال اتنا فارغ ہوتا ہوں کہ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں ۔”
وہ اس کے مزے سے کہنے پر کھل کر مسکرائی
“مطلب کہ آپ کا یہ فارغ مہینے چل رہے ہیں ۔”
وہ اس کے کہنے پر بیچارگی سے منہ بنانے لگی پھر ہنستے ہوے بولا
“ہاں اس لیے سوچا شہر گھوم آو دوستوں سے مل آو راستے میں آپ مل گئی ویسے آپ کے ٹائمنگز کیا ہیں کالج کے ۔”
“صبح نو سے دوپہر کے تین بجے تک ۔”
“او تو کیا آج میرے ساتھ لنچ کرو گی ۔”وہ جھٹکے سے اسے دیکھنے لگی وہ اس کی اس بات پر حیرانگی بھانپ چکا تھا
“اگر نہیں کرنا چاہتی تو کوئی برابلم نہیں میں تو ایسی کہہ رہا تھا ایسے نہ دیکھیں میں آپ کا نیبر ہوں ۔”
“آپ بہت عجیب ہیں فائیق کھبی آپ کا بہت دوستانہ رویہ ہوتا تو کھبی آپ ایسے فارمل ہوجاتے ہیں ۔۔۔”
وہ کہتے کہتے جیسے ٹہر گئی تھی
“میں فارمل تب ہوتا ہوں جب آپ فارمل ہوتی ہیں ویسے وہ آپ کی بلی کیسی ہے کل میں نے دیکھا وہ کچھ بیمار سی لگ رہی تھی ۔”
“بیمار نہیں تو وہ بس نخرہ کرتی ہے کھانے میں ویسے آپ کہاں سے دیکھ رہے تھے ۔”
“یار نیبرز کو سب دکھائی دیتا ہے انھیں ساری خبر ہوتی ہے ۔”
وہ شرارت سے تیزی سے آتی کار کے سامنے سے سائڈ کرنے لگا جب شفق تیزی سے اس کی طرف آکر لگی
“اُف ! آرام سے ۔۔”اس نے خود کو سنبھالنے کی خاطر فائیق کا بازو پکڑا فائیق کو ایک دم کچھ ہوا ہوا تو شفق کو بھی تھا وہ جلدی سے اس کا بازو چھوڑ کر پیچھے ہوئی
“سوری !!۔”وہ جھٹ جھڑی مٹاتے ہوے بولی
“نہیں سوری مجھے اتنا تیزی سے نہیں موڑ کاٹنا چاہیے تھا ۔”
وہ نرمی سے کہتے ہوے اسے ریلکس کرنے لگا
“ام فائیق ؟ میں اس سنڈے بلیک روز ہوٹل آنا چاہتی ہوں ۔”
فائیق کے اس کے اچانک کہنے پر خوشگوار حیرت ہوئی
“ضرور کیوں نہیں میرا تو وہ ہوٹل سونا سا لگ رہا ہے آپ آئے گی تو کوئی رونق بڑھ جائے گی ۔”
“بابا سے بات کی بابا نے ہر سنڈے آنے کی اجازت دیں دی ہے مگر میں گولف کھیلنے نہیں بلکہ آپ کے ہوٹل کے سٹیج میں گانا چاہتی ہوں کوئی اور نہ ہو بس اکیلے میں کیونکہ ممی اب مجھے گھر میں بھی اجازت نہیں دیتی ۔”
وہ کھوئے لہجے میں کہتے اسے دیکھتے ہوے کہنے لگی
“اس سے کیا ہوگا شفق ؟ بات تو تب سمجھ میں آتی اگر تم سنگر بنتی اکیلے کی تو اجازت دیں سکتی ہیں آپ کی امی ۔”
“امی کو گانے ہی نہیں پسند تو سنگر بنے کی دور کی بات ہے خیر چھوڑے ہم کوئی اور بات کرتے ۔”
وہ جیسے اپنے ادھورے خوابوں پر اُداس نہیں ہونا چاہتی تھی اس لیے ٹاپک بدلتے ہوے بولی فائیق بھی سمجھ گیا تھا اس لیے دوسری اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا مگر اس معلوم تھا وہ اندر سے کافی اُداس ہوچکی ہے
••••••••••••••••



وہ انتظار کرتی رہی کہ وہ آئے گا مگر وہ نہیں آیا مایوسی نے اس کو ایک بار پھر اپنے گھیرے میں لیا تھا
مگر ایک بار پھر اس نے بیل بجائی اور دل میں اسے پکارا اور وہ آگیا وہ اسے تیزی ہوائوں اور اندھیری طوفانی رات کے باوجود نظر آیا اس وقت وہ پولیس یونی فورم میں ملبوس تھا لگتا ہے ابھی آیا تھا ہما کے چہرے پہ ایک دم مسکراہٹ آگئی وہ اسے دیکھ کر اپنے اندر پھیلتی آسودگی کو بڑی شدت سے محسوس کررہی تھی
واقعی زُلنین اس کے دل کا راحت تھا زُلنین چلتے ہوے گیٹ کو اوٹمیٹک بٹن سے کھولنے لگا اور گیٹ آہستہ سے کھلنے لگا اور جیسے ہما کو راستہ ملا وہ بڑی تیزی سے اندر آئی اور زُلنین کو سامنے سے آتے پاکر ایک دم پیچھے ہوگئی تاکہ ٹکر نہ لگ سکے اب وہ خوش کے بجائے اسے ناراضگی سے گھور رہی تھی
“کدھر تھے تم صبح سے شام ہوگئی میں تمھیں کال کر کر کے پاگل ہوگئی ایسا کون سا ضروری کام تھا جس میں تم پانج منٹ بھی اپنی خیریت کی خبر نہیں دیں سکتے کتنی پریشان تھی میں وجدان بھی کہہ رہا تھا تم بزی ہو اسے بتاسکتے تھے مجھے نہیں !!۔”
وہ اب غصے سے کھل کر شکوہ کررہی تھے جبکہ زُلنین بالکل خاموشی اور سرد مہری سے دیکھ رہا تھا
“بولو بھی کیا ہوا ؟ خیریت تو ہے چُپ لگ رہے ہو ۔”
وہ جب بولتے ہوے چُپ ہوئی تو اس کی خاموشی بہت محسوس ہوئی تو بولے بغیر رہ نہ سکی
“زُلنین ٹھیک تو ہو ؟ کیا بات ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟۔”
وہ اب بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامنے لگی تھی جب زُلنین پیچھے ہوا ہما کو جھٹکا لگا مگر پھر اسے دیکھا
“زُلنین ؟۔”
“اتنی رات کو یہاں کیا کررہی ہو موسم دیکھا ہے تم نے ۔”
وہ سرد مہری سے بولا اتنا سرد لہجہ ہما کو اندر سے ٹھنڈا کر گیا تھا یہ زُلنین تو ہرگز نہیں لگ رہا تھا کیا وہ اس کی دیر سے جواب دینا پر ناراض تو نہیں تھا
“زُلنین میں تم سے ملنے آئی ہوں اتنی رات کو بھی آیا کرتی تھی کیا بات ہے ۔”
وہ بے قرار ہوگئی تھی وہ ایسے کیوں کررہا ہے
“جاو اپنے گھر بارش عنقریب ہونے لگی ہے ۔”
اتنا بے رُخی والا انداز
“ٹھیک ہے تم جاو ! مگر میں یہاں سے ایک انچ نہیں ہلوں گی اگر تم مجھ سے ٹھیک طریقے سے بات نہیں کروگے ۔”
زلنین مڑا اس کے چہرے پہ بیزاری ہما کو اچھی نہیں لگی یہ اسے کیا ہوا تھا آخر
“آو اندر !!۔”
وہ کہہ کر مڑ گیا ہما مسکرائی ضرور ناراض ہے بہت زیادہ ناراض مگر وہ اس کی ناراضگی دور کردیں گی
وہ چلتے ہوے اس کے پیچھے آئی
زُلنین دراوزے کھول کر اندر داخل ہوا پھر اپنی جیب سے سگیرٹ کا ڈبہ نکال کر اس کی طرف مڑا ہما اندر داخل ہوتے ہوے رُک گئی وہ اب سگیرٹ نکال کر منہ میں ڈال رہا تھا ہما حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی زُلنین نے کھبی سگیرٹ نہیں پی آج یہ اس کا دماغ تو نہیں پھیر گیا
“کیا ہوا جو کہنے آئی ہو بولو ۔”
ایک دم اس کی سرد آواز پر وہ چونک کر اپنا سر اُٹھا کر اسے دیکھنے لگی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اب سگیرٹ منہ میں دبا کر لائٹر سے جلانے لگا کہ ایک دم ہما آگئے بڑھی اس نے تیزی سے سیگرٹ اس کے لبوں سے نکالا اور پھینکا
“یہ کیا کررہے ہو کب سے یہ کام کرنے لگے ۔”
وہ تیزی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی
“ہما ! کچھ کہنے آئی تھی تم !۔”
زُلنین کی آواز نے اسے چونکانے پر مجبور کردیا اس نے دیکھا وہ اب سگیرٹ کے لمبے کش لیتے ہوے دیوار کے ساتھ لگے اس سے پوچھ رہا تھا اور وہ سوچ رہی تھی اس کی ہمت کیوں نہیں پڑی اسے روکنے کی ان ہی درمیان اتنی بے تکلفی آچُکی تھی کہ وہ اسے سگیرٹ پینے سے روکتی مگر کیا تھا جو اسے روک رہا تھا زُلنین کی سرد نظریں ، اس کا انداز یا اس کا رویہ ؟
“کوئی پریشانی ہے ؟۔”
وہ صرف اتنا کہہ پائی تھی اسے ہوا کیا تھا آخر وہ سمجھ نہیں پارہی تھی
زُلنین کی ابرو ایک دم اس کی بات پر اوپر ہوے اور کہنے لگا
“نہیں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے تم کیسی ہو ؟ اور اتنی تیزی طوفانی بارش میں کہاں جارہی ہو ؟۔”
وہ اس کے تیار ہونے پر کہہ رہا تھا
“ہاں کسی کام سے جانا تھا تم کہاں غائب تھے ۔”
“مصروف تھا ! ۔”
بس اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا
“ایسی بھی کیا مصروفیت تھی کہ تم نے مجھے کال چھوڑو میسج تک نہ کرنے کا گوارا کیا ۔”
“میں نے ضروری نہیں سمجھا !۔”
گہرا کش لیتا ہوا وہ اب چل کر سامنے والے صوفے پہ بیٹھنے لگا اس نے ہما تک کو بیٹھنے کا نہ کہا کچھ تو جا جو غلط ہورہا تھا اور وہ کیا ہورہا تھا یہ اس وقت ہما کو معلوم نہیں تھا
“مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے زُلنین ؟ ۔”
وہ چلتے ہوے اس کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ کر پوچھنے لگی وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ سوال کرنا چارہی تھی مگر وہ تو اسے دیکھ ہی نہیں رہا تھا
اس نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بس خاموشی سے کش لیتا گیا پھر بولا
“تمھارے سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہما !۔”
ہما پُرسکون ہوگئی اسے لگا وہ اسے تنگ کررہا ہے
“تو پھر ایسے ایکٹ کیوں کررہے ہو ، جیسے میں نے کچھ کیا ہے تم بھی نا زُلنین ڈرا دیتے ہو اینی ویز کل سے میری کلاس شروع ہورہی ہے میں شاپنگ کرنے جارہی ہوں وجدان بزی ہے میں اسے ٹیکسٹ کردوں کہ وہ نہ آئے کیا تم لے چلو گے ۔”
وہ اسے دیکھنے لگی جو اب سگیرٹ مسل کر اسے دیکھ رہا تھا
“جب وہ آرہا ہے تو اس منع کیوں کررہی ہو ؟۔”
“منع ؟ نہیں وہ ویسے بھی بزی تھا اگر میں اس کا انتظار کرتی اب وہ میرا نوکر تو نہیں لگا کہ وہ اپنا کام چھوڑ کر مجھے لے کر کام کریں گا ۔”
“جب وہ کہہ رہا ہے کہ وہ آرہا ہے تو پھر ویٹ کرو میں اس وقت تھکا ہوا آیا ہوں اس لیے مجھ سے نہیں ہو پائے گا ۔”
ہما کا منہ اس کی بات سے کھل گیا وہ زُلنین ہی تھا جو یہ کہہ رہا تھا اس کا زُلنین ؟ نہیں وہ اس کا کیسے ہوسکتا ہے
“ٹھیک ہے ریسٹ کریں آپ سوری جو آپ کو ڈسٹرب کیا
آئیندہ نہیں آو گی ۔”
وہ جانے لگی جب زُلنین نے اس کا ہاتھ پکڑ وہ رُک گئی
“او گاڈ ہما اتنی سی بات پہ کون ناراض ہوتا ہے آو بیٹھو !۔”
وہ اب بالکل بدلے ہوے لہجے میں اسے کہہ رہا تھا ہما کو نجانے کیوں اس کے ہاتھوں میں نرمی نہیں محسوس ہورہی تھی جو زُلنین کا خاصا تھی
“تو اتنی دیر سے تنگ کیوں کررہے ہو تمھیں پتا ہے الریڈی میں نانو کی وجہ سے پریشان ہوں اوپر سے وہ فائیق زوالفقار ۔”
اچانک زُلنین کے تاثرات تبدیل ہوے جو نرمی تھی وہ یک دم غائب ہوگئی
“تم ان کا نام میرے سامنے مت لیا کرو ۔”
وہ دھاڑتے ہوے اُٹھا ہما ایک دم پیچھے ہوئی اس کا ہاتھ دل پر گیا تھا
“زُلنین تم چلائے کیوں ؟؟ ۔”
وہ تیزی سے بولی اسے اس کا رویہ سمجھ سے باہر لگ رہا تھا
“کیونکہ تم نے ان کا نام لیا ۔”
اس نے تیزی سے کہتے اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیر کر خود کو کمپوز کیا
“ائیم سوری میں بے اختیار ہوگیا تھا مگر جب تم ان کا نام لیتی ہوں تو میرے کنڑول میں بات نہیں رہتی ۔”
وہ اب خود کو سنبھل کر کہتا اس کے قریب آیا کہ ہما پیچھے ہوئی
“نہیں ، مجھے آج پوچھنا نہیں چاہیے تھا مگر میں پوچھوں گی آج مجھے جانا بتاو زُلنین کیا ہوا تھا کیوں نفرت کرتے ہو اپنے چاچا سے ایسا کیا واقعہ ہوا تھا کہ تم ان کا نام سُنتے ہی بے اختیار ہوجاتے ہو ، اوپر سے نانو کی ان کے لیے نفرت ، ماما کی ان سے محبت بہت سے سوال ہے مگر مجھے کچھ تو بتاو ایک بات جس سے میرے دل کو تسلی ہوجائے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی میں جب سے پاکستان آئی ہوں ایک پل بھی سکھ اور چین کا سانس نہیں لیا ۔”
“تم ان کا ذکر ہی نہ کرو بات ختم میرے ساتھ تم وقت بیتاتی نہیں ہو تو مجھے غصہ آگیا ناراض بھی تھا اور پلیز ہما میرے زخموں کو مت چھیڑو میں برداشت نہیں کرسکتا ۔”
ہما کا دل موم ہوا وہ بڑھ کر آئی اور اس کے جھکے چہرے کو دیکھا
پھر اس کا ہاتھ تھاما
“میں ہونا تمھارے ساتھ مجھے بتاو کیونکہ زُلنین میں اس مسٹری ورلڈ سے نکلنا چاہتی ہوں جس میں میں گھس گئی مجھے اپنے اصل حقیقت جانی ہے ۔”
زُلنین نے سر اُٹھایا نرمی کے تاثرات لیے وہ آہستگی سے بولا
“کیا جانا چاہتی ہوں ۔”
“مجھے لگتا ہے میں فائیق زوالفقار کی بیٹی ہوں مگر مجھے یہ نہیں پتا کہ جائز ۔۔۔۔۔
وہ ہمت باندھتے ہوے جتنا کہہ سکی تھی اس نے کہا آگئے اس کی ہمت نہیں بنی مگر اس سے قبل وہ آگئے کچھ کہہ پاتے زُلنین کا زناٹے دار تھپڑ اس کے گھما گیا تھا کہ وہ زمین کے بل گری

••••••••••••••••••••••••

Black Rose Novel By Samreen Shah

فائیق اس کے کالج کے قریب گاڑی روکی اور بولا
“لو آگیا ٹائیم بھی دیکھ لو پورے بیس منٹ پہلے پہنچایا ہے ۔”شفق نے ٹائیم دیکھا پھر اسے اور مسکرا کہا
“تھینک یو سو مچ میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں ۔”
“ارے اُردو اور انگلش ایک ساتھ تھینک یو اونر ہے میرے لیے ۔”
وہ سر کو ہولے سے خم دینے لگا
“نہیں واقعی میں آپ سے باتوں میں ایسا لگ جیسا کافی لمبا پل گزر گیا ہو مگر اب وقت دیکھتی ہوں تو اتنا وقت نہیں ہوا یو ہیو سمتھنگ !! ۔”
وہ جیسے کہتے کہتے رُک گئی فائیق دلچپسی سے اسے دیکھا
“اچھا کیا ہے ؟۔”
نظریں بھی شوق تھی اور لہجے بھی شفق اچانک سُرخ پڑ گئی اور کچھ نہیں کہہ کر اُترنے لگی اور چل پڑی فائیق کے چہرے پہ مسکراہٹ گہری ہوگئی وہ اس کو اندر تک جانے کا ویٹ کرنے لگا کہ ایک منٹ رُک گیا کہ سامنے والا بائیک میں شخص نے شفق کا راستہ روک دیا ہے
“او مرسیڈیز ؟ وہ بھی نیو ماڈل تب ہی محترمہ ہم جیسوں کو اس لیے لفٹ نہیں کروارہی تھی کہ ہمارے پاس پیسہ نہیں جو ان پر لٹا سکے ۔”
منیر کے راستے روکنے اور تلخی سے کہنے پر شفق نے غصے سے اپنی نظریں اُٹھائی اور کچھ کہے بنا جانے لگی جب وہ پھر سامنے آگیا
“ہاں ظاہر ہے ہماری کیا اوکات کے آپ جیسی گولڈ ڈگر سے بات کریں لیکن اگر میں کچھ پیسے دوں تو کیا میرے ساتھ ٹائیم !! ۔۔۔”
خباثت سے کہا گیا جملے نے شفق کے کانوں کو دھوا کردیا اس سے پہلے وہ کچھ کرتی کسی کا بھاری ہاتھ
اس کے چہرے پہ پڑا اور وہ سیدھا اپنی بائیک پہ جاکر گرا شفق نے دیکھا جس نے اسے تھپڑ مارا تھا وہ اور کوئی نہیں فائیق تھا اور وہ انسان کم کوئی بیسٹ لگ رہا تھا جو ایک سکینڈ میں اسے نگل لے گا




ہما ساکت اپنے گال تھامے زمین کو ہی گھور رہی تھی اسے یقین نہیں آرہی تھی زُلنین اس کا زُلنین اس پر ہاتھ ! اس سے قبل وہ مزید کچھ سوچتی زُلنین نے اس کا بازو پکڑتے ہوے اُٹھایا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں نفرت کی چنگاریوں کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا
“آئیندہ تم ان کا نام نہیں لو گی سمجھی آج میں نے تمھیں چھوڑ دیا ہما ، اور اگر تم نے میرے پاس آنا ہے
تو تم ان کا ذکر نہیں کرو گی ورنہ اپنا انجام تم خود دیکھ لینا اکیلی عورت ہو باخوبی سمجھ جاو گی ۔”
الفاظ تھے کے کانوں میں انڈیلا پگھلا ہوا سیسہ
“زُل ۔۔۔
آگئے سے تو جیسے الفاظ ہی دم توڑ گئے تھے کیا کہتی آج اسے اپنی محبت کا اعتراف کیا تھا اور آج ہی اس کی محبت کے ساتھ ساتھ اس کا مان ٹوٹا تھا وہ مان جو اسے زُلنین سے تھا
وہ اسے کے بازو کو ایک جھٹکے سے چھوڑ کر چلا گیا اور وہ گیلے اور تپے ہوے گالوں کو چھوتی اسے بس جاتا ہوا دیکھنے لگی
•••••••••••••••••••
سب لوگ فائیق کی اس حرکت پر متوجہ ہوگئے شفق اس ایک ایکشن سے خود کو سنبھال پاتی کہ فائیق نے اسے گھسیٹ کر دوسرا تھپڑ
“ایسے الفاظ نکالنے کی تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی ۔”
وہ دھاڑا تھا تو اردگرد لوگ بھی اس کی دھاڑ سے کانپ اُٹھے تھے شفق کے ہاتھ سے نوٹس گر گئے اتنا جنونی انداز وہ نرم خوش مزاج فائیق تو جیسے غائب ہوگیا تھا وہ فائیق کو دھکا دینے لگا کہ فائیق کے مکے نے اس کی بولتی بند کردی اور وہ گر گیا
“میں نے خود کو بھی ایسی نظروں سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں اور تمھاری اتنی جرات !!۔”
لوگ اس کے پاس آکر روکنا چاہتے تھے مگر شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے والی بات تھی
وہ مڑا تو چونکہ شفق کا چہرہ سفید ہوگیا تھا اس کا جسم کانپ رہا تھا ڈوپٹہ کندھے سے جھل کر ہاتھوں میں آگیا تھا وہ بس کھبی اسے تو کھبی زخمی ہوئے وے اس شخص کو دیکھنے لگی
فائیق تیزی سے اس کی طرف آیا اور اس کا ڈوپٹہ اُٹھا کر اچھی طرح لپیٹا
“تم ٹھیک تو ہونا !!۔”
وہ نرمی سے اس سے پوچھ رہا تھا وہ اب فائیق کی آنکھوں میں دیکھنے لگی پھر اچانک اس کی نظر سامنے سے پولیس وین پر پڑی تو وہ گھبڑا گئی اس نے جلدی سے فائیق کا ہاتھ تھام لیا
“آپ آپ مجھے یہاں سے لے جائے میں گھر واپس جانا چاہتی ہوں ۔”
فائیق نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی کیفیت سمجھ گیا اس نے جھک کر نوٹس اُٹھائے اور اسے لے کر چلنے لگا جب تک پولیس والے آتے تب تک وہ اپنی طاقت کی بدلوت شفق کو لے کر غائب ہوگیا اور شفق کو اتنا ہوش نہیں تھا کہ وہ یہ سب سمجھ پاتی جبکہ لوگ اس زخمی بندے کے بعد اسے دیکھنے لگے تو وہ غائب ہوگیا تھا ایک دم اچانک کیسے ؟
•••••••••••••••••••
“تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟۔”
وہ پورے دو گھنٹے بعد ہما کو لینے آیا تو اس کو دیکھتے ہوے جھٹکے سے رُک گیا وہ بالکل سپاٹ چہرہ لیے اس کے سامنے موجود تھی مگر اس کا گال کافی زخمی ہوا وا تھا چہرہ بھی خاصا سُرخ تھا وجدان کو لگا اسے سخت بخار ہے اس کی بات جب ہما نے اپنی سرُخ آنکھیں اُٹھائی تو وجدان چونک کر اسے دیکھنے لگا
“ہاں میں ٹھیک ہوں چلے ۔”
آواز بھی خاصی بھاری تھی جیسے وہ ابھی کھل کر روئی تھی
“کوئی بات ہوئی ہما مجھے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی کیا بات ہے ۔”
وہ نرمی سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا ہما کو اس کی بھی ہمدردی کھوکلی لگ رہی تھی اسے تو ہر شخص کا خلوص کھوکھلا لگنے لگا تھا
“وجدان پہلے ہی دیر ہورہی ہے میرے خیال سے چلتے ہیں ۔”
وہ سرد مہری سے کہتے اپنا بیگ اُٹھاتی کار کی طرف بڑھی اور وجدان مڑ کر اسے دیکھنے لگا جیسے کچھ تو ہوا ہے وہ چلتا ہوا اس کے پیچھے آیا اور اس سے پہلے ہی پہنچتے ہوے اس کا دروازہ کھولا ہما بغیر کچھ کہے اندر گھس گئی اس نے دروازہ بند کیا اور دوسری طرف چل کر آیا اور بیٹھا اس نے دیکھا ہما شیشے کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی وہ بس آنکھیں جھکائی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو بار بار چھو رہی تھی وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا مگر بتانے والا ہی نہیں بتانا چاہتا تو بعث سے معض بدمزگی ہی پھیلے گی مگر ہما کے گالوں پہ پڑے زخم سے کچھ مطلب تو تھا
“ہما یہ تمھارے گالوں میں کیا ہوا ؟۔”
وہ پوچھے بغیر بھی نہیں رہ سکتا تھا ہما نے چونک کر اسے دیکھا
“میرے گالوں پر ۔”
“ہاں ایسا لگتا ہے تم بہت زور سے گری ہو کہاں گری تھی میڈسن ہی لگا لیتی ۔”
ہما نے حیرت سے اپنے گالوں کو چھوا تھپڑ پڑنے کے بعد سے وہ اپنے گھر کے باہر ہی دو گھنٹے شیڈو میں بیٹھی رہی وہ اندر جاکر نانو کے سوالوں کے جواب نہیں دیں سکتی تھی اور پھر تیزی بارش کو دیکھتے دیکھتے کب وجدان آیا اسے پتا ہی نہیں چل سکا اس کے تو ہوش ہی جیسے کھو گئے تھے اور اس سب کا ذمہ دار زُلنین تھا نہیں زُلنین بھی نہیں صرف وہ تھی اسے آج کے دور میں محبت جیسی بیکار چیز کرنی ہی نہیں چاہیے تھی اور نہ ہی ایک نا محرم پہ اعتبار اور مان رکھتی تو آج اس کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا
“ہاں وہ بیسمنٹ کی سڑھیوں سے پھسل کر گر گئی تھی جلن ہوئی تھی لیکن پتا نہیں چلا تھا ۔”
وہ آہستگی سے کہتے ہوے اس کو وجہ بتانے لگی تاکہ وہ مزید سوال مت کریں
“دھیان سے چلا کرو یار ویسے ڈاکڑ کو دکھا دیں ۔”
وہ فکرمند ہورہا تھا ہما نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا
“کوئی ضرورت نہیں پلیز تھورا تیز چلائے گھر میں ۔۔۔”
وہ بھول گئی تھی اس نے نانو کے بارے میں فل حال نہیں بتانا تھا
“گھر میں کیا ؟۔”
وہ چونکہ
“گھر ایسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ۔”
“او ریلکس ہما ! تم بھی نا ۔۔۔”وہ موڑ کاٹتے ہوے ایک پتلی گلی کی طرف جارہا تھا
اور وہ اب کھڑکھی کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں صرف درختوں اور اندھیروں کے سوا کچھ نہیں تھا
•••••••••••••••

black rose episode 9 samreen shah
“شفق !! شفق !!۔”
فائیق نے اسے ہولے سے جنجھوڑا وہ جو سیٹ پہ بالکل ساکت ایک ہی زواے میں بیٹھی تھی جب کار رُکنے پہ اس کی سکت ٹوٹ نہ سکی تو فائیق کو اسے جنجھوڑنا پڑا
“ہاں !! ۔”
وہ مڑتے ہوے اس کا فکر مند چہرہ دیکھنے لگی
“جسٹ ریلکس !! ۔”
اس نے اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرا جو ٹھنڈے پسینے چھوڑ رہا تھا
“آپ نے اسے کیوں مارا ، وہ کافی زخمی ہوگیا تھا اگر وہ مر جاتا تو ۔۔۔۔”
فائیق کے جو نرمی کے تاثرات تھے چہرے نے اب سختی لے لی تھی
“مرجاتا میری بلا سے بلکہ میں تو اسے مار ہی دیتا مگر تمھاری وجہ سے رُکنا پڑا ۔”
وہ تیزی سے کہنے لگا
“کیوں آپ نے کیوں اسے مارا ۔۔۔”
“تو میں اس کی بکواس سُنتا چُپ چاب ، اور جو اس کی نظریں !! اس بارے مت ہی بات کرو تو شفق بہتر ہے ۔”
وہ سٹیرنگ کو سختی سے تھامے ایک بار پھر غصے کو کنڑول کرنے لگا
“یہ تو ہر کوئی دیکھتا ! آپ کیا ہر کسی کو مارے گے اب کالج میں میری اتنی باتیں ہوگیں امی کو پتا چل جائے گا ۔”
وہ بہت پریشان لگ رہی تھی فائیق کو بھی اس کی کیفیت کا احساس ہوا مگر اپنی غلطی کا نہیں اس نے جو کچھ کیا تھا وہ بر حق پر تھا
“مجھے گھر جانا ہے ۔”
وہ اب خود کو بامشکل کمپوز کرتی فائیق کو بولی
فائیق نے کچھ نہیں کہا بس خاموشی سے کار سٹارٹ کر کے سامنے والے گھر کی طرف بڑھا
“آپ کہاں جارہے ہیں ؟۔”
“فائیق !! ۔”
“کام ہے مجھے صبر کرو ویسے بھی میں اب تمھیں تب ڈراپ کروں گا جب تمھارے واپس جانے کا ٹائیم ہوجائے گا ۔”
“یہ کیا کہہ رہے آپ !!! ۔”
وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی جو اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اب کسی کے گھر کے قریب اچکا تھا
“مجھے آپ کے ساتھ آنا نہیں چاہیے تھا آپ سے بات کررہی ہوں نہ میری بات کو جواب دیں رہے نہ سُن رہے ہیں ۔”
فائیق نے کار روکی اور اس کی طرف مڑا پھر تناو کو کم کرتے ہوے مسکرایا
“ہم آپ کی بات سُنے گے اور جواب بھی دیں گے ۔”
وہ آپ سر اُٹھا کر گھورتے ہوے اسے دیکھنے لگی
“کالج تو جانے سے رہی آپ کیونکہ آپ کی حالت سے آپ نے وہی بے ہوش ہوجانا تھا اور اگر میں آپ کو ابھی اس وقت آپ کے امی ابو کے پاس لے کر جاتا تو آپ پر پابندی لگ جاتی جو آپ نہیں چاہتی تھی اس لیے مجھے بھی کام تھا ، کام بھی نپٹا لو آپ کو جب آپ کے ڈرایور انکل لینے آئے گے تو ان کو شک نہیں ہوگا ان کو نہیں ہوگا سمجھو آپ کے ماما بابا کو بھی نہیں ہوگا ۔”
وہ اس کی بات سے مطمن ہوگئی مگر کچھ تھا جو اسے پریشان کررہا تھا
“مگر آپ نے اسے کیوں مارا اگر وہ مس کو بتادیں اور مس نے امی بابا کو ۔۔۔”
“کیا وہ لڑکا تمھارے کالج کا تھا ۔”
فائیق نے تیزی سے کہا اس نے سر اثبات میں ہلایا
“مطلب وہ تمھیں کالج میں تنگ کرتا تھا اور کب سے کررہا ہے ۔”
جبڑے بھینچے گئے
“ہاں پر میں اگنور کرتی تھی کیونکہ امی کو بتاوں گی تو وہ میری ۔۔۔۔”
“تم پاگل ہو !!! ۔”
وہ اب اونچی آواز میں بولا تھا ایک دم شفق پیچھے ہوی
“وہ تمھیں مسلسل چھیڑ رہا ہے اور تم خاموش ہو او گاڈ شفق ۔”
اس نے زور سے سٹیرنگ پہ ہاتھ مارا
“آپ غصہ کیوں ہورہے ہیں !! ۔”
“غصہ !! سریسلی غصہ مجھے تمھیں اس وقت دو لگانی چاہیے ۔”
وہ اب اسے گھور رہا تھا غصہ میں اپنا پن بہت محسوس ہوا تھا
“آپ تو بہت ٹھنڈے مزاج کے تھے آج آپ کو کیا ہوگیا ۔”
“میرا دماغ خراب ہوگیا چلو اُترو !! ۔
“کدھر ؟ ۔”
وہ اب حیرت سے اسے دیکھتے ہوے بولی
“میرے دوست کے گھر ۔”
وہ مضنوعی ہنستے ہوے اسے گھورنے لگی
“آپ کا دماغ خراب ہوگیا ہے شاہد ۔”
“نہیں یار آو وہ کوجے نہیں نہ ہی کوئی جن بھوت جو تمھارا چہرہ ایک دم گھبراہٹ سے پیلا پڑ گیا بس گڈ لکنگ ہیں مگر میرے سے کم ۔”
وہ اب شرارت کے موڈ میں آگیا
“نہیں آپ جائے میں گاڑی میں بیٹھوں گی ۔”
“مس فہیم !! پیڑول بہت کم اور دوسرا جیب بھی تقریباً خالی تو آپ گاڑی میں نہیں بیٹھ سکتی ۔”
“تو کون سا سٹارٹ گاڑی آپ چھوڑے گے بند کر کے چلے جائے میں کھڑکھی کھول لوں گی ۔”
“ہاں تاکہ ہر کوئی ایرا غیرا منہ اُٹھا کر اندر دیکھیں چُپ کر کے چلو میرے ساتھ ۔”
“میں نہیں جاسکتی نا فائیق !! ۔”
وہ ممنائی فائیق کار سے اُتر گیا اور وہ شکر منانے لگی اچھا ہے چلا گیا مگر اس کی غلط فہمی تھی کیونکہ وہ چلتے ہوے اس کی گاڑی کی طرف آیا تھا وہ سمجھ گئی اس نے جلدی سے گاڑی لاک کرنے لگی مگر جیسے وہ اس کا ارادہ سمجھ چکا تھا تیزی سے دروازہ کھولا
“چلو اچھے بچوں کی طرح باہر آو ۔”
“میں نہیں آؤں گی ۔”
‏Come on Shafaq stop been childish
وہ جنجھلایا جب وہ دروازے کو کھینچنے لگی
‏Stop been bossy you’re not my mother
وہ ہینڈل کو زور سے پکڑنے لگی
“میرا بیچارا ہینڈل ٹوٹ گیا تو کافی خرچہ ہوگا ۔”
“پلیز ہوٹل کے مالک تو ایسا نہ کہے ۔”وہ شیشے کے پاڑ اسے گھورتے ہوے بولی
“ہوٹل کا مالک اس وقت فارغ ترین غریب آدمی ہے کام اس کا ٹھنڈا چل رہا ہے ۔”
“تو وہ اتنے بڑا گھر میں کوئی اور فرد نہیں ہے آپ کے ۔”
“ہیں نا ، میرے بابا ذوالفقار ، شہیر بھائی ، کشف ، نورما بھابی میرا بھانجا زُلنین !! ایک اور بھائی بھی ہیں لیکن میرے ان سے بات نہیں ہوتی ۔”
“واہ اتنا بڑا خاندان ہیں تو پھر تو مسئلہ نہیں جائے فائیق !!! ۔”
وہ اب تیزی سے دروازے بند کرنے لگی فائیق نے بیج میں اپنا ہاتھ رکھ دیا اسے کچھ ہوا تو نہیں تھا مگر شفق کا اتنے گھبڑانے اور دروازہ کھولنے پر اس نے تیزی سے کھولا اور مضنوعی طور پہ کہرایا
“او مائی گاڈ سوری !! دکھائے آپ اپنا ہاتھ ۔”
“بس رہنے دیں اُفف !! ۔”
وہ اب کار سے اُتر کر اس سے پوچھنے لگی مگر وہ ہاتھ پیچھے کر کے نروٹھے پن سے بولا
“آپ کو کیا ضرورت تھی ہاتھ بیچ میں لانے کی دکھائیں نا ۔”
“چھوڑو تم دروازہ بند کرو !! ۔”
وہ ہاتھ کو دباتے ہوے بولا
“زیادہ زور کی تو نہیں لگی ۔”
وہ اب معصومیت سے دروازہ بند کرتے ہوے پوچھنے لگی
فائیق کو اس کی انداز سے بڑی ہنسی تھوڑا سا تنگ کرنے میں کیا حرج تھی
“ظاہر ہے لگی زور سے تو درد کم ہونے میں وقت اور دوا لگے گی ۔”
“آپ اپنا ہاتھ اپنے دوست کو ضرور دکھائیں گا ۔”
“اوکے میڈم !! ۔”
وہ اس کے ساتھ چلتے ہوے گھر کے قریب آیا
••••••••••••••••

black rose episode 9 samreen shah
وہ تیزی سے اُٹھا اس نے دیکھا وہ صوفے پہ لیٹے لیٹے ہی سو گیا اس نے اردگرد دیکھا جزلان کمرے میں موجود نہیں تھا
“اُف میں کھبی نہیں سویا آج ایک دم سے کیا ہوگیا ۔”
سر کو تھاما تو سر بہت بھاری سا محسوس ہورہا تھا
اس کو اُٹھانے والے ہما کی سسکیاں تھی اور وہ کیسے سکون سے سو پاتا اچانک سے اُٹھ پڑا
“ہما ! ہما وہ کدھر ہے وہ کیسی ہوگی کہی نانو اُف زُلنین ۔”
اس نے اپنا چہرہ تھاما دیکھا تو دروازہ کھلا تھا سر اُٹھا کر دیکھا تو پنک سلک میکسی میں پرمیس اندر آئی تھی ایک چیز نے زُلنین کو حیرت میں مبتلا کردیا کہ آج اس نے میک آپ نہیں کیا تھا اور وہ سانولی کیوں لگ رہی تھی اوپر سے اس کے لمبے بال کی بجائے شولڈر کٹ بال تھے ایک دم زُلنین کو جھٹکا لگا پرمیس ہما جیسے بنے کی کوشش کررہی ہے ۔
“تم یہاں کیا کررہی ہو ۔”
وہ سر مہری سے اس سے پوچھنے لگا وہ اسے دیکھتے ہوے مسکرائی وہی مسکراہٹ جو اس نے ہمیشہ زُلنین کے لیے رکھی ہوتی تھی
“یہ تمھارا کمرہ نہیں ہے یہ جزلان کا ہے اور وہ میرا کزن ہے ۔”
وہ بولی تو بڑے پیار سے تھی مگر الفاظ جتائے ہوے تھے
زُلنین نے اپنے نظریں پھیر لی

black rose episode 9 samreen shah

 

Please support us by providing your important feedback:
Share this post as much as possible at all platforms and social media such as Facebook, Twitter, Pinterest & Whatsapp. Share with your friends and family members so that we are encourage more and more to bring you much more that you want. Be supportive and share your comments in below comments section. So that we can be aware of your views regarding our website.

Your best Urdu Digest, Novels, Afsanay, Short Stories, Episodic Stories, funny books and your requested novels will be available on your request.

Urdu Novels and Episodic series of your top most favorite novelists. Easy to read online as well as offline for download in pdf. Just visit us and search for your favorite novel and read online. Click Download to get to copy of PDF file into your device for offline reading.

 

Related posts

Leave a Reply